پانچ ہزار وظیفہ اسکیم اور خط غربت سے نیچے کی سوچ


سن 2001 میں ناچیز کچھ عرصے کے لئے جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ کے ادارے فرینڈس فاؤنڈیشن میں ایک انٹرنی ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر منسلک رہا۔ وہاں جنرل صاحب کے ڈرائیور جن کا نام اب کوشش کرنے پر بھی یاد نہیں آ رہا، بقول ان کے جنرل صاحب کے ساتھ اپوائنٹ ہوئے تھے اور انہی کے ساتھ ریٹائر بھی ہوئے۔ اس جنرل صاحب اسے بھی اپنے ساتھ اپنے ادارے میں لے آئے۔ وہاں وہ نہ صرف جنرل صاحب کے ڈرائیور تھے بلکہ آفس کے فون آپریٹر بھی اور کبھی کبھی اٹینڈنٹ بن کر ہمیں چائے بھی پلا دیا کرتے تھے۔

ایک روز بزرگوار نے مجھ سے پوچھا کہ سومرو صاحب آپ کس پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا میرے ایک کلیگ نے مجھ سے پہلے پنجابی میں کہا۔ ”چاچا جی کی گلاں کر رئے ہو پتا نئی اے سندھی اے، تے فیر ظاہر جئی گل اے پیپل پارٹی نوں ئی ووٹ دیندا ہوئے گا“ ۔

چاچا جی نے مجھے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا اور میں نے کہا نہیں انکل ایسی بات نہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی مخالف جماعتیں بھی ہیں جو اس کو کئی حلقوں میں ٹف ٹائم دیتی ہیں۔ پر یہ سچ ہے کے سندھ کی اکثریت جس میں میرے آباء بھی شامل ہیں پیپلز پارٹی کو ہی ووٹ دیتے آئے ہیں۔ البتہ میں خانہ بدوشی کی وجہ سے اپنے حلقے میں نہیں رہا اس لئے کبھی ووٹ دینے کا موقع نہیں ملا۔

اس تمہید سے مجھے اپنی سیاسی وابستگی بتانا مقصود نہیں۔ بلکہ یہ بتانا مقصود تھا کہ سندھ میں اکثریت آج بھی پیپلز پارٹی کو ہی ووٹ دیتی ہے جس کی وجہ ذوالفقار علی بھٹو کا سیاسی سحر جس کو بی بی کی شہادت نے مزید دوام بخشا۔ تاہم گزشتہ کچھ انتخابات کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں بالعموم اور سندھ میں با الخصوص ووٹرز ٹرن آؤٹ میں کافی کمی آئی ہے۔ حالانکہ فروری 2024 کے انتخابات میں پاکستان کے باقی علاقوں میں اور خاص طور پر شہری علاقوں میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ پر پھر بھی مجموعی ٹرن آؤٹ خاصا کم رہا۔

سندھ کے تناظر میں مقامی سیاسی مبصرین کی رائے کے مطابق سندھ میں مسلسل گھٹتا ہوا ووٹرز ٹرن آؤٹ دراصل پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکنوں کی پارٹی سے دوری اور گوشہ نشینی کے ساتھ پرانے ووٹرز کا خاموش احتجاج ہے۔ جس سے پارٹی قیادت اگر غافل نہیں بھی تو غیر سنجیدہ ضرور دکھائی دیتی ہے۔

جس کی اہم وجہ قیادت کے مصاحبین میں ایسے لوگوں کا اضافہ سمجھا جاتا ہے جو تعمیری تنقید کے ہنر سے قطعی نابلد ہیں اور محض خوشامد کی بنا پر قائدین کی خوشنودی حاصل کر کے پورے اعتماد کے ساتھ سسٹم کے اوپر براجمان ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ روش اب پاکستان کی تمام سیاسی قائدین میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ پر ایسی روش کے لئے عامیت کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

اس بار سندھ میں حکمران جماعت نے مردوں کے لیے بھی ماہانہ 5000 روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ ایسی سہولت پہلے فقط بیوہ/غریب عورتوں اور اسکول میں داخل بچوں کے لئے مختص تھی۔ یہ ووٹر کو اپنی طرف کھینچنے کی ایک آسان ترکیب نظر آتی ہے جس کا مشاہدہ 2018 کے انتخابات میں بخوبی کیا گیا۔ پر یہ ایک دور رس بھیانک نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جس پر سندھ کی حکمران جماعت نہ صرف غیر سنجیدہ دکھائی دیتی ہے پر شاید اس پر سوچنا ہی نہیں چاہتی۔

خدشہ ہے کے سندھ کے نوجوان جو پہلے غیر معیاری تعلیم کی وجہ سے ذہانت میں باقی ملک کے مقابلے میں پیچھے ہیں، اس اندھی کانی تعلیم سے نجات حاصل کر لیں گے۔ جب ایک باپ اور اس کے چار ان پڑھ بیٹے اور ان کے ایک یا دو بالغ بچے گھر بیٹھے کچھ بھی کیے بغیر 35 ہزار کما لیں گے تو وہ اپنے آپ کو یا اپنے بچوں کسی بھی قابلیت کے لیے کیوں کر تیار کریں؟

میں سن 2001 کے اوائل میں پاکستان کے ایک نامور تحقیقی ادارے سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے ساتھ کراچی کے مختلف علاقوں میں ایک تحقیقی سروے کا حصہ تھا۔ سروے کا مقصد کراچی کے مختلف غریب علاقوں میں وہ مزدور جو گھر بیٹھے ایسے کاموں سے جڑے تھے جو صحت کے لیے نقصان دہ تھے اور انہی کاموں سے بنی پراڈکٹس سے بڑی بڑی صنعتیں کروڑوں روپے کما رہی تھیں، ان پر تحقیق کرنا تھا۔

وہاں سروے کے دوران میں نے غربت کی ایک نفسیات کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا۔ اگربتی بنانے میں مصروف ایک مزدور، جو اس وقت شاید ایک ہزار اگربتی بنانے کے پانچ روپے کماتا تھا، پانچ بچوں کے ساتھ ایک کمرے کے گھر میں رہتا تھا۔ جو ان کا بیڈ روم، واش روم، کچن اور ایک حصہ اگربتی بنانے کے سامان رکھنے کی جگہ تھا۔ مطلب ایک ہی کمرے میں گھر بھی تھا اور اگر بیتی بنانے کا کارخانہ بھی۔

میں نے ان سے پوچھا کہ جب آپ کے پاس رہنے کے لیے مناسب جگہ نہیں ہے اور نا ہی مناسب زندگی گذارنے کے لئے پیسے اور بنیادی سہولیات تو پھر اتنے بچوں کو جنم دینے کی وجہ کیا ہے؟ اس نے مجھے جواب دیا کہ جناب بچہ اپنا کھانا خود لے کر آتا ہے اور یہی خدائی فرمان بھی ہے۔ اس پر میں نے کہا، لیکن مجھے یہاں ایسے کچھ آثار نہیں دکھائی دے رہے۔

جس پر ان حضرت کا یہ جواب تھا، ”جناب ہمارا بچہ بولنا تو بعد میں سیکھتا ہے، البتہ اگربتی بنانا پہلے سیکھ جاتا ہے۔ میرا سب سے چھوٹا بیٹا، جس کی عمر 3 ساڈے 3 سال ہے وہ بھی دن میں 1000 یا کم از کم 500 اگربتیاں بنا لیتا۔ آپ جو بچے دیکھ رہے ہیں وہ محنت کش ہیں اور میرے بچے جتنے بڑھیں گے محنت بڑھے گی“ ۔ یہ جواب فقط اس ایک مزدور کا ہی نہ تھا بلکہ وہاں جتنے بھی مزدوروں سے میری بات ہوئی کم و بیش سب کا یہی جواب تھا۔

اس واقعے سے مجھے غربت کی ایک نفسیات یہ سمجھ آئی کہ پیسہ کمانا غریب کی اولین ترجیح ہے کیونکہ اس سے ان کی بھوک مٹ جاتی ہے۔ غریبوں کے لیے زیادہ بچے کا مطلب زیادہ مزدور اور زیادہ مزدور کا مطلب زیادہ آمدنی ہے۔ اب جہاں محنت کا تصور ہی نہ ہو اور محض لوگوں کی تعداد ان کی کمائی کا تعین کرے وہاں آپ کے خیال میں غربت ختم ہوگی یا غریب بڑھیں گے؟

کراچی کے محنت کش تو خیر لیبر بڑھانے کے لئے بچے پیدا کر رہے تھے پر اب سندھ کی وہ نسل جو مفت خوری پر پنپتی رہے گی آنے والی دہائیوں میں محض گھر کی آمدنی بڑھانے کے لئے زیادہ بچے پیدا کرے گی اور آبادی کے ایسے طوفان کو جنم دے گی جس سے نمٹنے کے لئے شاید پھر ہمارے ذہین و فتین حاکموں کے پاس نہ کوئی پلان ہو اور نا ہی وسائل۔

مزید یہ کہ ایسے حالات میں ہم آنے والی نسلوں کو کیسے یقین دلائیں گے کہ زندگی گزارنے کے لیے تعلیم و تربیت بہت ضروری ہے۔ اور کیوں کر نئی نسل کوئی قابلیت پیدا کرنے کے لئے مغز ماری کرنے کی ضرورت ہے، کہ جب مقصد زندگی کھانا اور بچے پیدا کرنا رہ جائے گا۔

دیکھا جائے پانچ ہزار کی رقم کسی بھی چیز پر خرچ ہو سکتی ہے۔ اور یہی جواب اکثر شاہ پرستوں کے منہ سے بھی سننے کو ملتا ہے۔ جو صبح شام ان کی جی حضوری میں رہتے ہیں۔ لیکن جہاں عوام غربت کی لکیر سے نیچے ہے وہ مہنگائی سے لبریز اس دور پر فتن میں ان پانچ ہزار روپیوں کی خطیر تر رقم کہاں خرچ کرے گی سوائے اس کہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے۔

آنے والے اگلے 15 سالوں میں ہمارے معاشرے میں موجودہ طبقاتی تفریق اور بھی بڑھ جائے گی اور وہ طبقہ جس کو کچھ بھی کیے بغیر 5000 مل رہا تھا، جب وہ امراء طبقے کی پر آسائش زندگی دیکھیں گے تو اپنی اور اپنے بچوں کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے تمام تر طبقاتی حدود کو روندتے ہوئے جرائم کی دنیا کا رخ کریں گے، کیونکہ محنت اور عزت نفس کا احساس توان ملے ہوئے 5000 کھا چکے ہوں گے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بینظیر یوتھ ڈیویلپمنٹ پروگرام جیسے مثبت اقدام پر ان کی روح اور مقصدیت کے مطابق سہی طریقے سے عملدرآمد کیا جاتا تاکہ نئی نسل کی ایسی ہنرمند سماجی دولت (سوشل کپیپٹل) کو جنم دیا جا سکتا جسے بیرون ملک بھیج کر کیش کیا جا سکتا۔ پر ہمیشہ کی طرح حکومت کی عدم توجہ اور غیر سنجیدہ رویے نے اس پروگرام کا حال کیا کہ ہنر کدوں کی نیلامی ہونے لگی اور بات اعداد و شمار تک رہ گئی اور آج اس پروگرام سے جڑے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایک سے زیادہ کورسز کے سرٹیفیکیٹ رکھنے کے با وجود کسی ایک میں بھی درکار بنیادی ہنری معصومیت سے عاری ہے۔ جبکہ انکم سپورٹ پروگرام ڈیوائس مافیا کے ہتھے چڑھا ہوا ہے جس کی خبریں اب صبح شام اخباروں کی زینت اور زبان زد عام ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسے لوگ کہاں جائیں گے جو مفت کے ملے 5000 روپیوں کے زہریلے اثر سے محفوظ سفید پوشی کی زندگی گزار رہے ہوں گے۔ ایسے تمام سفید پوش (بقول ہمارے ممدوح بھٹی صاحب ”مڈل کلاسیے“) مستقبل میں طبقاتی جبر کا نشانہ بنیں گے۔ کیونکہ اس زہریلے عمل سے جو زہریلی مخلوق اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے جرائم کا راستہ اپناتے ہوئے درندگی کی داستانیں رقم کرے گی اس کا نشانہ سفید پوش طبقہ بنے گا۔ کیونکہ جس اپر کلاس نے ان کو 5000 کے سحر میں مبتلا کیا ہے وہ ان کی پہنچ سے پہلے ہی دور ہیں۔

میرے خیال سے یہ مناسب موقع ہے کہ سندھ کی حکمران جماعت سنجیدگی سے لوگوں کی بھلائی کے لئے کوئی دور رس اور دور اندیش پروگرام سامنے لائے تاکہ سندھ کے نئی نسل کو بھی اسی تناسب سے قابلیت کے میدان میں لایا جا سکے جس تناسب سے اگر دنیا کے باقی ملکوں میں نہیں تو کم از کم ملک کے باقی صوبوں کی عمومی سطح پر لایا جا سکے۔

بصورت دیگر مندرجہ بالا مخلوق اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے تمام تر طبقاتی دیواریں روندتے ہوئے اپنے بنائے ولوں کے گلے میں تب پھندا بن کر پڑے گی جب آبادی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہو گی اور ایسے ایسے مسائل سامنے آئیں گے جن سے نمٹنے کے لئے کسی پروگرام کو شروع کرنے اور چلانے کے لئے نا ہی وسائل موجود ہوں گے اور نہ ایسے زرخیز ذہن جو اس مصیبت کا کوئی حل نکال سکیں۔

Facebook Comments HS