ضرورت ہے ایک مہرباں تھپکی کی


وہ خورشید محمود قصوری کا گھر تھا جہاں میری نواز شریف صاحب سے ملاقات ہوئی۔ کوئی چاہے تو اسے ملاقات تسلیم کرنے سے انکار کر دے لیکن میرے لیے تو وہ ایک یاد گار ملاقات تھی جس میں مجھے ایک شخص کے مزاج کی وہ جھلک دیکھنے کو ملی جس تک پہنچنے کے لیے بعض لوگوں کا سفر کبھی ختم ہی نہیں ہوتا۔ یہ ملاقات کیسے اہم تھی؟ یہ سمجھنے کے لیے پہلے دو واقعات کا ذکر خاص طور پر ضروری ہے۔ ایک واقعہ فیصل آباد کا ہے اور ایک لاہور کا۔ کسی ناگہانی اور درد ناک موت پر اہل سیاست لواحقین کو پرسہ دینے جایا ہی کرتے ہیں۔ یوں اگر میاں صاحب بھی گئے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں لیکن ان کا یہ پرسہ معمول سے بڑھ کر انسانی سطح پر ایک خاص احساس کا قائم مقام دکھائی دیتا ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ منظر دل کی آنکھ سے دیکھا جائے جب وہ جوان بیٹے کی موت پر ایک دکھی ماں کے سر پر دست شفقت رکھ رہے تھے۔ اس موقع پر درد مندی کی جو کیفیت ان کے چہرے پر تھی، اسے صرف اہل دل ہی پہچان سکتے ہیں۔ دوسرا واقعہ لاہور کے ایک اسپتال کا ہے جہاں وہ دل کی مریض ایک کم سن بچی کی عیادت کو پہنچے تھے۔ یہاں یہ اہم نہیں ہے کہ اس بچی کا علاج میاں صاحب نے اپنے خرچ پر کرایا، اہم شفقت کا احساس ہے۔ میاں صاحب نے جس پدرانہ شفقت کے ساتھ اس معصوم بچی کے گال تھپتھپائے، کوئی باپ ہی اس پیار کو محسوس کر سکتا ہے۔ ایسے ہی پیار اور شفقت کا تجربہ ایک بار خود مجھے بھی ہو چکا ہے۔

یہ مارچ 1995 ء کی بات ہے، اللہ بخشے بھائی جی یعنی مشاہد اللہ خان مرحوم سے میں نے ضد کی کہ وہ میاں صاحب سے میرا انٹرویو کرا دیں۔ مشاہد بھائی زندہ دل اور یار باش آدمی تھے، کہنے لگے کہ پھر چل اور میں ان کے ساتھ چل دیا۔ ہم کراچی سے چلے اور لاہور میں خورشید محمود قصوری صاحب کے گھر پہنچے جہاں مسلم لیگ نون کی مجلس عاملہ کا اجلاس تھا۔ اجلاس ختم ہوا تو میاں صاحب ساتھیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کے گھر سے نکلے۔ ساتھ چلتے چلتے اچانک کچھ ایسا ہوا کہ ایک آدھ قدم میں کچھ آگے نکل آیا۔ اسی دوران میں اچانک کسی نے میرے کاندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔ لمس کی زبان نہیں ہوتی لیکن لمس جیسا بھی ہو، اپنا آپ بتاتا ہے۔ وہ ایک مہربان لمس تھا، بالکل ویسا جیسے کوئی بڑا بھائی یا والد زندگی کے کسی خاص یادگار موقع پر آپ کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر سوال کرے کہ بیٹا! خیریت تو ہے۔ میاں صاحب نے نہایت شفقت کے ساتھ میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا پھر سوال کیا کہ صلاح الدین صاحب کی شہادت کے بعد اہل ’تکبیر‘ کے حالات کیسے ہیں؟ یہ کسی سیاست دان کا کسی صحافی کے ساتھ غرض بھرا مکالمہ نہیں تھا، ایک مہربان کی تھپکی، شفقت، پرسہ اور محبت سب کچھ تھا۔ یہ واقعہ تھا جب میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ یہ شخص صرف سیاست دان نہیں، اس سے کچھ بڑھ کر ہے۔ یہ ایک ایسا شخص ہے، احساس جس کے سینے میں دل بن کر دھڑکتا ہے۔

میری نیت میاں صاحب کا انٹرویو کرنے کی تھی لیکن مرکزی دھارے کا سیاست دان اگر قائد حزب اختلاف ہو جائے تو اس کی مصروفیت زیادہ بڑھ جاتی ہے لہٰذا طے پایا انٹرویو ضرور ہو گا لیکن کراچی میں ہو گا۔ کچھ عرصے کے بعد وہ کراچی آئے تو انھیں اپنا وعدہ یاد تھا لیکن وقت اب بھی تعاون پر آمادہ نہ تھا چناں چہ بتایا گیا کہ انٹرویو ائرپورٹ پر بات کرتے ہیں۔ رفیق افغان مرحوم نے اس انٹرویو کو میرا کمانڈو ایکشن قرار دیا تھا۔ سبب یہ تھا کہ میں تو میاں صاحب کے جلوس کا پیچھا کرتا ہوا اپنے موٹر سائیکل پر ائرپورٹ پہنچا تھا۔ خیال تھا کہ وی آئی پی لاونج میں بات بن جائے گی لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔ مشاہد حسین سید کہنے لگے کہ بھیا! لاہور جانا پڑے گا جیسے تیسے کر کے میں نے ٹکٹ خریدا اور جہاز میں سوار ہو گیا۔ یوں جہاز میں مجھے ان کے برابر بیٹھ کر تقریباً گھنٹہ بھر گفت گو کا موقع ملا۔ وہ انٹرویو تو اپنے طریقہ واردات کی وجہ سے اہم تھا لیکن اس کی یادگار باتیں کچھ اور بھی تھیں۔ دوران گفت گو عملے نے ہمیں کھانا پیش کیا۔ میں ایک ہی کام کر سکتا تھا، انٹرویو کر سکتا تھا یا کھانا کھا سکتا تھا لہٰذا میں نے معذرت کر لی لیکن جیسے ہی انٹرویو تمام ہوا، انھوں نے عملے کو بلا کر میرے لیے کھانا لانے کو کہا۔ میں نے تکلفاً کہا کہ میاں صاحب اس کی ضرورت نہیں۔ اس لمحے وہی مہربان شخصیت غالب آ گئی۔ وہ کہنے لگے :

’مجھے معلوم ہے کہ تم صبح سے ہماری سرگرمیاں Coverکر رہے ہو، ویسے بھی تمھاری شکل بتا رہی ہے تم ہلکان ہو چکے ہو۔ اس لیے کھانا ضرور کھاؤ۔‘

میرا ساتھ دینے کے لیے انھوں نے کھانا صرف چکھنے پر اکتفا کی۔

لاہور پہنچنے کے بعد ایک بار پھر حیرت نے مجھے آ لیا۔ یہ قافلہ وہاں وہاں بہ شمول میاں صاحب کے پہنچا جہاں جہاں جس کو جانا تھا۔ مشاہد حسین سید کا تو مجھے خاص طور پر یاد ہے کہ میاں صاحب نے انھیں ان کے والد یا کسی عزیز کے گھر ڈراپ کیا جب کہ میری رہائش کے بارے میں انھوں نے طارق عزیز مرحوم (نیلام گھر والے ) کی ڈیوٹی لگائی۔ یوں میں نے یہ جانا کہ یہ ایک ایسا سیاست داں ہے جو ساتھ چلنے والوں کے ساتھ چلتا ہے۔ سیاسیات کا کوئی سنجیدہ طالب علم کبھی اس سوال پر ضرور غور کرے گا کہ میاں صاحب کے ہاتھ میں ایسی کیا گیدڑ سنگھی تھی کہ محلاتی سازشوں کی عادی جماعت ان کے ہاتھ میں آ کر ایک مقبول عوامی جماعت ہی نہیں بلکہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئی؟ اس کا جذبہ تحقیق اسے میاں صاحب کی شخصیت کا یہ پہلو ضرور دکھائے گا۔

یہاں میں نے جس زمانے کا ذکر کیا ہے، اسے گزرے ایک عہد بہت چکا۔ ان ماہ و سال کے بیچ میں ایک نسل پیدا ہو کر جوان ہو چکی ہے۔ اس عرصے کے دوران میں میاں صاحب نے بہت کڑے وقت دیکھے ہیں۔ جیلیں دیکھیں، بار بار جلاوطنی کاٹی۔ زمانے کی ان کج ادائیوں نے جہاں میاں صاحب کے صبح و شام بدل ڈالے وہیں میری پیشہ دارانہ ذمے داریوں میں بھی فرق آیا یوں مجھے جلا وطنی اور جیل یاترا کے بعد والے میاں نواز شریف سے ملاقاتوں کا موقع نہیں مل سکا لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ کبھی کبھی وقت کی نا مہربانی بھی مہرباں ہو جاتی ہے، کچھ ایسا ہی مشاہدہ میرا بھی ہے۔ 2024 ء کے انتخابات کے بعد منظر اور حالات دونوں بدل گئے یوں لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ میاں صاحب اب یہاں ٹھہرنے والے نہیں۔ وہ پیٹھ پھیر کر نکل جائیں گے لیکن فیصل آباد میں دکھی دلوں کی ڈھارس بندھانے اور اسپتال میں علیل بچی کی تیمار داری کرنے والے میاں نواز شریف کے چہرے پر مجھے ایسی کوئی تحریر دکھائی نہیں دی۔

یہاں مجھے سینیٹر عرفان صدیقی، خواجہ محمد آصف اور اپنے دوست ناصر الدین محمود یاد آتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میاں صاحب اپنی کھوئی ہوئی میراث کے سر پر ہاتھ رکھیں اور اسے سہارا دیں۔ ان زیرک راہ نماؤں کی تجویز یہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میاں صاحب اپنی پارٹی سنبھالیں۔ وہی پارٹی جو رحمتے نیٹ ورک کے ’انصاف‘ کا شکار ہو کر میاں صاحب کی قیادت سے محروم ہو گئی تھی۔ وہ الزامات اور فیصلے جنھیں ’دو برس کی محنت شاقہ‘ کے ذریعے مسلط کر کے ملک کا مستقبل تاریک کر دیا گیا، اب تاریخ کے کوڑے دان میں تجہیز و تکفین کے منتظر ہیں۔ میاں شہباز شریف وزیر اعظم بن چکے ہیں اور اپنے کیریئر کی مشکل اور اہم ترین ذمے داری انجام دے رہے ہیں یعنی معیشت کی بحالی میں مصروف ہیں جب کہ چیف آرگنائزر کے کاندھوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی ذمے داری ہے۔ اس غیر معمولی وقت میں پارٹی کو میاں صاحب کی قیادت ملتی ہے تو یہ اس کے لیے نعمت غیر مترقبہ ہوگی یوں پارٹی کو نئی زندگی مل جائے گی۔ یہ تو ہوئی ٹھیٹھ سیاسی بات۔ میرا احساس ذرا سا مختلف ہے۔ اہل پاکستان اس وقت جیسے حالات سے گزر رہے ہیں، اس میں انھیں کسی بزرگ کی ایسی مہرباں تھپکی کی ضرورت ہے جو غیر معمولی دکھ اور صدمات کے اس موسم میں انھیں حوصلہ دے سکے۔ ایسا مہرباں ہاتھ کس بزرگ کا ہو سکتا ہے، گزشتہ اٹھائیس تیس برس کے تجربے کے بعد مجھے ایک ہی شخص دکھائی دیتا ہے۔ رہی بات بیانئے کی تو حقیقت یہ ہے کہ بیانئے اور نیریٹو تو سیاسی ہوتے ہیں، وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں جب کہ ہمدردی اور درد مندی تو دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ پاکستان کو اس وقت بیانیے کی نہیں، محبت اور درد مندی کی ضرورت ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments