شکست تخت پہلوی (ابتدائیہ)


اینڈریو سکاٹ کوپر (Andrew Scott Cooper) کی یہ کتاب (The Fall of Heaven) ایران کے پہلوی خاندان کے بارے میں ہے۔ اس میں بہت تفصیل سے شاہی خاندان کے عروج و زوال کی داستان لکھی گئی ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اس کا کتاب کے کچھ حصے اردو میں ترجمہ کیے ہیں۔ مصنف کا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے۔ مشرق وسطی کی تاریخ سے خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔

٭٭٭            ٭٭٭

 

 

15 فروری 2015 اتوار کا دن قاہرہ مصر کے سرمئی بادلوں بھرے آسمان کے نیچے پولیس کی موٹر گاڑیوں کا قافلہ گمنام سپاہی کی یادگار کے پاس آ کر تھما۔ خود کار اسلحے سے لیس باڈی گارڈز نے تیزی سے حفاظتی حصار بنایا۔ دو خواتین اتریں۔ ملٹری افسر نے سلیوٹ کیا۔ اس سارے منظر میں مرکزی کردار رکھنے والی دونوں خواتین کو اس تام جھام سے غرض نہیں تھی۔ انہیں تو صرف ایک دوسرے سے دلچسپی تھی۔

فرح پہلوی ایران کی آخری ملکہ اور جہان سادات مصر کی سابقہ خاتون اول دونوں پرانی دوست ہیں اور دوبارہ ملاقات کی ہمیشہ خواہش مند رہتیں۔ وہ گلے ملیں، بات چیت کی، پھر خاموشی اس طرف بڑھیں جہاں مرحوم انور سادات کی آخری آرام گاہ تھی۔ سادات ایک اسلامسٹ بندوق بردار کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ ان پر یہ حملہ 1981 میں چند سو گز کے فاصلے سے ایک ملٹری پریڈ کے دوران کیا گیا۔

چالیس سال پہلے یہ دونوں اپنے اپنے ملکوں میں ترقی پسند سوچ کے ساتھ مشرق وسطی میں تبدیلی لانے کے لیے کوشاں تھیں۔ دونوں عورتوں اور بچوں کے حقوق کی علم بردار تھیں۔ اس کے لیے انہوں عورتوں کو دفتروں اور گھروں میں خودمختار بنانے کے لیے کوشاں رہیں۔ اپنے اپنے ملکوں میں دورے کیے، تقریریں کیں اور عالمی سطح پر ریلیاں نکالیں۔ کئی معزز مہمانوں سے ملاقاتیں کیں اور بیرون ملک اپنے اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ دونوں کو اپنے اپنے شوہروں کی مکمل تائید حاصل رہی۔ دونوں کے شوہر اس بات پر نازاں تھے کہ انہیں مضبوط اور سمجھدار شریک حیات ملیں جو ان کی مددگار بھی ہیں۔

Jehan Sadat, Farah Diba visit Sadat’s grave

ستر کی دہائی میں محمد رضا شاہ پہلوی ایران کے شاہ اور ان کے دوست مصر کے صدر انور سادات تھے۔ دونوں مشرق وسطی میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ شاہ کی ایک بڑی امید یہ تھی کہ وہ اور سادات جنہیں دو عظیم ملک ورثہ میں ملے ہیں مل کر خطے کو عظیم تر اور شاندار بنائیں اور شدت پسندوں سے پاک کریں۔ لیکن جب زمین پیروں تلے سرکنے لگی تو حیرتناک طور پر پہلا ستون سرنگوں ہو گیا۔ ایک سال کی شورش کے بعد جنوری 1979 کو شاہ کو جانا پڑا اور اس کے اگلے سال جلاوطنی میں قاہرہ میں وفات پا گئے۔

اٹھارہ ماہ بعد دوسرا ستون بھی ڈھ گیا۔ اکتوبر 1981 میں مصر کے صدر ایک آرمی پریڈ کی سلامی لے رہے تھے جب ان پر ایک اسلامسٹ اسلحے بردار نے حملہ کیا اور وہ جان سے گئے۔ شاہ کے بڑے بیٹے اور نامزد ولی عہد اس تقریب میں مدعو تھے لیکن آخری لمحوں میں انہوں نے یہ سفر کینسل کر دیا جس سے شاید ان کی جان بچ گئی۔

ہر موسم گرما میں فرح پہلوی اپنے شوہر کی یاد کے احترام میں قاہرہ جاتیں۔ حسنی مبارک کو 2011 میں ایک اسلامی انقلاب کے نتیجے میں برطرف کر دیا گیا۔ فرح پہلوی کا خیال تھا کہ انہیں سیاسی سرگرمیاں ٹھنڈی پڑ جانے تک الگ رہنا چاہیے۔ مصر میں جنرل عبد lلفتح ال سیسی نے مذہبی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اٹھارہ ماہ بعد سیسی نے ملکہ فرح کو سگنل دے دیا کہ وہ یہاں آئیں تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا البتہ ان کی آمد مختصر ہو اور اسے غیر معمولی توجہ حاصل نہ ہو۔

فرح پہلوی کے لیے یہ پیغام بہت مناسب تھا۔ ان کا کہنا تھا ”میں خود بھی برسی کے موقع پر ہجوم، فوٹوگرافروں اور پھولوں کے ساتھ نہیں آنا چاہتی۔ بہتر یہی ہے میں خاموشی سے ذاتی طور پر آؤں“۔

جلاوطنی میں فرح بہت سے صدموں سے گزریں۔ ذاتی المیوں میں ان کے تیسرے نمبر کی اولاد بیٹا علی رضا کی 2011 میں خودکشی کا صدمہ اور اس سے دس سال پہلے ان کی بیٹی کی سوگوار موت نے فرح کو شدید غم میں مبتلا کر دیا۔ یہ دونوں فرح کے چھوٹے بچے تھے۔ ایران کے انقلاب نے ان پر شدید اثر ڈالا اور یہ ڈپریشن کا شکار تھے۔

فرح کے ذہنی تناؤ میں اور اضافہ ہوا جب مشہور اداکار بین ایفلیک نے اپنی فلم ”آرگو“ بنائی اور ریلیز کر دی۔ بین ایفلیک نے اس فلم میں شاہ ایران کو ایک سفاک مطلق العنان حکمران دکھایا اور فرح کے بارے میں کہا گیا کہ وہ دودھ میں غسل کرتی تھیں۔ فرح کے دوستوں نے تجویز دی کہ وہ یہ فلم نہ دیکھیں لیکن فرح دیکھنا چاہتی تھیں کہ آخر کس بات پر اتنا شور مچایا جا رہا ہے۔ وہ ٹوٹے دل کے ساتھ سنیما سے نکلیں اور فلم کے ہدایتکار کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اپنے شوہر کا دفاع کیا اور کچھ باتوں کو جھوٹ بتایا اور کہا کہ حقائق درست کیے جائیں۔

بین ایفلیک نے ان سب الزامات کو نظرانداز کیا اور آسکر ایوارڈ جیت لیا۔ اسی اداسی اور بے بسی کے بیچ فرح پہلوی کو لگا کہ کہیں ایک ایسی بات بھی ہے جو ان کے حق میں بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔

ملکہ نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ایک دستاویزی فلم میں حصہ لیں گی جو ایران کے انقلاب کے بارے میں تھی۔ ”تہران سے قاہرہ تک“ یہ فلم ”من و تو“ نے بنائی جو لندن میں قائم فارسی زبان کا ٹی وی چینل ہے ایران میں سیٹلائٹ پر دیکھا جاتا ہے اور بہت مقبول ہے۔ خبر آئی کہ سابقہ ملکہ ایران اس ڈاکیومنٹری میں گفتگو کریں گیں۔ یہ خبر پھیل گئی اور تہران کی سڑکیں سنسان ہو گیں کیونکہ سب گھر پہنچ کر اپنے ٹی وی سیٹ کھول کر یہ پروگرام دیکھنا چاہ رہے تھے۔ فرح کی گرم جوشی، خوش اخلاقی اور دانش مندی نوجوان ایرانی نسل کے لیے ایک حیرانی سے کم نہیں تھی جنہوں نے ان کے بارے میں صرف ”دنیا کے کرپٹ ترین“ جیسے القابات سن رکھے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں ایرانیوں نے ملکہ کو خطوط لکھے اور ان کی ہمت کی داد دی۔ کئی لوگوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ بہت پشیمان ہیں کہ 1979 میں ایران میں انقلاب آیا۔ خطوط لکھنے والوں میں عام شہریوں کے علاوہ حکومتی افسر، مذہبی علما بلکہ حاضر سروس ملٹری افسر بھی شامل تھے۔ وہ سب ملکہ سے معذرت خواہ تھے کہ ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔

Pahlvi family

لوگوں کے خطوط میں پشیمانی تھی، تلخی تھی۔ ایک نے لکھا۔ ”خاتون محترم۔ میں شاہ کے دور میں نہیں تھا اور نہ ہی میں نے انقلاب کو ہوتے دیکھا۔ جب بھی میں آپ کی اور شاہ کی تصاویر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ہمارا مستقبل کیسا ہو سکتا تھا۔ میری نسل اس انقلاب کی ذمہ دار نہیں ہے۔ جو لوگ اس وقت طاقت رکھتے ہیں وہ عربوں کے پجاری ہیں۔ حال ہی میں مجھے“ بسیجی ”(سیکیورٹی فورسز) کے ہاتھوں مارا پیٹا گیا کیونکہ اس نے میرے فون پر شاہ کی تصویر دیکھ لی۔ مجھے آپ سے محبت ہے۔“

ایک خاتون نے لکھا ”میرے ہم وطنوں نے جو آپ کے ساتھ کیا اس پر میں شرمسار ہوں۔ جس وقت آپ اقتدار میں تھے، ہمیں آپ کی قدر نہ ہوئی۔ ہم اب اپنی لاعلمی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ہم کیسے وہ گزرے دن واپس لا سکتے ہیں؟ میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ پورا ملک اس وقت شدید پشیمانی کا شکار ہے۔ ہماری تاریخ میں آپ کی یاد سب سے روشن ہے۔ آپ کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔“

یہ خط ایک نوجوان کا ہے جسے ماضی کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ ”مجھے فخر ہے کہ میں 1977 میں پیدا ہوا جب شاہ کی حکومت کا آخری سال تھا۔ میرے پاس آپ اور آپ کی فیمیلی کے بے شمار تصاویر ہیں جنہیں دیکھ کر میں اپنی اداسی دور کرتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ ایک دن میں شہنشاہ کی قبر پر حاضری دوں۔ آپ کا شکریہ کہ آپ اپنے انٹرویوز اور تقریروں میں شاہ کا دفاع کرتی ہیں۔ مہربانی سے اگر ہو سکے تو مجھے کال کیجیئے اور کچھ تصاویر بھی بھیجیے۔“

ایران میں مذہبی سوچ رکھنے والے لوگ بھی حکومت کی سیاسی ناکامی، کرپشن اور عوام پر دباؤ کے شاکی تھے۔ وہ مانتے تھے کہ حکومت غیر مقبول ہو رہی ہے اور نئی نسل سیکولرازم کی جانب جھکتی نظر آتی ہے۔ وہ اسلام سے پہلے کے فارس کو اپنا اثاثہ ماننے لگے ہیں۔ باغی سوچ رکھنے والے یہ نوجوان ایسے ہار، انگوٹھیاں اور بریسلیٹ پہن رہے ہیں جن پر ایران کے قدیمی شاہوں کورش اور داریوش کی تصویریں ہیں اور وہ اس دور کی شہنشاہیت کا جشن مناتے ہیں جو اسلام کے ظہور سے پہلے کا تھا۔ پرشیا اس وقت کا سپر پاور تھا۔

Sadat assassination

جنوری 1979 میں شاہ جلا وطن ہو گئے اس وقت تک وہ اپنے آئینی کردار کو کافی حد تک کم کر چکے تھے۔ انہوں نے اپنے تخت کو زور زبردستی سے بچانے کی کوشش نہیں کی۔ بجائے اس کے کہ وہ فوج کھلا کو چھوڑ دیں اور ایک خانہ جنگی شروع کر دیں حکومت چھوڑنا مناسب سمجھا۔

شاہ پر کرپشن کے شدید الزامات تھے۔ سوئس بنک میں رکھے 59 بلین ڈالر بھی شامل تھے۔ یہ رقم ایران کی تقریباً تین سال کی آمدنی کے برابر تھی۔ شاہ نے ان الزامات کی مکمل تردید کی۔ لیکن اختیارات سے تجاوز کرنے کے الزام کی کبھی تردید نہیں کی۔ اسی طرح پہلوی خاندان کی دولت جو تخمینہ لگایا گیا وہ بھی غلط نکلا۔ محل سے نکلتے وقت شاہ کے اکاؤنٹ میں ایک سو ملین ڈالر سے بھی کم تھے۔ جو کافی تو تھے لیکن اس وقت کے معیار کے مطابق بہت کم تھے۔

ایرانی انقلاب کی کھوج میں اگر جائیں تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی تاریک سرنگ میں بغیر کسی ٹارچ کے داخل ہو جایں۔ سرنگ میں غار ہیں، بند راہیں ہیں، بھول بھلیاں ہیں اور جو ایک روشنی کی لکیر نظر بھی آتی ہے تو وہ دھوکا اور جھوٹ ثابت ہوتی ہے۔ ایران کی اسلامی حکومت نے اپنی طرف کی کہانی بنانے میں سرمایہ کاری کی لیکن جو ایرانی جلاوطنی میں ہیں انہیں اس بات کی تلخی ہے کہ خود ان کے اندر تقسیم پیدا ہو گئی ہے۔ شاہ کے چاہنے والے اور وہ جنہوں نے انقلاب کی داغ بیل ڈالی۔ وہ ایرانی جو ملک میں شورش شروع ہونے سے کئی ماہ پہلے ایران چھوڑ گئے تھے وہ بھی شاہ کو قصوروار ٹھہراتے ہیں کہ وہ ملک کو مذہبی انتہاپسندوں کے حوالے کر کے چلے گئے۔ کچھ امریکہ کو الزام دیتے ہیں کہ اس نے اپنے اتحادی سے دغا کی۔

محمد رضا شاہ پہلوی کا بغیر خون ریزی کے تخت سے دستبردار پونا ایک پر اسرار داستان بن گیا۔ یہ معما تھا کہ وہ کیوں اتنی آسانی سے ملک چھوڑ گئے اور خمینی سے مقابلہ کیوں نہیں کیا۔ بائیوگرافرز سالہا سال یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ شاہ نے ایسا کیوں کیا؟ کیا وہ اتنے کمزور تھے؟

اگر وہ کمزور تھے تو کیسے اس تخت طاؤس پر پچیس سال بیٹھے رہے۔ یہ ایران کی دو ہزار پانچ سالہ شاہی تاریخ کا سب سے لمبا دورانیہ تھا۔ اگر شاہ اتنے ہی احمق تھے جتنا ان کے نقاد انہیں ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہوں نے کس طرح بڑی طاقتوں کو کامیابی کے ساتھ جھیلا جن میں امریکہ کے بے رحم صدور آئزن ہاور، کینیڈی، لنڈن جونسن اور رچرڈ نکسن شامل ہیں؟ اگر شاہ بزدل تھے تو انہوں نے کس طرح انتہائی ٹھنڈے مزاج سے ایک فضائی حادثے کا سامنا کیا جو انہیں ہلاک کرنے کی ایک سازش تھی؟

Iranian Women in 1970s

شاہی خاندانوں کی تاریخ میں شاہی بیگمات صرف نمائشی کردار یا ایک خاموش تماشائی ہوتیں۔ جو حقیقت سے دور ہوتیں۔ فرح ان سب گھسی پٹی باتوں کی زور شور سے مخالفت کرتیں۔ وہ ایک روایتی بیوی سے ہٹ کر اپنے شوہر کے سائے سے نکل کر سامنے آئیں اور نہ صرف ایرانی عورتوں کے لیے بلکہ بیسویں صدی کے خودمختار ممالک کی نسوانی لیڈروں کے لیے بھی مثال بنیں۔

فرح ہفتے کو شام کی پرواز سے قاہرہ پہنچیں۔ ائرپورٹ سے فرح پہلوی کو گاڑیوں کے حصار میں گیسٹ ہاؤس تک لے جایا گیا۔ شام کے کھانے پر فرح کے پرانے ساتھی اور وفادار دوست تھے جن کے ساتھ وہ یہاں آتی رہتی تھیں۔ میز پر گفتگو جاری تھی۔ فرح نے بتایا کہ پیرس سے پرواز کے دوران ایک نوجوان ان کے برابر بیٹھا تھا جو ایران، مشرق وسطی اور سیاست پر بات کرنے کا خواہشمند تھا۔
”آپ نے خود کو اس پر کب ظاہر کیا“ کسی نے پوچھا۔
” جب اس نے شاہ کا ذکر کیا“ فرح نے اپنی ہنسی کو روکتے ہوئے جواب دیا۔
” یہ آپ نے کیسے کیا؟“
” میں نے کہا میں اس کی بیوی تھی۔“
” اس کے چہرے کے تاثرات کیا تھے؟“
فرح نے نقالی کر کے بتایا کہ کیسے اس کا منہ کھلا اور کی آنکھیں پھٹی رہ گیں۔ میز کے گرد افراد ہنسنے لگے۔ فرح یہاں اپنے دوستوں میں آ کر خوش تھیں۔ اگلی صبح صدر سادات کے مقبرے پر حاضری دینے کے بعد وہ ال ریفا مسجد روانہ ہوئیں جو ایک پہاڑی پر تھی جہاں سے قاہرہ کا نظارہ کیا جاسکتا تھا۔ مسجد سے شہر کا منظر تو دلکش تھا ہی لیکن مسجد بھی بہت خوبصورت تھی۔ اسلامی طرز تعمیر کا ایک نادر نمونہ۔

شاہ کا مزار تعمیر کرنے میں فرح نے خود ڈیزائن کی نگرانی کی۔ چند مددگاروں کے تعاون سے انہوں نے ایران سے ماربل خریدا جو پہلے اٹلی بھیجا گیا وہاں سے مصر منگوایا گیا۔ اور ایرانی اہلکاروں کو خبر نہ ہوئی۔ فرح کے شوہر کی بہنیں اشرف اور شمس جو خود بہت تحکمانہ سوچ رکھتی تھیں اس پر اصرار کرتی رہیں کہ ان کے بھائی کی تدفین اسی شان سے ہو جیسی نپولین کی تھی اور انہوں نے اپنی بھاوج کو الزام دیا کی وہ شاہ کی تدفین شاہ کے شایان شان نہیں کر سکیں۔ فرح جانتی تھیں کہ ان کے شوہر سادگی چاہتے تھے۔ انہوں نے شاہ کی پانچوں اولاد کے سامنے یہ بات رکھی اور ان کا خیال جاننا چاہا۔ ”یہ خوبصورت اور بہترین بات ہے۔“ انہوں نے یقین دلایا۔ اور مقبرہ بن گیا۔ ال ریفا مسجد شاہوں کی مسجد کہلاتی ہے۔ اس وجہ سے کہ اس سے اندر دو کمروں میں شاہ ایران کے علاوہ مصر کے دو بادشاہ فاروق اور فواد بھی دفن ہیں۔

جہان سادات اور دوسرے مصری خاموشی سے باہر چلے گئے۔ بند دروازوں کے پیچھے فرح پہلوی خاموشی سے وہاں کھڑی رہیں۔ کچھ لمحوں کے بعد وہ جھکیں اور شاہ کی آرام گاہ کو بوسہ دیا۔ پھر آنکھیں بند کیں۔ وہ شاہ سے گفتگو کر رہی تھیں۔ (جاری ہے)

Shahbanou Farah Pahlavi visits Shah’s grave
Facebook Comments HS