سانحہ کوٹ ادو، سوالیہ نشان ؟
گزشتہ روز ایک خبر میرے سامنے سے گزری کہ کوٹ ادو میں ایک 13 سالہ بچہ جو کہ اعتکاف کی نیت سے کسی مسجد میں تھا اس کا جنسی استحصال کیا گیا ہے۔
یقین کیجیے کہ یہ وہ سانحہ جسے سوچ کے روح تک کانپ جاتی ہے۔ ایک معصوم بچہ جو کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مسجد قیام کرتا ہے اس کو ایک ایسا گھاؤ دیا گیا ہے جو ساری زندگی نہ بھرے اور شاید اس بچے کی ساری زندگی پہ اس کے اثرات ہوں۔
عموماً ہمیں اس طرح کی خبریں دیکھنے کو مل رہی ہوتی ہیں سوشل میڈیا پہ نظر آتی ہے اس حوالے سے پاکستان میں سب سے زیادہ خیبرپختونخوا کا علاقہ ہری پور بہت زیادہ خبروں میں رہا ہے۔ وہاں ایسے کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے گزشتہ پانچ سالوں میں اس پہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کی طرف سے بہت زیادہ کام کیا گیا ہے۔ دوسرے نمبر پہ ضلع مظفرگڑھ شمار کیا جاتا تھا۔
کوٹ ادو جو چند سال پہلے مظفرگڑھ کا حصہ تھا اب الگ ضلع کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے بھی کوئی خاص بڑا علاقہ نہیں ہے لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں اس طرح کے علاقے میں ایسا کیس ناقابلِ یقین ہے۔
حالات یہ ڈگر اختیار کر گئے ہیں کہ زمینی خداؤں نے، خدا کے گھر میں بھی کسی کو محفوظ نہیں رہنے دیا۔
اس طرح کے درندوں کو سرعام پھانسی دلانے کے لیے ہم لوگوں نے ان گنت ٹرینڈز کیے بہت محنت کی لیکن چند وجوہات کی بنا پر اب تک اس طرح کی سزائیں لاگو نہیں کی جا سکیں۔ اس بات پہ بہت زور دیا گیا کہ ایسے لوگوں کو چوک میں لٹکا کے پھانسی دینی چاہیے تاکہ اس طرح کے جرائم کی شرح میں واضح کمی ممکن ہو سکے مگر افسوس کہ اب تک ایسا کچھ ممکن نہیں ہو سکا۔
انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔ ہمارا مذہب اسلام انسانیت کا درس دیتا ہے جبکہ ایسے لوگ جو جانوروں سے بد تر ہو جاتے ہیں ان کا تعلق انسانیت کے کنبہ سے نہیں ہوتا۔
مزے کی بات یہ ہے انہوں نے انسانوں کی کھال پہنی ہوئی ہے تو ان بہروپیوں کو مقدس مقامات تک آنے سے بھی نہیں روکا جا سکتا۔
ایسے میں والدین کو چاہیے اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھیں۔
انہیں سکھائیں کہ اچھے اور برے ٹچ میں کیا فرق ہے۔
جب آپ کو محسوس ہو کہ کوئی انسان صحیح نہیں ہے تو آپ نے کیسے اس سے بچنا ہے؟ یہ بچے کو سکھانا چاہیے۔
بچے اور والدین کے درمیان فاصلہ جتنا کم ہو گا اس طرح کے درندوں کی اتنی حوصلہ شکنی ہوگی۔
بچے کو سکھایا جائے کہ خود سے زیادہ اعتماد کسی پہ نہ کیا جائے آپ اگرچہ چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں اپنی سمجھ بوجھ سے کسی بھی مشکل صورتحال سے آسانی سے باہر آ سکتے ہیں۔
مسجد میں ہیں فون استعمال نہیں کرنا لیکن اپنے پاس رکھیں کہ کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے اگر ممکن ہو تو باپ اور بیٹا اکٹھے ایک ہی مسجد میں اعتکاف کریں۔
یہ ممکن نہیں تو اپنے بچے کو دیکھنے کے لیے جائیں وہ نہیں بول رہا وہ اعتکاف میں ہے آپ تو نہیں ہیں آپ جائیں اسے اکیلا مت چھوڑیں ظالم دنیا کے لیے، اپنے بچے کو پر اعتماد بنائیں اسے شیر کا بچہ بنائیں ایک ہی بار زندگی ملی ہے اسے ڈر، ڈر کے جینا نہ سکھائیں۔
سر اٹھا کے جینا سکھائیں اپنے بچے کو اور ہمیشہ اس کا ساتھ دیں
یہ بچے آپ کا مستقبل ہیں، ہمارا مستقبل ہیں، ہمارے پیارے ملک پاکستان کا مستقبل ہیں
خدارا! انہیں ضائع مت ہونے دیں۔
اس بات کو یقینی بنایا جائے بچے کو انصاف دیا جائے گا اور اس حیوان کو سزائے موت۔
ماہِ مبارک میں وقوع پذیر ہونے والا یہ سانحہ ان تمام لوگوں کے لیے سوالیہ نشان ہے جو نام نہاد مذہب کے ٹھیکیدار ہیں جو صرف دین سے ڈرا رہے ہیں یا کما رہے ہیں۔ اتنے چھوٹے سے علاقہ میں یہ واقعہ سوالیہ نشان ہے کہ قصوروار کون؟
ہمیں یقین ہے کہ حکومت پاکستان اور خصوصاً وزیر اعلی پنجاب اس واقعہ کا نوٹس ضرور لیں گی اور درندے کو تختہ دار تک پہنچایا جائے گا۔

