ٹوپی کیسی پہنوں؟ داڑھی کیسی رکھوں؟


حال ہی میں علماء کی ایک تنظیم ملی مجلس شرعی کا لاہور میں اجلاس ہوا اور اس میں جماعت اسلامی کے فرید پراچہ صاحب سمیت بہت سے مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے علماء نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں جو سوچ و بچار کی گئی اس کا زیادہ تر نشانہ احمدی تھے۔ اس اجلاس کے آخر میں جو قرارداد منظور کی گئی اس کا لب لباب یہ تھا کہ فوری طور پر پاکستان کے آئین اور قوانین میں کچھ ضروری تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ یہ تجاویز بہت طویل اور مختلف نوعیت کی ہیں، اس لیے ایک کالم میں ان کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کالم میں ان مطالبات میں سے صرف ایک مطالبہ پر تبصرہ کیا جائے گا۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تبصرہ کرنے سے قبل یہ معین مطالبہ درج کر دیا جائے۔ اس مطالبہ کے الفاظ یہ ہیں :

”ان کے (یعنی احمدیوں کے ) مرد و خواتین کا لباس اور ان کی وضع قطع (داڑھی ٹوپی ) وغیرہ مخصوص ہونی چاہیے اور عام مسلمانوں جیسی نہیں ہونی چاہیے جیسا کہ عہد صحابہ میں تھا اور حضرت عمر ؓنے اس کا حکم دیا تھا۔“
(ہفت روزہ ختم نبوت جلد 43 نمبر 14۔ 15 ص 24 )

یعنی مطالبہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ ان حالات میں سر جوڑ کر بیٹھیں اور آئین اور قوانین میں ایسی ترامیم کریں کہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ لباس کا ڈیزائن، ٹوپی کا ڈیزائن اور داڑھی کا ڈیزائن تجویز کیا جائے اور احمدیوں کے لیے علیحدہ لباس کا ڈیزائن، ٹوپی کا ڈیزائن اور داڑھی کا ڈیزائن تجویز کیا جائے۔ یہاں ایک ابہام رہ گیا ہے کہ دیگر مسالک و مذاہب کے لیے مثال کے طور پر مسیحی احباب اور ہندو احباب کے لئے بھی کوئی علیحدہ لباس، ٹوپی یا داڑھی کا ڈیزائن تجویز کیا جائے گا کہ نہیں۔

یہ واضح نہیں کہ آئین میں ترمیم کر کے یہ انقلاب آفرین تبدیلیاں نافذ کی جائیں گی کہ یا محض تعزیرات پاکستان میں اضافہ کرنا کافی ہو گا۔ اگر تو اس مقصد کے لیے آئین کو تبدیل کیا گیا تو شاید آئین کے آرٹیکل 260 میں اضافہ کرنا پڑے کیونکہ اس آرٹیکل میں مختلف تعریفیں درج ہیں۔ مثال کے طور پر جس طرح اس آرٹیکل میں ’مسلم‘ اور ’غیر مسلم‘ کی تعریفیں درج ہیں، اسی طرح ’مسلم داڑھی‘ اور ’مسلم ٹوپی‘ کی تعریف بھی شامل کر دی جائے۔

سب سے پہلے تو یہ غلط فہمی دور ہونی چاہیے کہ ٹوپی یا داڑھی مسلمانوں کی ایجاد نہیں ہے بلکہ ظہور اسلام سے ہزاروں سال قبل سے کم و بیش دنیا کے ہر معاشرے میں ٹوپی اور داڑھی کا رواج تھا۔ ملی مجلس شرعی نے حضرت عمر ؓ کے دور کا ایک حوالہ دیا ہے۔ تاریخی طور پر یہ حوالہ بھی درست نہیں ہے، اس پر بعد کے کسی کالم میں تبصرہ کیا جائے گا لیکن سب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن و سنت میں اس بات کا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ بابرکت زمانہ نبوی ﷺ میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اس بات پر قانونی طور پر مجبور کیا گیا ہو کہ وہ مختلف قسم کی داڑھی رکھیں یا ٹوپی پہنیں۔ ہم بہت ادب سے اس ضمن میں یہ دو سوالات علماء کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

1۔ کیا قرآن مجید کی کسی آیت کریمہ میں یہ حکم درج ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ مختلف قسم کا لباس یا ٹوپی یا داڑھی رکھیں؟

2۔ مجھے یقین ہے کہ ملی مجلس شرعی کے کرتا دھرتا احباب نے معروف ’میثاق مدینہ‘ کو پڑھا ہو گا۔ یہ معاہدہ رسول اللہ ﷺ اور مدینہ کے یہود کے درمیان طے پایا تھا۔ مدینہ منورہ میں یہود کے کم از کم تین قبائل بڑی تعداد میں آباد تھے۔ اگر نہیں پڑھا تو اب سیرت ابن ہشام میں پڑھ کر یہ راہنمائی فرمائیں کہ کیا اس معاہدہ میں مدینہ کے یہود پر کوئی پابندی لگائی گئی تھی کہ وہ کس قسم کی داڑھی رکھیں گے یا ٹوپی پہنیں گے؟ یا ان کا لباس کیسا ہو گا؟

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ اس قسم کا مطالبہ سامنے آیا ہو۔ اس قسم کے مطالبات کا ایک مخصوص اور مسلسل انداز میں پروان چڑھایا جاتا ہے۔ چند سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں سابق جج شوکت عزیز صدیقی صاحب نے یہ تبصرہ لکھا تھا :

Most of the minorities residing in Pakistan hold a separate identification in reference to their names and identity but according to the constitution one of the minorities do not hold a distinct identification due to their names and general attire which leads to crisis.

(Allah Wasayya and Others Vs. Federation of Pakistan p169)

ترجمہ: پاکستان کی اکثر اقلیتیں نام اور شناخت کے حساب سے علیحدہ حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن آئین کے مطابق ایک اقلیت ایسی بھی ہے جو ناموں اور عمومی حلیہ کے اعتبار سے علیحدہ شناخت نہیں اپناتی جس وجہ سے بحران پیدا ہو رہا ہے۔

اس مطالبہ کو پرکھنے کے لئے کچھ مثالوں پر غور کرتے ہیں۔ کیا پاکستان میں کوئی مسیحی شہری شلوار قمیص نہیں پہن سکتا کیونکہ پاکستان کے مسلمان شلوار قمیص پہنتے ہیں؟ اس طرح تو ملکی بحران پیدا ہو جائے گا۔ سندھی ٹوپی کس کی پہچان ہے؟ اگر مسلمانوں کی تو کیا کوئی ہندو سندھی ٹوپی نہیں پہن سکتا۔ کیا اس سے بھی بحران پیدا ہو جائے گا؟ ہم سب جانتے ہیں کہ ساڑھی کا لباس مسلمانوں نے ایجاد نہیں کیا تھا۔ ہندوستان کی عورتیں اور بالخصوص ہندو عورتیں کروڑوں کی تعداد میں ساڑھی پہنتی ہیں۔ کیا ہندوستان کے ہندو یہ قانون بنا سکتے ہیں کہ آئندہ سے کوئی مسلمان عورت ساڑھی نہیں پہنے گی۔ یہ تو ہمارا لباس ہے۔ اگر مسلمانوں نے پہن لیا تو ہماری شناخت مجروح ہو جائے گی۔

یورپ، امریکہ اور انگلستان میں لاکھوں مسلمان بس رہے ہیں۔ کیا وہاں کی حکومتیں یہ قانون بنا سکتی ہیں کہ کوٹ پتلون اور ٹائی ہمارا لباس ہے۔ آئندہ سے مسلمان یہ لباس نہیں پہنیں گے۔ وہ اپنی شناخت کے لئے اپنا علیحدہ لباس پہنیں کیونکہ اس کے بغیر ہمیں یہ علم نہیں ہوتا کہ کون مسیحی ہے اور کون مسلمان؟ اس سے ہمارے معاشرے میں عظیم بحران پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر اس قسم کے مطالبات کو برداشت کیا گیا تو اس کے نتیجہ میں ایک عالمی فساد برپا ہو جائے گا اور کوئی معاشرہ اور کوئی مسلک اور کوئی مذہب اس کی زد سے محفوظ نہیں رہے گا۔ کوئی بھی ایسا مطالبہ سامنے رکھنے سے قبل اور اس پر شور و غوغا برپا کرنے سے پہلے اس کے مضمرات پر اچھی طرح غور کر لینا چاہیے۔

علاوہ ازیں ذرا غور فرمائیں کہ کیا پاکستان میں احمدیوں کی داڑھیوں، ٹوپیوں اور کپڑوں کی وجہ سے بحرانات پیدا ہو رہے ہیں یا اس کی اور وجوہات ہیں؟ آپ جانتے ہیں کہ ستر ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ احمدی کسی مخصوص طرز کی ٹوپیاں پہن رہے تھے یا یہ کہ احمدیوں کی داڑھیاں جذبات کو بھڑکا رہی تھیں؟

بد قسمتی سے تاریخ میں بہت سے معاشروں میں اس قسم کے امتیازی نشانات تجویز کیے گئے تھے۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران نازی جرمنی میں یہودیوں کے لئے یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ وہ لباس پر نمایاں کر کے چھ کونوں والا ستارہ پہنا کریں تا کہ ان کی شناخت ہو۔ اور اکثر اوقات یہ ستارہ زرد رنگ کا ہوتا تھا۔ اور یہ تجویز ہٹلر کے وزیر گوئبلز نے پیش کی تھی۔ اس شناخت کا مقصد جرمنی میں یہودیوں کے قتل عام کی راہ ہموار کرنا تھا۔

اس قسم کی خدمات کے عوض ہٹلر نے وصیت کی تھی کہ میرے بعد گوئبلز جرمنی کا چانسلر ہو گا۔ کسمپرسی میں ہٹلر کی موت کے بعد گوئبلز ایک روز ہی چانسلر رہا۔ اس نے ایک ہی فرمان جاری کیا کہ اس کا جرنیل سوویت یونین سے جنگ بندی کی کوشش کرے۔ جب یہ درخواست رد ہو گئی تو گوئبلز کے پاس کرنے کو کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ اس نے اور اس کی اہلیہ نے سیڑھیوں پر سائینائڈ کا زہر کھا کر نازی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments