دلِ بے تاب: ڈاکٹر شیر شاہ سید کی نئی کتاب


اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ شیر شاہ کون؟ تو میں کہوں گی کہ سماج میں بکھرے رنج و الم کو سمیٹنے کا دوسرا نام شیر شاہ سید ہے۔

سالہا سال سے ڈاکٹر شیر شاہ نام و نمود کی طمع سے دور، انسانیت کا بھاشن دیے بغیر مصروف پیکار ہیں ؛کبھی غریب عورتوں کے فیسٹولا کے لیے مفت سرجری کیمپ لگاتے ہوئے تو کبھی سماج میں بکھری، دلوں کو چیرتی کہانیوں کو قلمبند کرتے ہوئے، تو کبھی ہفتہ وار ریڈیو پروگرام ”علم و آگہی کا سفر“ کے ذریعہ علم کی روشنی بکھیرتے۔ بقول ہمارے ایک مشترکہ دوست ڈاکٹر حسن جاوید کے ”ہم باتیں بناتے ہیں سید کام کرتا ہے۔“

انکے تازہ مجموعہ ”دلِ بے تاب“ میں زندگی سے مستعار کہانیاں ہی نہیں، خلوصِ دل سے لکھے تین دلچسپ شخصی خاکے بھی ہیں۔ جو انہوں نے اپنے چچا جان، سید ابوالبر رضوی، بڑے بھائی ظفر سلطان سید اور گہرے دوست سید جاوید حیدر پہ لکھے ہیں۔ ان سب شخصیات میں جو قدر مشترک ہے، وہ ہے سچائی، علمیت اور انسان دوستی۔ یقیناً انسان اپنے حلقہ احباب سے ہی پہچانا جاتا ہے۔

تین خاکوں کے علاوہ کتاب میں سماج کی تلخ حقیقتوں پہ مبنی آٹھ دل گرفتہ کہانیاں بھی ہیں۔

پہلا بہت دلچسپ خاکہ ”تم جیو ہزاروں سال“ انہوں نے اپنے امریکہ میں سالہا سال سے مقیم، طبعیات میں پی ایچ ڈی چچا، سید ابوالبر رضوی پہ لکھا ہے، جو اپنی غیر روایتی سوچ کے ساتھ، زندگی کو سائنسی اصولوں اور فطرت کے قوانین کے تحت گزارتے ہیں۔ وہ مرنے کے بعد اپنے سارے اعضا کو عطیہ کرنے اور تحقیق کے لیے استعمال کرنے کے قائل ہیں۔ شیر شاہ سے اپنی وصیت اس طرح بیان کرتے ہیں۔ ”میں مرنے کے بعد دفن نہیں ہونا چاہتا اور نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ کوئی مولوی صاحب میری زندگی کے بعد میرے جسم کے انچارج بن جائیں اور وہ بتائیں کہ میرے جسم کے ساتھ کیا کیا جائے۔“ وہ ویگن (سبزی خور) ہیں اور جانوروں کو صنعت بنانے کے خلاف خاموش پرامن جنگجو ہیں۔ جن کی جنگ ان لوگوں کے خلاف ہے جو جانوروں پر ظلم کرتے ہیں۔

دوسرا خاکہ ”آدمی اندر جہاں ہفت رنگ“ اپنے بڑے بھائی ظفر سلطان سید مرحوم پہ لکھا گیا ہے۔ جنہیں شیر شاہ کے والد نے اپنی شادی سے قبل پٹنہ میں پوری ذمہ داری سے اپنایا۔ اس ننھے سے بچے کے والدین مر چکے تھے اور اسے سہارے کی ضرورت تھی۔ شیر شاہ کے والد نے انہیں اپنے نام کے ساتھ پیار اور تعلیم کے ساتھ کتب بینی کا انمٹ شوق دیا۔ ظفر سلطان سید سچائی، سخت محنت، سماجی انصاف پسندی، ادب نوازی، سلجھے ہوئے انداز گفتگو اور حس مزاح کی و جہ سے انشورنس کے شعبہ میں کامیاب ترین انسان سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پہ ڈھیروں ایوارڈز کے علاوہ امریکن لائف انشورنس کمپنی کا ملین ڈالر راؤنڈ ٹیبل ایوارڈ بھی جیتا۔ افسوس سگریٹ نوشی اور کینسر نے انہیں باون سال تک ہی جینے کی مہلت دی۔ انتقال سے چند سال قبل جنگ کے صفحہ اول پہ ان کی تصویر کے ساتھ لکھا تھا۔ ”زبردست خدمت، سعی عمل اور سراپا کامیابی کا مطلب زیڈ ایس سید ہے۔“ ان کے مرنے کے بعد شیر شاہ نے پہلی بار اپنے والد کو پھوٹ پھوٹ کے روتے دیکھا۔

