صلیبیں اپنی اپنی
”مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین ورثے میں پائیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو راست بازی کی بھوک اور پیاس رکھتے ہیں، کیونکہ وہ سیر ہوں گے۔ “ متی 5 : 5۔ 6
میرا روزانہ کا معمول تھا کہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد انکل شاہد کے گھر جاتا تھا۔ جیسے ہی دروازے میں لگی ہوئی کنڈی بجاتا، کسی بچے کی آواز آتی، ”سر آ گئے۔“ حالاں کہ دروازہ کھلا رہتا تھا مگر میں انتظار کرتا کہ کوئی بچہ آ کر دروازے میں ٹنگا ہوا پردہ ایک طرف ہٹائے۔ میں ہفتے میں چھ دن بلا ناغہ شام کو جاتا تھا۔ بچے بھی بڑے شوق سے پڑھتے تھے۔ وکٹر آٹھویں کلاس میں تھا، بالا ساتویں میں، پنکی چھٹی میں اور جمی اور جینی پانچویں میں۔
میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوتا، بچے اپنی اپنی کتابیں لے کر ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھ جاتے۔ سیاہ آبنوس کی بنی ہوئی اس ٹیبل کو اٹھانے کے لیے کم از کم سات آٹھ آدمیوں کی ضرورت پڑتی کیوں کہ اس کی لکڑی کافی موٹی اور بھاری تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ آبنوس کا شمار دنیا کی مہنگی ترین لکڑیوں میں ہوتا ہے۔ میرے دماغ میں یہ سوال گردش کرتا رہتا کہ انکل شاہد اس غربت میں آبنوس کا فرنیچر خریدنے کے کس طرح متحمل ہو سکتے ہیں۔ آخر ایک دن میں نے پوچھ ہی لیا۔ سن کر بہت ہنسے اور کہا کہ قیام پاکستان کے موقع پر ان کے والد نے وہ سارا فرنیچر ایک انگریز سے خریدا تھا جو واپس انگلستان جا رہا تھا اور انہوں نے سارے فرنیچر کے سو روپے ادا کیے تھے۔
بالا جو ساتویں جماعت میں تھا، ریاضی میں ذرا سا کمزور تھا اور میں گھنٹہ بھر اسی کو پڑھاتا رہتا تھا۔ باقی بچے عموماً اپنا ہوم ورک کرتے رہتے اور انہیں میری توجہ کی ضرورت کبھی کبھار ہی پڑتی۔ جب بچے ہوم ورک ختم کرلیتے تو میں ہر ایک کا کام چیک کرتا جو عام طور پر ٹھیک ہی ہوتا تھا۔ پڑھائی ختم ہونے کے بعد میں کچھ دیر انکل شاہد کے ساتھ بیٹھتا۔ وہ باہر صحن میں میرا انتظار کرتے تھے۔ میں عرصے سے متجسس تھا کہ وہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں ملازم تھے، جو اس زمانے میں کرپشن کے لیے کافی بدنام تھا مگر پھر بھی وہ غربت کی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے تھے۔ آخر ایک دن ہمت کر کے میں نے کہہ ہی دیا، ”انکل، جب مجھے پتا چلا کہ آپ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں ہیں تو اس گھر کی حالت دیکھ کر آپ کی عزت میری نظروں میں بڑھ گئی ہے۔“
”سر، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں غریب اور مسکین ہی رہنا چاہتا ہوں،“ انہوں نے مسکرا کر کہا۔
”آپ جیسے لوگ بہت کم ملتے ہیں۔“
”میں کوشش کرتا ہوں کہ مسیح کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا رہوں،“ انہوں نے جواب دیا۔ ”وہ بھی غریب تھا اور اسی نے کہا تھا کہ مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں، کیوں کہ وہ زمین ورثے میں پائیں گے۔“
”متی کے پانچویں باب کی پانچویں آیت،“ میں نے انہیں متاثر کرنے کے لیے کہا۔
وہ اس طرح چونکے جیسے کرنٹ لگا ہو۔
”سر، معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بائبل کا بڑا گہرا مطالعہ کیا ہے۔“
”جی، اور یہی بات فیضؔ نے اس طرح کہی ہے
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو ”
”سر، کیا بات کہی ہے آپ نے،“ انکل شاہد نے اٹھ کر بڑے پر جوش انداز میں مجھ سے ہاتھ ملایا، ”میں تو جب بھی فیض کی وہ نظم پڑھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ مسیح کی آمد ثانی کا نقشہ کھینچ رہے ہیں
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
ہم دیکھیں گے۔ ”
انکل شاہد بڑے انہماک سے اقبال بانو کے انداز میں آنکھیں بند کیے وہ نظم گا رہے تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ ان پر وجد کی سی کیفیت طاری تھی۔ جب آخری لائن پر پہنچے تو آنکھیں کھول کر میری طرف اشارہ کیا، ”لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔“ میں سوچ رہا تھا کہ محرومی خواہ حالات کا نتیجہ ہو یا خود عائد کردہ ہو، امید اس کے لیے مرہم کا کام کرتی ہے۔
جیسے جیسے وقت گزرا، انکل شاہد کے گھر میں میرا عمل دخل بڑھتا گیا۔ دونوں میاں بیوی میرا بہت خیال رکھتے تھے اور بچے بھی میری عزت کرتے تھے۔ آنٹی سے بہت کم ہی ملاقات ہوتی تھی کیوں کہ وہ بھی محلے میں کسی کے بچوں کو اسی وقت ٹیوشن پڑھایا کرتی تھیں جس وقت میں ان کے بچوں کو پڑھانے کے لیے جاتا تھا۔ میں نے ابتدا ہی سے محسوس کیا تھا کہ جب بھی ان سے ملاقات ہوتی وہ ہمیشہ تھکی تھکی سی لگتی تھیں اور چہرے پر مستقل کرب نظر آتا تھا۔
اگرچہ مسکراتی بھی تھیں مگر بڑی بے جان مسکراہٹ، جیسے صرف دوسروں کی خاطر مسکرا رہی ہوں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بیماریوں کا پلندا ہیں۔ اول تو ان کا وزن بہت زیادہ تھا اور پھر ذیابیطس انہیں تھی، دمہ انہیں تھا، بلڈ پریشر آسمان سے باتیں کرتا تھا۔ کہتی تھیں کہ اگر ماؤنٹ ایورسٹ کو ان کا بلڈ پریشر بتا دیا جائے تو وہ شرم سے زمین میں دھنس جائے گا۔ جب وہ اپنی ٹیوشن سے واپس آتیں تو ان کا سانس لوہار کی دھونکنی کی طرح چلتا سنائی دیتا تھا اور وہ سیدھی کمرے میں جاکر چارپائی پر لیٹ جاتی تھیں۔ میں بچوں سے کہتا کہ وہ جاکر اپنی ماں کو دیکھیں۔ ان میں سے کوئی پنکھا جھلتا، کوئی پانی پلاتا اور کوئی سر دباتا۔
ہر ماہ پہلی تاریخ کو جب وہ ٹیوشن پڑھا کر لوٹتیں تو میرے ہاتھ میں ایک لفافہ دے دیتیں جس میں پچھتر روپے ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ جب وہ ہانپتی کانپتی آئیں تو میں نے کہا، ”آنٹی، آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔ آپ اپنی ٹیوشن چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟“
بولیں، ”سر، میں آپ کی فیس کمانے کے لیے جاتی ہوں۔ مجھے وہاں سے پچھتر روپے ملتے ہیں وہ آپ کو دے دیتی ہوں۔“
مجھے ایک جھٹکا سا لگا۔ میں نے کچھ کہنا چاہا مگر منہ سے کچھ نہ نکلا۔ اگلے روز میں نے انہیں اپنا فیصلہ سنا دیا۔
”آنٹی، آپ اپنی ٹیوشن چھوڑ دیں، میں آپ سے بچوں کو پڑھانے کے پیسے نہیں لوں گا،“ میں نے کہا۔
”نہیں سر، یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آپ یہاں شوقیہ تو پڑھانے کے لیے نہیں آتے۔“
”آنٹی، آپ اس کی فکر نہ کریں۔ میں آپ کے بچوں کو اپنے بھائی بہن سمجھ کر پڑھاتا رہوں گا۔ گزارہ تو اللہ تعالی کرا ہی دیتا ہے۔“
”سر، یہ خدا کا قانون ہے کہ ہر ایک کو اپنی اپنی صلیب خود ہی اٹھانی ہے۔ ہمارے اور آپ کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم خدا کے قانون کی پابندی کرتے رہیں۔“
”نہیں آنٹی، آپ میری فکر نہ کریں۔ مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ اپنی صلیب کے ساتھ آپ کی صلیب بھی اٹھا سکوں گا۔“
میں نے انہیں سمجھا نے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانیں۔ ہر ماہ جب وہ مجھے لفافہ دیتیں تو میرا ضمیر ملامت کرتا مگر میں چار و ناچار لفافہ ان کے ہاتھ سے لے لیتا۔


