عمران خان گوئبلز کی بدروح


سادہ سا پوائنٹ ہے کہ عمران خان کو ان دنوں مشرقی پاکستان کا مینڈیٹ چرانا بڑا یاد آ رہا ہے لیکن 2018 میں آر ٹی ایس بند کر کے نون لیگ کا مینڈیٹ چرانا یاد نہیں ہے کیونکہ اس وقت خود موصوف سب سے بڑے ”بینیفشری“ تھے اور پنجاب میں نون لیگ واضح اکثریت والی جماعت بن کر سامنے آئی تھی لیکن دھونس، دھاندلی اور بدمعاشی سے عمران خان کی خواہش پر استخارہ کے بعد ”ع“ والے عثمان بزدار کی حکومت بنا دی گئی تھی کہ سب سے بڑے صوبہ پر کنٹرول بھی اسے چاہیے تھا۔

اور

رہی ججز پر ایجنسیوں کے دباؤ والی بات تو یہ تو آپ شوکت صدیقی پر جنرل فیض حمید کی طرف سے دباؤ والی کہانی یاد کر لیں اور فیض حمید کا شوکت صدیقی کو یہ کہنا کہ

”مریم اور نواز شریف کی ضمانت ہو گئی تو ہماری 2 سالہ محنت ضائع ہو جائے گی“
کا کیا مطلب تھا؟

عمران پر تو چند جرنیل، جج اور میڈیا جیسے مہربان تب تھے، اب بھی ہیں اور یہ ڈھکی چھپی بات نہ ہے کہ 51,52 کیسوں میں ایک ہی روز ضمانت ہو جاتی ہے، عدالت کے دروازے پر حاضری لگوا کر گھر اسے بھیج دیتے ہیں، جج اسے گرفتاری سے بچانے کے لیے اپنے ریسٹ ہاؤس میں پناہ دیتے ہیں۔ کیا دنیا کی تاریخ میں پہلے ایسی کوئی مثال ہے کہ کسی ملزم کو ججوں نے اپنے ریسٹ ہاؤس میں رات بھر پناہ دی ہو؟

کسی ملزم کو ”Good to see u“ کہا ہو؟

جی ایچ کیو، کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنے والے کون تھے؟ یاسمین راشد گاڑی کی چھت پر بیٹھ کر مشتعل ہجوم کی قیادت کرتی کور کمانڈر ہاؤس پہنچی اور وہاں پہنچ کر مشتعل ہجوم نے جو کیا وہ ساری دنیا دیکھ چکی اور اب یہ کہنا کہ

”یاسمین راشد معصوم ہے“

حیران کن بات ہے، ایک ہجوم کو کسی کے گھر کی طرف لے جانا، وہاں اس ہجوم کا مشتعل ہوجانا، گھیراؤ جلاؤ اور توڑ پھوڑ کرنا ہو جائے تو ہجوم کی قیادت کرنے والا معصوم کیسے ہو سکتا ہے؟ پھر صنم جاوید جیسی غلط زبان برتنے والی عورتوں کے منہ سے جو کچھ نکل رہا تھا وہ بھی سب سن اور دیکھ چکے۔

باقی توشہ خانے کی گھڑی بیچنے کا اعتراف عمران خان خود یہ کہہ کر کر چکا کہ
”میری گھڑی تھی میں نے بیچ دی“
اوّل تو اس کے باپ کی کمائی سے خریدی ہوئی نہ تھی، دوسرا یہی عمران کہا کرتا تھا کہ
”پاکستان میں امیر اور طاقتور کے لیے الگ قانون ہے اور غریب اور کمزور کے لیے الگ“

اور خود توشہ خانے میں گھسا اور ”امیر اور طاقتور کے لیے بنائے گئے توشہ خانی قانون“ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گھڑی اٹھا کر بیچ کھائی۔ اس قانون کی رو سے کسی غریب کو مستفید ہو کر امیر ہونے دے دیتا۔ لیکن نہیں سعودی گھڑی پر اپنی بری نظر تھی اور رگڑا گیا۔

باقی رہے 9 مئی والے معاملات تو جو لوگ ملوث ہیں اور پکڑے گئے ہیں اور گڑبڑ والے مقامات پر نظر آرہے ہیں۔ ان کی ایک سال قبل کی سوشل میڈیا پر پوسٹیں دیکھ لیں۔ لگ پتا جائے کہ یہ سب لوگ کس جماعت کے ہیں؟

باقی مزے کی بات کہی عمران نے کہ
”جس ملک میں ججز کو دھمکیاں مل رہی ہوں وہاں کون سرمایہ کاری کرے گا“
جج زیبا کو دھمکیاں کون دیتا نظر آیا تھا؟
ججز کے فیصلوں کو ”شرمناک“ کہہ کر عدالت میں کون مکر گیا تھا؟
فائز عیسی کے خلاف ریفرنس بھیج کر کس نے بعد میں تسلیم کیا کہ
”فائز عیسی کے خلاف ریفرنس بھیجنا میری غلطی تھی“

اور رہی بات معاشی بدحالی کی تو شوکت ترین تسلیم کرچکا اور وہ ویڈیو وائرل ہو چکی جس میں وہ پاکستانی تاریخ میں سب سے زیادہ قرض لینا تسلیم کرچکا کہ اتنا قرض 70 سالوں میں نہیں لیا گیا جتنا صرف پی ٹی آئی کی صرف ساڑھے 3 سالہ حکومت میں لیا گیا اور اسی شوکت ترین نے آئی ایم ایف معاہدے سے ”مکرنے“ کے لیے کے پی کے اور پنجاب کے وزرائے خزانہ کو فون کیے تھے کہ

”پاکستان کو نقصان ہوتا ہے تو ہو لیکن اس معاہدے سے مکر جاؤ“

عمران نامی شخص کی نا اہلی دیکھنی ہو تو اس سے دیکھ لیں کہ 70 سال تک ہندوستان کو آرٹیکل 370 لگا کر کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بنانے کی جرات نہ ہو سکی تھی لیکن عمران کے دور میں یہ بھی ہو گیا اور عمران نے کیا کیا؟ چند منٹ کی خاموشی؟

نواز شریف دور میں را کا ایجنٹ کلبھوشن پکڑا گیا اور آج تک جیل میں سڑ مر رہا ہے لیکن ابھی نندن کو عمران نے دو دن میں چائے پلا کر چھوڑ دیا تھا۔ نواز شریف کے دور میں جنیوا کنونشن بھی تھا۔ خیر سگالیاں بھی تھیں اور ”مودی کے یار“ کی کہانیاں بھی عام تھیں لیکن کلبھوشن کی جان نہ چھوٹی کہ نواز شریف نے مودی کی جیت کی خواہش کے لیے ٹویٹ نہ کیا تھا، یہ کام بھی عمران نے کیا تھا، کوئی اور پاکستانی لیڈر ایسا ٹویٹ کرتا تو پکا غدّار ٹھہرتا۔ مارا جاتا۔

ایجنسیوں کی مداخلت کا ذمے دار عمران خان ہے کہ وہ خود مان چکا کہ میں ایجنسی کے ذریعے مختلف بل وغیرہ پاس کروایا کرتا تھا۔

اور یہ کسے یاد نہیں ہے کہ پنجاب میں سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کے 30 ووٹ تھے لیکن عمران کے امیدوار چودھری سرور کو 44 ووٹ مل گئے تھے، یعنی 14 ووٹ زائد اور تب فواد، حماد اظہر اور عمران سمیت سب نے کہا تھا کہ

”لوگوں کے ضمیر بیدار ہو گئے ہیں“
یعنی اپنی باری ہو تو لوٹے نہیں بنتے بلکہ ضمیر بیدار ہوتے ہیں۔ کمال منافقت ہے۔

یہ منافق شخص ہے آج فیصل واوڈا اس کی جڑیں کاٹ رہا ہے لیکن کل اس واوڈے کو بچانے کے لیے اس نے کیا کیا جتن نہ کیے تھے؟ قومی اسمبلی سے واوڈے کو سینیٹ میں لے گیا تھا۔

جہانگیر ترین کے جہاز نے کتنی اڑانیں بھری تھیں اس کے لیے اور اس وقت سب ٹھیک تھا؟ علیم خان کے پیسے سے جلسے کروانا حلال تھا؟ زرتاج گل کی سگی بہن شبنم گل کو میرٹ کی پامالی کر کے ”نیکٹا“ کی چیئرپرسن لگانا درست تھا؟

اس کے دور میں گندم، چینی، ادویات، پٹرول، ماسک، کرونا امداد، پبلک سروس کمیشن، پی آئی اے، روزویلٹ ہوٹل سمیت کئی اسکینڈلز آئے اور سب میں اس کے اپنے لوگ ملوث تھے۔ کیا ہوا؟

سانحہ ساہیوال ہوا۔ انصاف ملا؟

اعظم سواتی نے باجوڑ کی فیملی کو اپنے فارم ہاؤس میں گائے گھسنے پر عبرت کی علامت بنا دیا اور عمران نے سواتی کے کہنے پر آئی جی اسلام آباد ہی کو تبدیل کر دیا تھا۔

المیہ ہے کہ عمران نا اہل، فرعون اور بدزبان بندہ اس ملک پر پھر مسلط ہونا چاہتا ہے جس نے قوم کا اخلاق برباد کر دیا۔ جس کے جھوٹ ایک کروڑ نوکریوں۔ 50 لاکھ گھروں اور 350 ڈیموں کی صورت قوم کے سامنے ہیں۔

اس کے غیرملکی لنگوٹیے دوست سب بھاگ چکے جن میں شہباز گل، شہزاد اکبر، ندیم بابر، زلفی بخاری وغیرہ سرفہرست ہیں۔

ایک نہیں دو پاکستان کی مثال یہ ہے کہ اڈیالہ میں 7 سیل اس لاڈلے کے لیے مختص ہیں۔ اس کا سیل اس کی خواہش پر وسیع کر دیا گیا ہے۔ اسپیشل کچن میں صرف اس کا دیسی کھانا بنتا ہے۔ ورزش کے لیے سائیکل موصوف کو دی گئی ہے۔ بیٹوں سے ہفتے میں دوبارہ بات کرتا ہے اور نواز شریف کو بسترِ مرگ پر تڑپتی بیوی سے بات نہ کرنے دی گئی تھی۔ عمران سے جب چاہے ملاقات کرلو۔ اس کے میڈیا میں بیانات عام ہیں۔ یہ اب بھی لاڈلا ہے ورنہ اس پر جیسے الزامات ہیں اس کے بعد تو اس کی شکل اور آواز تک نہ نکلنے دی جاتی۔

کلٹ کردار بہرحال بن چکا اور فدائین کے پا؏س اس کی کارکردگی کا کوئی ثبوت تک نہ ہے۔ ایسے نادان اور جاہل فدائین جس لیڈر کو دستیاب ہوں اسے اور کیا چاہیے جو ”نتّھ دا کوکا“ اور ”وڑ گیا“ جیسے الفاظ سے متاثر ہو کر لوٹ پوٹ ہوجائیں اور مرنے مارنے پر تل جائیں۔

المیہ ہے کہ یہ سب خرابیاں عمران خان کے تواتر سے جھوٹ بولنے اور پھیلانے سے پیدا ہو رہی ہیں اور روز اس کے جھوٹ پکڑے جاتے ہیں لیکن موصوف ڈھٹائی سے تازہ جھوٹی کہانی لے کر وارد ہو جاتے ہیں اور اس کا سوشل میڈیا سیل اس جھوٹ کو دنیا بھر میں عام کر کے معاملے کو اور بھی ہوا دیتا ہے اور انتشار و کنفیوژن بڑھا دیتا ہے اور اس سے جو ہیجان برپا ہوتا ہے اور ملک و قوم کو نقصان ہوتا ہے اس کی عمران اور اس کے فدائین کو رتی بھر بھی پرواہ نہیں ہے اور ابھی حال ہی میں تازہ ترین جھوٹ بشری بی بی کو زہر دینے کے حوالے سے پھیلایا گیا اور جب بشری بی بی کے ذاتی معالج نے ان کا معائنہ کیا تو ایسے ثبوت تو کیا شواہد تک نہ مل سکے اور زہر، آرسینک اور ہارپک کے 3 قطروں والی سب کہانیاں شرانگیزی پر مبنی نکلیں لیکن آپ دیکھ لیں کہ ابھی بھی ان کا سوشل میڈیا اس زہر والی کہانی کو بیچ رہا ہے اور اب تو خود عمران نے دو قدم آگے بڑھ کر کہہ دیا ہے کہ

”اگر مجھے یا میری بیوی کو کچھ ہوا تو جنرل عاصم منیر ذمے دار ہوں گے“

اس بیان سے اندازہ کر لیں کہ عمران خان کس لیول پر جا کر پاکستان میں ہیجانی کیفیت بپا کر رہے ہیں کیونکہ ملک کے آرمی چیف پر قتل کی سازش کا الزام کوئی معمولی بات نہ ہے اور اسی سے اندازہ ہو رہا ہے کہ عمران خان دراصل چاہتے کیا ہیں؟ وہ کل میر جعفر، میر صادق، یزید، جانور، ڈرٹی ہیری کہا کرتے تھے اور اب اور آگے بڑھ کر قتل کی سازش کا الزام آرمی چیف پر لگا چکے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ پھر بھی اڈیالہ جیل میں انہیں غیرمعمولی سہولتیں دستیاب ہیں اور ان کی ملاقاتوں پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی زبان بندی کی کوئی علامت تک نظر آ رہی ہے۔

اس سے صاف پتا چل رہا ہے کہ گوئبلز کی بدروح والے اس کلٹ لیڈر کے سہولت کار بہت تگڑے ہیں اور وہ اس ملک ہی میں نہیں بلکہ کہیں باہر سے بھی ”بڑی سہولت کاری“ جاری و ساری ہے ورنہ جتنی بڑی پاکستانی شخصیات پر لاڈلا سنگین ترین الزامات لگا چکا اور لگاتا جا رہا ہے اس کے بعد تو اسے نشانِ عبرت بن جانا چاہیے تھا لیکن جی ایچ کیو، کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ اور شہداء کی یادگاروں کی توہین کے مرتکب معاملات سے آگے بڑھ کر اب سیدھا آرمی چیف پر اپنے اور بیوی کے قتل کی ذمے داری ڈالنے والے کو میڈیا سے بات چیت تک سے نہ روکا جا رہا ہے اور اوپن اینڈ شٹ کیسز میں بھی اس کی بریت کی کہانیاں اب عام سننے میں آ رہی ہیں تو کیا اس سے پتا نہیں چل رہا کہ جنرل شجاع پاشا، جنرل ظہیر الاسلام، جنرل باجوہ، جنرل فیض حمید، ثاقب نثار، بندیال اور جسٹس جاوید اقبال وغیرہ سے چلی کہانیاں بھی تھمی نہ ہیں اور زلمے خلیل زاد سے امریکی کرداروں کی سہولت کاری اب اپنے رنگ ڈھنگ دکھا رہی ہے جو کہ اس ملک و قوم کے مستقبل کے لیے یقیناً کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔

Facebook Comments HS