اور ہم نے کتاب چھپوائی


نوٹ: کسی فرد یا ادارے سے مماثلت کو زمان و مکان یا اعمال کا اتفاق جانیے گا۔

استاد بیگ سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے، پہلے انتشار کم ہے کہ آپ نے مزید انتشار پھیلایا ہے۔ ہم نے پوچھا کہ حضرت، کیا فرما رہے ہیں، تو بولے یہ آپ نے ”اوراق منتشر“ کے نام سے کیا بے تکی کتاب چھاپی ہے۔ معاشرہ پہلے ہی بگڑا پڑا ہے اوپر سے آپ مزید بکھراؤ کے درپے ہیں۔ ہم نے عرض کی کہ کتاب میں کہانیوں کا تنوع ہے اس بنا پر یہ نام چنا، کہیں خاکے ہیں جیسے سب سے نمایاں ”ماں جی“ کا خاکہ اور مزاح میں آپ کا خاکہ، کہیں افسانے ہیں جیسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے دو ہزار پندرہ میں پاکستان میں افسانوں کے ملکی مقابلے میں چنا گیا افسانہ ”پینسل تراش“ ، کچھ کہانیاں لکھنے کے تجربات ہیں، مثلاً سو لفظوں کی کہانی، کرونا وائرس کے وقت ایک مختلف خیال کی لکھی کہانی ”وائرس سکونا“ ، تین ای میلز کی کہانی کہ تین ای میلز میں کہانی خود کو بیان کر دیتی ہے، کتاب کے طنز و مزاح کے حصے میں لکھے گئے ”پھوپھی جان کے نام خط“ میں خط کی صورت کہانی مزاح کے ساتھ بیان کی ہے۔

کہنے لگے اور وہ جو آپ نے ایسی کہانیاں لکھیں جن میں روحیں ڈالی ہیں اور اعتراض سنے ہیں کہ آپ روحانی کہانیاں پھیلا رہے ہیں۔ ہم نے کہا، کون سی کہانیاں؟ فرمانے لگا، کہانی ”پرانی کوٹھی“ میں آپ دو روحیں لے آئے ہیں اور ”پراسرار رات“ میں ایک جادوئی مینڈھا راستہ دکھاتا پھرتا ہے۔ ہم نے کہا، حضرت ہمارے لحاظ سے تو یہ رومانی کہانیاں ہیں، کیا کہانی میں گناہگار کے ذکر سے کہانی بھی گناہگار ہو جاتی ہے؟ جو ان کہانیوں کو روحانی جان رہے ہیں وہ ایسے سادہ لوح ہیں جو طوائف الملوکی میں سے ملک تو نہیں مگر طوائف نکال لاتے ہیں اور دیومالائی کو دودھ کی ملائی کی کوئی قسم سمجھتے ہیں۔

اصل میں تو ہم نے ان کہانیوں میں میجیکل ریلزم کا تجربہ کیا ہے۔ میجیکل ریلزم کی کہانیوں میں حقیقی ماحول میں کہانی کو بڑھاتے یک دم ایک جادوئی کردار آتا ہے، اپنا کمال دکھاتا ہے پھر غائب ہوجاتا ہے ، پھر آ جاتا ہے، ہر چند کہ کہیں نہیں ہے مگر ہے، کہانی حقیقی ہی بڑھتی جاتی ہے، سو کہانی کو جادوئی کہانیوں کے زمرے میں نہیں ڈالا جاتا۔ کہنے لگے یہ تو آپ پاکستان کی کہانی بیان کر رہے ہیں کہ یہاں حکومت کی تشکیل کے وقت جادوئی کردار یک دم بغیر پاکستانی شہریت کے اقتدار میں آن موجود ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا سادہ لوح اسے بھی روحانی جانتے ہیں اور کچھ چالاک اسے روحانی بیان کر کے دنیا پاتے ہیں۔

کہنے لگے ہم سے پوچھتے تو کتاب کا بہتر نام تجویز کرتے، مثال کے طور پر ”بوٹیوں بھری چاول کی پرات“ ، بوٹی کا ذائقہ فرق، چاول کا فرق اور پرات کی بنا پر موسیقی کی دھن بھی کتاب کے نام میں شامل ہو جاتی۔ ویسے آپ کی کہانیوں میں چٹخارے دار مصالحہ کم ہے، اگر ہوتا تو نام ”بوٹیوں بھری تیز بریانی کی پرات“ کر دیتا۔ ویسے اگر ہم سے مشورہ کرتے تو کتاب میں شامل ”سرکاری تحفے“ کا مضمون ایسا چٹخارے دار ہوتا کہ تیز بریانی کا ذائقہ تو ایک طرف بلکہ دوسری طرف خوشبو کتاب کے صفحات سے اڑ اڑ کر پھیل رہی ہوتی، ایسی کہ بے ساختہ رالیں ٹپک رہی ہوتیں۔ ہم نے پوچھا، استاد، بریانی پر رالیں ٹپک رہی ہوتیں یا کہانی پر ۔ ویسے ایسی کتاب لائبریری میں ادبی شعبے میں نہیں بلکہ کھانے پکانے کی تراکیب والے حصے میں رکھی جاتی، اور ہمارا خیال ہے کہ آپ کے لاشعور میں یادوں کی برات اور بریانی کی پرات ہم آغوش ہیں۔

کہنے لگے کتاب کے نام کے ساتھ انتساب بھی بیکار ہے، یہ کیا کہ ”بہتے لمحوں، ٹھہری یادوں، گرتے پتوں اور پھوٹتے بیجوں کے نام“ ، کوئی عامیانہ سا انتساب ہوتا تو شوقین مزاج خوب خریدتے، مثلاً ”اس کی چڑھتی جوانی کے نام“ یا ”حکیم جیدا چوہدری کے نسخہ پھڑپھڑاہٹ و ٹمٹماہٹ کے نام“ ۔ ہم نے کہا، استاد، ہمیں یقین آ گیا کہ کتاب میں شامل آپ کا خاکہ خام ہے، اس پر مزید کام ہو سکتا تھا۔ بولے، ویسے وہ جو آپ نے میرا خاکہ اس بیکار انتساب والی بے تکی کتاب میں شامل کیا ہے، وہ درست نہیں ہے۔

ہم نے عرض کی کہ بالکل، آپ کے گنوں سے کون انصاف کر سکتا ہے، آپ کی اپنے مفاد کے لیے کھینچا تانی کو دیکھ کہ ایک عاجزانہ خاکہ کھینچ پایا۔ مگر اس خاکے میں بھی آپ کے کمالات کو ذہن میں رکھتے آپ کے افسر اعلی کے مسجد میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کے موقع پر آپ کو کارنر پلاٹ کی نشست دی تھی۔ کہنے لگے وہ تم کیا دیتے، وہ تو ہم نے خود قابو کی تھی، اور ہاں وہ تم نے ٹھیک لکھا کہ اس دن اس افسرانہ موجودگی سے ماحول میں اتنی نورانیت آ گئی تھی کہ فرشتوں کے پھڑپھڑانے کی آواز صاف سنائی دیتی تھی۔

ہم نے پوچھا، آپ صرف آواز سن پا رہے تھے، کچھ اوصاف میں کمی رہ گئی کہ فرشتوں کو دیکھ نہیں پا رہے تھے۔ بولے، اس وقت نظر افسر اعلی پر تھی۔ ہم نے کہا، واہ حضرت ایسی سماعت اور نظر کوئی استاد ہی پا سکتا ہے کہ فرشتوں کی آواز سنے اور شیطان دیکھے۔ کہنے لگے یہ نظر نذر نیاز سے ملتی ہے۔ محکمے سے جن کو کام پڑتا ہے وہ ہمیں نذر پہنچاتے ہیں اور ہم اس کا ایک حصہ اوپر والے کو پہنچاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اوپر والے کی دین نہیں بلکہ اوپر والے کو دین سے گن اور گن پائے جاتے ہیں۔

استاد بیگ نے پھر پانسہ بدلا، کہنے لگے ہمارا خاکہ تو کمان کی ڈور کی مانند کھینچا ہے مگر اپنی بابت کچھ نہیں بتایا، کچھ اپنا بھی بتاتے، کتاب پر ایک تصویر ہی لگا دیتے۔ ہم نے کہا اپنا کیا بتاتے ہمیں تو اپنا علم ہی نہیں۔ عرصہ قبل کہ لوگ اپنی گاڑی کے پچھلے شیشے پر مختلف اسٹکر لگاتے تھے، انجینئر، ڈاکٹر، وکیل، پائلٹ وغیرہ، تو ہماری گاڑی کے پچھلے شیشے پر اپنا بنوایا ایک سٹکر لگا تھا۔ یہ اسٹکر چسپاں ہونے والی ٹیپ پر خوش خط لکھوا کر تیز بلیڈ سے کاٹ کر لگایا تھا۔

بلے شاہ کا مصرعہ تھا، ”کیہ جاناں میں کون“ ۔ کئی سال وہ مصرعہ جہاں گردی میں متلاشی کے ہمراہ تھا۔ تلاش کا سفر گو ایک اور براعظم لے آیا مگر ابھی بھی پتہ نہیں کہ کون ہوں۔ جب خود کو ہی اپنا نہ پتہ ہو تو کسی اور کیا جھوٹ بتائیں۔ ویسے کتاب میں شامل تحریریں ہی خود مصنف کا تعارف ہیں، کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔

کتاب ہم نے لکھ ماری تو سوچا کہ پہلی کتاب زندگی کا ایک سنگ میل ہے، سو ایک معروف اشاعتی ادارے کے پاس گئے۔ انہیں ای میل کیا، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ پھر فون کیا تو انہوں نے کہا کہ جناب، ہم اپنی اور ادب کی خدمت معروف ادیبوں کی کتابیں شائع کر کے کرتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر رخصت ہو چکے ہیں سو وہ آخرت کے حساب کتاب میں دنیا کی رائیلٹی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتے۔

ہم نے کہا کہ کیا میر بھی آپ کے پاس آئے تھے؟ کہنے لگے، کون سے میر؟ ہم نے کہا، وہی جن کا شعر ہے کہ
پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں
اس اشاعتی میں عزت سادات بھی گئی

کہنے لگے، پتہ نہیں آئے ہوں گے، پہلے مصرعے سے تو لگتا ہے کہ آئے ہوں گے، دوسرا مصرعہ البتہ غورطلب ہے کہ کس کی بات کر رہے ہیں۔

ویسے ہم آپ کو بتا دیں کہ آپ جیسے کئی نئے لکھاری ہمارے یہاں قطار میں لگے کمر اور سر کھجا رہے ہیں۔ ہم نے پوچھا کن کی کمر اور سر کھجا رہے ہیں؟ کہنے لگے آپ صرف نئے لکھاری ہی نہیں بلکہ خاصے نامعقول بھی ہیں۔ ہم نے کہا اسی لیے کتاب چھپوا رہے ہیں کہ لوگ واقف ہو جائیں۔ پوچھا آپ کو کوئی جانتا ہے؟ ہم نے کہا ایک والدہ تھیں جو اس نامعقول کو معقول جانتی تھیں، اب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں۔ ایک اہلیہ ہیں جو اس نامعقول کو نامعقول ہی جانتی ہیں، آپ کے قول سدید کا علم ہو گا تو انہیں مسرت شدید ہوگی۔ بولے ہمارے اور سود خوروں کے ہاں گھر والوں کی گواہی نہیں چلتی، کسی اور کو ڈھونڈ کر لائیے۔

سو ایک مربی کو ڈھونڈا جن کی کتاب اسی ادارے سے شائع ہوئی تھی گو رائلٹی کبھی نہ پائی تھی۔ انہوں نے مسودے کو پڑھا، کہنے لگے کہ مسودہ کہیں سانس لیتا ہے، کہیں پھڑپھڑاتا ہے، ، کہیں ہائی جمپ لگاتا ہے، ایک دو جگہ پر بانس کود یعنی پول والٹ بھی کرتا پایا ہے اور الفاظ ہیں کہ کہیں تیرتے جاتے ہیں اور کہیں سرپٹ بھاگتے ہیں، ہمیں تو مسودے نے ڈیکاتھلون مقابلے کا رنگ دیا ہے۔ ان کی بات سنی تو ہم نے کہا سمجھ آ گئی، یہ کتاب نہیں شائع ہوگی۔

بولے کیوں۔ ہم نے کہا پاکستان کا اولمپکس میں ریکارڈ تو دیکھیے۔ کہنے لگے فکر نہ کیجیئے، ہماری جان پہچان ہے۔ ہم نے پوچھا صرف جان پہچان ہی ہے کہ پہچان بھی ہے، کہنے لگے جان پہچان ہے۔ سو ایک سال مسودہ اشاعتی ادارے کے پاس رہا۔ پوچھتے تو ہاں یا نہ کوئی جواب نہ آتا۔ اب پتہ نہیں ان کے ہاں رشتے کیسے کیے جاتے ہیں۔

ایک سال بعد پتہ نہیں کہ مربی کو پہچان ہو گئی یا نہیں مگر ہمیں ضرور ہو گئی اور ہم اگلے پبلشر کی تلاش میں نکل پڑے۔

سفر تلاش اشاعت میں ایک اور اشاعتی ادارے کے سربراہ تک پہنچے۔ کہنے لگے، اشاعت کر دیں گے۔ ہم نے کہا مسودہ تو پڑھ لیں، کہنے لگے اسے بھی پڑھ لیں گے۔ اصرار کر کے مسودہ ان کو پڑھنے کو دیا۔ دو تین دن بعد جواب تقریباً پرانا تھا سوائے معمولی تبدیلی کے، کہ اب کہا ”اشاعت ہو جائے گی“ ۔ پھر فرمایا، آپ باہر مقیم ہیں، دو سے ڈھائی ہزار ڈالر آپ کو ادا کرنے ہوں گے۔ ہم نے کہا باقی اشاعتی اداروں سے آپ ماورا ہیں کہ اشاعت کے پیسے ڈالروں میں مانگ رہے ہیں۔

اب تو بال پین کا دور آ گیا ہے، ورنہ ہم آپ کو کہیں نہ کہیں سے ڈالر انک پین لا دیتے، ویسے اس وقت بھی ہمارے پین میں سیاہی نہ ہوتی تھی، وہ بیرونی امداد پر چلتا تھا۔ عزیز دوست منصور ہمایوں اپنے پین کی دم کا کور اتارتا، ہمارا قلم بھی لنڈورا ہو جاتا۔ پھر وہ اپنے پین کی نب کو ہمارے پین کی نب سے عمودی جوڑتا اور پین کی پشت پر لگے پیچ کو ہلکا ہلکا گھماتا، اوپری نب سے ہلکی ہلکی سیاہی نکلنا شروع ہوجاتی، اس وقت ہم نچلے پین کے پیچ کو دوسری جانب حرکت دیتے اور سیاہی جرعہ جرعہ ہمارے پین کے پیٹ میں اترنا شروع ہوجاتی۔

قطرہ قطرہ سیاہی ٹپکتی کچھ پیٹ بھر جاتا تو قلم حوادث کو لکھنے کو تیار ہوتا۔ وقت اچھے تھے، قلم کی نب پر لگی سیاہی چھٹی جماعت کے بچے سر کے بالوں سے رگڑ کر صاف کر لیتے تھے۔ بچے بڑے ہوئے تو جانا کہ اعمال کی سیاہی چہروں پر آ جائے تو پھر صاف نہیں ہوتی، چاہے جتنے بھی رتبے کی بیساکھیوں سے اونچے ہو جائیں، چاہے تشہیری مہم پر جتنا بھی خرچ کر دیں، چاہے واہ واہ کرتے قوال قافلہ بند ہوں، یہ سیاہی رگڑنے سے نہیں، مسلسل گڑگڑانے سے جاتی ہے۔

پین بھرتے جان لیا تھا کہ پیٹ بھرا ہو تو پھر ہی کچھ لکھا جاتا ہے۔

عرصہ قبل لاہور میں ایک مشہور خطاط کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کیا تھا۔ سادہ آدمی تھے، غربت ساتھ تھی۔ قرآن خطاطی میں جانے جاتے تھے اور بعد میں اسی بنا پر حکومتی سطح پر پذیرائی پائی۔ ہم کچھ شاگرد زمین پر چوکڑی مارے کاغذ کے رجسٹر پر صفحات کے صفحات ج گول کرنے اور ش کا لمبا قط لکھنے کی مشق کرتے۔ ایک پرانا شاگرد ہمارے کام کو دیکھتا، جب کہ استاد صاحب ایک جانب بیٹھے صفحات پر قرآن کی خطاطی کر رہے ہوتے۔ بعض اوقات کسی فلم کا ہیجان انگیز پوسٹر آ جاتا، استاد صاحب صفحات کو دوسری جانب رکھ کر اس پوسٹر پر الفاظ سے مزید رنگ ڈال دیتے اور نقد ادائیگی قبول کر کے کرتے کی بائیں جیب میں ڈال لیتے، دائیں جیب میں ڈالنے والی رقم کا ماخذ دوسرا ہوتا۔ شروع میں عجب لگا مگر بعد میں جان لیا کہ مفلسی حس لطافت کے ساتھ ساتھ دوسری حسیات پر بھی اثر پذیر ہوتی ہے۔ جان لیا کہ پیٹ خالی ہو تو فلسفہ حیات اور ہے۔

اب اگلے پبلشر کی تلاش تھی۔ ایک مصنف سے ایک معروف اشاعتی ادارے کے بارے میں پوچھا۔ الٹا انہوں نے ہم سے سوال داغ دیا کہ کتنے سوشل میڈیا کے فالوور ہیں، کتاب چہرے یعنی فیس بک پر آپ کو کتنے پری چہرے فالو کرتے ہیں؟ ہم نے کہا، حضرت کیا آپ نے ہمیں کوئی چھب اور چھپ دکھاتی ٹک ٹاکر جانا ہے، ویسے اس سوال کا کتاب کی اشاعت سے کیا جوڑ ہے؟ ، ہاں ضرار شہید ٹرسٹ کے فورم سے عرصہ بیس سال سے سوشل ورک سے منسلک ہوں۔ فرمانے لگے سوشل ورک چھوڑیے، وہ اشاعتی ادارہ کہتا ہے کہ لکھاری مرزا جہلمی کے مقابلے میں سوشل میڈیا فالوور رکھتا ہو تو کتاب شائع ہوگی، آخر کتاب بیچنا بھی تو آپ ہی کو ہو گا۔ ہم نے کہا کہ نہ ہم ملا ہیں کہ جدل قول و اقوال کریں، داڑھی ضرور رکھی ہے مگر خضاب کے فضائل سے عاری ہیں، نہ واعظ ہیں، نہ مناظرے کرتے ہیں، نہ حسین و جمال ہیں۔ انہوں نے کہا، ”فیر اوناں ولوں نہ ہی سمجھو“ ۔

ہم نے سوچا کہ اشاعت گھر کا چناؤ کرتے رہیں گے مگر کتاب کا ٹائیٹل بنوانا چاہیے۔ سو نیشنل کالج آف آرٹس کے ایک فارغ التحصیل آرٹسٹ کو اپنا خیال بیان کیا، ایک پرانے تجربہ کار آرٹسٹ سے رابطہ کیا جس نے کئی کتابوں کے ٹائیٹل بنائے تھے، اردو بازار لاہور میں ایک دوست کے توسط سے دو ٹائیٹل بنوائے، ہمارے مہربان قاسم محمود بھائی نے بھی اپنی کمپنی کے آرٹسٹ سے ٹائیٹل بنوا کر دیا۔ سو بارہ سے تیرہ ٹائیٹل بن کر سامنے آ گئے۔

اپنے محلے کے جہانگیر خان گرم مکئی فروش کا سا معاملہ تھا جو ہر شام کو لکڑی کی ریڑھی گھر کے سامنے لے کر آتا تھا۔ وہ جلتی ہوئی لکڑیوں کے اوپر مٹی سے لیپے چولہے پر دھری پرات کی گرم نمکین ریت پر مکئی اور چنوں کے دانے پھینک دیتا تھا کہ ذات میں چھپا رنگ سامنے آن ظاہر ہو۔ ہمیں تو یہ زندگی کے سفر کا عکس محسوس ہوتا۔ کچھ دانے سرخ ایسے بھنے کہ باقیوں سے الگ چھب دکھائیں، اور کچھ کالے سیاہ خاکستر کہ اٹھا کر دور پھینک دیں۔ پھر دو ٹائیٹل میں مقابلہ ٹھہرا، آخر میں قاسم بھائی کے ڈیزائن کا چناؤ کیا۔

استاد بیگ پھر آن بولے، ویسے وہ آپ کا ٹائیٹل بھی کیا ہے۔ ایک عجب سا پس منظر ہے، آسمان کا رنگ دھندلا نیلا ہے بلکہ سفیدی زیادہ ہے، اس کے نیچے کبھی پہاڑ لگتا ہے، کبھی کسی حویلی کا شائبہ آتا ہے، کہیں پودوں یا پھولوں کی کیاری کا شبہ ہوتا ہے، ایک جانب کسی پرانی حویلی میں داخل ہوتی بجری کی روڈ کے کنارے لگے لیمپ پوسٹ کا خیال آتا ہے، لیمپ پوسٹ جو اوپر سے قوس کی شکل میں گھومتی اکیلی کھڑی ہے اور اس پر لگی لالٹین کہیں کھو چکی ہے، ہاں البتہ صفحات بکھرے اور گرتے نظر آتے ہیں۔

یہ اچھا کیا کہ اوپر نیلے رنگ کا ایک ٹکڑا لگا کر اس پر اوراق منتشر کے نیچے افسانے، قصے، یادیں، طنز و مزاح لکھ دیا کہ پتہ لگ سکے کہ کتاب میں کیا ہے، ورنہ ٹائیٹل کی تصویر سے تو کچھ پتہ نہیں لگتا۔ ہم نے کہا، استاد، یہ تحریریں غیب سے خیال میں اتری ہیں، خواب ہیں۔ یہ ٹائیٹل دھندلکے کا رنگ لیے ہے، کہانیاں پڑھیے، یہ صبح کی روشنی کی جانب لے جائیں گی۔ استاد بیگ کہنے لگے، اب کوئی ایسی کتاب کیا پڑھے کہ ہمارے جہان میں تو دن نکلتا نظر نہیں آتا۔

کتاب تیار تھی اور اشاعت کا معاملہ تھا۔

ایک دوست نے ایک اور اشاعت گھر سے متعارف کروایا۔ بات ہوئی تو کہنے لگے آج سے ہم آپ کے سنگی ہیں۔ جیسے آپ چاہئیں گے ویسی کتاب شائع ہوگی۔ ہمارا کتابیں شائع کرنے کا تجربہ بہت اونچا ہے کہ ابھی بھی پچاس کتابیں اشاعت کے مرحلے ہیں۔ اونچے تجربے پر پھر یوں روشنی ڈالی کہ ہم اعلی عہدوں پر فائز رہنے والوں کی داستان حیات چھاپتے ہیں، ریٹائرڈ بیوروکریٹ، جرنیل، بینکر، کئی ہم نے مصنف بنائے ہیں، دام دیجیئے صلائے عام ہے۔

پوچھا کہ یہ مصنف کیسے بنائے جاتے ہیں۔ بولے کہ ہم ان کے انٹرویو کرتے ہیں، اسے ریکارڈ کرتے ہیں، پھر ان کا کہا ہم لکھتے ہیں، پھر مصنف کی کتاب شائع ہوجاتی ہے۔ پتہ لگا کہ رقم ہو تو دل پر گزرتی بھی کوئی اور رقم کر دیتا ہے، اور پرورش اطفال ہی نہیں بلکہ پرورش لوح و قلم بھی مناسب کرائے پر دستیاب ہے۔ سروگیٹ مدر یعنی کرائے کی ماں کے ساتھ اب سروگیٹ مصنف بھی دستیاب ہیں، فرینڈز ناٹ ماسٹرز سے ان دا لائن آف فائر، پٹاری سے کیا کیا نہیں نکل سکتا۔

خیال آیا کہ اوراق منتشر کے ایک مضمون میں اعلی عہدوں سے ریٹائرڈ ہونے والوں کے بارے میں لکھا تھا، ”جیسے جیسے کہانی سنانے والے کا عہدہ بڑا ہوتا چلا جاتا ہے، اس کی کہانیاں تیزی سے اپنے جانب آتی ہیں، اور پھر وہ مقام آتا ہے کہ کہانی سنانے والا اپنے ہی گرد والہانہ رقص کر رہا ہوتا ہے، دیوانہ وار ناچتا ہے۔ یہ چھب دکھاتی طوائف نہیں ہوتی بلکہ وقت کا مارا، حقیقت سے فرار مانگتا ناچار نچیا ہوتا ہے۔ ایسا ناچنے والا جو اپنا تماشبین بھی خود ہی ہے۔ یہ زندگی کا رقص نہیں بلکہ حسرتوں کا ناچ ہے۔ مور کا سنا ہے کہ پنکھ پھیلائے ناچتے اپنے پیروں کو دیکھ کر روتا ہے، یہ نچیا اپنے ماضی کو یاد کر کر کے روتا ہے، ہائے گئے وقت نچایا کر کے تھیا تھیا“ ۔

ہم نے عرض کی کہ جناب ہم تو کتاب خود لکھنے کے گناہگار ہیں۔ کہنے لگے، چلیے، ایک تجربہ یہ بھی کر لیتے ہیں ورنہ تو ہم صرف عہدیداروں کی پرہیز گار سوانح ہی چھاپتے ہیں، ہم نے پوچھا سوانح پرہیزگار ہونی چاہیے، عہدیدار کا تو پرہیز گار ہونا شرط نہیں۔ کہنے لگے، آپ پرہیزگاری کے پیمانے پر پریشان نہ ہوں۔ آپ کی کتاب چھاپ دیں گے کہ آپ ایک تعلق سے آئے ہیں۔ ہم نے سوچا وقت پر پتہ چل جائے گا کہ ”راہ پیا جانے، تے واہ پیا جانے“ ۔

اگلے کچھ ماہ ان سے معاملات طے کرنے میں لگ گئے۔ کاغذ کی قسم کون سی ہوگی، سفید ہو گا کہ پیلاہٹ آمیز ہو گا، کتاب کا کور ہارڈ ہو گا کہ سافٹ وغیرہ۔ زبانی بات کرتے تھے، ایک دو دفعہ سارے معاملات ای میل پر بھیجے، اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ کتاب کا مسودہ انہیں پہنچایا۔ قیمت کے متعلق بات چیت ہوئی۔ کہنے لگے آپ سے کتاب چھاپنے کے پیسے نہیں لیں گے، ایک ہزار کتاب ہم خود چھاپیں گے۔ آپ کو رائلٹی نہیں ملے گی، اس کے بدلے میں آپ کو دو سو کتابیں دے دیں گے۔ ہم نے پوچھا کہ کتاب کی قیمت کیا ہوگی؟ بتایا کہ دو ہزار روپے سکہ رائج الوقت قیمت رکھیں گے۔

اس سے قبل جس اشاعتی ادارے سے بات کرتے تھے، وہ کہتا تھا کہ آپ نئے مصنف ہیں، آپ کو کون جانتا ہے۔ سو کتاب کی اشاعت کے پیسے آپ لگائیں۔ یہ پہلی دفعہ کسی نے کہا کہ ہم آپ سے پیسے نہ لیں گے تو ہم نے سوچا کہ چلیں ٹھیک ہے۔ وقت گزرنے لگا، مسودے کی تین چار مرتبہ پروف ریڈنگ ہمارے ذمہ رہی۔ مسودہ ہم نے خود مائیکروسافٹ ورڈ میں ٹائپ کیا تھا۔ مائیکروسافٹ ورڈ میں الفاظ ایک دوسرے میں رشتہ داروں کی طرح بے وجہ در آتے ہیں، مثال یوں لکھا کہ ”وہ سوسائٹی کا رکن تھا“ ، یعنی کسی سوسائٹی کا ممبر تھا مگر ورڈ کی وجہ سے کارکن پڑھا جاتا تھا۔

اس وجہ سے پروف ریڈنگ بہت تکلیف دہ تھی۔ ہر دوسری سطر میں اس بنا پر نشان لگانے پڑے۔ املا کی غلطیاں مقابلتاً کم تھیں۔ مسودے کو پرنٹ کیا، اس پر اغلاط کی نشان دہی کر کے مسودہ ان کے پاس آسٹریلیا سے بھجوایا۔ وقت گزرتا گیا، کبھی بتاتے کہ خاندان میں وفات ہو گئی ہے چھ ماہ اس افسوس میں گزر گئے۔ سمجھ نہیں آتی تھی کہ ہم تو نئے مصنف ٹھہرے، وہ دعوی کردہ عہدیداروں کے پچاس مسودے کس ماتم میں سرکشیدہ پڑے ہیں۔ اسی وقفہ وفات، پیدائش، پروف ریڈنگ میں دو سال گرد ہوئے۔

قبلہ سے پوچھا، حضرت، کچھ تو بتلاؤ۔ کہنے لگے آپ تو پہلے بتلائیں، ہم نے پوچھا کیا؟ کہنے لگے، آپ کے احباب میں سے کوئی ہوں گے کہ دو سو کتابیں خرید کر عطیہ کر دیں۔ کہا کہ بھائی، یہ جو آپ چار لاکھ روپے کی آسامی ہم سے چاہتے ہیں، ہم تو نہیں لا سکتے۔ اسی دوران میں مسودے کی اغلاط کی بات بھی ہوئی۔ ہم نے کہا، کہ مسودے کو ان پیج کے سافٹ ویئر میں لکھوا لیں کہ اردو کی اشاعت کے لیے سب سے بہتر ہے۔ کہنے لگے، یہ نہیں ہو پائے گا، آپ سے کمپوزنگ کی بات نہیں ہوئی تھی۔ ان پیج لکھوانے میں تو پیسہ خرچ ہو گا۔

ہم نے کہا، ایسی ایپلیکیشنز ہوں گی جو ورڈ کو ان پیج میں بدل دیں۔ اس کے بعد اس کو پڑھ لیں گے اور اگر کچھ درستگی کرنی ہو گی تو کر لیں گے، اس سے کتاب بہتر ہو جائے گی کہ ورڈ میں الفاظ کے مل جانے والی ناگواری ختم ہو جائے گی۔ اسی بحث میں پیغام آیا کہ آپ کی کتاب فیور کے طور پر چھپ رہی ہے۔ انگریزی میں گالی اتنی بری نہیں لگتی، مگر ہمیں فیور کا لفظ پنجابی کی گالی سے کم نہ لگا کہ کسی کا احسان کیوں لیں۔

کسی زمانے میں احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ”وحشی“ پڑھا تھا، افسانے کا بنیادی کردار ایک ادھیڑ عمر کسان عورت تھی جو ایک بس کے سفر میں اپنے پاس کرائے کے لیے ناکافی پیسے ہونے کے باوجود کسی اور کی چند پیسوں کی فیور لینے کو تیار نہیں ہوتی اور چلتی بس سے چھلانگ لگا کر اتر کر کئی میل پیدل جانے کو ترجیح دیتی ہے۔ اس وحشی عورت کے کردار سے ہمیں وہ افسانہ پڑھتے ہی محبت ہو گئی تھی۔ ان کے اس دو سال لٹکائے رکھنے سے ویسے ہی طبیعیت مکدر تھی سو جب یہ قول فضول سنا، تو دل ان حضرت کے ساتھ ایک وحشی کردار ادا کرنے کو تیار تھا، مگر جس تعلق نے بھیجا تھا، ان کا خیال آڑے رہا۔ ہم نے اسی وقت اشاعت کے اس رینگتے کچھوے سے چھلانگ لگادی، سوچا کہ جب اشاعت خود ہی کروانی ہے تو پھر اے سنگی تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو۔

اس تمام یک طرفہ تماشے میں اب تین سال گزر گئے تھے۔ ایک اور کام مگر پایہ تکمیل کو پہنچا تھا کہ نئے مصنف نے سوچا کہ کچھ آراء کتاب کے متعلق مل جائیں تو پتہ لگے کہ تحریروں کا کیا معیار ہے ورنہ اپنا بچہ تو سب کو جہاں میں سب سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے۔ ادھر ادھر نظر دوڑائی اور کچھ احباب اردو تک درخواست لے کر پہنچے، مگر یہاں بھی نیا مصنف ہونا آڑے رہا۔ یاد آیا کہ دو ہزار پندرہ کے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے مقابلے میں اپنا افسانہ ”پینسل تراش“ منتخب ہوا تھا جو بعد میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے کتاب ”کوزہ“ میں شائع بھی کیا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس والوں نے اطلاع دی کہ آپ کا افسانہ کتاب ”کوزہ“ میں شائع ہوا ہے، اپنی جیب سے کتاب خرید لیں۔ یہ ہمارا کسی اشاعتی ادارے سے پہلا واسطہ تھا، مگر فنون کو ماننا پڑتا ہے کہ جب بھی ہمارا کوئی افسانہ شائع کیا، ایک اعزازی شمارہ ہم سے گم نام مصنف کو بھی بغیر قیمت بھیجا۔ افسانوں کے مقابلے کے کچھ دنوں بعد ایک یونیورسٹی کی تقریب میں ایک صاحب کتب سے ملاقات ہوئی۔ انہیں اس افسانے کے چناؤ کا بتایا تو آگے سے پوچھنے لگے کیا آپ لوگوں کو جانتے ہیں۔

ہم نے کہا کہ ہم نے کبھی لوگوں کو جاننے اور پہچاننے کا دعوی نہیں کیا، سنا ہے کہ پہچان ولیوں کا کام ہے، اور ہم تو میاں محمد بخش کے کہے کے مطابق ”میں گلیاں دا روڑا کوڑا“ ۔ کہنے لگے، میاں، کسی ادبی گروپ یا لکھاریوں کی گروہ بندی کے ساتھ ہو۔ ہم نے کہا، کسی گروہ بندی کے ساتھ تو نہیں مگر ماں باپ نے ایک بندی سے بیاہ دیا تھا، صبر و شکر کے ہمراہ اس بندی کا ساتھ ہے، جس میں یقیناً اس کا زیادہ کمال ہے۔ کہنے لگے، میاں پھر یہ افسانہ کیسے منتخب ہوا؟

گم نام مصنف آراء کا منتظر تھا، ایسے میں دو اصحاب نے اپنی رائے سے نوازا۔ محبی محمد حسن معراج سے کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی مگر انہوں نے اس نئے مصنف کی کچھ تحریریں انٹرنیٹ پر پڑھی تھیں سو ایک رابطہ قائم ہو گیا تھا۔ انہیں کتاب کا مسودہ ای میل کیا، انہوں نے اپنی رائے سے نوازا کہ اس نئے لکھاری کی کہانیوں سے وقت کی واردات کا سراغ ملتا ہے، وہ واردات جو معلوم کے کنویں سے نامعلوم نکال لاتی ہے۔ محترم ڈاکٹر ناصر عباس نئیر سے بھی کبھی ملاقات نہ ہوئی ہے مگر انہوں نے پہلی ہی ای میل کا جواب فوراً دیا۔

ان سے اجازت پا کر مسودہ ای میل کیا اور انہوں نے کمال شفقت سے اپنی رائے سے نوازا۔ ان کی رائے ایک محقق کی رائے لیے ہے کہ پوری کتاب کا احاطہ کرتی ہے ؛ بیان کی اصناف کا ذکر ہے، موضوعات کے تنوع کا اظہار ہے، سماجی معنویت کی جانب اشارہ ہے، زبان کے چناؤ کی بات ہے، اور پھر خصوصاً انہوں نے ”ماں جی“ کے خاکے کو ایک یادگار تحریر کے طور پر سراہا ہے۔

سو ٹائیٹل اور آراء تیار تھیں اور اب نئے سرے سے اشاعت گھر کی تلاش تھی۔

دسمبر کی چھٹیوں میں پاکستان جانا ہوا تو خیال تھا کہ اب کتاب کی اشاعت ہو جائے۔ لاہور اردو بازار میں ایک اللہ کے بندے سے رابطہ ہوا کہ نام بھی اس کا عبداللہ ہی ہے۔ درسی کتب کی اشاعت سے منسلک ہیں، سو مجھے کہا کہ آپ کو اردو بازار میں کچھ ادبی کتب کے چھاپنے والوں کے پاس لے جاتا ہوں۔ اس کے علاوہ چوک صفانوالہ مزنگ میں موجود ناشران کتب سے خود ملاقات کریں۔

مزنگ میں پتہ لگا کہ ایک ہاؤس ہے جو فکشن چھاپتا ہے، سوال ذہن میں آیا کہ انگریزی نام سے اردو چھپے گی تو رنگ چوکھا ہو گا کہ اوکھا ہو گا۔ دکان پر حاضر ہو کر وہاں کے مینجر صاحب سے ملاقات کی، کہنے لگے مسودہ لے آئیے چھاپ دیں گے۔ پیسے زیادہ مانگ رہے تھے اور مزید شرط یہ تھی کہ ایڈوانس میں تمام پیسے دیں۔

سانجھ پبلیکیشنز میں امجد سلیم منہاس صاحب سے ملاقات ہوئی۔ اچھی رہنمائی فرمائی، اشاعت کے پیسے بتا دیے، کچھ مشورے بھی دیے جو مفت ہونے کے باوجود کام کے تھے۔ کتاب کے سرورق پر تحریروں کی بابت، افسانے، یادیں، طنز و مزاح کا لکھنا انہیں کا مشورہ تھا، نیز تحریروں کو ان اصناف کے مطابق کتاب میں اکٹھا کر دینا بھی انہیں کی تجویز تھی۔

عبداللہ فاروق ہمیں لے کر اردو بازار میں ایک ادبی ناشر کے پاس گئے۔ وہ صاحب ابھی عمرے سے واپس آئے تھے اور شاید اسی بنا پر اپنے ہر جملے میں گالیوں کے مسلسل ٹانکے لگا کر بابرکت سفر کے اثرات سے چھٹکارا چاہ رہے تھے۔ انہوں نے ایک کاغذ کی پرچی پر تمام راز کھول کر رکھ دیے، کاغذ کی کیا قیمت ہوگی، کمپوزنگ اور پرنٹنگ کتنا لے گی، ٹائیٹل پازیٹو و پلیٹ و چھپائی، کور سے لے کر اس کا استر اور جلد کا کیا خرچہ ہو گا۔ انہوں نے قہوے میں شہد سے بھرا چمچہ ہلاتے، کچھ ہی منٹوں میں اشاعت کے عمل اور گالیوں کی فصل میں کمال رہنمائی کی۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا، جس کو انہوں نے بخوشی ہمراہ ایک گالی قبول کیا۔

پھر ہم الفیصل ناشران کتب کے در پر حاضر ہوئے۔ انہوں نے بھی اشاعت کا تخمینہ سامنے رکھ دیا کہ کتاب چھاپیں گے، قیمت پوری ادا کرنی ہوگی اور پھر سب کتابیں لے جائیں۔ اب نئے مصنف پر ہے کہ ان کتب کا کیا کرنا ہے، بیچنا ہے، بانٹنا ہے کہ آگ لگا کر ہاتھ تاپنے ہیں۔ مزید پتہ لگا کہ کتاب کے صفحات سولہ کے عدد پر پورے تقسیم ہونے چاہئیں کہ کاغذ کی ایک شیٹ سے سولہ صفحات نکلتے ہیں۔ حتمی قیمت کا تعین صفحات کے تعداد کے تابع ٹھہرا۔

کتاب کا نام اوراق منتشر خود چنا تھا۔ یہ نام سنا تو محبی نوید ظفر نے جون ایلیا کا شعر سنایا۔
سب اوراق منتشر کردو
دفتر واقعات کچھ بھی نہیں

سوچا کہ یہ شعر بھی کتاب کے شروع میں ہونا چاہیے، سو ایک صفحہ حضرت جون کی نذر ہوا۔ اس کے علاوہ جہاں مضامین کی درجہ بندی کے لحاظ سے نئی صنف شروع ہوتی وہاں بھی ایک صفحہ خالی جاتا۔ اب ہم نے جب اپنے مسودے پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ کہانیوں کی ردا پھیلی تھیں، سوچا کہ پہلی کتاب ہے سو ساڑھے تین سو صفحات کا ہدف اپنے آپ کو دیا۔ اس بنا پر کئی تحریروں کو اس کتاب سے نکالنا پڑا، سوچا کہ جب نیا لکھاری پرانا ہو گا تو یہ پرانی تحریریں اگلی کتاب میں شامل کر لیں گے، شاید پرانی شراب کی مانند مزہ دوبالا کریں۔

ڈاکٹر مبارک علی اور کچھ اور مصنفین کے اشاعتی اداروں سے تنازعات کا سن کر یہی بہتر سمجھا کہ نیا مصنف کتاب کی اشاعت کا بار خود اٹھا لے۔ الفیصل اور سانجھ کو قیمت کے لحاظ سے مقابلے میں پایا۔ عبداللہ کی مدد کو نظر میں رکھتے سوچا کہ اردو بازار کو فوقیت دی جائے اور الفیصل ناشران کتب سے قیمت اور بات طے ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ تین ہفتوں میں کتاب شائع ہو جائے گی۔

دسمبر کی سردیاں، چہار سو پھیلی دھند، ٹریفک کی بد انتظامی اور پھر الیکشن کی قربت کی وجہ سے ٹھیک سڑکیں اکھیڑ کر دوبارہ بنوائی جا رہی تھیں البتہ خراب سڑکوں کو ویسے ہی چھوڑا ہوا تھا کہ فنڈز ٹھیک سڑکوں کو ٹھیک کرنے کے لیے تھے۔ سو لاہور میں اردو بازار تک پہنچنا ایک کار دشوار تھا۔ ایسے میں گاڑی پر بار بار اردو بازار جانا ممکن نہ تھا، موٹرسائیکل ہی اس جہاد زندگانی میں مناسب سواری ٹھہری۔ سو بائیکیا ہمارا معاون تھا۔ نیا لکھاری اپنے آپ کو گرم کپڑوں اور اونی ٹوپی میں موٹرسائیکل چلانے والے کے پیچھے چھپائے اردو بازار کو گامزن ہوتا۔

کارزار اشاعت کے ابھی کئی مرحلے طے کرنے تھے۔ ان پیج میں لکھائی اور اس کے بعد پروف ریڈنگ ہمارے ذمہ ٹھہری۔ عبداللہ پھر مدد کو آیا، اور اردو بازار کے ایک کمپوزر نے پیسے لے کر مسودہ ان پیچ میں تبدیل کیا۔ اگلا مرحلہ اس مسودے میں غلطیاں لگانی تھیں، سو مسودے کو پرنٹ کیا کہ اس پر غلطیاں لگائیں۔

اسی دوران سخت بخار نے آن لیا، دسمبر کی سردی اور لاہور میں پھیلی سموگ کے سنجوگ نے بائیکیا کے پیچھے چھپے نئے مصنف پر اپنا اثر ثبت کر کے پوچھا، کہاں تک چھپو گے؟ ہم نے کہا، آپ کا زور ہے سو اس کے سوا کیا کہیں کہ ”سر تسلیم خم ہے جو مزاج بخار میں آئے“ ، سو ایک سو دو سے ایک سو تین بخار تھا۔ وقت کم تھا سو سخت بخار میں مسودے سے اپنی غلطیاں نکالتے رہے، پتہ لگا کہ جب تکلیف میں ہوں تو اپنی غلطیاں آسانی سے نظر آتی ہیں۔

اردو بازار کی ایک تنگ گلی میں اس گلی سے بھی تاریک سیڑھیاں گھومتی اوپر جاتی تھیں۔ پہلی منزل کے ایک چھوٹے سے کمرے میں تین کمپیوٹرز اور پرنٹرز دو میزوں پر دھرے تھے، اس کے بعد کمرے میں اتنی ہی جگہ تھی کہ نیا مصنف اور پرانا کمپوزر مائیکرو سافٹ ورڈ میں ایک دوسرے کے ساتھ در آئے اردو الفاظ کی مانند جڑ کر ساتھ بیٹھیں۔ شاہ صاحب کا دل مگر بڑا تھا، ہماری لکھی غلطیاں بڑے صبر سے درست کیں۔ اب ایسے کسی کے ملنے کی خواہش ہے جو زندگی کی غلطیوں کی درستگی کردے۔

مسودہ ان پیج میں تیار تھا، سو الفیصل ناشران کتب کے حوالے کیا۔ انہوں نے دو دن بعد تیار کر کے اشاعت کی حتمی شکل میں دکھایا۔ خرچ کا خیال کرتے ہم نے ساڑھے تین سو صفحات کی کتاب کی قیمت 750 روپے مقرر کی۔ ایک اشاعتی ادارے سے کتاب کی فروخت کے بارے میں پوچھا، جواب ملا کہ 50 فیصد رعایت دیں اور 20 فیصد ہمارا مختلف شہروں کی دکانوں میں بھیجنے کا خرچہ سو آپ کو 30 فیصد ملے گا، وہ بھی جب کتاب فروخت ہوگی۔ ہم نے سوچا کہ پوری لاگت لگا نے کے بعد 30 فیصد پائیں اور وہ بھی ایک وعدہ فردا پر ، ایسا سودا تو کوئی سودائی بھی نہ کرے۔

تین ہفتوں میں کتاب شائع ہو گئی اور ہم چھ سو کتابیں اٹھا کر گھر لے آئے۔ ساڑھے تین سو صفحات اور ہارڈ کور کے ساتھ کتاب کا وزن کیا تو چھ سو گرام پایا، سو پڑھنے کے علاوہ دشمن داری میں بھی کام آ سکتی ہے۔ الفاظ کا وزن نہیں کر پائے کہ اس بارے میں قارئین ہی رائے دے سکتے ہیں۔

کتاب شائع ہوئی تو ایک صاحب ملے جو کنجوسی میں بے مثل ہیں، کہنے لگے کیا آپ یہ کتاب مفت بانٹیں گے۔ پوچھا کہ کیوں؟ کہنے لگے آپ سے پہلے ہمارے ایک دوست نے ایسا کیا تھا، وہ شاعر بے ضمیر ہے۔ ہم نے روک کر پوچھا شاعر بے نظیر یا شاعر بے ضمیر۔ کہنے لگے شاعر بے ضمیر کہوں گا کہ بالکل اوچھی شاعری کرتے ہیں، کسی خاتون کو دیکھ لیں تو آنکھوں میں چمک اور رال ٹپکنے لگ جاتی ہے، ایسے ہی اثرات ان کی شاعری میں ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب مفت بانٹی تھی۔ ہم نے کہا، معذرت، اوچھا لکھ نہیں پایا سو مفت بانٹنے سے گریزاں ہوں۔

انٹرنیٹ پر ایک آرڈر فارم بنایا کہ جو بھی خریدنا چاہے، وہ لنک پر اپنی تفصیلات اور پتہ لکھ دے اور کتاب بذریعہ ڈاک پہنچ جائے گی۔ ”ماں جی“ کی زندگی میں ضرار شہید ٹرسٹ کی کہانی بیان کی ہے۔ اس کتاب کی فروخت کا ایک حصہ ضرار شہید ٹرسٹ کو دیا جا رہا ہے کہ ماں جی کو خراج تحسین پہنچانے کے لیے صدقہ جاریہ ہی مستحسن جانا۔ اس کے علاوہ کتابیں مختلف لائبریریوں کو بغیر قیمت دیں تاکہ قارئین تک رسائی ہو۔ لاہور میں باغ جناح لائبریری، عجائب گھر کی لائبریری، لاہور جمخانہ لائبریری، کراچی میں حبیب یونیورسٹی کی لائبریری، اسلام آباد پبلک لائبریری، اسلام آباد کلب لائبریری، اور نیشنل لائبریری میں اوراق منتشر نے جگہ پائی۔

اب تک تقریباً ڈیڑھ سو کتابیں احباب نے خریدی ہیں۔ اس سفر اشاعت سے علم ہوا کہ کتاب کی قیمت کم ہو سکتی ہے، اور کتاب بذریعہ انٹر نیٹ و سوشل میڈیا فروخت ہو سکتی ہے۔ مزید علم ہوا کہ اشاعت کے میدان میں کھلا دھوکا دینے والے بازی گروں کی بہتات میں ڈھونڈنے پر مناسب لوگ بھی مل جاتے ہیں۔ یہ بھی پتہ لگا کہ جہاں بستی بستے بستے بستی ہے، وہیں کتاب بھی چھپتے چھپتے چھپتی ہے۔

سو اگر آپ کتاب اوراق منتشر خریدنا چاہئیں تو درج ذیل لنک کے ذریعے آرڈر دے سکتے ہے۔
https://bit.ly/3TMWGec

فیس بک پر اوراق منتشر کا صفحہ بنایا ہے جہاں پر قارئین نے اپنی رائے دینا شروع کی ہے۔ آراء سے علم ہوا کہ کتاب اپنا کچھ رنگ ضرور رکھے ہے۔ یہ آراء درج ذیل لنک پر پڑھی جا سکتی ہیں۔

https://www.facebook.com/AuraqEMuntashir/
باقی یہ مضمون شاید اگلی کتاب میں جگہ پائے۔

عاطف ملک
Latest posts by عاطف ملک (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسڑن آسڑیلیا میں سکول آف کمپیوٹر سائنس اور سوفٹ وئیر انجینرنگ میں پڑھاتے ہیں ۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ طالبعلمی کے دور میں آپ نے اپنی یونیورسٹی کا400 میٹر کی دوڑ کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جبکہ اپنے شوق سے کے-ٹو پہاڑ کے بیس کیمپ تک ٹریکنگ کر چکے ہیں۔

atif-mansoor has 74 posts and counting.See all posts by atif-mansoor

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments