مجھے مضبوط خواتین پسند ہیں


اس کے سوشل میڈیا پر ہزاروں فالوورز تھے۔ اس کی ہر پوسٹ، ہر ٹویٹ، اور ہر سٹوری وائرل ہو جاتی تھی۔ وہ بات ہی ایسی کیا کرتا تھا۔ خواتین کیا مرد بھی اس کی ہر پوسٹ پر لائک پر لائک اور کمنٹ پر کمنٹ کرتے تھے۔

کبھی کبھار کوئی دل جلا بھی کمنٹ کر دیتا تھا۔ اسے وہ فوراً بلاک کر دیتے تھے کہ اس کی سوشل میڈیا فیڈ پر کسی بھی قسم کی مسوجنی، سیکسزم یا خواتین کی توہین کی اجازت نہ تھی۔

ملالہ اس کی آئیڈیل تھی۔ وہ اس کی ہر پوسٹ کے نیچے مور پاور ٹو یو لکھا کرتا تھا۔

جب عاصمہ جہانگیر کا انتقال ہوا تو یہ پچھاڑیں کھا کھا کر رو رہا تھا۔ آج بھی اس کی سوشل میڈیا فیڈ دیکھو تو ہر دوسری پوسٹ میں انہیں یاد کر رہا ہوتا ہے۔

عورت مارچ شروع ہوا تو یہ خوشی سے نہال ہو گیا۔ بالآخر خواتین جاگ اٹھی تھیں۔ یہی خواب تو وہ دیکھتا تھا۔ اس نے اپنے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ عورت مارچ کا سب سے بڑا حامی ہے۔ اسے مارچ کے خلاف جو پوسٹ نظر آتی تھی اسے فوراً رپورٹ کرتا تھا۔

جہاں بحث کرنے کا ارادہ ہوتا وہاں جواب میں لمبی چوڑی تحریر لکھتا تھا جسے مارچ کے حامی مرد اور عورت لائک، لو، کیئر، پوسٹ، ری پوسٹ اور شیئر کرتے تھے۔

پھر سوشل میڈیا پر آڈیو چیٹ رومز آ گئے۔ وہ ان چیٹ رومز میں گھنٹوں خواتین کے حقوق پر بولتا تھا۔ عورت مارچ کے خلاف ایک بھی لفظ سننا اسے برداشت نہیں تھا۔

کسی گفتگو کے درمیان کوئی مرد کسی عورت کو ٹوکتا تو یہ غصے سے آگ بگولا ہو جاتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ خواتین کو پہلے ہی بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایک خاتون بول رہی ہیں، انہیں بھی درمیان میں ٹوکا جا رہا ہے؟

سوشل میڈیا پر موجود ہر فیمینسٹ اسے فالو کرتی تھی۔ وہ کہا کرتی تھیں مرد ایسے ہونے چاہیے جو خواتین کی مشکلات سمجھتے ہوں اور ان کی حمایت کرتے ہوں۔

وہ ان کے تبصرے پڑھ کر شرما جاتا تھا۔ پھر لکھتا تھا کہ میں انوکھا نہیں ہوں۔ میں تو نارمل ہوں۔ مرد کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ میں مرد پیدا ہو گیا تو اس میں میرا کیا کارنامہ۔ میں بھی کمزور ہو سکتا ہوں۔ مجھے مضبوط بننے کا کیوں کہا جاتا ہے۔ عورت کو صنف نازک کیوں کہا جاتا ہے، وہ تو بہت مضبوط ہوتی ہے۔ اور اسے مزید مضبوط بننا چاہیے اور مجھے ایسی ہی مضبوط خواتین پسند ہیں۔

جس روز ایس پی شہر بانو نے ڈری سہمی خاتون کو ایک پاگل ہجوم سے بچایا اس دن سے اس نے ایسی پی کو اپنا آئیڈیل بنا لیا۔ اس نے اس ایس پی کی شان میں کئی بار چار انچ فٹ لمبی پوسٹس لکھیں اور دوسروں کی لکھی ہوئی پوسٹس کو بھی شیئر کیا۔

اس کی پھر سے ہر طرف واہ واہ ہوئی۔

وہ اپنے گھر کے لاؤنج میں بیٹھا وہی واہ واہ والی پوسٹس پڑھ رہا تھا۔ اس کی بیوی اس کے پاس آئی اور جھجکتے ہوئے بولی کہ رمضان شروع ہونے والا ہے۔ عید کی خریداری کر آتے ہیں۔ پھر بازاروں میں بھی رش بڑھ جاتا ہے اور گھر میں مصروفیت بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔

بیچ میں ٹوکے جانے پر اس کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔ اس نے فون ایک طرف رکھا اور پھر بیوی کو گھورنا شروع کر دیا۔ اس کی بیوی جب بھی اس کی مرضی کے خلاف کچھ کرتی یا کہتی تھی وہ اسے ایسے ہی گھورا کرتا تھا۔

بیوی نے ہر بار کی طرح اس بار بھی فوراً اپنی نظریں جھکا لیں۔ اس سے غلطی ہو گئی تھی۔ کیا ضرورت تھی عید کے کپڑوں کی فرمائش کرنے کی۔ یاد آتا تو خود ہی دلا دیتا ورنہ ایسی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں تھی۔ الماری میں پانچ چھ جوڑے رکھے تو ہوئے تھے۔

وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اس کے کانوں میں مغلظات کا طوفان گرنے لگا۔ گھورنا اب بھی جاری تھا لیکن ساتھ ساتھ منہ بھی چل رہا تھا۔

شوہر کو ایک منٹ چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ جب سے میری زندگی میں آئی ہو مجھے سکون نصیب نہیں ہوا۔ کبھی یہ لا دو، کبھی وہ لا دو۔ ماں باپ کے گھر سے کچھ لائی تھیں یا نہیں؟ تمہارے ہاں عید پر عیدی دینے کا رواج نہیں ہے؟ تمہاری ماں تمہیں عیدی نہیں بھجوائے گی؟ کیسے لوگ ہو تم؟ کچھ پتہ بھی ہے خاندانی لوگ کیسے ہوتے ہیں؟ اماں کو کہا بھی تھا یہاں میرا رشتہ نہ کرو بس پتہ نہیں کس کی بد دعا لگی کہ تم جیسی میرے پلے پڑ گئی۔ اب کھڑی کھڑی منہ کیا دیکھ رہی ہو۔ جاؤ۔ چار ماہ پہلے جو دو سوٹ بنا کر دیے تھے وہ پرانے تو نہیں ہو گئے ہوں گے۔ اماں عیدی نہ بھیجیں تو وہی پہن لینا۔ میں تمہارے چونچلوں کے لیے پورا دن دفتر میں خوار نہیں ہوتا۔

ساتھ ہی فون واپس پکڑا اور واہ واہ والی پوسٹیں پڑھنا شروع ہو گیا۔ بیوی نے اپنی انگلی سے آنکھ کے کنارے صاف کیے اور واپس مڑ گئی۔

اس نے اسے جاتے ہوئے دیکھ کر غصے سے زیر لب کچھ کہا پھر اپنے فون پر کوئی پوسٹ دیکھ کر ٹویٹ کی کہ اس معاشرے کو مضبوط عورت برداشت نہیں ہوتی۔
چند ہی سیکنڈز میں اس ٹویٹ پر لائکس آنا شروع ہو گئے اور وہ پھر سے اپنی لائکس اور کمنٹس کی دنیا میں کھو گیا۔

Facebook Comments HS