شمالی امریکہ کے نیٹیو امریکن بورڈنگ اسکولوں میں ثقافتی نسل کشی
تصوّر کیجیے آپ کی عمر چھ سات سال کی ہے اور آپ کو کسی دن اپنے والدین سے چھین کے کوسوں دور یورپین تعلیم و تہذیب میں ضم کرنے کی غرض سے کسی بورڈنگ اسکول میں رہنے پہ مجبور کیا جائے۔ جہاں آپ کے والدین کا دیا قبائلی نام بدل کر انگریزی نام اور ایک شناختی نمبر دیا جائے۔ آپ کے حلیہ، لباس اور غذا کو غیر متمدن اور جنگلی قرار دیتے ہوئے یورپی رنگ میں ڈھالا جائے اور آپ کے کلچر کو یکسر کھرچ دینے کی کوشش کی جائے۔ پہلے آپ کو ننگا کر کے گرم پانی سے نہلا دیا جائے، پھر آپ کے لمبے بالوں کی چوٹی کاٹ دی جائے جو آپ کی روحانی طاقت کی ضمانت سمجھی جاتی ہو۔ آپ کو اپنی زبان بولنے پہ سزا مثلاً کئی بار صابن سے زبان دھلوائی جائے۔ ایسا کھانا زبردستی کھانے پہ مجبور کیا جائے جس کے ذائقہ سے نہ زبان آشنا ہو اور نہ ہی معدہ اس کا متحمل۔ پھر اگر آپ الٹی کر دیں تو وہی الٹی کھانے پہ مجبور کی جائے۔ آپ کو احساس دلایا جائے کہ آپ کمتر ہیں اور آپ کی ثقافت کا تمسخر اڑایا جائے۔
اگر آپ روئیں، احتجاجی رویہ رکھیں اور ہمت کر کے بھاگنے کی کوشش کریں تو اس کی سزا اندھیرے تہہ خانے میں گھنٹوں تنہائی میں قید کے علاوہ سخت سزائیں ہوں۔ جیل کی طرح کاٹے کئی تعلیمی سالوں جسمانی، ذہنی، اور جنسی زیادتیوں کے سفاکانہ رویے اور نگہداشت کی کمی اور بیماریوں کی وجہ سے اگر مر جائیں تو اکثر اوقات والدین کو بتائے بغیر اسکول کے قریبی احاطے میں خاموشی سے دفن کر دیا جائے۔ تاریخ کی کتاب میں اپنا کوئی نام و نشاں چھوڑے بغیر نامعلوم قبروں میں دفن ہو جانے کے لیے۔
یہ ذکر ہو رہا ہے نیٹیو امریکن بورڈنگ اسکولوں کا جو شمالی امریکہ میں اٹھارہویں صدی میں حکومت اور عیسائی گرجوں کی سرپرستی میں تقریباً ڈیڑھ سو سال کے عرصے تک چلائے گئے۔ شاید بورڈنگ اسکولوں میں ان بچوں پہ بیتے مظالم اور قبروں میں خاموشی سے دفن کرنے کا جرم تاریخ کا گھناؤنا راز ہی رہتا۔ لیکن جب پہلی بار کینیڈا کے شعبہ آثار قدیمہ نے 2021 میں ہزار سے زیادہ بچوں کی قبروں کا پتہ لگایا جوان پرانے اسکولوں کے ساتھ بنے احاطوں میں تھیں تو اس بھیانک انکشاف نے پوری دنیا خاص کر امریکہ میں تہلکہ سا مچا دیا۔ کیونکہ دونوں پڑوسی ممالک کی نیٹیو امریکن بورڈنگ اسکولز کے قیام کی تاریخ مشترکہ ہے۔
22 جون 2021 کو ڈیب ہالینڈ، امریکی سیکریٹری آف انٹیرئیر، نے فیڈرل انڈین بورڈنگ اسکول انیشیٹو اور انسانی جانوں کے نقصانات کی تفتیش کا اعلان کیا۔ خود ان کا تعلق بھی نیٹیو امریکی قبیلہ سے ہے اور وہ اپنے آبا و اجداد سے ان پہ بیتے ظلم کی داستانیں سنتے جوان ہوئی ہیں۔
تازہ امریکی رپورٹ کے مطابق 1819 سے 1969 تک کے عرصے میں امریکہ کی 37 ریاستوں میں چار سو آٹھ اسکول کھولے گئے۔ جہاں نیٹیو امریکی بچوں کو نسلی برتری کا شکار سفید فام یورپین ”متمدن اور مہذب“ کلچر میں ضم کرنے کے لیے زبردستی داخل کیا گیا۔ اس کی بنیاد پینسلوینیا اسٹیٹ میں قائم سب سے پہلے بورڈنگ اسکول کارلیئل انڈسٹریل اسکول کے بانی رچرڈ ہنری پریٹ کا تاریخ کے اوراق میں ثبت جملہ ہے۔
Kill the Indian save the man یعنی ”بچے کو زندہ رہنے دو اس کی ثقافت کو مار دو۔“
