غزہ والوں کی نسل کُشی اور ایک نظم


عین ایسے سفاک موسم میں کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کے کلی اتلاف پر تلا بیٹھا ہے۔ جنگ سے متاثرہ فلسطینیوں پر امداد کے سارے دروازے بند ہو چکے ہیں اور مغرب کے انسان دوست عوام، اپنے حکمرانوں کی اسرائیل نواز پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں، پاکستان میں مشاعروں کا موسم چل ہے۔ ملکی میڈیا سیاست سیاست کھیل رہا ہے۔ کمر توڑ مہنگائی نے عوام کے حواس کا ناس مار رکھا ہے۔ جی، اس سفاک موسم میں سوشل میڈیا کے ایک فورم پر ایک ایسی نظم تجزیے کے لیے پیش کی گئی ہے جس میں فلسطینیوں سے پوچھا جا رہا ہے کہ ’وہ کیا چاہتے ہیں‘ ۔ ایک نئے ادبی فورم کا ڈول معروف نظم گو شاعر محمد یامین نے ڈالا اور پہلے ہی اجلاس میں بہ اصرار مجھے صدارت سنبھالنے کو کہہ دیا۔ میں نے اس موقعے پر جو کہا وہ آپ کے ذوق مطالعہ کی نذر کیے دیتا ہوں تاہم پہلے ایک نظر اصغر ندیم سید کی اس نظم پر بھی ڈال لیجیے جو فورم میں تجزیے کے لیے پیش کی گئی تھی۔

وہ کیا چاہتے ہیں۔
میں نے فلسطینی بھائیوں کے لیے اخبار میں بیان دیا
انھوں نے یہ بیان میرے منھ پر دے مارا
اور کہا
ہمارے پاس اب صرف مورچے باقی بچے ہیں
عرب بھائیوں کے بیانات سے
ہمارے گھر اور گودام بھر گئے ہیں
میں نے انھیں چاول اور گندم بھیجی
انھوں نے واپس کر دی کہ
کھانے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں ہے
انھیں دن رات لڑنا ہوتا ہے
ویسے بھی خمار آلود غذا ان کے لیے مضر ہے
میں نے کچھ پیسے انھیں بھیجے
انھوں نے رد کر دیے
اور کہا
ہمیں سکوں کی نہیں، گولیوں کی ضرورت ہے
ایک سر کی ضرورت ہے
ایک گورکن کی ضرورت ہے
لیکن ہم تمھیں بحیثیتِ گورکن بھی قبول کرنے کو تیار نہیں
میں گھر واپس آیا
اور فلسطینی بھائیوں کے لیے ایک نظم لکھی
یہ سوچ کر کہ گولہ باری میں ان کی شاعری دب کر ہلاک ہو گئی ہو گی
اور انھیں نظم کی یقیناً ضرورت ہو گی
انھوں نے میری نظم کا منھ نوچ لیا
اور اسے یہ کہ کر بھگا دیا
کہ ہمیں محفوظ رتبے والے شاعر کی شاعری نہیں چاہیے
جو برف باری اور گولہ باری میں فرق نہیں سمجھتا
جس کے لفظ نرم تکیے پر سر رکھ کر سوتے ہیں
میں نے ان کے لیے دعا کو ہاتھ اٹھائے
انھوں نے افسوس کیا
کہ کاش یہ ہاتھ ان کے دشمن پر اٹھتے
میں انھیں اپنے بچے کا ٹینک بھیج سکتا ہوں
جس کی چابی اس نے توڑ دی ہے
میں فلسطینی بھائیوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں
ان سے پوچھو
وہ کیا چاہتے ہیں

لیجیے خاکسار کی وہ گزارشات جو اجلاس کے اختتام پر بہ صورت صدارتی کلمات پیش کی گئیں :
ادبی فورم ”معاصر نظم: تفہیم و تعبیر“ کے معزز ممبران کو آداب!

فورم کا پہلا اجلاس، اپنے اختتام کو پہنچا اور اب مجھے حسب ضابطہ ”صدارتی خطبہ“ دینا ہے۔ میں نے پورے اجلاس کے دوران اپنے آپ کو کوئی بھی رائے دینے سے روک کر رکھا تاکہ معزز ممبران آزادانہ اپنی بات کہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ گفتگو خوشگوار ماحول میں چلتی رہی۔ اس اجلاس کے لیے علی محمد فرشی کو نظم کا انتخاب کر کے منتخب کردہ نظم پر ابتدائیہ پیش کرنا تھا۔ فرشی صاحب نے اصغر ندیم سید کی 1984 ء میں شائع ہونے والی کتاب ”جنگل کے اس پار جنگل“ سے ایک نظم/نثم ”وہ کیا چاہتے ہیں“ کا انتخاب کیا جو اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک بار پھر سے اہم ہو گئی ہے کہ فلسطینی جس دگرگوں انسانی صورت حال سے گزر رہے ہیں اسی سے اس نظم کا متن تشکیل پا رہا ہے۔

معزز ممبران!

جس وقت فورم کا اجلاس شروع ہوا اس وقت تک ایک نیوز ایجنسی کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پیدا شدہ انسانی بحرانی صورت حال کے تازہ ترین میزانیے کے مطابق چونتیس ہزار سے بھی زیادہ انسانی جانیں تلف ہو چکی ہیں جن میں عورتیں اور بچے زیادہ تعداد میں ہیں۔ غزہ کی چھوٹی سی گنجان آباد پٹی کی 2.3 ملین آبادی کا بہت بڑا حصہ بے گھر ہو چکا ہے جو ایک اندازے کے مطابق پچھتر فیصد بنتا ہے۔ باقی کا پچیس فیصد بھی نشانے پر ہے۔ عام شہری خوراک، صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت کے سبب تڑپ رہے ہیں اور اسرائیلی اوپر سے مسلسل بارود برسا رہے ہیں۔

جی! مجھے اس اجلاس کی صدارت کے لیے ایسے میں کہا گیا ہے جب مجھے واٹس ایپ پر امریکہ میں رہنے والے ایک دوست روزانہ ایسی ویڈیو کلپس بھیج رہے ہیں جن میں وہاں کی یونیورسٹیوں میں پھوٹ پڑنے والے احتجاج کی رپورٹس ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خلاف مظاہرے میں ایسا تسلسل اور شدت ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ پولیس نے نیویارک یونیورسٹی میں خیمے لگا لیے ہیں اور احتجاجی طلبا کو حراست میں لینا شروع کر دیا ہے۔ مظاہروں کے باعث کلاسز منسوخ ہو گئی ہیں۔ ٹیکساس اور کیلیفورنیا میں بھی ایسا ہی عالم ہے۔ پولیس نے مظاہرین پر دھاوا بولتے ہوئے درجنوں طلبہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ گزشتہ برس کے سات اکتوبر کے بعد غزہ میں اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں فلسطینوں کی نسل کشی کے لیے جو جنگ جاری ہے اس پر دنیا بھر میں احتجاج ہو رہا ہے۔

محترم ممبران!

خبروں کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے مستقبل قریب میں خاتمے کا کوئی امکان نہیں۔ غزہ میں حملوں کے متاثرین تک ضرورت کے مطابق امداد نہ پہنچنے کے باعث انسانیت آخری دموں پر ہے۔ متعدی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ بچے اور عورتیں سسک سسک کر مر رہے ہیں ہسپتال تک بارود سے اڑا دیے گئے ہیں۔

جو کچھ عالمی خبروں کا حصہ ہو رہا تھا ہمارے ہاں ردعمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ کراچی میں ایک بڑے مشاعرے کا چرچا ہے۔ لاہور میں بھی مشاعرے ہو رہے ہیں۔ یہاں اسلام آباد کی یونیورسٹی سے بھی کچھ ایسی ہی خبریں ملی ہیں ؛ گویا شاعر مصروف ہیں۔ ممکن ہے کسی نے ان مشاعروں میں فلسطینیوں کو بھی یاد کیا ہو مگر اس کی خبر کہیں نہیں ہے۔

جی، یہ وہ حالات ہیں جن میں، اس فورم پر ایک نظم پیش ہوتی ہے ؛ اصغر ندیم سید کی نظم/نثم ؛ ”وہ کیا چاہتے ہیں“ ۔ یہ نظم ان کے مجموعے ”جنگل کے اس پار جنگل“ سے منتخب کی گئی ہے جو 1984 ء میں شائع ہوا تھا۔ اور ابتدا ہی میں بتا دیا گیا کہ:

1۔ یہ نظم اس کتاب کی بہترین نظم نہیں ہے۔ اس سے کہیں بہتر نظمیں اس کتاب میں موجود ہیں۔

2۔ معروضی صورتِ حال کے پیش نظر اس نظم کے انتخاب پر ’عصری تقاضے‘ کا شائبہ ہونا بھی بعید از قیاس نہیں ہے۔

3۔ زیرِ تجزیہ نظم اپنے موضوع کے پھیلاؤ اور زیریں متن کی متنوع جہات کی بہ دولت بڑے کینوس کی نظم کہلانے کی حق دار ہے۔

پہلے دو نقاط سے لگ بھگ تمام شرکائے بحث نے اتفاق کیا۔ اب رہا آخری نقطہ تو اس پر ابتدائیہ نگار کا کہنا تھا کہ یہ نظم ردعمل کی ہے تاہم تخلیقی اظہار ’مدعا‘ کی قوت کو کئی گنا طاقت ور اور دیرپا بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نظم کا واحد متکلم فلسطینیوں کے ساتھ برادرانہ رشتے میں بندھا ہوا ہے ؛ یہ رشتہ انسانی بھی ہے اور ملّی بھی لہذا نظم کا پر سونا عالمی ضمیر کی علامت بن جا تا ہے جو نظم کی آخری سطر تک مستحکم رہتا ہے۔ اور نظم ایک بڑے استہزائیہ کی صورت میں دیرپا نقش بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ عالمی ضمیر کی علامت والی بات سے بھی لگ بھگ سب نے اتفاق کیا تاہم کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ نظم کے انتخاب کے باب میں چوک ہوئی ہے۔

محترم احباب!

وہ انسانی صورت حال جو اوپر بیان ہو چکی ایک باضمیر لکھنے والے کا کیا اس سے الگ تھلگ ہو کر لکھنا ممکن ہے؟ شاید نہیں۔ لکھنے والے کو بہر حال مظلوم کے ساتھ جاکر کھڑا ہو جانا پڑتا ہے۔ ایسے میں ایک سے زائد تخلیقی پیرائے ہو سکتے ہیں۔ اصغر ندیم سید کا پیرایہ مزاحمتی اور احتجاجی ہے۔ شاید تخلیقی سے کہیں زیادہ مزاحمتی اور احتجاجی۔ پورے وجود کے اندر سے اگتی ہوئی مزاحمت اور وہ شدید نفرت بھی جو باقی دنیا کے مقابلے میں ہمارے ہاں موجود بے حسی کی فضا کے سبب ان کے لہجے میں رچ بس گئی ہے۔ مکالمے کی کیفیت نے اگرچہ اسے زیادہ شدید نہیں ہونے دیا اور یہ بھی درست کہ اس نظم میں شاعرانہ تجربے کی منظم پیچیدگی نہیں ہے جو متن میں ایک سے زائد طرفیں رکھ دیتی ہے لیکن مجموعی طور پر نظم کی جمالیات اس کیفیت کے اندر ہی سے برآمد ہو رہی ہے۔

”وہ کیا چاہتے ہیں“ کے عنوان سے لکھی گئی اس نظم میں ایک طرف فلسطینی ہیں جن کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے اور دوسری طرف ساری انسانیت ہے۔ ساری انسانیت نہیں، شاید وہ مخلوق جسے ’امہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ نظم پڑھتے ہوئے محسوس کیا جاسکتا ہے کہ نظم کا متکلم بھی اسی امہ کی پست ذہنی سطح اور اپنے محفوظ مقام سے فلسطین میں گچھوں کی صورت مرنے والوں کی مدد کرنا چاہ رہا ہے ؛ جی اپنے محفوظ مقام کے اندر رہ کر ؛ اور یہی وہ نفسیاتی کیفیت ہے جس کو کام میں لاکر نظم کی جمالیات مرتب کرنے کے کوشش کی گئی ہے۔

میں نے ’امہ‘ سے نظم کے متکلم کو یوں وابستہ جانا کہ نظم کے اختتامی حصے میں کہا جا رہا ہے :
’میں نے ان کے لیے دعا کو ہاتھ اٹھائے
انھوں نے افسوس کیا
کہ کاش یہ ہاتھ ان کے دشمن پر اٹھتے ’

دشمن کے دوستوں سے امداد کے لقمے لے کر نگلنے والوں کے ہاتھ بانجھ اور نمائشی دعاؤں کے لیے تو اٹھ سکتے ہیں، دشمن پر نہیں۔ نظم میں یہ کہا نہیں گیا مگر یہ مفہوم ان سطور کے اندر سے ابل پڑ رہا ہے۔ لگ بھگ یہی قرینہ اس پوری نظم کا ہے جو اسے تخلیقی جہت سے کسی حد تک اہم بنا دیتا ہے۔ نظم کہتی ہے :

’میں انھیں اپنے بچے کا ٹینک بھیج سکتا ہوں
جس کی چابی اس نے توڑ دی ہے
میں فلسطینی بھائیوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں
ان سے پوچھو
وہ کیا چاہتے ہیں ’

تو یوں ہے کہ یہ ’امہ‘ ایسی ہی بچگانہ کوششوں کے سوا کچھ نہیں کر سکتی اور جس ذہنی سطح پر موجود ہے وہ غزہ میں مرنے والوں سے بس سوال کرتی رہ جائے گی کہ ’وہ کیا چاہتے ہیں‘ ۔

یہیں ایک سوال جو مجھے شدت سے پریشان کر رہا ہے درج کیے دیتا ہوں یہی کہ کیا ہمارے ہاں کا شاعر غزہ کی مخدوش انسانی صورت حال سے تخلیقی سطح پر جڑ پایا ہے؟ احتجاج یا ردعمل کی سطح پر نہیں، تخلیقی سطح پر ؛ اگر نہیں تو اس کا سبب کیا ہے؟

احباب گرامی!

آخر میں، ایک بار پھر میں فورم کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے اس پہلے اجلاس میں آپ کے ساتھ رہنے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع مہیا کیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس فورم میں اردو کی بڑی نظموں کی نشاندہی کے حوالے سے ان تجاویز کو ضرور مدنظر رکھا جانا چاہیے جو یہاں معزز ارکان نے پیش کی ہیں۔ وہ نظمیں بھی اہم سہی جو لکھنے والے کی فکر اور فہم نے تشکیل دی ہوتی ہیں تاہم ان نظموں کو بطور خاص زیرِ بحث لایا جانا چاہیے جو ایک مکمل شعری تجربے کی عطا ہوتی ہیں۔ جن میں فکر نہ تو بیان بنتی ہے نہ ہی زیریں سطح سے غائب ہوتی ہے اور لسانی منطق اپنی جمالیات مرتب کر کے متن کو کچھ کا کچھ بنا دیتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی نظموں کی اردو میں کمی نہیں ہے۔ میری یہ بھی گزارش ہوگی کہ جب اگلا اجلاس ہو تو اس میں نظم کے متن پر ہی گفتگو کو مرتکز رکھا جائے۔ ادھر ادھر پھیلا کر بات کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نظم پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ اس اجلاس میں مجھے یہ اچھا لگا کہ شرکائے گفتگو نے نظم اور نثم کے اختلافی موضوع کو بس چھو کر چھوڑ دیا اور زیر بحث متن کی لسانی منطق کو اہم جان کر گفتگو کی۔ مجھے یقین ہے کہ اس فورم کے ذریعے اردو نظم پر عمدہ مکالمے کا دروازہ کھلے گا اور تخلیقات کے محض موضوعات ہی کو نہیں ان کی تخلیقی قدروقیمت کی بنیاد پر بھی زیر بحث لایا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی اس پہلے اجلاس کا اختتام ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS