اوراق منتشر: پرانے لکھاری کی پہلی کتاب
صاحب کتاب کی تصنیفی صلاحیت سے رابطہ ایک ادبی گروپ میں ان کی شیئر کردہ کچھ تحریریں پڑھنے سے ہوا تھا۔ تب وہ مصنف کے درجے پر نہیں پہنچے تھے۔ جب یہ رتبہ ملا اور معلوم ہوا کہ جناب نے کتاب لکھی ہے تو سوچا تھا کہ ضرور خریدوں گی۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ لیکن پھر ایک دن ایک ’گوگل فارم‘ کتاب خریدنے کے لئے سامنے آ گیا۔ جس نے مجھ جیسوں کے لئے آسانی پیدا کر دی۔ فوراً سے فارم بھرنا شروع کر دیا۔ فارم آسان ہے اور آپشنز مہیا کرتا ہے جس کا یقیناً تعلق قیمت پر بھی پڑتا ہے۔ ہم نے دستخط شدہ کتاب کا تقاضا کیا جو ہفتے بعد مل گئی۔
کتاب کے مصنف ڈاکٹر عاطف ملک ہیں جو اپنے تجربات کو قلمبند کر کے سوشل میڈیا پر مختلف طریقوں سے سامنے لاتے رہتے ہیں۔ ان کی پہلی تصنیف انھی یاد داشتوں اور تجزیوں کی عکاس ہے۔ تین سو سنتالیس صفحات، اچھے کاغذ پر چھپے ہیں۔ کتاب میں موضوعات کا تنوع (عنوان اور طوالت) ، اور یہ خوبی قاری کو مزاج، وقت اور میلان کے مطابق پڑھنے کی لچک فراہم کرتی ہیں۔ پھر مصنف کا دیسی، بدیسی، تعلیمی، تدریسی، فوجی مخصوص پس منظر بھی ان کی آنکھ سے گزر کر پڑھنے والے تک پہنچتا ہے۔ جو بسا اوقات محظوظ کرتا ہے اور وقتاً فوقتاً آزردہ اور آگاہ۔
جیسے ’ڈر کہانی‘ جو سقوط ڈھاکہ اور اس سے متعلقہ مجرمانہ خاموشی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
’تین ای میلز کی کہانی‘ جو سوشل میڈیا کے ذریعے ’میچ میکنگ‘ کروانے والوں پر ایک لطیف طنز ہے۔
’پشاور جاؤ تو میرے لئے سیاہ قمیض لے کر آنا‘ جو مردان کے ایک فوجی کا کراچی میں قتل کا نوحہ ہے۔
’پرانی کوٹھی‘ ایک جذبات سے جڑی، ان دیکھی روحوں کا قصہ ہے۔
کیسے جہادی تنظیمیں جہاد کے نام پر گھروں کے چراغ بجھاتی رہی ہیں، ’مامی کے مقدر میں رونا لکھ دیا گیا ہے‘ میں پڑھ سکتے ہیں۔
اپنے ملک سے دور تہوار اور عیدیں کیسے دوسری قومیتوں کے ساتھ گزرتی اور ان کیفیات سے انسان کیا مثبت سیکھتا ہے، ’عید کی تصویر‘ میں معلوم ہوتا ہے۔
’ماں جی‘ اور ’کیا مائیں بھی مر جاتی ہیں‘ ایک دوسرے سے منسلک اور مصنف کی اپنی والدہ سے محبت کا نذرانہ ہیں۔ یہ خاکہ ان کے شخصی پہلووں، صلاحیتوں، رویوں اور مہارتوں کا احاطہ کرتا ہے۔
’ابو آپ نہ روئیں‘ بھی باپ، بیٹی کے رشتے سے جڑے نازک احساسات اور آپ بیتی کا قصہ ہے۔
اور ’لاہور جم خانہ میں ایک سرد رات کا کھانا‘ ایک گہرا طنز ہے اس طرح کی سبھی انتظامیہ کی طرف جہاں انسان کے لئے قوانین بھی خاصے سرد ہیں۔ جہاں ارکان اور صارفین سے زیادہ کاغذ کے نام نہاد، انگریزوں کے وضع کردہ اصولوں سے زیادہ اہم ہیں۔
کتاب میں کل ملا کے تقریباً ستر چھوٹی بڑی نگارشات ہیں۔ سبھی پر بات تو یہاں ممکن نہیں۔ لیکن مجھے مندرجہ بالا تحریریں اس کا تاج لگیں۔ مختصر یہ کہ کبھی موڈ ہو، کچھ نیا پڑھنا چاہتے ہوں، کسی نئے مصنف کو آزمانے کا ارادہ ہو تو اسے اپنی الماری میں جگہ دیں۔ نہ جیب پر بھاری پڑے گی نہ دماغ پر۔ یونہی چلتے چلتے کسی احساس کو چھیڑ دے گی۔ کسی اور ملک کا منظر دکھا دے گی۔ کسی تلخ حقیقت کو عیاں کر دے گی۔ علاوہ ازیں طباعت کی غلطیاں بھی نسبتاً کافی کم ملیں گی جو عموماً پہلے ایڈیشن کا خاصا ہوتی ہیں۔ دوسری طرف مصنف کے لئے دعا ہے کہ ان کا قلم ذاتی تجربات، تجزیات اور واردات سے آگے تحقیقی، تخیلاتی، اور موجودہ سے دو قدم آگے کی بات اپنی مستقبل کی کاوشوں میں کریں۔ لکھتے رہیں۔ نکھرتے رہیں اور نئی جہتوں کو دریافت کریں۔