یورپین نے اپنے تسلط کے پھیلاؤ کے لیے مقامی نیٹیو امریکی کو آبائی گھروں سے بی دخل کر کے دور مخصوص جگہوں (ریزرویشن) بھیجنے پہ ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی پسپائی کے لیے ثقافتی نسل کشی کا حربہ اپنایا۔ ایسا کرنے کے لیے انہوں نے لازمی تعلیم کے قانون کا راستہ ڈھونڈا۔ جس کے بعد قانوناً ان نیٹیو امریکی بچوں کو پکڑ کے ان کے والدین اور بستیوں سے بہت دُور اُن بورڈنگ اسکولوں میں داخل کیا گیا۔ جہاں انہیں کچھ تعلیم حساب، سائنس اور تاریخ جیسے مضامین اور لڑکوں کو کھیتی باڑی، گلہ بانی، اسپورٹس، لڑکیوں کو گھریلو کام کی تربیت تو دی گئی لیکن ساتھ ہی ان کمزور، کمسن اور بے بس ماں باپ سے بچھڑے بچوں کو سالوں خاموشی سے وہ ظلم اور تشدد بھی جھیلنا پڑتا جو اس قسم کی جگہوں میں آج بھی عام ہے۔
اس سرگرمی سے امریکہ اور کینیڈا میں ظلم کا شکار ان ہزاروں نیٹیو امریکی افراد کی کہانیاں اور انٹرویوز لیے جا رہے ہیں جو خاموشی سے اپنے وجود میں اپنے درد کو پالتے ہوئے بوڑھے ہوچکے ہیں۔ وہ عوامی اجتماع میں پہلی بار اس نسلی المیہ کی کہانیاں بیان کر رہے ہیں جو انہیں جیتے جی درگور کر گیا۔
اس سلسلے میں ایک صاحب نے بتایا کہ اپنی زبان بولنے پہ ربر بینڈ کو دانتوں میں پھنسا کے اور دور کھینچ کر چھوڑ دیا جاتا تاکہ لبوں کو سخت چوٹ لگے۔ ان سے کہا جاتا کہ نیٹیو امریکن بیوقوف ہیں جو کبھی کچھ نہیں سیکھ سکتے۔ اور یہ بھی کہ ان کے گناہ گار والدین کو ان کے مذہب کی وجہ سے مرنے کے بعد سخت سزا ملے گی۔ 1956 میں ساڑھے چھ سال کی عمر میں ساؤتھ ڈکوٹا سے لائی جانے والی ڈورا نے بتایا کہ اس کو چرچ لے جا کر مسیحی بنایا گیا اور ہاتھ میں صلیب دے کر دعا مانگنے کو کہا گیا، ”جاؤ اس بات کی معافی مانگو جو تم ہو۔“ ایک صاحب نے بتایا کہ اسے اپنی ماں پہ شرم آتی تھی کیونکہ اسے بتایا گیا کہ اس کی ماں اچھی عورت نہیں کیونکہ وہ نیٹیو گانے گاتی، ناچ کرتی اور ڈھول بجاتی ہے۔
پادری اور راہباؤں کے ہاتھوں جنسی زیادتیاں تو عام تھیں۔ ایک بوڑھے نے بتایا کہ وہ آٹھ نو سال کا تھا۔ اور ہر رات اس کا جنسی استحصال ہوتا۔ وہاں سے بھاگ جانے والوں کو پکڑ کے واپس لاکر سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا۔ ننھے بچوں کو سزا کے طور پہ ایک اندھیرے کمرے میں گھنٹوں تنہا رہنے کی سزا دی جاتی۔ مرجانے والے بچوں کی قبریں کھودنے والے بھی اسکول کے ساتھی بچے ہوتے۔
ان کا یہ ٹراما نسلوں پہ محیط ہے۔ ان اسکولوں نے بچوں سے ان کی شناخت چھین لی اور مخلوط خاندانی نظام کا شیرازہ بکھیر دیا۔ ان کی مقامی ثقافت کھو گئی۔ اب ان کی زبان بولنے والے کم رہ گئے۔ نیٹیو امریکن ریزرویشن میں ڈپریشن، غصہ، ذہنی اور جسمانی امراض، گھریلو تشدد، خودکشی، منشیات، شراب اور بچوں پہ تشدد کا تناسب عام آبادی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
اب جبکہ یہ کہانیاں عام لوگوں تک پہنچ رہی ہیں جس سے نہ صرف تشدد کا شکار لوگوں اور ان کے خاندانوں کے درمیان تعلقات میں بہتری پیدا ہوئی ہے بلکہ عام سطح پہ بھی آگہی پھیل رہی ہے۔ حکومتوں کے ساتھ چرچ کے پادریوں نے بھی اپنی سالہا سال کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے تدارک کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ جس میں تھرپی، طبی اور ذہنی علاج کی سہولیات اور ان ظلم کی پاداش میں معاوضہ کی ادائیگی شامل ہے۔
ضروری ہے کہ ہم سب دنیا کے کسی بھی خطہ میں ہونے والے ظلم کے ہاتھ اپنے احتجاج کی طاقت سے روکنے کا حوصلہ رکھیں۔ دوسری صورت میں اس کا تاوان آنے والی نسلیں چکاتی ہیں۔ جو عموماً اس تکلیف دہ صورتحال کے تسلسل کا باعث بنتا ہے۔





