گابرئیل گارسیا مارکیز کے گمشدہ ناول کی کہانی


کسی بڑے مصنف کی بعد از مرگ شائع ہونے والی کتاب کی کشش سے انکار نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً تب جب وہ طرح طرح کی قیاس آرائیوں کا شکار ہو چکی ہو۔ ایسی کتابیں کبھی کبھی نہایت شاندار بھی ہو سکتی ہیں۔ اس ضمن میں شاید سب سے مشہور مثال فرانز کافکا کی ہے، جس کے ایگزیکٹو نے اس کی اس ہدایت کو نظر انداز کر دیا تھا کہ اس کی موت کے بعد اس کے تمام غیر مطبوعہ مسودات تلف کر دیے جائیں۔ اگر اس نے کافکا کی ہدایت پر عمل کیا ہوتا تو اس کے مداحوں کو اس کی آخری دو کتابیں کبھی پڑھنے کو نہ ملتیں جن میں سے ایک اس کا بے مثال ناول ”دی ٹرائل“ تھا۔ اسی طرح آئرش ادیب جان لی کیری نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ اس کے مرنے کے بعد پیچھے رہ جانے والے کسی بھی نامکمل کام کو تلف کر دیا جائے۔ لیکن نوجوان کارنویل نے ”سلور ویو“ کے عنوان سے اس کا ناول شائع کر دیا۔

بعد از مرگ شائع ہونے والے ناول اکثر متنازعہ ہوتے ہیں۔ بعض دفع یہ محض ٹوٹی پھوٹی تحریریں ہوتی ہیں اور کبھی کبھی نامکمل مسودات۔ چارلس ڈکنز کا آخری ناول ”دی مسٹری آف ایڈون ڈروڈ“ اسی زمرے میں آتا ہے۔ 1870 ء میں جب ڈکنز کا انتقال ہوا تو اس نے بارہ میں سے چھ ابواب مکمل کر لیے تھے اور ان پر مکمل نظر ثانی کر چکے تھے۔ متنازعہ ہونے کے سبب غیر مطبوعہ رہ جانے والے ناولوں کا ذکر آئے تو ای ایم فوسٹر کی یاد آتی ہے۔

فوسٹر نے 1914 میں ہم جنس پرستوں کی محبت کے بارے میں ایک ناول ”مورس“ لکھا۔ اس ناول پر انھوں نے اطمینان بھر نظر ثانی بھی کی، لیکن پھر اسے شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس وقت ہم جنس پرستی کے خلاف رویوں کی وجہ سے قانونی نتائج سے خوفزدہ تھے۔ یہ ناول ان کی وفات کے ایک سال بعد 1971 میں شائع ہوا تھا۔ پھر ایسے ناول بھی ہیں جو مکمل ہو چکے تھے لیکن ان پر نظر ثانی نہ کی گئی۔ مسودہ مکمل تھا، لیکن مصنف کی جانب سے ترمیم و اضافے کی ضرورت باقی تھی۔

مثال کے طور پر برطانوی مصنف جے آر آرٹولکین کی کتاب ”دی سلماریلیون“ جسے ٹولکین نے قابلِ اشاعت نہیں جانا اور اس کے بجائے اس نے ”دی لارڈ آف دی رنگز“ پر کام کرنا پسند کیا۔ لیکن ٹولکین کی وفات کے چار سال بعد اس کے بیٹے کرسٹوفر ٹولکین نے اس پر نظر ثانی کی اور اس کی تدوین کر کے اسے شائع کر دیا۔ ایسی مثالیں ہمیں اپنے ادب میں بھی ملتی ہیں۔ مثلاً صلاح الدین عادل کا ناول ”خوشبو کی ہجرت“ جو مصنف نے 1954 میں لکھنا شروع کیا اور 1974 میں اسے مکمل کر لینے کے باوجود اس سے مطمئن نہ ہوئے اور 2000 میں اپنی وفات تک اس میں مسلسل ترمیم و اضافے کرتے رہے۔ بعد ازاں ان کے دوستوں نے 2008 میں اس ناول کو شائع کیا۔ ناصر کاظمی کی غزلوں کے مجموعے ”پہلی بارش“ کی اشاعت بھی ان کے انتقال کے بعد 1975 میں ہوئی کیونکہ زندگی میں اس کتاب کے متعلق ناصر کاظمی کا خیال تھا کہ لوگ ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔

کولمبیا کے عالمی شہرت یافتہ اور نوبل انعام یافتہ ادیب گابرئیل گارسیا مارکیز کے آخری ناول ”ملتے ہیں اگست میں“ کا شمار بھی ایسے ناولوں میں ہوتا ہے جس کی اشاعت برسوں بعد ممکن ہو سکی اور جسے گمشدہ ناول تصوّر کیا گیا۔ اگرچہ یہ مکمل ناول ہے لیکن چونکہ مارکیز اپنے اطمینان کے مطابق اس پر مکمل نظر ثانی کرنے کے قابل نہیں تھے اس لیے اسے کامل نہیں کہا جاسکتا۔ اس ناول کی تدوین کرسٹوبل پیرا نے کی، جنھوں نے مارکیز کی سوانح عمری ”کہانی سنانے کے لیے زندہ رہنا“ کی بھی تدوین کی تھی۔ اس ناول کا شائع شدہ متن مارکیز کے پانچویں اور آخری مسودے پر مبنی ہے، جس میں پچھلے مسودوں کے بعض حصّے شامل کیے گئے ہیں۔

گابرئیل گارسیا مارکیز نے، جنھیں پیار سے ”گابو“ کے نام سے جانا جاتا ہے، اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ایک صحافی کے طور پر کیا تھا، لیکن شہرت انھیں ادیب کے طور پر ملی اور وہ اپنے ناولوں اور افسانوں کے حوالے سے دنیا بھر میں جانے گئے۔ ان کے فکشن نے انھیں 1982 میں ادب کا نوبل انعام دلایا۔ انھوں نے 1960 کی دہائی کے آخر میں لاطینی امریکی ادب میں نمایاں ہو کر اس انداز کو مقبول بنایا جسے ”جادوئی حقیقت نگاری“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کے اس انداز سے دنیا بھر میں بہت سے ادیب متاثر ہوئے۔ ان کے ناول ”تنہائی کے سو سال“ کی تین کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور اس کا 37 زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ وہ دنیا میں سب سے زیادہ ترجمہ ہونے والے ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ایک ادھیڑ عمر بیاہتا عورت کی جنسی مہم جوئی کے گرد بنا گیا یہ ناول پہلے پہل دراصل 600 سے زیادہ صفحات اور پانچ حصوں پر مشتمل کہانی کے طور پر سوچا گیا تھا۔ چھ ابواب میں سے پہلا اور شاید سب سے عمدہ باب گارسیا مارکیز نے 1999 میں ڈیمنشیا جیسی موذی بیماری میں مبتلا ہونے سے پہلے میڈرڈ میں ایک نشست میں بہ آوازِ بلند پڑھ کر سنایا تھا، اور اسی سال ہسپانوی اخبار ’ایل پیس‘ نے اسے شائع بھی کیا تھا۔ اس باب کا انگریزی ترجمہ بعد ازاں نیویارکر میں شائع ہوا۔

لیکن کچھ ابتدائی ابواب لکھنے کے بعد مارکیز نے اسے ایک طرف رکھ دیا تاکہ وہ ”اپنی سوگوار بیسواؤں کی یادیں“ مکمل کرسکیں جو ان کی زندگی میں شائع ہونے والا ان کا آخری ناول تھا۔ 2003 سے انھوں نے ”ملتے ہیں اگست میں“ پر دوبارہ کام شروع کیا۔ اور اسی برس اس ناول کا ایک اور باب منظر عام پر آیا۔ اسے کولمبیا کے ادبی رسالے ’کیمبیو‘ (جو مارکیز ہی کی ملکیت تھا) میں ایک مختصر کہانی کے طور پر شائع کیا گیا تھا جس کا عنوان ”دی نائٹ آف دی ایکلیپس“ تھا۔

اس کے بعد لمبی خاموشی چھا گئی اور برسوں تک اس ناول کا تذکرہ سننے میں نہ آیا۔ 2004 میں پانچواں ورژن مکمل کرنے کے بعد گارسیا مارکیز نے ناول پر کام روک دیا تھا اور اپنے اسسٹنٹ سے کہا تھا: ”کبھی کبھی کتابوں کو آرام کرنے کے لیے چھوڑ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔“ مدیر نے بعد میں اندازہ لگایا کہ پانچواں ورژن مصنف کا پسندیدہ تھا کیونکہ گارسیا مارکیز نے اس پر ’اوکے‘ کا ایک نوٹ لکھا تھا۔

ان کے بیٹوں کے لکھے ہوئے پیش لفظ سے پتا چلتا ہے کہ 2014 میں اپنی وفات سے پہلے، جب وہ 10 سال سے ڈیمنشیا کے مرض میں مبتلا تھے، انھوں نے اپنی فنکارانہ کاملیت اور معدوم ہوتی ہوئی ذہنی صلاحیتوں کے درمیان دوڑ لگاتے ہوئے اس ناول کا پھر سے جائزہ لیا اور اسے غیر اطمینان بخش پایا، اور اپنے بیٹوں سے کہا کہ ”یہ کتاب اچھی نہیں، اسے تلف کر دینا چاہیے۔“ ان کے بیٹوں کا موقف ہے کہ اگر ڈیمینشیا نے گارسیا مارکیز کو اپنے اطمینان کے مطابق کتاب مکمل کرنے سے معذور کر دیا تھا، تو شاید اس حالت نے ان کے لیے کتاب کی قابلیت کا اندازہ لگانا بھی مشکل بنا دیا تھا۔ ناول کو قیمتی ادبی اثاثہ سمجھتے ہوئے انھوں نے اپنے والد کی خواہش کو نظر انداز کرنے اور ”قارئین کی خوشی“ کو ترجیح دینے کے لیے اس کی اشاعت کا فیصلہ کیا۔

مارکیز ایک پرفیکشنسٹ ادیب تھے۔ وہ اپنے ناولوں پر باریک بینی سے نظر ثانی کیا کرتے تھے اور بار بار ان میں اصلاحات کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے وہ اپنے شاہکار ناول ”سردار کا زوال“ پر وہ 17 سال نظر ثانی کرتے رہے پھر اسے شائع کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بیٹے روڈ ریگو اور گونزالو گارسیا بارچا ”ملتے ہیں اگست میں“ کی اشاعت کے حوالے سے بے چینی محسوس کر رہے تھے۔ تاہم، انھوں نے ناول کے دیباچے میں اس بات کی اہمیت کا ذکر کیا کہ ”ملتے ہیں اگست میں“ ان کے والد کی ”تخلیق جاری رکھنے کی آخری کوشش“ تھی۔

یہ اگست 2023 کی بات ہے جب پینگوئن رینڈم ہاؤس نے ناول کی موجودگی اور 2024 میں اس کی اشاعت کی نوید سنائی۔ متذکرہ دو ابواب کے ساتھ ان چند ابواب کو جوڑ کر، جن کے کئی ورژن مارکیز نے لکھ رکھے تھے لیکن جو عوامی سطح پر منظر عام پر نہیں آئے تھے، ”ملتے ہیں اگست میں“ کو مکمل کر کے شائع کیا جا رہا تھا۔ یوں یہ ناول ہسپانوی زبان میں عین مارکیز کی سالگرہ کے موقع پر 6 مارچ کو شائع ہوا اور اس کا انگریزی ترجمہ 12 مارچ کو سامنے آیا۔ اور اب اس ناول کا اردو ترجمہ 17 اپریل کو مارکیز کی دسویں برسی کے موقع پر شائع ہو رہا ہے۔ یہ ایک طرح سے دنیا کے محبوب ترین مصنفوں میں سے ایک گاریسا مارکیز کے فن کو خراج عقیدت ہے اور ساتھ ہی ساتھ مارکیز کے اردو قارئین کے لیے ایک تحفہ بھی۔

یہ ایک مختصر ناول ہے۔ شاید اسے ناولا کہنا زیادہ مناسب ہو۔ قریباً 100 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے جو مرکزی کردار اینا مگدالینا باخ کے گرد بُنے گئے ہیں۔ اینا مگدالینا 46 سال کی ایک ادھیڑ عمر شادی شدہ عورت ہے۔ مارکیز نے اس کردار کا نام ’جوہان سیبسچین باخ‘ کی دوسری بیوی کے نام پر رکھا گیا ہے اور، اپنی ہم نام کی طرح، اس نے بھی ایک موسیقار سے شادی کی ہے۔ اینا کا 54 سالہ شوہر ڈومینیکو اماریس مقامی کنزرویٹری میں ڈائریکٹر ہے۔ کہانی کے آغاز سے آٹھ سال پہلے اینا مگدالینا کی ماں کا انتقال ہو چکا ہے۔ اسے اس کی آخری خواہش کے مطابق اینا کے شہر سے دو ربحیرہ کیریبین کے ایک پسماندہ جزیرے پر دفن کیا گیا ہے۔ ہر سال 16 اگست کو اپنی ماں کی برسی کے موقع پر اینا مگدالینا اس کی قبر پر پھول چڑھانے کے لیے ایک روزہ سفر کا آغاز کرتی ہے۔

ایسے ہی ایک سفر کے دوران، جب وہ اپنی ماں کی قبر پر پھول چڑھا کر فارغ بیٹھی ہے اور اگلی صبح تک اس کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہے، وہ جزیرے پر ہوٹل کے بار میں ایک چاندی رنگ کے بالوں والے اجنبی سے ملتی ہے اور زندگی میں پہلی بار جنسی مہم جوئی کو آزمانے کے لیے اسے اپنے کمرے میں مدعو کر لیتی ہے، اُسے اس میں، مارکیز کے الفاظ میں ایک ”سنسنی خیز اضطراب“ محسوس ہوتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے جب وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی مرد کے ساتھ سونے والی ہے۔

وہ آدمی ایک ”عمدہ عاشق“ ثابت ہوتا ہے، اور وہ دونوں وصل کی اس رات کا بے حد پُرلطف اور پرجوش تجربہ کرتے ہیں۔ لیکن رات کی یہ سہانی یاد اس وقت ہمیشہ کے لیے غارت ہو جاتی ہے جب اگلی صبح وہ اُٹھ کر دیکھتی ہے کہ وہ شخص نہ صرف اسے الوداع کہے بغیر رخصت ہو چکا ہے بلکہ جاتے ہوئے بستر کی پاس میز پر رکھی کتاب میں اس کے لیے 20 ڈالر کا ایک نوٹ بھی رکھ گیا ہے۔

اس موقع پر قاری یہ تصوّر کرتا ہے کہ ناول کہ کہانی شاید اس ذلت آمیز واقعے اور اینا مگدالینا کے اس شخص کے تعلق کے حوالے سے آگے چلے گی، جس میں اس نے سچی محبت تلاش کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس کے برعکس یہ واقعہ اینا کو دوسری طرح بدل کر رکھ دیتا ہے۔ اس پہلی ملاقات کے بعد ، اینا مگدالینا ہر سال 16 اگست کو جزیرے پر بستر کے لیے ایک نیا ساتھی تلاش کرنے لگتی ہے۔ لیکن اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ ناول عورت کی جنسی آزادی کے بارے میں ہے۔

مارکیز واضح کر دیتے ہیں کہ تقریباً تین دہائیوں تک ایک ساتھ رہنے کے باوجود اینا مگدالینا اور ان کے شوہر کی شادی اب بھی مضبوط اور جذباتی طور پر بھرپور تھی۔ ان کی جنسی زندگی بھی پرجوش تھی جسے وہ ہردم تازہ رکھنے کا جتن کرتے رہتے تھے۔ یوں ایک ادھیڑ عمر بیاہتا عورت کی جنسی مہم جوئی کو موضوع بنا کر مارکیز انسانی نفسیات کی گتھیاں سلجھاتے چلے جاتے ہیں۔

”ملتے ہیں اگست میں“ مارکیز کے شاہکار ناولوں کی طرح کسی کسی مقام پر ہمیں ماسٹر اسٹائلسٹ کی جھلکیاں بھی دکھاتا ہے، مثلاً وہ آخری منظر، جہاں اینا اپنی ماں کی باقیات کو اکٹھا کر رہی ہے :

”اسے نہ صرف وہ ویسی ہی غمگین نظر آئی جیسی وہ زندگی میں تھی بلکہ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ موت کے بعد اسے دیکھ رہی ہے، اس کے لیے پیار اور غم محسوس کر رہی ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ اس کا جسم خاک میں مل چکا تھا، صرف ایک ڈھانچہ تھا جو بوسیدہ حالت میں رہ گیا تھا۔ قبر کھودنے والوں نے ایک جھاڑو کے ساتھ ہڈیاں تابوت سے نکالیں اور انہیں بغیر کسی احساس کے ایک بوری میں ڈال دیا۔“

قصّے کا بیان دلفریب ہے، پلاٹ چست ہے۔ کہانی کے کردار پیچیدہ، متضاد اور دلچسپ ہیں۔ اس سب پر مستزاد مارکیز کی شاعرانہ نثر ہے۔ مثلاً اینا مگدالینا کی پہلی رات کی واردات سے پہلے کا یہ اقتباس:

”دوسرے گلاس کے بعد اسے محسوس ہوا کہ برانڈی اس کے دل کے کسی گوشے میں جن سے مل گئی ہے، اور اسے اب ذرا توجہ مرکوز کرنا ہوگی تاکہ چکر نہ آئیں۔ موسیقی گیارہ بجے ختم ہو چکی تھی اور بینڈ اب صرف ان کے رخصت ہونے کا انتظار کر رہا تھا تاکہ وہ بھی جا سکے۔ اب تک وہ اسے اس طرح سے جاننے لگی تھی جیسے وہ ہمیشہ سے اس کے ساتھ رہتی آئی ہو۔ وہ جانتی تھی کہ وہ صاف ستھرا ہے، نفیس لباس پہنے ہوئے ہے، اس کے ہاتھ اگرچہ کشش سے عاری تھے تاہم اس کے ناخنوں میں قدرتی چمک تھی اور وہ اچھے دل کا مالک تھا لیکن ڈرپوک تھا۔“

”ملتے ہیں اگست میں“ جادوئی حقیقت نگاری پر مبنی ناول نہیں ہے، لہٰذا اس کا مقابلہ ”پتّوں کا طوفان“ یا ”ایک پیش گفتہ موت کی روداد“ سے کرنا زیادتی ہوگی۔ یہ وہ شاہکار ہیں جو مارکیز کی تخلیقی قوّت کے عروج پر لکھے گئے تھے۔ تاہم، ”ملتے ہیں اگست میں“ ایک دلکش کتاب ہے، اور ان چیلنجوں کا ثبوت ہے جن پر مارکیز اس وقت قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے جب انھوں نے اسے لکھا تھا۔ کتابیں خلا میں موجود نہیں ہوتیں، وہ ان حالات کی پیداوار ہوتی ہیں جن میں وہ لکھی جاتی ہیں۔

1991 کی نوبل انعام یافتہ ادیبہ نادین گورڈیمر نے اپنے نوبل لیکچر میں لکھنے سے مارکیز کی سیاسی وابستگی کا ذکر کیا ہے۔ اس نے اپنے خیالات کا خلاصہ ایک جملے میں پیش کیا تھا: ”ایک مصنف کا فرض، اگر آپ چاہیں تو اسے اس کا انقلابی فرض بھی کہہ سکتے ہیں، یہ ہوتا ہے کہ وہ لکھتا رہے۔“ ادیب کا کام لکھنا ہے، وہ جنگ کا سامنا کرتے ہوئے لکھتا ہے، بیماری کا سامنا کرتے ہوئے لکھتا ہے۔ مارکیز نے بھی یہی کیا۔ ”ملتے ہیں اگست میں“ مشکلات کے خلاف اس محنت کا ثمر ہے، جو مارکیز کی محبت اور ادب سے وابستگی کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

 

Facebook Comments HS