ذکر کچھ ہماری رسموں اور تہواروں کا
طنزیہ تحریر:
رسومات کسی بھی ملک اور قوم کی شناخت کا لازمی جز ہوتی ہیں۔ لیکن کیونکہ ان کی جڑیں عموماً تاریخ سے جڑی ہوتی ہے اس لئے ہماری نئی نسل ان نسلی رسومات سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ہم کیونکہ نئی نسل کا درد اپنے سینے میں چھپائے رکھنے والے خدائی فوج داروں میں سے ہیں، اس لئے آج اس عزم کے ساتھ قلم اٹھانے کی ہمت کی کہ ان گم گشتہ اور آوارہ گرد نوجوانوں کو ان کے روشن ماضی میں جگمگاتی ان رسومات سے آشنا کیا جائے جو ہمیشہ سے ہماری قومی شناخت کو مغربی اخلاق باختہ اور ملعون قوموں سے بالاتر اور معتبر بناتی ہیں۔ مندرجہ ذیل ان میں سے صرف چند ہیں۔
میلہ فراغاں :
پاکستانیوں کے پسندیدہ ترین تہواروں میں سے ایک ہے۔ اس تہوار میں لوگ ٹھٹ در ٹھٹ منہ اٹھا کر ہر ایسے واقعہ کے اطراف میں جمع ہوتے ہیں جو کسی بھی عوامی مقام پر وقوع پذیر ہو۔ کسی حادثہ کی صورت میں متاثرہ شخص کی سانس روکنے کے لئے نہایت مفید نسخہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وقوع ہونے سے پہلے دور دور تک کسی کا ہونا ضروری نہیں، لیکن واقعہ ہونے کے بعد مجمع اکٹھا ہونے میں محض چند سیکنڈ درکار ہوتے ہیں۔ دیکھنے میں بندر کے تماشے کی مانند ہوتا ہے مگر اس کے برعکس بندر دائرے کے اندر نہیں ہوتا۔
مختلف محلاتی لڑائیوں میں بھی اس کے کئی فوائد ہیں۔ مثلاً یہ معاشرے کے دھتکارے ہوئے اور کم توجہ کا شکار لوگوں کے لئے، اپنے خود ساختہ ہنر دکھانے کا نادر موقع ہوتا ہے۔ میلہ میں شامل فراغان تماشا دیکھنے کے علاوہ لڑائی اور مار کٹائی کا حصہ بننے کا اہل بھی ہوتے ہیں۔ کچھ کمزور حضرات اگر اس کار خیر میں حصہ نا ڈال سکیں تو ان کے لئے مشورہ اور رائے زنی کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے۔ عورتوں کی لڑائی کی صورت میں بھائی بننے کو ترجیح دی جاتی ہے اور ماں بہن کی گالیوں کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔ بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہے۔ معیاری کالجوں میں پڑھنے والے بگڑے ہوئے نوجوان اس تہوار کو پسند نہیں کرتے اور اس تہوار کی افادیت اور تفریح سے محرومی میں ہی زندگی گزارتے ہیں۔
ٹانگ کھنچائی
دفتروں میں کھیلے جانے والا نہایت مقبول کھیل ہے۔ اپنی شکل میں کبڈی سے ملتا جلتا ہے۔ سال میں اس کو کھیلنے کا بہترین وقت ترقی اور انکریمنٹ کے موسم کے دوران ہوتا ہے لیکن پھرتیلے اور ہوشیار ملازمین سال کے آغاز میں ہی تیاری شروع کر دیتے ہیں اور کام کی بجائے مخالفین پر نظر رکھتے ہیں۔ کھیل میں کچھ داؤ پیچ ویٹ لفٹنگ سے بھی ادھار لئے جاتے ہیں، لیکن اٹھانے کے لئے ویٹ کی بجائے کچھ اور سامان استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کھیل کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں شامل ہونے کے لئے کسی کی پسند ناپسند ہونا ضروری نہیں، اگر آپ کو یہ کھیل پسند نہیں بھی ہے تو مخالف آپ کی ٹانگ کھینچ کر کسی بھی وقت آپ کو اس میں شامل کر سکتا ہے۔ دقیانوسی قسم کے شرفا اس کھیل میں عموماً چت ہو جاتے ہیں، جیت کے لئے چالاک اور کائیاں ہونا شرط ہے۔
سچ چھپائی اور جھوٹ پلائی
یہ رسم روزمرہ کے گھریلو مواقع سے لے کر ایوان بالا کی چار دیواریوں تک، صبح شام باقاعدگی اور بقائم ہوش و حواس ادا کی جاتی ہے۔ وقت یا موسم کی چنداں فکر کرنے کی ضرورت نہیں، فضول چیزیں ہیں اور وقت کا ضیاع ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر رشتہ اور نکاح سے پہلے اس رسم کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے اور لڑکا لڑکی بشمول گھر والوں کے ساری زندگی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ گھروں میں بچپن سے ہی اس رسم کا تقریباً روزانہ اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ بڑے ہونے تک نونہالان قوم کو اس فن میں طاق کیا جا سکے۔ میڈیا کے اداروں میں یہ رسم ایک ستون کی شکل اختیار کر چکی ہے اور دوران براڈکاسٹ اس کا احترام لازم ہے۔ ہر پروگرام کے میزبان رسم کی ادائیگی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ رسم کی بہترین ادائیگی پر پلاٹس اور دیگر انعامات بھی تقسیم کیے جاتے ہیں۔
وقت پڑنے پر اس رسم کو بین الاقوامی سطح پر بھی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن عموماً کفار اور سازشی مغربی اقوام اس عمل صالح کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ ان شیطانی قوتوں کے شر سے بچانے کے لئے کافی عرصے سے اس رسم کو نصاب میں شامل کر لیا گیا ہے تاکہ رسم چھوٹی عمر سے گھول کر پلائی جا سکے اور مغربی پراپیگنڈے کا توڑ کیا جا سکے۔
مقابلہ متن سازی
غریب غربا، یعنی بے کار اور غیر اہم لوگوں کی نسبت یہ کھیل تعلیم یافتہ اور نئی نسل میں مقبول ہے اور عموماً فیس بک، ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا کے میدانوں میں کھیلا جاتا ہے۔ مقابلہ کے لئے کسی رسمی اعلان کی ضرورت نہیں، کہیں بھی، کسی بھی کی بنیاد پر مقابلے کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں میں اس مقابلے کے لئے بے حد جوش و خروش پایا جاتا ہے اور اس کے لئے باقی کاموں کا ترک کرنا اولین ترجیح ہوتی ہے۔ دھوپ میں خراب ہو سکنے والے نازک اندام اور لوچ دار نوجوانوں کے لئے اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
اپنے متن کے بارے میں کسی سے مشورہ یا صلاح کرنا سماجی طور پر اچھا نہیں سمجھا جاتا اور اس سے کھلاڑی کی ذہنی قابلیت پر شکوک و شبہات پیدا ہو سکتے ہیں۔ کامیابی کے لئے زیادہ سے زیادہ پوائنٹ اسکور کرنے ہوتے ہیں جن کا تناسب لائیکس اور کو منٹس سے پرکھا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں کسی دوسرے کا آپ کی فتح سے متفق ہونا ضروری نہیں، سب فریقین خود کو فتحیاب محسوس کر کے اس کا جشن منا سکتے ہیں۔ فتح کے نشے میں چور ہو کر مخالفین کے ساتھ کاغذی دست درازی اور گالم گلوچ کا رجحان بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے، اس کی وجہ سے نئی نسل میں زبان اور اس کے استعمال کی جو نئی راہیں کھل رہیں ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔
جدید دور کا یہ منفرد مقابلہ نئی نسل کے لئے مفید اور دور رس نتائج کا حامل ہے مثلاً اس سے نا صرف انسان نوعمری میں ہی دانشور بن جاتا ہے، بلکہ زیادہ کھیلنے سے تو اپنی ذات میں انجمن بھی بنا جا سکتا ہے۔
حالیہ سالوں میں نوجوان مرد و زن کے بیچ صنفی مساوات پر مقابلہ کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، اس جنگ میں عموماً جھوٹ پلائی کے پلے ہوئے مردان حق صنف نازک جیسی کمتر مخلوق کو ان کی اوقات یاد کرانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں حقیقی مردانہ شعور بیدار ہو رہا ہے اور صنفی مساوات جیسی ہیجانی اور بے ہودہ مغربی سازشوں کے تدارک میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔
گود بٹھائی
یہ خالصتاً سیاسی رسم ہے کچھ لوگ اسے رسم سے زیادہ کھیل سمجھتے ہیں۔ عموماً کرسی کے ارد گرد کھیلی جاتی ہے۔ کرسی پر وقت کے مائی باپ کو بٹھایا جاتا ہے اور رسم کے مکمل عمل کے دوران ان کے گن گائے جاتے ہیں۔ رسم کا آغاز ایک شیر خوار کے چناؤ سے کیا جاتا ہے۔ چناؤ کے عمل میں ہر خاص و عام کے لئے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اور ضیافتوں کے ساتھ ساتھ گانے بجانے کی محفلوں کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے۔ رسم میں جوش و ولولہ پیدا کرنے کے لئے مقابلہ متن سازی کے جہاندیدہ کھلاڑیوں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے جو عوام جیسے بے مقصد اور کمتر لوگوں میں خود فریبی کے جذبے کو اجاگر کرتے ہیں، اس کی وجہ سے قوم کا ہر بے وقعت فرد خود کو کرشمہ ساز گردانتے ہوئے پورے جذبے سے اس رسم میں شامل ہو جاتا ہے۔
مائی باپ کے کرسی نشین ہونے کے بعد انتہائی ادب و احترام سے شیرخوار کو ان کی گود میں بٹھایا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران نعرہ بازی اور کچھ صورتوں میں آتش بازی بھی کی جاتی ہے۔ بیٹھنے کی رسم کے بعد شیرخوار اور مائی باپ کے درمیان تعلق ذاتی حیثیت میں داخل ہو جاتا ہے اور ما سوائے کچھ چنیدہ ملازمین کے، کوئی ان کی نشست میں مخل نہیں ہو سکتا۔
رسم کے دوران اور اس کے بعد اس کا ادب و احترام ہر ذی روح پر لازم ہے، کوئی بھی نازیبا رائے زنی یا گستاخی باغیانہ عمل تصور کی جاتی ہے اور قابل سزا ہے۔
سیاسی جماعتوں کی رسم کے دوران اس کا چرچا محض مقامی اخبارات تک محدود رہتا ہے لیکن اگر رسم حکومتی سطح پر ہو تو اس کے ڈنکے بین الاقوامی سطح پر بھی بجائے جاتے ہیں اور عموماً رسومات کو براہ راست ٹی وی پر بھی نشر کیا جاتا ہے۔
اس رسم سے مغربی سامراج اور دیگر دنیا کو زیادہ مسئلہ نہیں ہوتا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ رسم تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ ان ملکوں میں بھی کافی مقبول ہے، ہمیں زیادہ تو معلوم نہیں مگر غالباً مائی باپ کا فرق ہوتا ہے۔
ہراس اینڈ قتل شو
گلیوں اور سڑکوں پر منایا جانے والا سب سے مقبول اور معروف شو ہے۔ شکل میں بارہ ببر شیروں کی سرکس سے ملتا جلتا ہے جس میں صاحب حیثیت، بطور شیر اور نچلا طبقہ اس کے منہ میں سر ڈالنے والے مسخرے کا کردار ادا کرتے ہیں۔
اس میں شرکت کی غرض سے حکومتی سطح پر، متوسط طبقے کو، غربت کی لکیر سے نیچے لانے کی بے لوث کوششیں قابل ستائش ہیں۔ ان حکومتی اقدامات کی وجہ سے ہر سال ہزاروں لوگ اس کھیل میں شامل ہونے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ اس شو کی خاص بات سال کے پہلے دن سے آخری دن تک اس کا تسلسل ہے جو بلا وقفہ جاری رہتا ہے۔ اسلحے کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے جس سے دشمن قوموں کے دلوں میں پاکستانی قوم کی ہیبت طاری کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ عام دنوں میں زیادہ تر معاشی بنیادوں پر انفرادی سطح پر منایا جاتا ہے اور حکومت اس میں دخل اندازی کرنے سے گریز کرتی ہے تاکہ عوام الناس زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں۔
قتل ہونے والے بے چارگان کے لئے حکومتی اداروں کی جانب سے خصوصی مذمتی بیانات اور اعلانات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کچھ عرصے سے حکومت اس شعبے میں عوام کی شرکت بڑھانے کے لئے اضافی اقدامات کر رہی ہے جس میں جاں سپردگی کے بعد پیسوں کا دیا جانا قابل ذکر ہے۔ اس کی وجہ سے غربا کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ غریب ہیئت کی بجائے امیر میت کو ترجیح دیتے ہیں۔
ہراس کے شو سے بچے خاص طور پر لطف اندوز ہوتے ہیں کیونکہ عموماً اس کی وجہ سے اسکول بند کر دیے جاتے ہیں، ان دنوں میں نہ صرف والدین کو پٹرول کی بچت ہوتی ہے بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں کا شوق بھی پروان چڑھتا ہے۔ اس شو میں مذہبی تاش کا استعمال ہماری ماضی کی روایت رہی ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس کارڈ کے ذریعے کئی مرتبہ بظاہر کوئی استعداد اور حیثیت نہ رکھنے والے بھی خوف و ہراس کا ایسا دائرہ کھینچتے ہیں کہ چنگیز خان کی روح بھی انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔ مذہب کے علاوہ لسانی، علاقائی اور نسلی تاش کا استعمال بھی عام ہے، حالات کے مطابق کارڈ اور دیگر ہتھکنڈوں کا چناؤ کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔
جھانسا آزادی
ہر سال منایا جانے والا ہر دل عزیز جھانسا ہے۔ سرکاری طور پر تو اگست کی وسطی تاریخوں میں منایا جاتا ہے لیکن بوقت ضرورت کسی بھی موقع پر اس کا استعمال عام ہے۔ اگست میں دیا جانے والا جھانسا رات کے پچھلے پہر وطن کی سڑکوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف بے کار افراد کو قومی دھارے میں شامل ہونے کا تاثر ملتا ہے بلکہ لفنگے اور بگڑے ہوئے نوجوانوں کو ایک ایسا میدان میسر آ جاتا ہے جہاں وہ شرفا اور سفید پوش خاندانوں کے وقار کے ساتھ گلی ڈنڈا کھیل کھیل کر اپنی صلاحیتیں منوا سکیں۔
اس جھانسے کو سیاسی گلیوں اور کوچوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، گو کہ اس کے لئے وقت اور موسم کی قید نہیں۔ ایسے معاملات میں قائدِ اعظم کی تاریخی تقاریر میں سے حسبِ ضرورت اور حسبِ ذائقہ الفاظ و معنی ادھار لئے جاتے ہیں اور ان کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات تو ان الفاظ کا الٹ پھیر ایسا مفہوم پیدا کرتا ہے کہ قائدِاعظم کی روح اپنے ماضی کے بارے میں مشکوک ہو جاتی ہے۔ قائد کے علاوہ اقبال اور دیگر شخصیات کا بھی استعمال عام ہے۔ ان کے کلام اور کام کو بھی حسبِ ضرورت ڈھال لینے سے قوم کو زبان اور اس کے جدید استعمال کے نئے راستے مل رہے ہیں اور ہر شخص اپنا اقبال اور قائد بنانے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتا جا رہا ہے۔


