کیسے بچ گئی؟


کیا ڈاکٹر سدرہ کی طرح میرا باپ مجھے کنپٹی پہ گولی مار کے ہلاک کر سکتا ہے؟
نہیں بھئی، سب باپ ایسے تو نہیں ہوتے۔
کیا ماریہ کی طرح باپ کی موجودگی میں میرا بھائی گلا گھونٹ کر مجھے قتل کر سکتا ہے؟
افف، جاہل لوگوں سے اپنا مقابلہ نہ کرو۔
کیا سوات کے بھرے پرے بازار میں میرا شوہر میرے کم سن بیٹے کی موجودگی میں مجھے گولی مار سکتا ہے؟
دیکھو، ایسا روز تو نہیں ہوتا نا۔
کیا نور مقدم کی طرح میرا گلا کاٹا جا سکتا ہے؟
توبہ توبہ، تم کیوں جاؤ کسی بوائے فرینڈ کے گھر؟
کیا سارہ انعام کی طرح میرا سر کچلا جا سکتا ہے؟
کیوں بھئی کیا تم سارہ جیسی بے وقوف ہو کہ ایسے نشئی بندے سے شادی کر لو؟
کیا موٹر وے پہ میرا ریپ ہو سکتا ہے؟
کانوں کو ہاتھ لگاؤ بی بی، آدھی رات کو گھر سے کیوں نکلو گی تم؟
کیا سابقہ شوہر مجھے، بہن اور ماں کو آگ میں جلا کر مار سکتا ہے؟
ایسے ہی خواہ مخواہ، کیا اندھیر نگری ہے یہ؟

کیا حیدرآباد یونیورسٹی کی طالبہ کی طرح شوہر میرا سر پتھروں سے کچل کر بھاگ جائے گا اور پھر میری لاش کتے کھائیں گے؟

اللہ نہ کرے، ایسا جاہل تمہارا شوہر کیوں ہو؟
کیا سیمیں درانی کی طرح میں بھی کسی دن پراسرار حالات میں مر جاؤں گی؟
ہائے کیوں؟ تم کیوں؟ تم سیمیں درانی کی طرح سگریٹ تو نہیں پیتیں۔
کیا شوہر کے تشدد سے تنگ آ کر میں بھی کسی دن خود کشی کروں گی؟
شبھ شبھ بولو، کیوں حرام موت مرنا ہے؟
قندیل بلوچ کی طرح کیا میرا بھائی بھی میرا گلا گھونٹ دے گا؟
کیا بات کرتی ہو؟ قندیل بلوچ تو آوارہ عورت تھی۔
کیا کسی شادی میں گانا گانے اور تالیاں بجانے پر کیا گولی میرا مقدر ہو گی؟
اتنا نہ سوچا کرو۔
زہرا صدف کی طرح کیا میرا شوہر بھی مجھے پنکھے سے لٹکا دے گا؟
کیا پتہ ہمیں؟ ہو سکتا ہے اس نے خودکشی ہی کی ہو۔
کیا مرضی کی شادی کرنے پر میرے ماں باپ عاصمہ جہانگیر کے دفتر میں مجھے گولی مروائیں گے؟
لڑکیاں اتنے لفڑوں میں پڑتی ہی کیوں ہیں؟ اچھی خاصی اپنے گھر بیٹھی ہوئی۔
عینی بلیدی کی طرح کیا شوہر کی عیاشیوں اور تشدد سے تنگ آ کر مجھے بھی مرنا ہو گا؟
ہمارے گھروں میں اس طرح شراب اور گانا نہیں چلتا۔
تہمینہ کھر کی طرح کیا مجھے بھی جسمانی و ذہنی تشدد برداشت کرنا ہو گا؟
افوہ وہ تو ایک جاگیردار کے ہتھے چڑھ گئی تھی نا۔
بلال کھر نے اپنی بیوی کا منہ تیزاب سے جلایا، کیا میں بھی؟
بھئی ان لوگوں کی بات نہ کرو۔
بچی تھی جب۔ زینب کی طرح، ریپ ہو کے مر سکتی تھی میں بھی؟
یا اللہ، ماں باپ کا قصور تھا جو چھوڑ کر عمرے پہ چلے گئے۔
کیا مرنے کے بعد مجھے اپنی قبر کی نگرانی کروانا ہو گی کہ کوئی قبر کھول کر ریپ نہ کر جائے؟
نہیں بھئی، ہر جگہ ایسا نہیں ہوتا۔ تم تو بہت ہی زود رنج ہوتی جا رہی ہو۔

ہر روز، ہفتے کے سات دن۔ مہینے کے تیس دن۔ سال کے بارہ مہینے۔ سالہا سال۔ جیسے سورج نکلتا ہے۔ جیسے چاند ڈوبتا ہے۔ جیسے ہوائیں چلتی ہیں۔ جیسے رات آتی ہے۔

ویسے ہی کبھی کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی عورت یا بچی ریپ، مضروب یا قتل نہ ہوتی ہو۔

روزانہ کے اس تماشے کے پیچھے ایک ہی بات نظر آتی ہے۔ عورت کا عورت ہونا۔

عورت جسے معاشرہ بچپن سے بڑھاپے تک ایک ایسی چیز سمجھ کر برتاؤ کرتا ہے جو مرد کے استعمال کے لیے بنی ہو۔ وہ مرد چاہے باپ ہو، بھائی، شوہر یا بیٹا۔ معاشرہ مرد کی پرورش اس نہج پہ کرتا ہے کہ وہ مالک، عورت خادمہ، وہ حاکم، عورت محکوم۔

سو کچھ بھی کرو۔ سو خون معاف!
ہمیں آج سوچنا ہے کہ بچپن سے لے کر آج تک کوئی بھی عورت مرنے سے کیسے بچ جاتی ہے؟
کوئی بھی عورت؟
وہ یا ہم؟
شاید ہم بھی۔

مر تو سکتی تھی وہ کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ بلکہ یوں کہیے کہ مارے تو جا سکتے تھے ہم بھی وقت، کہیں بھی!

تیسری بیٹی تھے ہم۔ تیسری تو ویسے ہی ان چاہی ہوتی ہے۔ کیا کریں تیسری کا؟ اچار ڈالیں؟

نہ ہوئی الٹراساؤنڈ مشین اس وقت کہ بتاتی لڑکی اور لڑکی کو وہیں سے فند ایلما کرنے کا منصوبہ بنا لیا جاتا۔

فند ایلما۔ نہ جانے آپ کو یاد ہے کہ نہیں، میرا نام منگو کی کہانی میں کس خوبصورتی سے فند ایلما کہتے تھے جنت مکانی سبحانی با یونس!

لڑکیوں کو فند ایلما کرنے کی داستان جاننی ہو تو آئی وی ایف سینٹرز میں جینڈر سلیکشن کا رجسٹر دیکھ لیں۔ آٹھ انڈے نکلے، سپرم ملائے، بچے بنے۔

بائیوپسی کی، پانچ لڑکیاں، تین لڑکے۔
لڑکے۔ رکھ دو پیٹ میں
اور لڑکیاں؟ ان کا کیا کریں؟
نہیں چاہئیں، پھینک دو۔

چلو جی جس ٹیوب میں لڑکی ہے، بہا دو اسے گٹر میں۔ نہ جانے کتنی بہائی جاتی ہیں ہر ماہ۔ کون جانتا ہے یہ سب؟ اور فیصلہ کرنے والے ماں باپ ہیں جو خوشی خوشی لڑکا لے کر لوٹتے ہیں۔ کبھی کسی نے نہیں کہا، لڑکی چاہیے، لڑکا رہنے دو۔

چلیں، الٹراساؤنڈ نہ ہونے کی وجہ سے پیدا تو وہ ہو گئی۔ اس وقت بھی موقع تھا گڑھے میں دبانے کا یا کوڑے کے ڈھیر پہ پھینکنے کا۔ بہت لوگ جان چھڑا لیتے ایسے زندگی کے آغاز میں ہی، کیا کریں؟

کیسے پالیں ان لڑکیوں کو، نرا گھاٹے کا سودا۔

تب بھی جان بخشی ہو گئی۔ پھر چھوٹی سی بچی بنی، محلے میں کھیلنے کودنے کی شوقین، سہیلیوں کے گھر جانے کی، کیسے بچ گئی اغوا ہونے سے؟ ریپ سے؟ نہ جانے کتنی بار شکاری کے پھندے میں پاؤں اٹکا ہو گا اور نہ جانے کیسے پھندا کسا جانے سے رہ گیا ہو گا؟

سکول جانے لگی، پبلک ٹرانسپورٹ پہ اکیلی۔ نہ جانے کتنوں کا جی چاہا ہو گا کہ چھو لیں؟ چھوا بھی ہو گا بس میں اترتے چڑھتے، دھکم پیل میں کیا پتہ چلتا ہے؟ بچ گئی، قسمت اچھی تھی۔

ماں کے رحم سے قبر میں گلنے سڑنے تک عورت صرف ایک صورت میں بچتی ہے۔ اگر شکاری کی نظر اس پر نہ پڑے تو۔ اگر شکاری کے پھندے میں پاؤں نہ پھنسے تو۔

کہتی رہو یہ داستان، ماننے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ کہاں ہوتا ہے ایسا؟ نہیں نہیں تم جھوٹ بولتی ہو، انارکی پھیلاتی ہو معاشرے میں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments