سندھ، انگریز اور کراچی


(کراچی کا ایک دل چسپ احوال پیش خدمت ہے۔ یہ نہ تو تحقیقی مقالہ ہے نہ کوئی سرکاری گزٹ۔ دیکھی، پڑھی اور سنی گئی باتوں پر لکھا ایک مضمون ہے۔ طویل اور معلوماتی۔ کراچی شہر کو سمجھنے میں اور اس پر مزید تحقیق کرنے میں اس سے یقیناً ’مدد ملے گی۔ ہمارے دیوان صاحب کراچی کے باسی ہیں۔ ہوم ڈپارٹمنٹ، مجسٹریسی، ڈسٹرکٹ انتظامیہ، کے ایم سی، جیل ایڈمنسٹریشن، ٹرانسپورٹ، محکمہ زراعت اور ریونیو۔ کراچی کے تقریباً ہر انتظامی محکمے سے منسلک رہے ہیں۔ و – مسعود)

٭٭٭         ٭٭٭

اپُن کا کرانچی (2)

سندھ کے حوالے سے اپنے زمانے کی تین بڑی بحری طاقتوں یعنی ولندیزی (ڈچ)، پرتگالی اور انگریز تینوں کو کوئی خاص دل چسپی نہ تھی۔ اس وقت اس صوبے کا ساحلی علاقہ کراچی، ٹھٹھہ بدین پر مشتمل تھا۔ سنہ 1635 میں انگریزوں نے شاہ جہاں کے زمانے میں ٹھٹہ میں ایک تجارتی کوٹھی قائم کی تھی۔ یہ ابتدا میں یہاں سے بارود میں استعمال ہونے والا Saltpetre (پوٹاشیم نائی ٹریٹ) لے جاتے تھے۔ اس لین دین کا وہاں رہنے والے میمنوں نے فائدہ اٹھایا، کراچی ہمیشہ سے میمن گجراتی اور تاجر ہندو بنیے کا شہر تھا۔ ان تینوں گروہوں نے گورے سے تجارت کے نت نئے گر سیکھے۔ چالیس سال بعد جب یہ تجارتی کوٹھی بند ہوئی تو انگریزوں کے ساتھ میمن بھی گجرات کی طرف نکل گئے۔ میمنی زبان، گجراتی اور سندھی کی آمیزش ہے۔ میمن، لسانی اور نسلی حوالوں سے سندھیوں کے زیادہ قریب ہیں اور دونوں ایک دوسرے کا بہت لحاظ کرتے ہیں۔

انگریزوں سے کلہوڑا حکمران نے ان کی بلوچوں کے خلاف مدد کرنے کے وعدے پر تجارتی لائسنس بھی حاصل کیے مگر وہ مقامی جنگوں میں کبھی شامل نہ ہوئے۔ کراچی کو جاننے سمجھنے کے لیے سندھ کے حوالے سے اس خطے کی انگریزوں کے ہات فتح اور پنجاب میں رنجیت سنگھ کی بادشاہت کا ذکر معنی رکھتا ہے۔ تاریخ میں قاری کی قومیت، زبان، نسل، مذہب اور ذاتی پسند نا پسند کا بھی بہت دخل ہے۔

غیر سندھی مورخین کا خیال ہے کہ سندھ کی فتح سر چارلس بہادر نیپیئر نواب بادشاہ ہند و سندھ کی ذاتی مہم جوئی کا نتیجہ تھا۔ سندھی مورخین البتہ اسے ذرا مختلف اور قوم پرستی کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ وہ اصرار کرتے ہیں کہ سندھ کا وسائل سے مالامال ہونا بھی حملے کا جواز تھا۔ وہ سندھو دریا کے راستے پنجاب کی تجارت پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ جامعہ سندھ میں ہمارے کچھ استاد اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتے تھے کہ انگریزوں کو سکھوں کی طرف سے بھی خوف تھا کہ وہ سندھ پر قابض ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ بیس بیویوں کے شوہر گوجرانوالہ کے رنجیت سنگھ نے جب محض اٹھارہ برس کی عمر میں سنہ 1799 میں لاہور فتح کیا تو اس نے اپنی مہم جوئی کا رخ پنجاب سے آگے دہلی کی طرف لے جانے کی بجائے کابل کی طرف موڑ دیا۔ اس کی عسکری صلاحیتوں سے انگریز اس لیے خائف تھے کہ کچھ چھوٹی موٹی جنگوں میں انگریزوں کے کچھ افسر مارے گئے تھے۔ وہ اپنے اندیشے کی بنیاد اس اطلاع کو بناتے تھے کہ اس نے سنہ 1823 سے مسلسل دو برس تک اس معاملے میں مشاورت اور تیاریاں کیں مگر انگریزوں کی جانب سے جب اسے ایک بھرپور اور سخت پیغام ملا تو وہ باز آ گیا۔ اس میں دل چسپ پہلو یہ ہے کہ رنجیت سنگھ انگریزوں کے سندھ فتح کرنے سے چار برس پہلے یعنی سنہ 1839 میں وفات پا چکا تھا۔

کلہوڑا خاندان سے حکمرانی جب سندھ کے ایک بلوچ ٹالپر خاندان کے پاس منتقل ہوئی جسے کمال انسیت سے سندھ میں چوہیاری یعنی چار یاروں کی حکومت کہا جاتا تھا تو انگریز کو خدشہ ہوا کہ یہ تبدیلی سندھ کے راستے گرم پانی تک رسائی روس کا ہدف ہو سکتی ہے اور یہ ٹالپر سردار اس میں ان کی معاونت کر سکتے ہیں۔ ایک طویل المدت معاہدہ اسی حوالے سے انیسویں صدی کے آغاز میں کیا گیا۔ سنہ 1842 میں انگریزوں کو افغان سردار امیر دوست بارکزئی کے ہاتھوں بری طرح شکست ہوئی۔ پہلی دفعہ ایک میجر جنرل ولیم الفنسٹن کی ہلاکت ہوئی۔ اتنے بڑے رینک کا کوئی فوجی افسر آج تک کسی جنگ میں ہلاک نہیں ہوا۔ تاریخ چونکہ یادوں کا مجموعہ ہوتی ہے لہذا کور اپ کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی ہلاکت دوران حراست ہوئی۔ بہت سے افراد کا خیال ہے کہ کراچی کی سب سے حسین شاہراہ الفنسٹن اسٹریٹ (موجودہ زیب النسا اسٹریٹ) ان کی یاد سے منسوب تھی۔ یہ درست نہیں یہ ماؤنٹ اسٹیورٹ الفنسٹن کے نام سے منسوب ہے۔ یہ افغانستان میں سرکار انگلشیہ کے پہلے سفیر تھے۔

جنرل ضیا نے بعد میں جہاں کراچی کی بربادی میں اپنا کردار اس کو جنگ افغانستان کا سپلائی اور فرقہ واریت کا ڈپو بنا کر ڈالا وہاں اس گلی کا نام بھی الفنسٹن سے جسے سب پیار سے ایلفی کہتے تھے بدل ڈالا۔ کچھ نام کسی کسی کو راس نہیں آتا اور ایلفی کی رونقیں اسی شہر کا طارق روڈ لے اڑا۔ پاس پڑوس میں آباد مے خانے کلب اور اینگلو انڈین عیسائی جو کردار اور جدت کے بڑے نمائندے تھے وہ بہت خاموشی سے مغربی ممالک میں کوچ کر گئے۔

بھارت میں مالوے (موجودہ مدھیہ پردیش کا علاقہ پہلے راجھستان) کی مہندی اور افیم بہترین مانی جاتی ہے۔ لتا منگیشکر کا ایک مشہور لوک گیت ہے کہ مہندی کو بویا تو مالوے میں گیا مگر اس کا رنگ گجرات میں دکھائی دیا۔ پان گٹکے کے علاوہ میمن گجراتی چونکہ کوئی اور سستا نشہ کرنے کے عادی نہیں لہذا افیم کے نشے سے وہ بے خبر تھے مگر اس کی تجارت سے نہیں۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے ہندوستان میں چین کو افیم کی برآمد وہی اہمیت رکھتی ہے جو اسکاٹ لینڈ کے لیے وہسکی اور ہمارے لیے کبھی جوٹ اور کچھ عرصے پہلے تک روئی کی ہوتی تھی۔ اسکاٹ لینڈ اپنی وہسکی کی ملکی و غیرملکی فروخت سے سوا چار بلین پاؤنڈ کماتا ہے۔ ویسے تو اپنی مری بریوری بھی پیچھے نہیں۔ اہل کار بتاتے ہیں کہ ان کے ادارے میں رواداری کا یہ عالم ہے کہ بریوری میں جمعے کی نماز چار دفعہ جماعت سے تمام گروپس کو جگہ دینے کے لیے ہوتی ہے۔ مسجد کے باہر بورڈ لگا ہوتا ہے۔ وہسکی گروپ سوا بجے، جن گروپ پونے دو بجے، بئیر گروپ دو بجے، ووڈکا گروپ سوا دو بجے۔ کراچی کے اہل ناؤ نوش کا شکوہ رہتا ہے کہ اب وہاں کے مشروبات ویسے نہیں رہے جیسے یحیی بھٹو دور میں ہوتے تھے۔ اس کی بڑی وجہ وہ پانی کی کوالٹی کو بتاتے ہیں۔ جہاں کا پانی اچھا، وہاں کی شراب اچھی۔ جہاں کی شراب اچھی وہاں کے لوگ ذہین اور دل دار۔

بات مالوے کی افیم اور کراچی کی ہو رہی تھی۔ کمپنی بہادر کا بنگال سے افیون کی تجارت پر مکمل کنٹرول تھا۔ مالوے کی عمدہ افیون البتہ کراچی سے ہندو پارسی میمن اور گجراتی اسمگل کیا کرتے تھے۔ وہ اسے اسمگلنگ نہیں سمجھتے تھے بالکل ایسے ہی جس طرح افغان ٹرانزٹ کے مال کو پختون خوا کا تاجر اسمگلنگ نہیں سمجھتا۔

سنہ 1803 میں اس وقت کے گورنر جنرل Wellesley کو ایک رپورٹ پیش کی گئی کہ کراچی سے اسمگل ہونے والی افیون کی وجہ سے بنگال کی افیون کی درست قیمت نہیں مل پا رہی۔ گورنر جنرل کا چینی کے کارخانوں یا دواؤں والی مافیا ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ کے کھانچے کھابے کا چکر نہ تھا۔ اس اطلاع کی تصدیق ہوتے ہی ہماری دکھیاری سرکار کی طرح ملزموں کو آہنی ہاتھوں سے اصل میں کچلنے کے لیے کمپنی بہادر فوری طور حرکت میں آ گئی اور ایک سرکاری ادارہ Malwa Opium Agency قائم کر دیا گیا جس نے کسٹم اور اینٹی اسمگلنگ ممبئی پورٹ پر انتظامات مزید سخت کر دیے دیگر اقدامات کی بھی کوشش کی گئی مگر چونکہ مالوا کے علاقے پالی سے جودھپور، جیسلمیر، امر کوٹ، حیدرآباد، کراچی کا معاملہ وہی تھا جو بلوچستان اور سندھ میں ایرانی ڈیزل کا ہے۔ ہر طرح کے مقامی طاقتور حصے دار شامل تھے لہذا خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی۔ افیون کے بکسے کراچی سے بادبانی کشتیوں کے ذریعے دمن دیو (گوا) اور وہاں سے مکاؤ، ہانگ کانگ، شنگھائی پہنچتے رہے۔ ایک عرصے بعد سندھ اور کراچی کے انگریزوں کے قبضے میں آنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بنگال کی بجائے کراچی افیون کی برآمد کا مرکز بن گیا۔

سندھ اس زمانے میں تین امیروں، میر آف خیر پور، میر آف حیدرآباد اور میر آف میرپور کے زیر انتظام تھا۔ اس ریاست کی مرکزی حیثیت میں زبان کے علاوہ ان میروں کی آپس میں تعلق داریاں اور مسلکی یگانگی بھی ایک اہم قدر مشترک تھی۔ 1831 میں انگریز نے ان کو سیاسی طور پر اس وقت آزمایا جب بادشاہ ولیم چہارم نے اپنے سفیر الیگزنڈر برنس کے ذریعے رنجیت سنگھ کو تحفے میں گھوڑے کراچی سے ٹھٹھہ دریائی راستے سے بھجوانے کی کوشش کی۔ اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ دریا کے کنارے آباد بستیوں ور ان کی تجارتی افادیت اور بود باش اور فوجی طاقت کا ایک جائزہ لے سکے۔ تینوں میر اس کے مخالف تھے۔ رنجیت سنگھ نے ناراضی کے اظہار کے ساتھ فوج کشی کی دھمکی دی تو سندھ کے میر ڈر کر مان گئے۔ سفیر برنس نے اس روٹ کی افادیت کے بارے میں مثبت رپورٹ دی تو میروں کے ساتھ اگلے برس ایک معاہدہ طے پایا جس کی رو سے سندھ کے زمینی اور آبی راستے خالص تجارتی مقصد کے لیے انگریزوں کو استعمال کی اجازت دے دی گئی۔ انگریزوں نے اندازہ لگا لیا کہ سندھ کے میروں میں رنجیت سنگھ کی جناب سے فوج کشی کا شدید خوف ہے اس لیے ایک معاہدے کے تحت تین سال بعد ایک ریزیڈنٹ ایجنٹ حیدرآباد میں تعینات ہو گیا۔ جس کا بظاہر مقصد پنجاب اور سندھ کے تعلقات میں بہتری تھا۔ یہ سندھ پر قبضے کی باقاعدہ ابتدا تھی۔

اس دوران سندھ کے میروں کے ساتھ ایک اور بڑا ہات ہوا۔ جب افغانستان میں انگریزوں کی مدد سے شاہ شجاع درانی کی حکومت دوبارہ قائم ہوئی تو اس کے نتیجے میں کیے جانے والے معاہدے میں رنجیت سنگھ کے علاوہ سندھ کے میروں کو بھی زبردستی شامل بھی کیا گیا اور ان سے شاہ شجاع کے نام پر پچیس لاکھ روپے بھی وصول کیے گئے۔ اس معاہدے کی ایک خفیہ شق یہ بھی تھی کہ افغانستان تک ان کا افواج اور اسلحہ سندھ کے راستے جائے گا۔ اس پر میر آف خیرپور معترض رہے تو چند ماہ بعد دسمبر 1838 میں زبردستی ایک ایسی دستاویز پر دستخط کرائے گئے جس کے تحت خیرپور اسٹیٹ تاج برطانیہ کی تابعدار قرار پائی۔ میر نصیر خان ٹالپر آف حیدرآباد اس معاہدے سے شدید ناخوش تھے۔ ان کی اس ناراضگی کے سد باب کے طور پر برطانوی بحریہ کا جہاز ایچ ایم ایسWellesley کراچی کے جزیرے منوڑہ کے قریب لنگر انداز ہوا اور دو دن کے اندر بغیر کسی بڑی فوج کشی کے انگریزوں نے فروری 1839 کو کراچی پر قبضہ کر لیا۔ یوں بھی میروں کو کراچی میں کوئی خاص دل چسپی نہ تھی۔ ان کا دارالحکومت یہاں سے سو میل دور حیدرآباد تھا۔ دو سال کے اندر میرپور خاص اور حیدرآباد کے میر یعنی تینوں میروں نے معاہدوں کے ذریعے سندھ کی عنان حکومت انگریز کو سونپ دی تھی۔

حیرت ناک طور پر افغانوں سے سنہ 1842 کی جنگ میں انگریزوں کا ساتھ میروں نے بھی دیا تھا۔ شکست کے بعد جب ایران سے نکالے ہوئے اسماعیلیوں کو افغانستان سے فرار ہونا پڑا تو وہ ٹھٹھہ کے پاس جھرک میں آباد ہوئے تھے۔

جھرک ہی وہ علاقہ ہے جہاں جناح صاحب بھی پیدا ہوئے تھے۔ جناح مقامی بولی میں لفظ جھیں ڑا ہے جس کا انگریزی ورژن Jinnah ہے۔ جس کا مطلب منحنی یا بے حد دبلا پتلا ہے۔ گجرات کاٹھیاواڑ کے لوگوں میں شخصیت کا کوئی نمایاں پہلو ذات بھی کی شناخت بن جاتا ہے جیسا ایدھی (بمعنی کام چور، پردیسی، غریب، ٹیسٹی) ، اسی طرح ان کے والد چونکہ جھرک میں اسمعیلیہ جماعت کے خزانچی تھے اس لیے ہندی گجراتی لفظ پونجی سے پونجیا کہلائے۔ سندھی ٹیکسٹ بک بورڈ کی درسی کتب میں سنہ ساٹھ کی ابتدائی تک اور بعد میں جناح صاحب کی جائے پیدائش جھرک ہی لکھی جاتی تھی۔ وزیر مینشن جہاں یہ فیملی کچھ دن رہائش پذیر تھی یہ کرائے کی جگہ تھی۔

جی الانا جو خود بھی اسماعیلی تھے اور جناح صاحب کے ذاتی دوست تھے ان کی کتاب جناح اے اسٹوری آف نیشن میں بھی درج ہے کہ وہ جھرک میں پیدا ہوئے تھے۔ مشہور صحافی اردشیر کاؤس جی بھی اس بات کا اقرار کرتے تھے۔ جن کے گھر جناح صاحب کی آوک جاوک رہتی تھی اور ان کے والد فقیر رستم جی کاؤس جی سے دوستی بھی تھی۔ یہ باتیں گجراتی بزرگوں میں عام تھیں یہ بزرگ گاندھی جناح صاحب، ولبھ بھائی پٹیل اور مرارجی بھائی ڈیسائی اور امبڈیکر صاحب کے دوست تھے۔ تاریخ کو اتنا ڈرائی کلین انداز میں برتنے کے عادی نہ تھے۔ جتنا سنہ ستر کے بگاڑ سے پہلے ایک طاقتور بیوروکریسی نے اسے سچ سے پرے منافقت کے کسی پارلر میں بنایا سجایا تھا۔

جناح صاحب کی دوست سروجنی نائیڈو جنہوں نے جناح صاحب کی پہلی سوانح حیات لکھی اس کے مطابق ان کی تاریخ اور جائے پیدائش مسلسل بدلتی رہی۔ اس میں اس دور کی طاقت ور بیوروکریسی کا بھی بڑا رول ہے۔ انتہا پسند حلقے اس سلسلے میں حیدر آباد کے کمشنر مسرور حسن خان کا نام لیتے ہیں جو جھرک ٹھٹھہ سے ان کے الزامات کی روشنی میں سب ریکارڈ لے گئے تھے۔ ضلع ٹھٹھہ اور جھرک دونوں کمشنر حیدرآباد کے زیر انتظام تھے جب کہ ان کی پیدائش کے وقت وزیر مینشن تو تعمیر بھی نہیں ہوا تھا۔ سندھ میں انگریزوں کی مدد کے بعد اسماعیلی ٹھٹھہ سے ممبئی منتقل ہو گئے۔

بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کراچی کے ڈیفنس میں فیز ون سے فیز نائین تک کے نمبر شامل ہیں مگر فیز تھری شامل نہیں۔

کیا فوج سنہ پچاس کی اجڑی دہائی میں جب محبت کا یہ بے آب و شجر گلشن آباد کرتی تھی تو انگریزی زبان کی گنتی میں تھری شامل نہ تھا۔ ایسا نہ تھا۔ آغا خان دوم کی شادی اور قیام ڈیفنس کراچی میں اس ٹھیکری پر رہا جس کو ہنی مون لاج کہا جاتا ہے۔ اسی اہم علاقے کو کراچی کا سرگوشیوں میں ڈیفنس فیز تھری مانا جاتا ہے

یہیں ہز ہائی نیس سلطان محمد آغا خان سوئم سنہ 1877 میں پیدا ہوئے جن کا تحریک پاکستان میں بڑا حصہ ہے۔ وہ مسلم لیگ کے پہلے صدر تھے اور بڑی باکمال علم دوست شخصیت کے مالک تھے۔ برطانوی اشرافیہ اور مقتدر حلقوں کے بہت قریب تھے انہیں یہ باور کرانے میں کہ مسلمانان ہند کے لیے پاکستان کی علیحدہ مملکت کی تشکیل ناگزیر ہے ان کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

اقبال دیوان
Latest posts by اقبال دیوان (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 99 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments