ورلڈ ارتھ ڈے


شاید بہت سے قارئین کو معلوم بھی نہ ہو کہ 22 اپریل کو ورلڈ ارتھ ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن ہماری زمین کو مختلف موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درپیش مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیلاب، زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات ہر سال تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔ حال ہی میں یو اے ای میں ہونے والی غیر متوقع طوفانی بارشوں نے جس طرح نظام زندگی کو درہم برہم کیا ہے وہ بہت سے لوگوں کے لئے حیرت کا باعث بنا ہے۔

دنیا بہت خوبصورت ہے لیکن ہم اپنے لالچ اور وقتی مفاد کے لئے زمین کا حسن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ دھرتی کو ماں کا درجہ دیا جاتا ہے لیکن ہم اپنے رویوں اور طرز عمل سے اپنی دھرتی ماں کا چہرہ مسخ کر رہے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کے سبب آج ہماری زمین اور اس میں رہنے والی مخلوق پردن بدن زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ مثل مشہور ہے کہ صحت مند جسم میں ہی صحت مند ذہن ہوتا ہے لیکن ہماری نصف سے زائد بیماریاں ماحولیاتی آلودگی کی مرہون منت ہیں۔

ہمارا دین کہتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن کیونکہ ہم پاکستانیوں کے معاشرتی رویے ایسے ہیں کہ ہم نصف کے نہیں پوری چیزیں حاصل کرنے کے قائل ہیں سو اگر صفائی سے پورا ایمان حاصل ہوتا تو شاید ہم اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرتے۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور غور طلب مسئلہ ہے کہ دنیا کی خوبصورتی اور اس کے ایکو سسٹم کو کیسے بحال کیا جائے! یہ مسئلہ صرف ورلڈ ارتھ ڈے پر سیمینارز اور دیگر پروگرام کروانے سے حل ہونے والا نہیں اگرچہ یہ بھی غنیمت ہے کہ مسئلے کے حوالے یہ شعور کی بیداری کی حد تک تو بہت اچھی ایکسرسائز ہے لیکن اس سنگین مسئلے کے حل کے لئے ہمارے اجتماعی رویوں میں تبدیلیوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے من کو اجلا بنانے کی ضرورت ہے۔ دنیا ہمیں ایسے ہی انتہا پسند نہیں کہتی، یقیناً ہمارے اندر بہت سی خامیاں ہیں۔ انتہا پسندی کا عمل تب شروع ہوتا ہے جب ہم اجتماعی فوائد کی بجائے ذاتی فوائد کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں اجتماعی سوچ کا فقدان نظر آتا ہے۔

محکمہ تحفظ ماحولیات بنا کر شاید ہم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بہت سے زبردست ادارے قائم ہیں لیکن تمام ادارے آج وسائل میں کمی کا رونا رو رہے ہیں۔ ادارے موجود ہیں، عملہ بھی موجود ہے، پراجیکٹس بھی موجود ہیں لیکن ہمیشہ وسائل کی کمی آڑے آ جاتی ہے۔ اپنے وسائل میں اضافے کے لئے ہمارے ہاں بے پناہ پوٹینشل ہے لیکن معاشرتی رویوں کی وجہ سے ہمارے سسٹم کی خرابیاں ہمارے اجتماعی وسائل میں اضافہ نہ ہونے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

ہم قوم تھے لیکن ریوڑ بن گئے اب ہمیں پھر قوم بننے کی ضرورت ہے۔ قوم بن کر اجتماعی مفادات کے لئے اکٹھے ہوں گے تو اپنا اور اپنی آنے والی نسلوں کا کل سنواریں گے ورنہ بصورت دیگر انفرادی سوچ لے کر اپنا آج سنوارنے کی فکر میں ہمیں اپنا کل گروی رکھنا پڑے گا۔

ہمیں تعلیم و تحقیق، میرٹ، قابلیت اور گڈ گورننس کو اپنے سسٹم میں فروغ دینا ہو گا اور کرپشن، اقرباء پروری، جہالت اور نا اہلیت کو اپنے سسٹم سے نکالنا ہو گا ورنہ ہمارے پیروں کے نیچے ارتھ رہے یا نہ رہے ہم نہیں رہیں گے۔ سننے میں یہ بھی آ رہا ہے کہ ترقی یافتہ قوموں خاص کر امریکہ کے پاس اب ایسی ٹیکنالوجی آ چکی ہے جس سے مصنوعی سیلاب، مصنوعی زلزلے وغیرہ برپا کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں 2005 میں آنے والا زلزلہ اور جاپان کا سونامی اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں۔ اب غیر متوقع موسموں کا دور بھی شروع ہونے والا ہے۔ معمول سے زیادہ بارشوں اور گرمیوں کا دورانیہ گھٹنے کی پیشین گوئیاں ہو رہی ہیں۔ یہ خوش کن امر ہونا چاہیے تھا لیکن درحقیقت صورتحال انتہائی پریشان کن ہے۔

پو ری دنیا کے موسم متاثر ہو رہے ہیں جہاں مون سون کے دوران معمول سے کہیں زیادہ بارشیں ہوں گی، دوسری طرف جون جولائی میں شدید گرمی پڑنے سے گلیشئر پگھلنے کا سلسلہ بھی تیز ہو جائے گا۔ ہم نے ناگہانی آفتوں سے نمٹنے کے لئے ابھی تک کوئی عملی اقدامات نہیں کیے۔ ہمیں چھوٹے بڑے ڈیموں اور سیلابی نہروں کی اشد

ضرورت ہے، لیکن یہاں تو بھل صفائی کیے ہوئے بھی برسوں بیت چکے ہیں۔ یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ بہر حال اس وقت بڑے منصوبوں کے لئے تو وقت نہیں البتہ معاملات سے نمٹنے کے انتظامات ابھی بھی کیے جا سکتے ہیں۔ سیلابی ریلوں کے راستے میں آنے والے دیہات اور دیگر ممکنہ متاثرہ علاقوں کے آس پاس اونچے ٹیلے یا ڈھیریاں بنائی جا سکتی ہیں جہاں ایمرجنسی میں انسانوں کو مال مویشیوں سمیت پناہ مل سکے اور کم از کم امدادی ٹیموں کے پہنچنے تک وہاں جان بچانے کا سامان کیا جا سکے۔ اسی طرح دیہات کے گرد عارضی بند بنانے کے لئے بھی کافی وقت ہے، یہ تمام ایسے اقدامات ہیں جو عوام حکومت کی کم سے کم مدد کے ساتھ، خود کر سکتے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہماری فضا میں کاربن کی بڑھتی ہوئی مقدار بھی ہمارے لیے درد سر بن رہی ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی (ای پی اے ) نے دنیا بھر میں فوسل فیول سے بجلی کی پیداوار کی حوصلہ شکنی کرنے پر زور دیا ہے۔ ایجنسی کی تحقیق کے مطابق ایشیاء میں بجلی گھر سالانہ دو ارب ٹن کاربن فضا میں چھوڑ رہے ہیں جو ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ ساتھ جلد اور سانس کی مہلک بیماریوں کا باعث بن رہی ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب عالمی برادری کو چارو ناچار کاربن پیدا کرنے والے بجلی گھروں پر پابندی عائد کرنا پڑے گی۔

حل اس کا آسان ہی نہیں بہت ہی آسان ہے کہ جتنی سرمایہ کاری سے تھرمل پاور پراجیکٹس لگائے جا رہے ہیں۔ اس سے ونڈ انرجی کے ذریعے کہیں زیادہ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ 40 سے 50 کلو واٹ کی ونڈ مل لگانے پر بیس تیس لاکھ روپے کی لاگت آتی ہے جو انتہائی کم نگہبانی (maintenance) کے اخراجات پر آئندہ تیس سال تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہماری مکران کی ساحلی پٹی پر سارا سال پانچ سے سات ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے سرمایہ کاری کے بعد محض ایک سال کا وقت درکار ہے۔

آزاد کشمیر میں صرف دو سال میں رن آف دی ریور ہائیڈرو منصوبوں سے 15 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی فزیبلٹی رپورٹس 1995 سے آج تک منظوری کو ترس رہی تھی۔ شکر ہے کہ موجودہ حکومت نے چین کے اشتراک سے اب اس سلسلے میں پیش رفت کرنا شروع کر دی ہے اور ونڈ انرجی کے پراجیکٹس پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان کی ریت میں سولر انرجی کا خزانہ نجانے کب سے کھوج لگائے جانے کا منتظر ہے۔ بات پھر وہی کہ کیا نادیدہ قوتیں موجودہ حکمرانوں کو تاریخ میں امر ہونے کی اجازت دیں گی؟ آج ورلڈ ارتھ ڈے پر ہمیں عزم کرنا ہو گا کہ اپنی زمین کی حفاظت کے لئے اور اس کی خوبصورتی کو قائم رکھنے کے لئے ماحول دوست منصوبہ جات کو فروغ دیں۔ ورنہ یہ زمین ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ یہ ہم سے بھیانک انتقام لے گی

 

Facebook Comments HS