تیسرا خاکہ ”جو تیری طرح جیتے ہیں وہ مرتے کب ہیں“ ہمارے مشترکہ دوست جاوید حیدر پہ لکھا گیا۔ جو آرکیٹیکٹ کے شعبہ میں پی ایچ ڈی تھے۔ امریکہ کی پن یونیورسٹی کے مثالی پروفیسر۔ لیکن ان کی ایک اہم پہچان ضیا آمریت کے دور میں عملی ترقی پسندی، بائیں بازو کے نظریات سے مکمل آگاہی اور سماجی تبدیلی کے لیے انتھک جدوجہد تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب جاوید حیدر اور ان کے اور بھی کئی ترقی پسند ساتھی ترکی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے پاکستان لوٹے تھے۔ عملی، ادبی اور سیاسی جدوجہد کے لیے انہوں نے ایک گروپ ”فورم“ کی تشکیل کی۔ اپنی عملی جدوجہد کے سبب جاوید اور ان جیسے سارے ترقی پسند مسلسل حکومت کے عتاب میں رہے۔ فوجی مملکت خداداد میں جب جان کو خدشہ لاحق ہوا تو بالآخر جاوید امریکہ چلے گئے۔ پنسلوینیا میں پن اسٹیٹ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی سے ڈگری کے بعد انہوں نے وہاں تیس سال بطور استاد پڑھایا۔ ان کی دلچسپی بچوں اور بوڑھوں اور ان کے لیے دوستانہ عمارتوں اور قدرتی ماحول کی فراہمی سے تھی۔ جاوید نے دو دفعہ پاکستان آ کر بسنے کی کوشش کی۔ مگر بے سود۔ لیکن آخر کار زندگی کے آخری سالوں میں جاوید اور ان کی بیوی کراچی کے ایک مشہور تعلیمی ادارے سے وابستہ ہوئے۔ لیکن اب زندگی کی گھڑیاں تھوڑی رہ گئی تھیں۔ سگریٹ نوشی اور پھیپھڑے کا سرطان ان کے جان کے درپے تھا۔ ایک دن علم، انسانیت اور موسیقی سے شوق رکھنے والے جاوید کی زندگی کا ساز ٹوٹ گیا۔ مگر انسانوں سے جڑے لوگ مرتے کہاں وہ تو ہمارے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ہمیشہ کے لیے۔

کتاب میں خاکوں کے علاوہ آٹھ دل کو چھوتی سچی کہانیاں ہیں۔ شیر شاہ کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ وہ تھوڑے سے وقت میں بہت سارے کام انجام دینے کے عادی ہیں۔ اپنی کہانیوں کو ادبی قبا اڑانے اور سجانے کا ان کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ ویسے لوگ ان کی تحریروں کی سادگی، سچائی اور دلسوزی کی وجہ سے ان کے خاصے مداح ہیں۔ ان کی کہانی طویل بھی ہو تو دلچسپی برقرار رہتی ہے۔

تاہم ساری کہانیوں پہ لکھنا ممکن نہیں لیکن چند متاثر کن کہانیوں پہ بات ہو سکتی ہے۔

”ایک انگوٹھی“ کا بنیادی تھیم جنگوں کے ہاتھوں تباہی اور انسانی جانوں کی پامالی ہے۔ یہ وہ انگوٹھی ہے جو موت کے وقت راشد منہاس کے مقابل فوجی پائلٹ مطیع الرحمان کی انگلی میں تھی۔ اور اب راولپنڈی کے فوجی میوزیم میں ہے۔ اس کی جوان بیوہ اس یادگار کو واپس لینا چاہتی تھیں۔ لیکن ان کی درخواست رد ہوئی۔ اور ایسا ممکن نہ ہوا۔ شیر شاہ لکھتے ہیں ان سیاسی طاقتوں کو ”اس پیار کی گرمائش کا اندازہ ہو ہی نہیں سکتا جو ہمیشہ دل کی دھڑکنوں میں شامل رہتی ہے۔“

”فجی کی بیوہ“ ایک ایسی تاریخ دان لندن یونیورسٹی کی پروفیسر کی کہانی ہے جو اپنی زندگی اور خاندان کی برطانوی سامراجیت کے ہاتھوں انسانوں کی ہزیمت کی تاریخ پوری سچائی سے سناتی ہے۔ اور بتاتی ہے کہ کس طرح 1879 ء کے بعد انگریزوں نے فجی کی مقامی حکومت کو ختم کیا۔ اور ہندوستان کے غریب اور بے روزگار افراد کو بحری جہازوں میں بھر بھر کے یورپین ملک ”فجی“ پہنچایا۔ لیکن جہازوں کے سارے مسافر کب فجی پہنچے، کچھ ہوس کا شکار ہوئے تو کچھ مر گئے اور سمندر میں پھینک دیے گئے۔ ان زندہ بچ جانے والوں میں تاریخ کی پروفیسر کی ہندو، بنگالی طوائف دادی بھی تھیں۔ ”کسی گمنام جزیرے میں اکیلی زندگی کے آخری سانس لیتی۔ کاش ہم جان سکیں کہ“ منافع کتنا ظالم ہوتا ہے۔ ”

”گھمنڈی“ زمیندارانہ نظام کے خلاف احتجاج ہے۔ یہ گاؤں کی مجبور لڑکی فاطمہ کی کہانی ہے جسے زمیندار کے بیٹے اصغر نے اس لیے گھمنڈی کہا کہ اس نے اس کے التفات کو ٹھکرا دیا تھا۔ جو اباً اصغر نے اپنی طاقت کے زعم پہ فاطمہ کی عزت کو بری طرح پامال کیا۔ بعد میں فاطمہ نے اس ناقابل فراموش بے بسی اور بے عزتی کا بدلہ اصغر کا قتل کر کے کیا۔ قتل کے وقت وہ دو بچوں کی ماں تھی۔

ایک بہت اہم کہانی ”جوتا“ ہے۔ جو ان بے جواز جنگوں کے خلاف طمانچہ ہے جو مذہب رنگ اور قومیت کے نام پہ لڑی جاتی ہیں۔ یہ کوسوو طالبہ کی کہانی ہے۔ جس کا جنگ کے دوران سربیا کے سپاہیوں کے ہاتھوں پندرہ دن تک بلاد کار ہوتا رہا۔ اس کے والد کو سربیا کے سپاہیوں نے مسجد کے نمازیوں پہ حملہ کر کے قتل کر دیا۔ آٹھ ماہ بعد اجتماعی قبر میں اس کے باپ کی لاش جوتوں کی وجہ سے پہچانی گئی۔ یہ جوتا اب کوسوو کی طالبہ نے اپنے گھر میں باپ کی یادگار کے طور پہ رکھا ہوا ہے۔

یہ اور اس جیسی اور کہانیاں آپ کو سوچنے پہ مجبور کرتی ہیں کہ کیا آیا انسانیت ترقی کے منازل طے کر رہی ہے یا انسانیت سے عاری پسماندگی کے پاتال میں ہے۔ اور ہمارا اس میں کیا حصہ ہے؟

(کوہی گوٹھ پبلی کیشنز کے تحت چھپنے والی اس کتاب کی آمدنی کو ہی گوٹھ عورتوں کے مفت ہسپتال، ملیر کراچی، کے مریضوں کی صحت کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ )

Facebook Comments HS