احساس کے انداز ہاتھی یا امرود
لال بجھکڑ قصے کہانیوں کی ہماری تاریخ کا ایک مقبول ترین کردار رہا ہے لال بجھکڑ کے قصے کہانیاں اور واقعات بڑوں اور بچوں میں ہمیشہ دلچسپی سے سنے اور پڑھے جاتے ہیں ویسے تو لال بجھکڑ ایک فرضی کردار ہے جو بے وقوفوں کی ہر بات کا خلاف عقل جواب دے کر اپنے آپ کے عاقل، یگانہ اور فرزانہ کہا کرتا تھا اور بھولے بھالے سیدھے سادے لوگ ہر ایک مشکل بات کو اسی سے پوچھنے جاتے تھے لیکن طنزاً اعلیٰ درجہ کا بے وقوف، اور احمق جسے اپنی عقل پر بڑا گھمنڈ ہو اسے بھی لال بجھکڑ کہا جاتا ہے۔
کہتے ہیں کہ پہلے ہر شہر یا گاؤں میں ایک یا دو لال بجھکڑ ضرور پائے جاتے تھے اور اپنی عقلمندانہ باتوں اور معلومات سے لوگوں کو محظوظ کرتے تھے۔ کیونکہ یہ تھوڑا بہت پڑھنا لکھنا بھی جانتا ہ تھا اس لیے وہ اپنی یاد داشت اور معلومات ایک کتاب میں لکھ چھوڑتا تھا جسے لال بجھکڑ کی ”لال کتاب“ کہا جاتا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لال بجھکڑ دہلی گیا وہاں اس نے پہلی مرتبہ امرود دیکھے اور کھائے جو اسے بہت پسند آئے اس نے فوراً اپنی لال کتاب میں یاداشت طور پر امرود لکھ لیا آگے چلا تو اسے ایک بہت بڑا اور طویل و قامت جانور نظر آیا وہ بہت حیران ہوا پوچھا تو پتہ چلا کہ اسے ”ہاتھی“ کہتے ہیں۔ لال بجھکڑ نے فوراً اپنی ڈائری میں ”ہاتھی“ کو بھی یاداشت کے طور پر لکھ لیا اور واپس اپنے گاؤں آ گیا کچھ عرصے بعد اچانک گاؤں میں نزدیکی جنگل سے ایک ہاتھی آ نکلا گاؤں کے لوگ بڑے پریشان ہوئے ُ انہوں نے اس سے قبل ہاتھی نہیں دیکھا تھا وہ سمجھے کوئی بڑی بلا آ گئی ہے۔ دوڑے دوڑے لال بجھکڑ کے پاس پہنچے اور اسے لا کر دور سے ہاتھی دکھایا اور پوچھا یہ کیا چیز ہے؟
لال بجھکڑ کو فوراً خیال آیا کہ وہ اس جانور کو دیکھ چکا ہے اس نے کہا جاؤ دوڑ کر میری ”لال کتاب“ اُٹھا کر لاؤ میں نے دہلی میں یہ دیکھا تھا۔ لال کتاب کھولی اور دہلی کے بارے میں یاد داشت دیکھی تو اس میں ہاتھی اور امرود لکھے ہوئے تھے وہ دونوں کا فرق بھول چکا تھا اس نے کہا لوگوں یہ جانور ہاتھی ہے لیکن اگر ہاتھی نہیں ہے تو امرود ضرور ہے۔ لوگ اس کی ذہانت اور یاداشت پر عش عش کر اُٹھے اور بہت دنوں تک ہاتھی کو امرود ہی کہتے رہے۔
یاد رہے کہ لال بجھکڑ کسی شخصیت کا نام نہیں ہے یہ ایک ایسا کردار ہے جو ہر دور میں ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور اپنی علمیت اور قابلیت کی بنا پر لوگوں میں مقبول ہو تا ہے بلکہ اب تو محسوس ہوتا ہے کہ ہر دوسرا آدمی کسی لال بجھکڑ سے کم نہیں ہوتا۔ ہمارا یہ جانا پہچانا کردار اب لوک کہانیوں سے نکل کر ہماری زندگی میں نئے نئے روپ دھار چکا ہے پہلے یہ لال بجھکڑ کون تھے، کب پیدا ہوئے اور کہاں پیدا ہوئے اس کا کوئی پتا نہیں اور انہوں نے کوں کون سے روپ دھارے یہ بھی معلوم نہیں ہے۔
لیکن یہ ضرور ہے کہ غیر ممالک کے سیاحوں اور مسافروں کے روزنامچوں سے پتا چلتا ہے کہ ڈیڑھ سو سال پہلے بھی شمالی ہند کا بچہ بچہ ان کے نام سے واقف تھا۔ حیدر آباد کے مزاح نگار مرزا عصمت اللہ بیگ ( 1898۔ 1954 ) نے بچوں کی کتاب ’دادا لال بجھکڑ‘ میں اس دلچسپ کردار کا حلیہ اور کارٹون نما ڈرائنگ پیش کی ہے۔ بھاری جسم، لال رنگ کے بال اور داڑھی، یک چشم یعنی کانے، گھٹنوں تک لمبا کرتا، نیلے رنگ کا تہمد، پاوں میں دھوڑی کا جوتا، سر پر جاڑوں میں کنٹوپ، گرمیوں میں بورے کی ٹوپی اور ہاتھ میں ایک دو شاخہ۔
یہ تھے لال بجھکڑ، سب کے ہمدرد، عقل کل، پہیلیاں بوجھتے، گیان بانٹتے ہوئے۔ ایک گاوؑں میں جہاں پہلی بار لوگ ہاتھی کے پاوؑں کے نشان دیکھ کر حیران تھے، تو لال بھجکڑ نے لوگوں کو کچھ اس طرح سمجھایا۔ ’پاؤں میں چکی باندھ کر ہرنا ( ہرن) کودا ہوئے‘ ۔ ہاتھی یا امرود اور ہاتھی یا ہرن کہ کہانیاں ختم نہیں ہوئیں البتہ یہ پرانے قصہ گو اب نہیں رہے اب ان کی شکل و صورت وضع قطعہ بدل چکی ہے یہ باخبر رکھنے والے اب ہمارے سوشل میڈیا پر جدید ترین لباس پہنے سیاسی تجزیے اور پیشن گوئیاں کرتے نظر آتے ہیں سوشل میڈیا میں بے تحاشا چینلز پر لگتا ہے ہر ایک شخص دنیا کو باخبر رکھنے میں مصروف ہے لیکن ہر شخص اپنی ایک مخصوص رائے رکھتا ہے اور کسی نہ کسی کے مفادات کے لیے کام کر ہاً ہے سوشل میڈیا پر اپنے اپنے نظریات کو تجزیے کی شکل میں پیش کر رہا ہے ایک ہی خبر ہر چینل پر ایک نئی شکل میں پیش کی جاتی ہے۔
ہر اخبار کا کالم اور جائزے ہر اخبار کی سرخیاں گو ایک ہیں مگر انداز علیحدہ ہے یہ سب ایک ہی بات کئی کئی طرح اور سوچ سے پیش کر کے پڑھنے اور دیکھنے والوں کو ڈپریشن میں مبتلا کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے تو حد ہی کر دی ہے معاشرے کے ہر فرد کو ایسی ایسی سنسنی خیز معلومات فراہم کردی جاتی ہیں جن کی بدولت ہر شخص اپنے آپ کو لال بجھکڑ سمجھنے لگا ہے۔ ایک عام مزدور سے لے کر بڑے سے بڑا پڑھا لکھا سیاست اور معیشت پر سرعام اپنی اپنی قابلیت جھاڑ رہا ہے۔
کل ایک میڈیکل سٹور والے نے مجھے کہا سر آپ ادویات خرید کر رکھ لیں یہ جلد مارکیٹ میں شارٹ ہو جائیں گی۔ میں نے پوچھا تمہیں کیسے پتہ ہے؟ تو اس نے کہا سر آپ میڈیا نہیں دیکھتے ملکی معیشت اور ڈالر کے ریٹ اور ملکی درآمدات و برآمدات پر اس لال بجھکڑ نے ایک لمبی تقریر کر کے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ باہر سے خام مال نہیں آ رہا تو ادویات کیسے تیار ہوں گی اور میں اس کی معلومات اور پیشن گوئیاں سن کر حیران تھا کہ معاشیات پڑھنے اور معاشی اداروں میں چالیس سال کام کرنے کے باوجود مجھے یہ سب کیوں معلوم نہیں ہو پاتا؟
واقعی سوشل میڈیا اب موبائل فون کے ذریعے ہر شخص تک رسائی رکھتا ہے جس کی بدولت ہر شخص اپنی اپنی رائے رکھتا ہے غور سے دیکھیں تو ہمارا پورا قومی معاشرہ مختلف طبقات میں بٹ چکا ہے سیاستدان اس تقسیم پر ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہراتے ہیں ہماری صحافت الگ تقسیم نظر آتی ہے لوگ اپنی پسند اور اپنے اپنے مطلب کے چینلز دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے سوشل میڈیا پر ایک چینل کا اینکر حکومت کے خاتمہ کے لیے اگلے اڑتالیس گھنٹے اہم قرار دے رہا ہوتا ہے تو دوسری جانب ایک دوسرے چینل کا اینکر اپوزیشن کے لیے اگلے بہتر گھنٹے خطرناک ثابت کرنے کی کوشش کرر ہا ہوتا ہے۔
ایک جانب ایک پالیسی کو درست اور ملکی مفاد میں بتایا جاتا ہے تو دوسری جانب اسے ملک دشمن پالیسی قرار دیا جاتا ہے۔ ایک جانب ملک دیوالیہ ہونے کی خبر ہے تو دوسری جانب معیشت میں استحکام کی خوشخبری سنائی دیتی ہے ملک کا آئین موجود ہے مگر ہر ایک اپنے اپنے حساب سے تشریح کر رہا ہے یہی شاید ہمارے دشمنوں کی خواہش ہے کہ پوری قوم کی سوچ کو تقسیم کر دیا جائے ُیہ وہ خطرے کی گھنٹی ہے جو قوموں کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم ملک و قوم کے لیے ایک پیج پر ہوں اختلاف ضرور رکھیں لیکن دشمنی نہیں، تنقید ضرور کریں لیکن بدتمیزی نہیں، سیاست کریں لیکن ذاتیات نہیں، ہر انسان کی رائے کا احترام کریں لیکن لڑائی نہیں، سچ بولیں جھوٹ نہیں، اپنے اپنے ذاتی مفادات کے لیے عوام سے جھوٹ نہ بولیں۔
آج کل موجودہ لال بجھکڑوں کی سیاسی پیشن گوئیوں نے پورے معاشرے کو ڈپریشن کا شکار کر دیا ہے۔ اپنے مستقبل سے مایوس غربت اور مہنگائی کے مارے نیم پاگل لوگ یہ سن سن کر پریشانی کے عالم میں ادھر اُدھر دیکھ رہے ہیں کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے؟ لیکن کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے؟ خدارا! اپنی لال کتاب نکالیں حقیقت اور سچ بتائیں تاکہ لوگ ہاتھی اور امرود میں فرق سمجھ سکیں۔ ملک کو اس سیاسی، معاشی، صحافتی اور جمہوری بحران اور دلدل سے نکالنے کے لیے ہم سب کو ایک سوچ اور ایک سمت اختیار کرنا پڑے گی اپنی اپنی اناوُں کے بت توڑنا ہوں گے کیونکہ قومیں یکجہتی سے بنتی ہیں انتشار سے نہیں یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنے آئین و قانون کی پاسداری پورے خلوص سے کریں۔ غلط سے غلط انسان اور معاشرے کے لیے بھی اصلاح کا واحد راستہ سچ اور محبت ہے تنقید اور تلخی چاہے کتنی ہی حق پر کیوں نہ ہو، وہ اصلاح کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوتی۔

