آئیں اپنی ریاستی ذمہ داریاں پوری کریں!
یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں پہلی بار پچھلی تین حکومتوں کے دوران وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی ہے۔ اگرچہ وزراء اعظم تبدیل ہوتے رہے یا ان ہاؤس تبدیلی آتی رہی اور گو جمہوریت گردش میں رہی لیکن جمہوریت گردش کرتی رہی۔ مسائل اپنی جگہ لیکن جمہوریت کی اے بی سی مکمل کرنے پر الیکشن کمیشن، فوج اور تمام سیاست دان خواہ وہ اپوزیشن سے ہوں یا حکومت سے مبارک باد کے مستحق ہیں۔
آخر کار ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کو یہ بات سمجھ آ رہی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کا فروغ اور تسلسل ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ اب ایک مکمل طور پر آزاد و خود مختار الیکشن کمیشن اور ملک میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں میرٹ کی بنیاد پر مساوی مواقعوں کی فراہمی جمہوری اقدار کو مضبوط کرنے، پاکستان کو مشکلات سے نکالنے اور ترقی کی راہ پر لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ میرے خیال میں پیپلز پارٹی کے اساسی نعرے اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشلزم ہماری معیشت کی بنیاد ہے، تمام قوت عوام کی ہے آج بھی ملک میں ایک مضبوط سماجی اور سیاسی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
ملک میں بائیں بازو کی واحد مضبوط جماعت پیپلز پارٹی اپنے بنیادی اصولوں پر آج بھی کھڑی ہے چاہے وہ ذوالفقار علی بھٹو کا دور ہو یا محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کایا پیپلز پارٹی کی کسی بھی اور قیادت کا ۔ پیپلز پارٹی کی پالیسیاں انھیں مندرجہ بالا اصولوں کے تابع رہی ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر آصف علی زرداری تک ہمیں پی پی پی کی پالیسیوں میں تسلسل ملے گا۔ شہید بھٹو ایک کرشماتی شخصیت کے حامل ایک عظیم مقرر تھے اور اپنی تقریروں کی صورت میں انھوں نے ایک ایسا ورثہ چھوڑا ہے جنھیں پڑھے اور سنے بغیر کوئی کامیاب سیاست دان نہیں بن سکتا۔
قائد جمہوریت ذوالفقار علی بھٹو کے سیا سی فلسفے کا نچوڑ یہی ہے کہ کامیاب نظام حکومت کے لئے حکومت اور عوام میں مربوط تعلق قائم ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ عوامی آراء کو فوقیت دیے بغیر کوئی نظام کامیابی سے نہیں چل سکتا۔ اب عوام کو بھی اس بات کی سمجھ آ رہی ہے کہ آئین سے ماورا کسی بھی اقدام کا نتیجہ پاکستان کے حق میں بہتر نہیں ہو گا اور تبدیلی صرف ووٹ کی طاقت سے ہی آئے گی۔ حالیہ الیکشن کے نتائج نے گو عوام کو کسی حد تک مایوس کیا ہے لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں الیکٹورل نظام کی یہ خرابیاں دور ہو جائیں گی اور غیر جمہوری قوتیں بھی وقت کے ساتھ کمزور ہوں گی۔
حالیہ الیکشن میں عوام کا جوش و خروش اور دلچسپی اور ٹرن آؤٹ مثبت اشاریے ہیں۔ سیاستدان اور عوام جوں جوں جمہوری رویے اپنائیں گے اور جتنی تیزی سے اپنائیں گے اسی رفتار سے سسٹم میں مضبوطی آئے گی۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ بالآخر پاکستان آہستہ آہستہ ملکی سلامتی کو درپیش سنگین مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گا اور ایسا ضروری بھی ہے کیونکہ تب ہی حکومتیں اپنی بھر پور توجہ عوامی مسائل کو حل کرنے پر صرف کر سکیں گی۔
ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر کرنا چاہیے اور امید رکھنی چاہیے کہ پاکستان پر چھائے ہوئے مایوسی کے بادل ضرور چھٹیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی اپنی شہری ذمہ داریاں پوری کریں اور فلاح عامہ کے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔ ہمیں مثبت طرز عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کی ترقی کے لئے حکومت اور عوام کے مابین کسی رکاوٹ کے بغیر براہ راست اور مضبوط تعلق قائم ہونا چاہیے۔ پنجاب میں مریم نواز بطور وزیر اعلیٰ اس حوالے سے درست سمت گامزن ہیں اور بطور پاکستانی شہری کم از کم میں ان کے عوامی رابطوں کو سراہتا اور بھرپور تائید کرتا ہوں۔
غربت ملک کو درپیش ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان میں بہت سے حکومتی ادارے فلاح عامہ کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جن میں سے ایک پاکستان بیت المال ہے جس کے پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے سینکڑوں دفاتر اور تربیتی مراکز میں روزانہ ہزاروں غریب، نادار، بیمار اور اپاہج لوگ امید لے کر آتے ہیں اور پاکستان بیت المال کا ادارہ بساط بھر ایسے لوگوں کی مدد بھی کرتا ہے لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے بہت سے سائلین بیت المال کے دفاتر سے خالی ہاتھ بھی لوٹتے ہیں۔
پاکستان بیت المال، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور غربت کے خاتمے کے دیگر اداروں اور این جی اوز سے منسلک لوگ خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر دکھی عوام کی خدمت کریں تو ان کا یہ عمل انھیں دنیا و آخرت میں سرخرو کر سکتا ہے اور یقیناً یہ ایک عظیم کامیابی ہو گی۔ پاکستان بیت المال ایسے ریاستی اداروں میں سے ایک ہے جس کا کبھی کوئی میگا کرپشن سکینڈل سامنے نہیں آیا اور اس جیسے اداروں کو سیاسی وابستگی اور کسی بھی امتیاز سے بالاتر ہو کر وطن عزیز کے باشندگان کی خدمت کے لئے بجا طور پر استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
گو حکومت ادارے کو سالانہ بجٹ مہیا کرتی ہے لیکن یہ وسائل اتنے زیادہ نہیں ہیں کہ ہر دکھی پاکستانی کی داد رسی ممکن ہو سکے۔ حال ہی میں سبکدوش ہونے والے منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال مخدوم سید طارق محمود الحسن اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے تھے۔ وہ ایک انتہائی شریف، بیرونی ممالک سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ایک ادبی و روحانی شخصیت ہیں جن میں سماجی خدمت کا جذبہ بھی بدرجہ اتم موجود تھا اور وہ اس حوالے سے ادارے کی سربراہی کے لئے ایک عمدہ انتخاب تھے، لیکن بدقسمتی سے اپنی تعیناتی کے چند ہی دنوں بعد وہ ادارے سے رخصت ہو گئے۔
اس وقت یہ ادارہ بغیر سربراہ کے ہے جس کی وجہ سے غریب و نادار افراد خاص طور پر مستحق مریضوں کی بروقت امداد میں تعطل آ رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جلد از جلد منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال کا تقرر عمل میں لائے۔ سابق منیجنگ ڈائریکٹر عامر فدا پراچہ نے بھی ادارے کی احسن انداز میں خدمت کی ہے۔ عامر فدا پراچہ کی سیاسی پارٹی موجودہ حکومتی کولیشن کا حصہ بھی ہے، وہ محکمے سے بخوبی واقف ہیں۔ میرے خیال میں اگر انھیں دوبارہ موقع فراہم کیا جائے تو یہ بھی ایک اچھا اور بہترین انتخاب ثابت ہو گا۔
غربت کے خاتمے کے لئے لوگوں کو بھکاری بنانے کی بجائے انھیں قومی ترقی کے عمل میں شریک کرنا زیادہ معقول طرز عمل ہو سکتا ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان بیت المال کی طرف سے مالی امداد کو صرف ناگزیر حالات میں ہی منظور کیا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان بیت المال ایسے منصوبہ جات کو اہمیت دیتا ہے جس سے غریب عوام اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر قومی تعمیر میں کردار ادا کر سکیں۔ اس سلسلے میں اس ادارے کو عوامی سپورٹ کی بھی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان بیت المال کے تحت اس وقت یتیم بچوں کی بحالی کے لئے متعدد سویٹ ہومز، دستکاری اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے قائم ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان اداروں کے اچھے نتائج کے لئے انھیں پبلک پرائیویٹ شراکت کے فارمولے کے تحت چلانے کے لئے بھی متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ کیونکہ اس مقصد کے حصول کے لئے پاکستان بیت المال نے کچھ کاوشیں کی ہیں اور اپنے بھاری بجٹ کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے خدمت کے جذبے سے لیس مخیر حضرات کو اس عمل میں شریک کر رہا ہے۔
متعدد افراد بلکہ متعدد اداروں نے پاکستان بیت المال کے یتیم بچوں کی بحالی کے منصوبے پاکستان سویٹ ہومز اور دیگر پراجیکٹس کی سرپرستی کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ کسی نے یتیم بچوں کی سکول کی فیس کا بوجھ اٹھایا تو کسی نے یونیفارم مہیا کرنے کا اور کسی نے بلڈنگ مہیا کرنے کا ۔ یہاں تک کہ ایسے حضرات اور ادارے بھی ہیں جنھوں نے اس منصوبے کے کل دورانئے یعنی چودہ سال تک پاکستان سویٹ ہومز کی کسی ایک یا ایک سے زیادہ مراکز کی سرپرستی (own) کرنے کی ذمہ داری اٹھا لی ہے اور پاکستان بیت المال نے ایک معاہدے کے تحت ان اداروں کے بہتر انتظام و انصرام کے لئے مخیر حضرات یا ڈونر اداروں کو انتظامی امور میں بھی دخیل کیا ہے تاکہ وہ براہ راست اپنی سرمایہ کاری کے صحیح استعمال کو یقینی بنا سکیں۔
مائیکرو کریڈٹ کے ذریعے سٹارٹ اپس کا فروغ اور ہنرمندی کی تعلیم نچلی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے کر غربت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ غربت کے خاتمے کے لئے کام کرنے والے ادارے یا انفرادی حیثیت سے دیے جانے والے زکٰوۃ و عطیات اس وقت تک مطلوبہ نتائج مہیا نہیں کر سکتے جب تک کہ عوام کو براہ راست خیر کے اس عمل میں شریک نہ کیا جائے۔ جمہوری نظام کی خوبصورتی بھی یہی ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ حکومتی امور میں با اختیار کیا جائے کیونکہ جب حکمرانوں کے خیالات عوام کے خیالات سے ہم آہنگ ہو جائیں تو دونوں طرف اعتماد بڑھتا ہے اور ترقی کے اہداف کو حاصل کرنا اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
رمضان کے بابرکت مہینے میں ہمیں یہ عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ اس ملک کو خوبصورت بنانے میں ہم اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں گے۔ اس کے تباہ حال اداروں کی بہتر نگہداشت میں مثبت کردار ادا کریں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک اچھی روایت قائم کریں گے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ شہریوں کی بھی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ ہمیں تمام ذمہ داریوں کا بوجھ حکومت پر ڈالنے کی منفی روش کو بھی ترک کرنا ہو گا کیونکہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ اگر کسی ملک کے شہری غیر ذمہ دار ہوں گے تو وہ ریاست بھی غیر ذمہ دارانہ نوعیت کی ہو گی۔ سو اگر شہری اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا شروع کر دیں تو ریاست و حکومت خود بخود اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے لگتی ہے۔ آئیں، آگے بڑھیں اور اپنی ریاستی ذمہ داریاں پوری کریں!


