جیفری چاسر کی پاکستان دشمنی
زمانہ طالب علمی میں پتا چلا کہ جیفری چاسر کو انگریزی ادب کا بابائے آدم کہا جاتا ہے۔ چونکہ وہ دن مطلق جہالت کے دن تھے، لہذا چاسر کی کینٹربری ٹیلز نے بڑا مزا دیا۔ بزرگوں کی دعاؤں کے طفیل کافی عرصہ سے انگریزی اور انگریزوں کے افکار سے دور رہنے کے بعد ادراک کے کچھ نئے پہلو آشکار ہوئے ہیں، اور شدت سے احساس ہوا ہے کہ چاسر ایک فتنہ پرور اور پاکستانی قوم کا کٹر مخالف گورا تھا جس نے ملک پاکستان کے خلاف تقریباً چھ صدیاں قبل ہی پروپیگنڈا شروع کر دیا تھا۔ ہم لوگ فضول ہی اس کی تحاریر کی آفاقیت پر سر دھنتے رہے۔
دا کینٹربری ٹیلز میں بیان کیے گئے کل کرداروں کا کم و بیش ایک تہائی مذہبی طبقہ کے کرداروں پر مشتمل ہے۔ ان کرداروں کی کرداری خاکہ کشی کرتے ہوئے جان بوجھ کر چاسر نے پاکستانی مذہبی طبقہ پر کو اپنا تختہ مشق بنایا ہے۔ کہیں وہ راہباؤں کی آڑ میں پاکستان کے شان مذہبی علما پر الزام تراشی کرتا ہے کہ یہ مذہب کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، کہیں وہ ”دی فرائر“ کو چہرہ بنا کر ان شریف النفس مساجد کے متولیوں پر طعنہ زن ہوتا ہے کہ وہ غریبوں مسکینوں کے نام پر چندہ جمع تو کرتے ہیں مگر غریبوں تک پہنچنے نہیں دیتے۔
پھر وہ اس طنز کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ہمارے پر تجلی پیران گرامی کی شان میں گستاخی راہب یا ”مونک“ کے کردار کے ذریعے کرتا ہے جو بسیار خور بھی ہے، نمود و نمائش پسند بھی اور مے نوش بھی۔ اور تو اور وہ ان تمام نیک ارواح کو بھی نہیں بخشتا جو نورانی علم سے لوگوں کا علاج کر کے عوامی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ ”خطا بخش“ یا پارڈنر کا کردار اس نے خصوصی طور پر انہی لوگوں کی کردار کشی کے لیے تشکیل دیا جو مذہبی علاج کے نام پر لوگوں سے پیسے بٹورتا ہے اور ان کے عقائد سے دنیاوی فائدے لیتا ہے۔
چاسر کی گستاخی محض مذہبی طبقہ تک محدود نہیں، وہ قوم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے عسکری طبقے کے خلاف ایک بھیانک سازش کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ وہ ”نائٹ“ کے کردار سے ہمارے عسکری اداروں کی تاریخ پر باریک واردات کے ذریعے حملہ کرتا ہے کہ بیشک ان کے عسکری میدان میں بڑے بڑے کارنامے ہیں مگر ان کی اگلی پیڑھی ”فرائر“ لا ابالی اور نادانی کا شکار ہو چکی ہے، اسے اپنی روایات سے زیادہ خواتین اور دکھاوے کی پرواہ ہے۔ اس طریقے سے وہ ہماری موجودہ جدید اور مضبوط عسکری صلاحیت کو کمتر ثابت کرنا چاہتا ہے کیوں کہ پاکستانی نائٹس کے ولی عہد تو بہر صورت بہت قابل ہیں اور دشمن کو بھگا بھگا یا پکڑ پکڑ کر مارنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔
چاسر جیسا بد تمیز انسان انگریزوں جیسی جاہل قوم کا ہی ادبی باپ ہو سکتا ہے، کیوں کہ اس نے تو اپنی شیطانی تحریر میں پاکستان کے معصوم تاجروں کو بھی نہیں بخشا جن کے دم سے ہمارے ملک کی معیشت رواں دواں ہے۔ وہ تاجروں کو ملک معظم میں معصوم ثابت کرتا ہے، اور سیاستدانوں کو باتھ قصبے کی ایسی طرح دار بیگم سے استعارہ کرتا ہے جو زیارات کے ساتھ ساتھ نت نئے مردوں کی بھی دل دادہ ہے، وہ جس سے بھی شادی رچاتی ہے اس کی دولت کو ہتھیا لیتی ہے۔ پھر وہ ملک کے پڑھے لکھے طبقوں وکلا، دفتری منتظمین اور دانش مندوں پر اپنے کردار ”منتظم رسد“ یا مینسپل کے ذریعے کاری ضرب لگاتا ہے کہ اگر چہ وہ جاہل مطلق ہے، مگر تیس قانون دانوں سے وہ سیانا ہے جو اس کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔
چاسر نے چودھویں صدی عیسوی میں ”دی کینٹربری ٹیلز“ لکھتے ہوئے پاکستانی عوام پر جو طنز کیا ہے، اس کی قومی سطح پر مذمت کرنا اب وقت کی ضرورت ہے۔ چاسر نے کینٹربری ٹیلز میں زائرین کا شخصی خاکہ لکھتے ہوئے جس طرح ہمارے ملک معظم کے مختلف طبقات کو مضحکہ خیز انداز میں تمثیل کیا ہے، وہ ہماری قومی اہانت ہے جس کی تکلیف ہر پاکستانی کو محسوس کو محسوس ہونی چاہیے اور اس بات کا اہتمام ہونا چاہیے کہ نسیم حجازی کے جہادی قصوں کو محترمہ میرا صاحبہ سے انگریزی میں ترجمہ کروا کر کینٹربری ٹیلز جیسی گمراہ کن تحاریر سے بدل دیا جائے تا کہ ہماری آنے والی نسلیں ہمارے اصل سے واقفیت حاصل کر سکیں۔


