چیت کے دکھ کون گن سکتا ہے؟


غالب اچھے رہے، سیدھے سیدھے بتا دیا کہ دل نہیں ورنہ دکھاتا تجھ کو داغوں کی بہار نیز یہ کہ چراغاں کا اہتمام بے معنی ہو چکا کیونکہ کارفرما جل چکا ہے۔ یہ خبر لاہور کی شہری انتظامیہ کو نہیں پہنچی، برسوں سے ان مہینوں میں جشن بہاراں کے عنوان سے جیل روڈ کے ایک پارک نما باغ میں چند اجاڑ دکانیں اور ذوق سے عاری آرائشی نمونے کھڑے کر دیے جاتے ہیں جن میں خوشی کی کم مائیگی یوں بے لباس ہوتی ہے جیسے غریب کی بیٹی ایک جھگی سے دوسرے جھلنگے تک رخصت کی جاتی ہے۔ کیوں نہ ہو، یہ پارک جس شخص کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، گزشتہ صدی کے دو عشروں پر اس کی خون آشام دراز دستی کے نشان ابھی مٹے نہیں۔ کچھ فاصلے پر مال روڈ کا عوامی ٹکڑا جہاں صاحب لوگوں کے کاشانوں سے جا ملتا ہے، وہاں کچھ جلتی بجھتی روشنیاں آویزاں کر دی جاتی ہیں، نہر کے رکے ہوئے گدلے پانی میں چند بد رنگ کشتیاں ڈال دی جاتی ہیں۔ دفتری کاغذوں میں بہار کا یہ کرشمہ یوں درج ہو جاتا ہے کہ بلھے شاہ اپنا بسنتی چولا سمیٹے، زیر لب بڑبڑاتا کسی نامعلوم سمت نکل جاتا ہے۔ اس کی تلخی بے جا نہیں۔ اس نے تو کہا تھا، ”آ سجن گل لگ اساڈے ’۔ اس نے اندر کی آنکھ سے محمد انور خالد کا مصرع پڑھ لیا تھا،“ اس سے پہلے مگر اک رسم ملاقات بھی ہے۔ ”سو بلھے شاہ دوست کے ساتھ بیٹھ کر پچھلی چیت رتوں کی رائیگانی کا حساب کرنا چاہتا تھا،“ آ مل یار سار لے میری، میری جان دکھاں نے گھیری ”۔ بلھے شاہ اٹھارہویں صدی کا شاعر تھا، اس سے ایک صدی بعد مٹھن کوٹ میں غلام فرید کا ظہور ہوا جو دکھوں کی اپیل کرنا چاہتا تھا۔ ایک اور صدی گزر گئی۔ بیسویں صدی میں ساندل بار میں پیدا ہونے والے مجید امجد نے لکھا،“ کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد ”۔ ٹی ایس ایلیٹ نے جب لکھا تھا ’April is the cruelest month ‘ ، تو اس کا دکھ فطرت میں سبز اور زرد رتوں کے ناگزیر دائرے کا احاطہ کرتا تھا۔ ٹھیک اسی زمانے میں لاطینی امریکا کے مغربی ساحلوں پر ایک چھوٹے سے ملک چلی میں نوجوان پابلو نیرودا قلم بند کر رہا تھا،“?I want to do with you what spring does with the cherry trees”اور اس کی امید اس کے عزم سے بندھی تھی۔ وہ کہتا تھا“I shall water your subterranean hopes ”۔ انسان دنیا کے کسی خطے میں دکھ سے آزاد نہیں ہے۔ تاریخ کا کوئی منطقہ ظلم سے خالی نہیں لیکن ان دکھوں کا مداوا تو کیا جا سکتا ہے جو لادوا نہ ہوں۔ اور ان آنسوﺅں سے کیسے سمجھوتہ کیا جائے جو معصوم پلکوں پر اس لئے اترتے ہیں کہ کسی اسلحے کے تاجر کی تجوری ڈالروں سے مونہا منہ بھر جائے۔ کسی آمر کی سطوت کا دورانیہ پھیلتا ہی چلا جائے، کسی خانقاہ میں نیم دراز مجسم جہالت کی پاکی داماں کی حکایت دراز تر ہو جائے۔

ہم نے بھی اپنے ملک میں اپریل، بہار اور چیت کی اس رت کے بہت سے ناز اٹھائے لیکن ہماری تقویم میں ہر شاخ تازہ سے پھوٹتے شگوفے سے ایک کلہاڑی لٹک رہی ہے۔ 4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کو عدالت کے ذریعے قتل کیا گیا۔ ہم نے دس اپریل 1986 کو لاہور میں بے نظیر بھٹو کا استقبال کر کے اپنا فیصلہ دینا چاہا مگر بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو قتل کر دیا گیا۔ ہم نے 8 اپریل 2010 کو آمروں کے ہاتھوں دستور پر لگنے والی کالک اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے دھونا چاہی۔ 19 اپریل 2010 کو ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک منتخب صدر نے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو واپس سونپ کر جمہوریت کا پارلیمانی تشخص بحال کیا مگر ہم پر میمو گیٹ، لندن پلان اور ڈان لیکس مسلط کیے گئے۔ ہم نے اپریل 2022 ءمیں برسوں کی محنت سے گھڑا گیا ریت کا قلعہ گرانا چاہا مگر ہم پر ان ہی قوتوں سے گٹھ جوڑ کا الزام لگایا گیا جنہوں نے ربع صدی کی سازش سے جمہوری قوتوں کی فصیل میں نقب لگائی تھی۔ اس برس پہلی مرتبہ بھٹو کی برسی اس رنگ سے آئی ہے کہ عدالت عظمی نے اس مقدمے میں ذوالفقار علی بھٹو سے نا انصافی کا اقرار کر لیا ہے۔ تس پر بھی کچھ ہم وطن اس مقدمے کے قانونی نکات گنوانے میں کالم رقم فرما رہے ہیں، یہ نہیں بتاتے کہ جب ملک پر غیرآئینی بندوبست مسلط ہو جاتا ہے تو حرف قانون اور عدالت بے معنی ہو جاتے ہیں۔ جب اعلیٰ ترین قانون ہی کھڑکی سے باہر اچھال دیا گیا تو آپ ’اعانت جرم‘ کے شواہد کی سنگینی بیان فرما رہے ہیں نیز مولوی مشتاق کی انصاف پروری کے ثبوت میں بار بار ایوب خان اور نواب کالاباغ کی خشونت کا حوالہ دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اگر مولوی مشتاق کالاباغ جیسے سخت گیر حاکم کی پروا کیے بغیر بھٹو صاحب کی ضمانت منظور کر سکتے تھے تو انہیں محمد احمد خان قتل کیس میں کیسے دباﺅ میں لایا جا سکتا تھا؟ میرے عالی مقام مورخ کا حق تاریخ نویسی تسلیم مگر ترتیب تقویمی کا مردہ تو خراب نہیں کرنا چاہیے۔

نواب امیر محمد کالاباغ 18 ستمبر 1966 کو مغربی پاکستان کے گورنر کے عہدے سے ہٹائے گئے تھے۔ 26 نومبر 1967 کو ان کے اپنے بیٹے نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ پیپلز پارٹی کی بنیاد 30 نومبر 1967 کو رکھی گئی اور بھٹو صاحب 13 نومبر 1968 کو لاہور سے گرفتار کیے گئے تھے۔ انہوں نے مولوی مشتاق کی عدالت میں اپنا بیان حلفی 5 فروری 1969 کو داخل کیا۔ فروری 1968 میں ایوب خان کو دوران علالت ایک ہفتے تک نظر بند کر کے یحییٰ خانی ٹولہ اپنے عزائم واضح کر چکا تھا اور نومبر 1968 تک یحییٰ خان، جنرل حمید خان اور ایس ایس پیرزادہ فوج کی JAG برانچ کے سربراہ بریگیڈیئر قاضی کے ذریعے ایوب خان کو اقتدار سے دست بردار ہونے کا پیغام پہنچا چکے تھے۔ کالاباغ اور ایوب خان کا وقت گزر چکا تھا۔ فروری 1969 میں تو مولوی مشتاق محض اپنی آئندہ ترقی کی آبیاری کر رہے تھے۔ ان کے ذاتی عناد کی گواہی تو ان کے حامی بھی دیتے ہیں۔ باغ عدل کا نازک گوشہ چمن تپش، لو اور حبس برداشت نہیں کر سکتا۔ کبھی موقع ملا تو آپ کو 24 نومبر 1917 کو امریکی ریاست وسکانسن کے ایک ریلوے سٹیشن پر بم دھماکے کی عدالتی کارروائی میں تعصب کا حال سنائیں گے۔ ابھی تو چیت کے دکھ شمار کرنے کا وقت ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments