سیکس لیس میرج ”جنسی آ سودگی“ سے محروم بندھن


اس عنوان کی آمد کا محرک انعم قریشی کی ایک تحریر ہے جو حال ہی میں انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔
ان کی تحریر کا عنوان تھا ”سیکس لیس میرج“

بہت بہادر خاتون ہیں، خاصے ننگے حقائق لکھتی ہیں، اپنے اندر کے حقیقی سچ کو دبنگ انداز میں پیش کرتی ہیں اور اپنے ماحصل پر پارسائی کا غلاف چڑھانے سے اجتناب برتتی ہیں اور خواہ مخواہ کے مصلحت آمیز رویوں میں پناہ نہیں ڈھونڈتیں۔

معاشرے کی عکاسی کرتے ہوئے انعم وہ سب کچھ بڑے آرام سے کہہ ڈالتی ہیں جن کا تذکرہ کرنا تو درکنار صرف سن لینے سے ہی بڑے بڑے پارسا اور محافظین سماج سیخ پا ہو جاتے ہیں۔

ایک جگہ پر وہ لکھتی ہیں
’عورت کا ”سوراخ“ اس کا ”کل“ نہیں ہوتا‘

اب اس طرح کا عریاں سچ اس قدر کاٹ دار انداز میں لکھنا اور وہ بھی ایک خاتون کے قلم سے انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے بھائی۔

اس طرح کے عنوانات پر ڈاکٹر خالد سہیل نے خاصا لکھا ہے اور سب سے پہلے اس عنوان پر میں نے انہی کی ایک تحریر پڑھی تھی۔

ڈاکٹر سہیل جو کہ ایک معروف نفسیات دان ہیں اور ایک طویل عرصہ سے انسانوں کی دماغی گتھیوں کو سلجھانے پر کام کر رہے ہیں، ان کے کلینک میں اکثر ایسے پارٹنرز کا آ نا جانا لگا رہتا ہے جو اپنی شادی شدہ زندگی سے کوئی خاص خوش نہیں ہوتے۔

ایک بستر اور ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود بھی ان کے خواب مختلف ہوتے ہیں۔
وہ ایک ہی چھت تلے دو الگ الگ اور مختلف زندگیاں جی رہے ہوتے ہیں۔

مہذب دنیا میں ذہنی بیماریوں اور رشتوں کے درمیان چپقلش اور نا آسودگی کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور متاثرہ افراد ایکسپرٹ اوپینین لینے یا علاج و معالجہ کے لیے ماہر نفسیات سے رابطہ کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہم جس سماج کا حصہ ہیں وہاں اس قسم کی حقیقتوں کا خوب مذاق اڑایا جاتا ہے، جن کی نجی زندگی ڈسٹرب ہوتی ہے اسے لوگ طرح طرح کے نصیحت آمیز سے طعنے مارتے ہیں مثلاً

تم زن مرید ہو اسی وجہ سے تمہاری بیوی تمہاری نہیں سنتی ہے۔
تمہارا عضو تناسل ناکارہ ہے اسی لیے نیچے لگے ہوئے ہو۔
تمہیں مقوی ادویات کھانی چاہیں تاکہ تادیر ایستادگی میسر رہے۔
تمہیں اپنی بیوی کی پٹائی کرتے رہنا چاہیے ورنہ وہ تم پر سوار رہے گی۔
کہیں تمہارے اندر کوئی جنسی نقص تو نہیں ہے۔

ظاہر ہے جس طرح کا سماج ہوتا ہے اسی طرح کے تصورات ہوتے ہیں اور ہماری ذہنی عکاسی کے شاہد وہی جنسی اشتہارات ہی تو ہیں جو مختلف شہروں کی دیواروں پر آویزاں ہوتے ہیں، جن پر درج ہوتا ہے

بچپن کی تباہ کاریوں کا تسلی بخش علاج کیا جاتا ہے۔
ایستادگی کی ٹائمنگ بڑھانے والا طلا دستیاب ہے۔
ٹائمنگ بڑھانے والے مچھلی کے کیپسول دستیاب ہیں۔
ماسٹربیشن کے نقصانات کا علاج کیا جاتا ہے۔
بیوی کی توبہ توبہ کروا دینے والے کیپسول حاصل کریں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی باتیں یا عمومی مائنڈ سیٹ ایک ایسے سماج کا عکاس ہے جہاں سیکس اور انسانی جسم سے جڑے ہوئے حقائق کو نجانے کب سے شجر ممنوعہ کا درجہ حاصل ہے۔

یہاں سیکس ایسے سنجیدہ اور اہم موضوعات کو ڈسکس کرنا یا آگاہی دینے کو بے شرمی اور بے غیرتی تصور کیا جاتا ہے۔ جبکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں پورن ویب سائٹ کو بھی سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے اور مذہبی ممالک میں تو یہ شرح روز بروز بڑھ رہی ہے۔

ظاہر ہے گھٹن زدہ ماحول کے سارے شاخسانے ہیں اور اس سے بڑی مضحکہ خیزی یا لطیفہ بھی کیا ہو گا کہ مذہبیوں اور پارساؤں کے سماج کی ذہنی عکاسی جنسی اشتہارات کی صورت میں ان کے در و دیوار پر رقم ہو۔

پابندی اور تقویٰ و طہارت کے سائے میں اگر یہ حالت ہے تو پھر اس سے بڑھ کر اور کیا بندوبست ہو سکتا ہے؟

21 ویں صدی میں جس قسم کا سماج ہم نے بنا لیا ہے وہاں تو کوئی ذی شعور ”اگر“ سے اپنی بات کا آغاز یا اظہار تک نہیں کر سکتا اور جو جملہ اخر میں لکھا ہوتا ہے
”سوچیے گا ضرور“
اس تک پہنچنا یا غور کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔
لوگ پہلے ہی لٹھ اٹھا کے اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔
اب بھلا اس طرح کے ماحول میں کون عقل کی بات کرنے کا خطرہ مول لے سکتا ہے؟

بات چیت کا عمل تو انسانوں کے بیچ ہی فروغ پا سکتا ہے نا لیکن جہاں انسان نما زومبیز یا مہان قسم کے نیک و پارسا بستے ہوں وہاں ڈائیلاگ کا کلچر تو فروغ نہیں پا سکتا البتہ جنگ و جدل کا ماحول ضرور بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے ”اگر“ لکھنے کی جسارت کر ڈالی بس پھر کیا تھا محافظان سماج چڑھ دوڑے۔
اب جو سماج ”اگر“ کی چوٹ نہ سہ پائے وہ اندر سے کس قدر کھوکھلا اور بودا ہو گا؟
وہاں شعور کی سطح کیا ہوگی؟

اگر جاننا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی پوسٹ کے نیچے کمنٹ پڑھ لیں ذہنی سطح کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔

انعم قریشی نے بھی سیکس لیس میرج کے عنوان سے جو سطریں لکھی ہیں اس میں کئی سارے اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے، جن پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔

انسانوں کے بیچ بہت سارے ایسے مسائل ہوتے ہیں جن پر اوپن ڈائیلاگ بہت ضروری ہوتا ہے جیسا کہ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے

کہ ایک خاتون کا شوہر اے سیکشول ہے۔
کسی کے شوہر میں جنسی خواہش بہت کم ہوتی ہے۔
کچھ شوہر تین ماہ میں صرف ایک دو بار سیکس کرتے ہیں، کیا خاتون کی کوئی خواہش نہیں ہوتی۔
کچھ خواتین کو جسم کی جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے پورن کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
خاتون اور مرد کے درمیان کمپیٹیبیلٹی کا فقدان ہوتا ہے۔
بہت سوں کو تو سیکشول کیمسٹری کا پتا ہی نہیں ہوتا۔
جنسی پیاس کیا ہوتی ہے اور پارٹنرز کے درمیان آسودگی کیسے ہوتی ہے کوئی آگاہی نہیں ہوتی۔

ون وے ٹریفک کی طرح جنسی آسودگی حاصل کرنے کے بعد شوہر سرکار اپنی تشریف موڑ کے سو جاتے ہیں اور خاتون کو بستر پر تشنہ چھوڑ دیتے ہیں۔

اب یہ باتیں بے بنیاد قسم کی کہانیاں یا اساطیری قصے تو نہیں ہیں نا اور بالغ و پختہ معاشروں میں نا صرف ان مسائل پر بات ہوتی ہے بلکہ مہذب معاشرے تو کلاس ون سے ہی بچوں کی عمر کے حساب سے سیکس ایجوکیشن کو نصاب کا حصہ بنا دیتے ہیں۔

بچہ جیسے جیسے گرو کرتا ہے اسی حساب سے ایک خود رو نظام کی طرح اس کی جنسی تربیت بھی ہوتی رہتی ہے۔

ہمیں تو شروع سے ہی سیکس ایجوکیشن سے دور رکھا جاتا ہے اور گناہ کہہ کر کے بالغ ہونے تک ایک اہم اور سنجیدہ موضوع کو چھپا کے رکھا جاتا ہے تو پھر ہمارے ہاں بھلا جنسی تہذیب یا شعور کیسے پنپ سکتا ہے؟ جنسی بدصورتی کی اس سے بڑی مکروہ یا نجس شکل اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہم دوسروں کی بچیوں کو نکاح کے نام پر اس لیے اپنے گھر بیاہ کر لاتے ہیں کہ ہمارا بگڑا ہوا شہزادہ انسان بن جائے اور باہر منہ مارنا چھوڑ دے۔

مطلب دوسروں کی بچیاں ہمارے بگڑے نوابوں کو سدھارنے کے لیے ہوتی ہیں، ازدواجی حیثیت کیا بنتی ہے وہ تو خیر بعد کی باتیں ہیں۔

ہم ایک حادثاتی رشتے میں سے خیر اور پیار کشید کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہو سکتا ہے؟ یاد رکھیے جو حادثاتی رشتے اتفاق سے قائم یا نبھ جاتے ہیں ان میں آدھے سے زیادہ کردار بچیوں کا ہوتا ہے جو چار و ناچار ظلم اور اذیت سہتی رہتی ہیں کہ کہیں ان کے والدین کا سر شرم سے نہ جھک جائے۔ معاف کیجئے گا جہاں انسانی جسم سے جڑے ہوئے مسائل اور فطرت کے ودیعت کردہ سیکس جیسی اہم جبلت پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور باقاعدہ جنسی تعلیم کا بندوبست نہیں ہوتا تو وہاں چور راستے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل اپنی جنسی خواہش کے تدارک کے لیے پورن سائٹس تک رسائی حاصل کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں شادی کا مقصد دو دلوں یا اذہان کا ملاپ نہیں ہوتا ہے بلکہ سیکس کے ذریعے سے خاتون کے جسم کو فتح کرنا اور اپنی جنسی حاکمیت قائم کرنا ہوتا ہے۔

ایک بار یہ حاکمیت قائم کر لینے کے بعد اسے بھلا کیا پڑی ہے کہ وہ ان چکروں میں پڑے کہ اس کی بیوی کو بھی جنسی آسودگی حاصل ہوتی ہے یا نہیں؟

سیکس کے نام پر جو عمل وہ اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے کہیں وہ اس کے لیے مشقت یا جنسی تشدد تو ثابت نہیں ہو رہا؟

اگر ہم نے دو انسانوں کے رشتوں میں خوبصورتی اور ذہنی ہم آہنگی کے رنگ بھرنے ہیں تو ہمیں ان تمام ٹیبوز پر سے برائے نام قسم کی رکاوٹوں کو ہٹانا ہو گا جو ہم نے پارسائی کے نام پر قائم کر رکھی ہیں۔ انسانوں کے مسائل انسان ہی تو حل کرتے ہیں نا اور انسانی کاوشوں اور تجربات سے ہی معاشرے آگے بڑھتے ہیں۔

بس ایک کام کرنا ہو گا وہ یہ ہے کہ ہمیں ڈینائل سے باہر نکلنا ہے اور حقیقتوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنا سیکھنا ہے۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر خالد سہیل کے چند اشعار پیش خدمت ہیں جو میرے خیالات کی خوب ترجمانی کرتے ہیں۔
کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا۔
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا۔
اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں۔
نسلوں سے کسی شخص نے باہر نہیں دیکھا۔

Facebook Comments HS