کیا ہمارے ادیب کا تہذیبی وجود خطرے میں ہے؟


اگر آپ ادیب اور تخلیق کار ہیں یا کچھ ادب شناس اور ادب پرور ہیں یا اگر یہ نہیں بلکہ صرف جز وقتی ادیب ہیں اور دانشوروں کی محفلوں میں اٹھنا بیٹھنا پسند کرتے ہیں تو ”کیا ہمارا ادیب اپنی تہذیبی شناخت کھو چکا ہے؟“ کے سوال کا آپ تسلی بخش جواب دے سکتے ہیں۔

اور اگر فرض محال آپ اس سوال کا ’ہاں‘ یا ’ناں‘ کسی بھی ایک آ پشن میں مدلل جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو یہ بات شرطیہ کہی جا سکتی ہے کہ اگر آپ مذاکرہ بعنوان ”پاکستان کا فکری و سیاسی بحران۔ ادیب کیا کرے؟“ سن لیتے تو نہ صرف حق یا مخالفت میں معقول دلائل دینے کے قابل ہو جاتے بلکہ آپ کی تنقیدی بصیرت میں بھی قابل قدر اضافہ ہوتا۔

اور اگر آپ لاہور میں رہ رہے ہیں اور 24 مارچ اتوار کی شام پاک ٹی ہاؤس نہیں پہنچ سکے تو سمجھ لیجیے کہ آپ انتہائی سنہری موقع ہاتھ سے گنوا بیٹھے ہیں۔

خیر، کوئی بات نہیں۔

حلقہ ارباب ذوق کے نو منتخب سیکرٹری نواز کھرل کے سامنے ابھی پورا سال پڑا ہے اور ان کے ارادے اور شواہد بتا رہے ہیں کہ اس طرح کے مواقع آئندہ بھی آتے رہیں گے۔

یہ ایک سنجیدہ فکر لوگوں کی طرف سے سنجیدہ مکالمہ یا مذاکرہ تھا جس کی صدارت معروف ادیب اور ڈرامہ نگار شاہد محمود ندیم نے کی جبکہ محرک بحث معروف ترقی پسند دانشور، صحافی، استاد وجاہت مسعود تھے۔

وجاہت مسعود کا کہنا تھا کہ ہمارے ادیب کی تخلیقی استعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ملک میں بس مٹھی بھر ادیب ہیں جن کا تخلیقی تحرک قائم ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سماج کا ہر شعبہ کمزور ہوا ہے۔ ادبی بحران سیاست اور معیشت کے بحران سے الگ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادیب کے کردار پر گفتگو تو تب کریں جب ادب بطور تمدنی ادارہ موجود ہو۔ پاکستان ایک deep state ہے اور عوام حق حاکمیت سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ یہاں فکری حوالے سے ایک بیانیہ سرکار کی طرف سے آ تا ہے جسے خوف یا لالچ کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے۔ دوسرا بیانیہ اس کے رد میں تشکیل پاتا ہے جسے وطن دشمنی خیال کیا جاتا ہے۔ جبکہ (ادب کے حوالے سے ) ایک تیسرا بیانیہ بھی ہے جس میں ادیب سیلف سنسرشپ کے تحت اپنے اوپر پابندیاں لگا لیتا ہے۔ وجاہت مسعود کا کہنا تھا کہ اب ایسی صورت حال میں ادیب کے کردار بارے جاننا مشکل نہیں۔

ڈاکٹر عالم خان کا کہنا تھا کہ یہاں ادیب displaced person کے طور پر رہ رہا ہے۔ یہاں ادبی بحران ہے جس سے نکلنے کے لئے فکری سمت کا تعین ضروری ہے۔

عابد حسین عابد نے شریک گفتگو کرتے ہوئے نیم طنزیہ لہجے میں کہا کہ یہاں کوئی فکری بحران نہیں ہے بلکہ اس فکر کا بول بالا ہے جس کے تحت ریاست پاکستان پروان چڑھی ہے۔ جو فکر لوگوں کو دی گئی اس کا عقل سے بیر تھا۔ مذہبی بیانیہ اپنانا سب سے آ سان ہے۔ 1947 والا بیانیہ اب تک چل رہا ہے۔

ڈاکٹر امجد طفیل کا موقف تھا کہ یہاں ادیب نے اپنا کردار ادا کیا ہے اگرچہ ان کی تعداد کم ہے۔ سعادت حسن منٹو کا نام صف اول کے متحرک اور عملی ادیبوں میں شامل ہے۔ قرۃ العین حیدر، عبداللہ حسین نے بحران کو سمجھا اور لکھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مجید امجد اپنی شاعری میں تہذیبی بازیافت کی بات نہیں کرتا؟ اشفاق احمد کا ’گڈریا‘ ، منشا یاد کا ’تماشا‘ اور مرزا اطہر بیگ کا ’غلام باغ‘ ہمارے بحران کے تخلیقی اظہاریہ کی مثالیں ہیں۔

اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب عابد حسین عابد نے مداخلت کی اور کہا کہ پچھلے دو عشروں میں کتنے ادیبوں نے دہشت گردی پر لکھا؟ جس کے جواب میں امجد طفیل نے کہا کہ بالکل لکھا گیا ہے مگر آپ نے پڑھا نہیں۔ آپ بولنے والے ادیب ہیں میں لکھنے والا ہوں۔ یوں لگا جیسے ان دونوں ادیبوں میں کوئی پرانی پرخاش چل رہی ہے۔ عابد حسین عابد نے کہا آپ اپنا بتائیں آپ نے کیا لکھا؟ یہاں انٹیلیکچوئل بحث کسی قدر ذاتی نوک جھونک میں بدل گئی۔ مگر سیکرٹری اور صاحب صدر کی مداخلت سے دونوں پٹڑی سے اترتے اترتے بچ گئے۔

عابد حسین عابد کے نقطۂ نظر کو خواجہ جمشید امام نے تقویت پہنچائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ادیبوں کی اکثریت آ زادی اظہار رائے کی قیمت چکانے کے لئے کبھی تیار نہیں رہی۔ پاکستانی ریاست قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر اور قرارداد مقاصد (کے دو متضاد بیانیوں) کے درمیان معلق ہے۔ جو فکر پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی تھی وہ اب بھی موجود ہے جس کا مقصد دولہے شاہ کے چوہے پیدا کرنا تھا۔

ساشا جاوید نے ادیب کے معاشی عوامل کو زیر بحث لاتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنا صحیح کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔

ڈاکٹر غافر شہزاد، کنول فیروز، ضمیر آفاقی و دیگر نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔

شاہد محمود ندیم نے بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ادیب اگر خود کو سماج سے جوڑ کر لکھے گا تو لوگ بھی خود بخود اس سے اپنی جڑت محسوس کریں گے۔ انہوں نے اپنی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹی وی یا تھیٹر کے لئے جب بھی لکھا خود کو سوسائٹی سے جوڑ کر لکھا۔ ہمارے ادیب کو اپنی تخلیق کی بنیاد اپنی دھرتی میں رکھنا ہو گی تب ہی ایک احساس اور احتجاج پیدا ہو گا۔ ادیب کو زمانے کے ساتھ چلنا ہو گا۔

اس ساری گفتگو سے یہ تاثر ابھرا کہ ایک تخلیق کار کے نزدیک اس کی تخلیق اور اس کے ہنر سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے۔ اگر اس کی دنیا بڑی اور فن چھوٹا ہو جائے تو ادیب پھر ادیب نہیں رہتا۔

ہمارے ہاں قحط الرجال ہے اور سیاسی و فکری بحران اتنا بڑھ چکا ہے کہ خود ادیب کا اپنا تہذیبی وجود خطرے میں ہے۔ اس کے کردار کی بات تو تب آئے گی جب پہلے وہ اپنے آپ کو assert کرے گا۔

انقلاب روس ہو یا انقلاب ایران، لاطینی امریکہ ہو یا فلسطین ادیب نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ادیب ہویا صحافی اگر وہ مفاد و منفعت میں پڑ گیا تو اس سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ عبث ہے۔ ایسوں سے تو وہی بدرجہا اچھے ہیں جو پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھ کر تین گھنٹے تک بحث میں پڑے رہتے ہیں کہ پاکستان کے فکری و سیاسی بحران میں ادیب کیا کرے؟

Facebook Comments HS