چند باتیں
دو تین دن پہلے ایک ستّر سالہ ریٹائرڈ آرمی افسر نے بہاولپور شہر کے ون یونٹ چوک میں سڑک کے کنارے ایک سائیڈ پہ اپنی کار پارک کی اور سڑک کراس کر کے دوسری طرف جانا چاہا، ایک نوجوان جو انتہائی تیز رفتاری سے بائیک چلاتا ہوا آ رہا تھا وہ بابا جی سے ٹکرایا اور بہت زیادہ زخم اور چوٹیں آنے کی وجہ سے بوڑھے آدمی کی وفات ہو گئی۔ ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نے فیس بک پوسٹ میں افسوس کا اظہار کیا تو کمنٹس بکس میں ایک صاحب نے لکھا کہ مرنے والا بوڑھا تو فلاں فرقہ سے تعلق رکھتا تھا، اگرچہ وہ حادثہ میں مرا ہے لیکن وہ جنّت میں نہیں جائے گا، آپ افسوس کا اظہار کرنے والی اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیں۔ تاہم دیگر لوگوں نے کمنٹس میں لکھا کہ شہر میں ون وے کی خلاف ورزی اور تیز رفتاری کی وجہ سے حادثے بہت ہو رہے ہیں۔
گزشتہ روز اپریل 2024 کی چھ تاریخ کو روزہ افطار کے لیے مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے اذان کی آواز آئی۔ میں نے روزہ افطار کرنے کے لیے کھجور اٹھا کر کھانا چاہی تو گھر کی ڈور بیل کی آواز آئی۔ بیل بار بار بجائی جا رہی تھی۔ کھجور میرے ہاتھ میں تھی اور میں نے دروازہ کھولا تو ایک خاتون ہاتھ میں ڈاکٹری نسخہ لیے روتے ہوئے بولی ”میں بہت بیمار ہوں لیکن ان دوائیوں کو خریدنے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں“ ۔ مانا کہ پیشہ ور اور ہڈ حرام بھکاریوں کی تعداد دو کروڑ سے بھی اوپر چلی گئی ہے لیکن معاشرے میں ایسے سفید پوش لوگ بھی بھیک مانگنے پہ مجبور ہو رہے ہیں جو نہ تو آئے روز مہنگی ہوتی ادویات خرید سکتے ہیں اور نہ بجلی گیس کے بھاری بل ادا کر سکتے ہیں۔
ٹیکسٹ ٹو امیج جنریشن اور ٹیکسٹ ٹو ویڈیو جنریشن کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی تو پرانی ہو گئی اب تو جدید سمارٹ فونز میں وائس کلون کرنے والے خوفناک اے آئی ٹولز آ گئے ہیں۔ آپ کے واٹس اپ یا فون پہ وائس میسیج آتا ہے جس میں آپ کے ماں باپ، بہن بھائی یا بیٹا بیٹی کی آواز میں آپ سے کچھ ذاتی معلومات مانگی جا رہی ہوتی ہیں یا گھر سے باہر کسی جگہ پہنچنے کا کہا جا رہا ہوتا ہے۔
حیرت انگیز طور پہ یہ آپ کے اپنے پیاروں کی آواز ہوتی ہے لیکن درحقیقت یہ کلون شدہ آواز ہوتی ہے۔ اے آئی ٹولز سے جو بائیڈن، ٹرمپ، شہزادہ سلمان، انجلینا جولی اور دنیا میں کسی بھی شخص کے لہجہ اور آواز کو آپ سرائیکی، پنجابی، اردو، ہندی، پشتو، سندھی یا جس بھی زبان میں گفتگو کرتا ہوا سننا چاہیں تو سن سکتے ہیں۔ جرائم پیشہ لوگ اس ٹیکنالوجی کا منفی استعمال کر رہے ہیں۔ منفیت کی اس جدید اور خوفناک شکل سے ہوشیار ہو جائیں۔ خیر۔
رواں ماہ رمضان المبارک میں ایک پرانے دوست نے ہم چند دوستوں کو ایک ریسٹورنٹ میں افطار ڈنر دیا۔ بہاول پور میں چیف منسٹر کیمپ آفس کے قریب واقع اس ریسٹورنٹ میں افطار ڈنر اڑھائی ہزار روپے پر ہیڈ تھا۔ میں سوچ رہا تھا گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں کی تنخواہ دو ہزار، تین ہزار یا عموماً چار پانچ ہزار روپے ماہانہ ہوتی ہے۔ پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز پندرہ سے اٹھارہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھانے والی ٹیچرز آٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لے رہی ہوتی ہیں۔
بہاول پور میں فرید گیٹ کے قریب برانڈز شاپس پہ خواتین کی اوڑھنے والی شال ستّر سے اسّی ہزار روپے میں بک رہی ہے اور خواتین اسے خرید بھی رہی ہیں۔ پاکستان اور انڈیا میں معاشرہ دو حصّوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک وہ جن کے لیے مہنگے ریسٹورنٹس میں جانا اور لاکھوں روپے کی برانڈ شاپنگ کرنا کوئی مسئلہ ہی نہیں اور دوسرے وہ جو کروڑوں کی تعداد میں خطِ غربت سے بھی نیچے جا رہے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء، ادویات، بجلی گیس اور پٹرول کی آئے روز بڑھتی ہوئی قیمتوں نے تو اب مڈل کلاس کے لیے بھی واپس غربت کی طرف ریورس گیئر لگا دیا ہے۔ معاشی عدم تحفظ کا احساس بھی معاشرے میں کرپشن کر کے مستقبل کے لیے کچھ پیسے جمع کر نے کا رجحان پیدا کر رہا ہے۔
اکبر شیخ اکبر کا پاکستان، انڈیا، جنوبی ایشیا اور دنیا کے تمام پسماندہ و ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کو مشورہ ہے کہ غربت اور کرپشن سے نجات کے لیے تمام سرکاری محکموں میں ڈیجیٹلائزیشن لائیں۔ کم ازکم کھانے پینے کی اشیاء، پٹرول اور بجلی گیس کی قیمتوں کو تو عام کی پہنچ میں رہنے دیں۔ جہاں کہیں کچی آبادیاں ہیں یا تو انھیں براہ راست مالکانہ حقوق دے دیں یا وہاں گلیاں اور سڑکیں تھوڑی بہت چوڑی کر کے انھیں ریگولرائزڈ کر دیں۔ اپنا ذاتی گھر نہ ہونے کا احساس بھی عدم تحفظ کا احساس پیدا کر کے فرد کے اندر کرپشن کا رجحان پیدا کر دیتا ہے۔
ساٹھ سال سے زائد عمر کے معاشرے کے تمام افراد جو لوئر مڈل کلاس یا لوئر کلاس سے تعلق رکھتے ہوں ان کے لیے بڑھاپے کی پنشن لازمی کر دیں چہ جائیکہ وہ سرکاری ملازم رہے ہوں یا نہ رہے ہوں۔ سول سوسائٹی اور دولتمند افراد بھی معاشرے کے اندر سفید پوش اور غریب طبقوں کی مدد اور انہیں معاشی طور پہ اپ لفٹ کرنے کے لیے آگے آئیں جو مالی مشکلات کا شکار تو ہیں لیکن اپنی خودداری اور عزتِ نفس کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔


