مصنوعی طریقے سے مادہ منویہ کا اخراج کیسے ممکن ہے؟


مضحکہ خیزیوں اور بے پر کی اڑانے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں بلکہ بین الاقوامی سازشوں کا کھرا نکالنے میں بھی دنیا بھر میں ہم سا کوئی نہیں ہے۔

ہم ہمیشہ سے اس زعم کا شکار رہے ہیں کہ دنیا ہر وقت ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہے اور ہمارے ترقی کے راستوں پر روڑے اٹکائے رکھتی ہے۔

جبکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اپنی بیوقوفیوں کی بدولت دنیا والوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہم پر جتنا چاہیں جی بھر کے ہنس لیں۔

ایسی قوم کی کوئی کیا فکر یا پرواہ کرے گا جن کا پسندیدہ ترین مشغلہ ہی آپس میں دست و گریباں رہنا اور ہر وقت ”سازش سازش یا کافر کافر“ کھیلنا ہو؟

ایسی قوم کے خلاف کسی نے بھلا کیا سازش کرنی ہے جن کا مذہب ان کے اپنوں کے بیچ ازل سے خطرے میں ہو؟

جہاں مذہبی پریکٹسنگ کی شرح نا ہونے کے برابر ہو اور مقدس مقامات سوائے خاص موقعوں کے باقی دنوں میں بالکل ویران رہیں؟

لیکن اگر کوئی صرف اتنا کہہ دے کہ فلاں نے گستاخی کر دی ہے تو بغیر کوئی غور و فکر کا تردد کیے فوری اس بندے پر چڑھ دوڑیں گے۔

جہاں اس قدر ٹاکسک اور پرتشدد رویے ہوں اس قسم کے ہجوم کو سنجیدگی سے بھلا کون لیتا ہے؟
اور کون ایسوں کے خلاف سازش کرنے کا خطرہ مول لے سکتا ہے؟

وہ تو خود ہی ایک دوسرے کو ختم کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔ اتنی لمبی تمہید کے پیچھے ایک وکیل صاحب کی گفتگو ہے جو انہوں نے سوشل میڈیا پر بڑے دھڑلے سے کی ہے۔

حال ہی میں مولانا ابوبکر معاویہ جن پر ابتدائی ایف آئی آر کے مطابق ایک 12 سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کرنے کا الزام ہے، کے کیس کی پیروی کرنے والے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ

”مولانا کو اغوا کر کے تھانے لایا گیا، انہیں نشہ آور چیزیں کھلائی گئیں اور پھر آرٹیفیشل طریقے سے ان کے سپرم نکلوائے گئے تاکہ ثبوت مہیا ہو سکے اور پھر پولیس نے مولانا کے سپرم ان کے کپڑوں پر لگانے کے علاوہ بچے کے کپڑوں پر بھی لگا دیے تاکہ ان کے خلاف زیادتی کی ایک کہانی بنائی جا سکے“

آخر میں محترم وکیل صاحب نے پنجاب اسمبلی کے سامنے چوک میں تفتیش کا مطالبہ کر دیا اور ساتھ ہی لبرل آنٹیوں کو موم بتی مافیا کہتے ہوئے رگید ڈالا۔

ان کا موقف تھا کہ اگر موم بتی مافیا کے بہکاوے میں آ کر آپ ایک عالم دین کی تذلیل کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کی مرضی ہے۔

اب سمجھ سے باہر ہے کہ یہاں لبرل آنٹیاں یا موم بتی مافیا کا تذکرہ کہاں سے آ گیا؟

جنسی زیادتی کے الزام کا ایک کیس ہے جسے قانون کے تقاضوں کے عین مطابق چلنا چاہیے، انکوائری، تفتیش، گواہان اور جانچ پڑتال کے بعد جس پر بھی جرم ثابت ہو جائے اسے سزا ملنی چاہیے اور اگر مولانا معصوم ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں باعزت رہائی ملنی چاہیے۔ اب یہ کہنا کہ یہ کوئی مولانا کے خلاف سازش ہے۔

کیوں بھئی کیا مولانا کوئی سائنس دان ہیں یا کوئی ایسی شخصیت ہیں جن کا دنیا بھر میں کوئی نعم البدل نہیں؟ یا دنیا بھر میں اپنے کسی خاص کارنامے کی وجہ سے مشہور ہیں اور دنیا ان کے پیچھے ہاتھ دھو کے لگی ہو تاکہ انہیں بدنام کر کے رسوا کیا جائے؟

اس قسم کی منطق کا کیا جواز ہو سکتا ہے کہ اس ساری سازش کے پیچھے لبرل مافیا ہے؟ مصنوعی طریقے سے مادہ منویہ نکلوایا گیا اور نشہ اور چیزیں کھلائی گئیں وغیرہ وغیرہ؟

اس قسم کی مضحکہ خیزیوں اور عجیب طرح کے پروپیگنڈے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟
کتنے زبردست ٹیلنٹ کی طرف توجہ دلائی
اخے آرٹیفیشل طریقے سے مادہ منویہ نکالا گیا۔
بھائی کیسے؟
کیا ایسا ممکن ہے اور اس حد تک چلے جانا؟

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر تگ و دو کا کیا مقصد اور پولیس اس سخت قسم کی مشقت سے آ خر حاصل کیا کرنا چاہتی تھی؟

جو کچھ بچے کے والد نے سوشل میڈیا پر مولانا کے متعلق کہا کیا وہ سب غلط ہے؟

اگر والد کا واقعہ کے بعد والا بیان غلط ہے تو پھر ابتسام الہٰی کی مداخلت کے بعد بچے کا والد علما کے مجمع میں یہ کیوں کہہ رہا ہے کہ

”اس نے مولانا کو اللہ کی رضا اور علما کی محبت میں معاف کر دیا ہے“

اگر مولانا کو نشہ آور چیزیں کھلانے کے بعد آرٹیفیشل طریقے سے یہ سارا بندوبست کیا گیا ہے تو پھر یہ بھی تسلیم کرنے میں کیا حرج ہے کہ ہو سکتا ہے بچے کے والد کو بھی نشہ آور چیزیں دیے کر پہلا اور دوسرا بیان دلوایا گیا ہو؟

کل کلاں کو کوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے نا کہ بچے کا والد بھی لبرل آنٹیوں یا موم بتی مافیا سے ملا ہوا تھا کون جانے؟

لاہور والے مولانا عبدالعزیز جن کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی انہوں نے بھی تو بعد میں یہی موقف اختیار کیا تھا نا! کہ انہیں نشہ آور چیزیں کھلا کے ویڈیو بنائی گئی تھی، حالانکہ بعد میں ان کا جرم ثابت بھی ہو گیا تھا۔ لیکن ہمیں حیرت ہوتی ہے اپنے بڑے بڑے معزز علما کرام پر جو کبھی بھی اس قسم کی جنسی زیادتیوں کے بڑھتے ہوئے کیسز اور رجحانات پر لب کشائی نہیں فرماتے بلکہ خاموشی سے پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے علما کرام عوام کو نان ایشوز میں الجھائے رکھنے کا ہنر تو خوب جانتے ہیں۔

میں ڈھونڈتا رہا کہ کاش کوئی ایسی ویڈیو مل جائے جس میں مولانا تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمان، مولانا طارق جمیل یا مفتی طارق مسعود ایسے چوٹی کے عالم لواطت پرستی یا چھوٹے بچوں کے ساتھ مدارس میں ہونے والی جنسی زیادتیوں پر لب کشائی فرما رہے ہوں اور اس قسم کے مکروہ و نجس رجحانات کے روک تھام کے لیے کوئی لائحہ عمل تشکیل دینے کا اعلان کر رہے ہوں؟

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معزز علما کرام اس طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔
بھائی یہ ہمارے بچے ہیں نا! ان کے تھوڑے ہیں، یہ بھلا لب کشائی کا تکلف کیوں کریں گے؟ یہ مدارس کے اندرونی کلچر کو بخوبی جانتے ہیں اور انہیں بڑے اچھے سے پتا ہے کہ اس قسم کے مکروہ رجحانات بڑی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں لیکن ان کی خاموشی پر حیرت ہوتی ہے۔

جنسی درندے خواہ کسی بھی طبقے میں یا کہیں بھی پائے جائیں ان کے خلاف زیرو ٹالرینس ہونی چاہیے، کیونکہ یہ ہمارے بچوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔

یقین مانیں ان کا محاسبہ کرنے اور ان کو قرار واقعی سزا دینے سے نا تو مذہب کو کوئی نقصان پہنچے گا اور نا ہی مقدس ہستیوں پر کوئی آنچ آئے گی۔ کہتے ہیں سانچ کو آنچ نہیں بلکہ گندے اور نجس رجحانات میں کمی واقع ہوگی اور سماج میں نکھار آئے گا۔

ورنہ مذہب اور تقدیس کی آڑ میں یہ مکروہ سرکل یا دھندا یونہی چلتا رہے گا اور سماج کی بدصورتیاں جوں کی توں رہیں گی۔

 

Facebook Comments HS