نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے


ٹک ٹاک پر ایک وڈیو نظر سے گزری جس میں ایک ماڈرن ماں اپنے دو بچوں کو کپڑے گندے کرنے سے منع کر رہی تھی۔ موصوفہ نے بچوں کو ڈانٹنے کے لیے ایک جملہ ارشاد فرمایا ”ایک سلیپ پڑے گی تمہیں“ ۔ ان کی ”سلیپ“ مجھ ناچیز پر سوچ کے کچھ در وا کر گئی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں تقریباٗ ڈیڑھ بلین انسان انگریزی بولتے اور سمجھتے ہیں مگر جتنا پاکستانیوں نے انگریزی کے ساتھ دلچسپ و عجیب رویہ روا رکھا ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔

گورا راج سے لے کر ٹامی راج تک انگریزی ایسے طبقے کی زبان رہی جس سے تمام رعیت ہمیشہ مرعوب اور خوف زدہ رہی۔ یہ مرعوبیت رفتہ رفتہ احساس کمتری میں بدلتی گئی اور انگریزی زبان کا تاثر بھی حکام کی زبان کے طور پر پختہ تر ہوتا چلا گیا۔ عوام اور حکمران طبقے کے درمیان موجود خلیج نے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان اور دیسی انگریزوں کی مخالفت کو بھی بڑھاوا دیا ہے۔ مگر پاکستانی نظام تعلیم، بیورو کریسی، طبقہ اشرافیہ اور مڈل کلاس، سب کے سب اسی تاثر کے زیر اثر ہیں کہ برتری کی سند انگریزی زبان ہے۔

جب سے سوشل میڈیا عوام کی رسائی ہوئی ہے، انگریزی دان حکمران طبقے کی برتری خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے، غریب طبقے کے بچے بھی ”سلیپ“ کا مطلب سمجھنا شروع ہو گئے ہیں اور اب ٹامی لاٹ صاحب کی گالیوں پر کسی بے وقوف دیسی کا ردعمل بھی ممکنات میں شامل ہو چکا ہے جس کا کسی قدر اندازہ حزب اقتدار کو گزشتہ الیکشن میں ہو چکا ہے۔ لیکن جو بات ابھی تک اس طبقے کی سمجھ دانی میں نہیں آ سکی کہ نئے زمانے میں غلامی اور سرداری کے انداز بھی بدل لینے چاہئیں۔ اب ڈنڈا ڈولی اور ڈرا دھمکا کر رائے عامہ نہیں بدلی جا سکتی نہ ہی نوجوان پڑھے لکھے طبقے کو سڑکوں یا گلیوں کا لالچ دے کر اپنے حق میں کیا جا سکتا ہے۔

نوجوان نسل اپنے بڑوں سے یکسر مایوس ہو چکی ہے۔ ڈارون کے نظریہ بقا کی رمز یہ نسل پا چکی ہے۔ نوجوان نسل کی پاکستان سے ہجرت، پاکستان میں نوکری سے احتراز، فری لانسنگ کی طرف رجحان اور ببانگ دہل اپنے خیالات کا اظہار سب اس نسل کی روایت اور روایتی نظام زندگی سے بغاوت کی علامتیں ہیں۔ ان کے اقوام عالم سے روابط طبقہ اشرافیہ و بیوروکریسی کے مقابلے کہیں زیادہ ہو چکے ہیں، لہذا ان کے لیے اس نظام حکومت اور حکمرانی کی ذہنیت کی فرسودگی کے تمام پردے چاک ہو چکے ہیں۔

ارباب اختیار کے تمام ہتھکنڈے، سوائے ہونی کو کچھ دیر موخر کرنے، کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ مگر اس تاخیر کی قیمت موجودہ صاحب اختیار نسل کو چکانی پڑے گی۔ نوجوان نسل کو ان کی جگہ نہ دینے کا نتیجہ ایک ایسے سیلاب کی صورت میں نکلے گا جس میں موجودہ صاحب اختیار لوگوں کے پاس چیری آرچرڈ کی اس مالکہ کی طرح سوائے ماضی کے قصوں کی طرح کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔

Facebook Comments HS