مسلمانوں کی سماجی صورت حال: غور وفکر کے بعض پہلو


یہ صحافت کا پیشہ بھی عجیب پیشہ ہے۔ اخبار کو تو نکلنا ہے خواہ برسات ہو، اولے پڑ رہے ہوں، گرمی ہو یا پھر آندھی و طوفان۔ آپ کو ہر حال میں کچھ نہ کچھ لکھنا ہے۔ فوج کی طرح مر کے یا جی کر آپ کو اپنی ڈیوٹی انجام دینی ہی ہے۔ میں اس وقت سفر میں ہوں اور اپنے وطن رانچی سے دہلی واپس لوٹتے ہوئے یہ سوچ رہا ہوں کہ اس ہفتے کا کالم کس موضوع پر لکھا جائے۔ اس وقت میری عجیب سی ذہنی کیفیت ہے۔ میں نے جو کچھ اپنے گاؤں میں دیکھا اور محسوس کیا اس نے مجھے ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس وقت میں جس پریشانی سے گزر رہا ہوں اس کی میرے پاس کوئی دوا نہیں ؛ علاوہ اس کے کہ اپنی اس تکلیف کا اظہار قارئین سے کر کے دل ہلکا کرنے کی کوشش کروں۔

میری یہ تکلیف اور یہ بے چینی کوئی ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ وہ کینسر ہے جو ملت کو مسلسل کھائے جا رہا ہے اور ہم میں سے بہت سے لوگ اسے محسوس کرتے ہوئے بھی انجان بنے ہوئے ہیں اور دیکھتے ہوئے بھی دیکھنے سے انکاری ہیں۔ لہٰذا اس ہفتے کا موضوع مسلمانوں کا عمومی گاؤں، لوگ، ان کی سوچ، فکر، رہن سہن اور رویہ ہے۔ یوں تو اس میں بات اپنے گاؤں کے تناظر میں ہوگی لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہی رویہ تقریباً تمام مسلم علاقوں، محلوں اور دیہات و گاؤں کا ہے۔

میرا تعلق جس علاقے سے ہے، وہ علاقہ تقریباً نوے فیصد مسلم آبادی پر مشتمل ہے، اوکھلا کے جامعہ نگر، بٹلہ ہاؤس یا پھر دیوبند، سہارنپور، لکھنٔو، اعظم گڈھ یا مالیگاؤں کے مسلم علاقوں کی طرح۔ مسلمان بہت زیادہ خوش حال نہیں ہیں یعنی کنواں کھودا تو پانی پینے والی کیفیت ہے لیکن نادار اور مفلس بھی نہیں ہیں۔ تاہم ان کی مفلسی تعلیم، سوچ، قوم کی ترقی اور ملک کی تعمیر میں حصہ داری نبھانے کے معاملے میں صاف نظر آتی ہے۔ مختار مسعود کی زبان میں پوری قوم مرگ انبوہ کا شکار ہے، نہ کوئی مقصد، نہ کوئی ہدف، نہ مستقبل کے لیے کوئی خواب اور نہ کوئی منصوبہ۔

آپ جس بستی اور علاقے میں چلے جائیے آپ کو عالیشان عمارتیں دیکھنے کو ملیں گی، گاڑی، بنگلہ اور دکھاوے کی بہت ساری چیزیں نظر آئیں گی، لیکن لوگوں سے ملیے تو وہ کھوکھلے ہوں گے۔ بہت کم ایسے ہوں گے جو خوش نظر آئیں گے، ہر کوئی ایک دوسرے سے شاکی ہو گا۔ کہیں تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی کی سیاست ہوگی، کہیں اہل حدیث اور دیوبندیت کی لڑائی ہوگی تو کہیں بریلویت اور شیعیت کی بات ہو رہی ہوگی۔ بحیثیت ملت یا امت کی فکر اور بات کرنے والے کم ہی ملیں گے۔

باپ بیٹے سے نالاں تو بیٹا باپ سے، ہر گھر کی الگ الگ کہانی۔ مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد وہی پان گٹکا اور چائے خانوں میں وقت برباد کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ کسی گھر میں آپ چلے جائیے دنیا جہان کے موضوعات زیر بحث آئیں گے مگر تعلیم کے بارے میں اس طرح بات کم ہی ہوگی جیسی کہ ہونی چاہیے، کہیں ایک آئیڈیل سوسائٹی کا قیام کس طرح کیا جائے؟ وہ لوگوں کے لیے ایک مثال بن سکے اس بارے میں کم ہی لوگ بات کریں گے۔ ہر جگہ لوگ راتوں رات امیر کیسے بن جائیں اسی کے بارے میں سوچتے اور چالیں چلتے نظر آئیں گے۔ ہر جگہ زیادہ سے زیادہ مال اور وسائل اکٹھا کرنے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے اور اس چکر میں لوگوں نے حلال و حرام یا جائز ناجائز کی تمیز بھی اٹھا رکھی ہے۔

کسی مسلم آبادی کے بارے میں کریدیے تو اسی چاہ میں مسلم نوجوان ایک بڑی تعداد کی شکل میں پلمبر، ڈرائیور، مستری کی شکل میں گلف کی راہ لے چکے ہوں گے اور بہت سے اس کی تیاری میں ہوں گے، مگر جو لوگ وہاں سے واپس آ گئے وہ پھر سے اسی ماحول میں رچ بس گئے جس ماحول سے وہ گئے تھے۔

رزق میں کشادگی کی خواہش رکھنے اور اس سلسلے میں جائز معاملات تک محدود رہتے ہوئے تگ و دو کرنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن اس کے لیے ہر قاعدے، ضابطے اور قدروں کو بالائے طاق رکھ دینا دین کے احکام کی سراسر نفی ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ رجحان ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس کی مخالفت میں اٹھنے والی آوازیں بہت ہی کم ہیں۔ اور یہ آوازیں اٹھانے والوں کی کوئی قابل ذکر حیثیت بھی ہے تو الگ بات ہے ورنہ ایسے لوگوں کو بیوقوف اور غیر حقیقت پسند سمجھ کر ان کی بات سنی ان سنی کردی جاتی ہے۔

شادی بیاہ کے موقع پر جو رسمیں مسلم معاشرہ کا اٹوٹ حصہ بن چکی ہیں، ان میں نام و نمود کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لوگ سنت کی بات کرتے نظر آئیں گے لیکن جب موقع آئے گا تو رسم و رواج کے نام پر ایک دوسرے کو کیسے لوٹا جائے اس کے بارے میں سرگرم ہو جاتے ہیں۔ ریاکاری اور دکھاوے کے نام پر فضول خرچی کا سیلاب مسلم معاشرہ کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

دین سے غفلت اور کوتاہی بھی اسی طرح ہے۔ جمعہ اور عیدین میں صفیں بھری ہوئی نظر آئیں گی لیکن عام دنوں میں مسجد کی مسجد خالی نظر آئے گی۔ اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کر امؓ کے زمانے میں مسجدوں میں ہر طرح کے اجتماعی امور انجام پاتے تھے، اب تو اس کا نمونہ شاذ ہی کسی مسجد میں دیکھنے کو ملے گا۔

اسی طرح تعلیم سے آگاہی اور اس کی اہمیت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دیہات کے لوگوں میں اس کے تئیں بیداری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اچھی تعلیم کا فقدان دیہی علاقوں میں شہروں کے مقابلے زیادہ ہے۔ ان علاقوں میں غیر معیاری اساتذہ جن کی اپنی تعلیم اور تجربہ ایک سوال رکھتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی مجبوری کے تحت ہی وہ درس و تدریس سے وابستہ ہوئے ہیں۔

خود میرا اپنا مشاہدہ بیان کروں تو اس مرتبہ جہاں کہیں بھی اپنے عزیزوں اور جاننے والوں کے مختلف گھروں میں جانا ہوا، کسی نے تعلیم کے بارے میں بات نہیں کی، ہاں پوچھنے والوں نے یہ ضرور پوچھا کہ میرا فلاں بچہ اس مرتبہ میٹرک کا امتحان دے رہا ہے سوچ رہا ہوں کہ سعودیہ یا دبئی بھیج دوں، اے سی کا کام سیکھ لے گا تو زمین جگہ بیچ کر اس کو باہر بھیج دیں گے۔ روزگار سے لگ جائے گا۔ روزگار ایک کڑوی سچائی ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن تین سو ساڑھے تین سو روپے کلو گوشت روزانہ کھانے والے لوگوں میں سروے کرنے میں کوئی ڈاکٹر، کوئی انجینئر، کوئی عالم، کوئی سول سرونٹ نظر نہیں آئے گا۔

لوگوں کا ایک عمومی ذہن بنا دیا گیا ہے کہ نوکری نہیں تو تعلیم سے کیا فائدہ۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں زیادہ تر لوگ پان کی دکان، ریڑھی میں سبزی، بریانی پکوڑے، گول گپے جیسی چیزوں کی چھوٹی چھوٹی دکانیں کھول کر اسی میں مگن نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سمجھانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا۔ ہماری ملی تنظیموں اور پڑھے لکھے ذمہ دار لوگوں کو اس حوالے سے بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ سماج میں ہم بیداری کیسے لائیں گے۔ گاؤں میں مسلم قوم ان سب سے اوپر اٹھ کر کیسے سوچے گی؟

موجودہ حالات میں جب فرقہ پرستی ہر شعبے میں رچ بس چکی ہے اور مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کے خلاف دیدہ دلیری کے ساتھ امتیاز برتے جانے کی شکایات سوشل میڈیا اور کسی کسی اخبار میں آئے دن آتی رہتی ہیں، کیا ملت کے افراد نے یہ سوچ رکھا ہے کہ اسے وکیلوں، ڈاکٹروں، نرسوں اور اساتذہ کی ضرورت نہیں ہوگی؟

آخر انھیں کون بتائے گا کہ پیسہ کمانے کے بعد گھر میں کچھ پر تعیش سامان رکھ بھی لیا تو مذکورہ پیشہ وروں کی خدمات لینے سے بچا نہیں جاسکتا اور جب ضرورت پڑے گی تو پوری یا اضافی فیس کی پیش کش کے بعد بھی شاید مدد کرنے سے انکار کر دیا جائے اور اس کا مشاہدہ کئی مرتبہ کورٹ کچہری ہیں نہیں، اسپتالوں تک میں کیا گیا ہے۔

آخر اس پیسے کا کیا مصرف جو معاشرے میں عزت و وقار نہ دلا سکے۔ اس شاندار گھر اور عمدہ کار کا کیا فائدہ جس کے مالک اور مکین کو جاہل اور کم درجے کا شخص سمجھ کر معمولی پولیس والا روک کر بے عزت کردے یا ہسپتال میں اپنے عزیز کو لے جانے پر جواب ملے کہ ہم مسلمانوں کا علاج نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔ میں کوئی ڈراؤنی کہانی نہیں سنا رہا ہوں، یہ واقعات ہمارے اس وطن عزیز میں ہوچکے ہیں۔ اور 2014 کے بعد سے اس میں جو تیزی آئی ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے، ہو سکتا ہے کہ 2024 کے بعد اگر زعفرانی طاقتیں مسلسل برسر اقتدار رہیں تو یہ تمام چیزیں عام ہوجائیں گی، کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ ہم جاگ جائیں؟

مضمون کو سمیٹتے ہوئے مجھے مولانا ابوالکلام آزاد کے الفاظ یاد آرہے ہیں، جنہوں نے کہا تھا، ”تمہارے خوابوں کے سچے ہونے سے پہلے تمہیں خواب دیکھنا ہو گا“ ۔ ہمارے دیہات، ہمارے شہر اور بستیاں فوری فوائد اور مادی آسودگی کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اپنی امنگوں کو تعمیر کرنے اور احساس کو جگانے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ ہم جن چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ خواہ وہ تعلیمی محرومی ہو، سماجی تقسیم ہو یا دین سے دوری۔ تشویش ناک ضرور ہیں، لیکن اس کی بحالی ناممکن نہیں۔

انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم امید کے شعلے کو روشن کریں، اپنے آپ کو علم کے حصول کے لیے وقف کریں، اور اپنے گاؤں کو روشن خیالی اور ترقی کے مراکز کے طور پر تعمیر کرنے کے لیے کمر کس لیں۔ قوم میں سیکھنے، مکالمے اور شمولیت کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے ایکشن کی دعوت پر توجہ دیں۔ بیان بازی اور حقیقت کے درمیان، روایت اور جدیدیت کے درمیان، خواہش اور کامیابی کے درمیان فرق کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔

نبی کریم ﷺ کے الفاظ میں، ”علم کا حصول ہر مسلمان پر فرض ہے۔“ اس فرمان کو دل و جان سے قبول کریں، یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ حقیقی آزادی مادی دولت میں نہیں، بلکہ ذہن کی روشن خیالی اور روح کی افزودگی میں ہے۔ تعلیم سے دوری اختیار کرنے والی قوم کی قسمت میں غلامی لکھ دی جاتی ہے اور ہم تو اس نبی کی امت ہیں جن پر سب سے پہلے ’اقرا‘ نازل ہوئی پھر یہ افسوس کا مقام نہیں ہے کہ جنہیں پڑھنے، سمجھنے اور غور و فکر کرنے کا بار بار حکم دیا گیا ہو وہ ان چیزوں سے کوسوں دور جا رہے ہیں۔

 

Facebook Comments HS

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 182 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah