کتاب پڑھنے کا شوق اور محلے کی لائبریری
عمران سیریز کا خاص انتظار رہتا تھا۔ وقت بدلا تو جاسوسی ادب سے خالص ادب کا فاصلہ ایک ہی جست میں طے کر لیا۔ سفر ناموں سے آغاز ہوا اور جلد ہی ناولوں نے توجہ کھینچ لی۔ میں نے کئی معروف اردو ناول اور تراجم کرائے پر حاصل کر کے پڑھے ہیں۔ جن میں آگ کا دریا، جنت کی تلاش، راجہ گدھ، امراؤ جان ادا، ماں، آننا کارینینا سمیت درجنوں ناول شامل ہیں۔ کبھی کبھی کتاب پڑھنے کے باوجود کرایہ نہ ہونے کی وجہ سے واپسی میں تاخیر ہو جاتی تھی۔
مالک لائبریری کو اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگتی تھی کہ کتاب واپس کیوں نہیں آئی ہے۔ وہ گھر پیغام بھجوا دیتا تھا ”کرایہ نہ دو لیکن کتاب تو واپس کر دو۔ “ عام طور پر کتاب دو تین دن میں پڑھی جاتی تھی۔ ہفتہ بھر کتاب واپس نہ کرنے کا مطلب کرائے میں غیر معمولی اضافہ ہوتا تھا۔ ایسی صورت حال میں غیبی مدد کا انتظار ہوتا تھا۔ کسی مہمان کی آمد پر دو چار روپے مل جاتے تھے جو کسی نعمت سے کم نہ ہوتے تھے۔ عید پر بیسیوں روپوں کا زیادہ حصہ بھی کتابوں کے کرائے میں خرچ ہوتا تھا۔
بعد میں اس عیدی کا بڑا حصہ فلم دیکھنے کے لیے صرف ہونے لگا۔ ایک کتاب بیسیوں ہاتھوں سے گزرتی تھی۔ کتابوں پر قارئین کے تبصرے بھی درج ہوتے تھے۔ پسندیدگی اور ناپسندیدگی کی وجوہات رقم کی جاتی تھیں۔ قارئین ایک دوسرے کو مختلف کتب پڑھنے کی ترغیب بھی دیتے تھے۔ کئی کتابیں تا دیر اپنی گرفت میں رکھتی تھیں اور ان کے سحر سے نکلنا آسان نہ ہوتا تھا۔ فیک ناموں سے لکھی گئی سستی کتابوں کی ڈیمانڈ عام تھی۔ وہ نوجوانوں کے خاص حلقے میں مقبول تھیں۔
ایسی کتابوں کی جلد ہی طبیعی موت واقع ہو جاتی تھی۔ ادب کے سنجیدہ قارئین کو معلوم تھا کہ انھیں کن ادباء کا مطالعہ کرنا ہے۔ رسائل پڑھنے کی ممانعت تھی، عام خیال یہی تھا کہ اس سے تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ سو چھپ چھپ کر رسائل پڑھے جاتے تھے اور پکڑے جانے پر ڈانٹ ڈپٹ اور سزا کا خوف لاحق رہتا تھا۔ درسی کتاب میں رسالہ یا ناول رکھ کر پڑھنے پر سزا ناقابل معافی ہوتی تھی۔ ہماری ادبی تربیت انھی کتابوں کی مرہون منت ہے۔ سکول سے کالج پہنچے تو کالج کی لائبریری سے استفادے کا موقع ملا۔ فیس میں لائبریری فنڈ شامل ہوتا تھا۔
دوستوں سے مستعار لے کر کتاب پڑھنے میں کوئی حجاب حائل نہیں ہوتا تھا۔ یہ حق دوستی سمجھا جاتا تھا۔ کتاب واپس نہ کرنا بھی معیوب نہیں تھا۔ ضرورت کے وقت ذاتی رسائل اور کتابیں سیکنڈ ہینڈ کتب فروش کو اونے پونے داموں بیچ دیے جاتے تھے۔ وہ شریف آدمی فی کتاب قیمت کے بجائے تول کر فی کلو کے حساب سے ادائیگی کرتا تھا۔
ہر گلی محلے میں ان لائبریریوں سے استفادے کی سہولت موجود تھی۔ کھیل کود کے علاوہ یہ ہماری تفریح کا اہم ذریعہ تھا۔ ہمیں خود بھی احساس نہیں تھا کہ ہم ادب کے باقاعدہ قاری ہیں۔ ہم ان دیکھے جہانوں کا سفر کتاب کے ذریعے طے کرتے تھے۔ خیالات کی دنیا آباد کرتے تھے اور اس میں رہنا اچھا لگتا تھا۔ ہماری نسل کے لوگوں نے ان لائبریریوں کے ذریعے زندگی کے اسرار و رموز سیکھے ہیں۔ اگر ہم ادب کے قارئین نہ ہوتے تو زندگی کے حقیقی رنگوں اور رعنائیوں سے محروم رہ جاتے۔
عملی زندگی میں آ کر کتاب خریدنے کی استطاعت حاصل ہو گئی مگر پھر بھی ایک ماہ میں دو تین سے زائد کتابوں کی خریداری افورڈ نہیں کی جا سکتی تھی۔ وقت تیزی سے گزر گیا، قوت خرید میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ساتھ ہی کتابوں کی اشاعت کا رجحان بڑھ گیا۔ عمدہ کاغذ اور جدید پرنٹنگ نے کتابوں کے حسن کو دوبالا کر دیا۔ اب کئی کتابوں کی پی ڈی ایف آسانی سے مل جاتی ہیں۔ ریختہ سمیت درجنوں ویب سائٹس پر ہزاروں کتابیں پڑھنے کے لیے دستیاب ہیں لیکن میں ابھی تک سستے کاغذ پر شائع ہونے والی کتابوں کی خوشبو سے معطر ہوں۔
مجھ سمیت اکثر ادباء کی ذاتی لائبریریوں میں سینکڑوں کتابیں موجود ہیں۔ بہت سی کتابوں کے مطالعے کی نوبت ہی نہیں آتی ہے۔ کئی کتابیں جزوی طور پر پڑھی گئی ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ کتاب خریدنے کی استطاعت نہ رکھنے والے زمانے سے کتاب کی عام دستیابی تک کا سفر کتنی سرعت سے طے ہو گیا ہے۔ پی ڈی ایف کتابوں نے کتنی آسانی پیدا کر دی ہے مگر ہم اس کے ابھی تک عادی نہیں ہو سکے ہیں۔ کتاب کے لمس سے آشنا لوگوں کو پی ڈی ایف کتابوں سے مانوس ہونے میں ایک زمانہ درکار ہو گا۔
میں اپنے سامنے میز پر رکھی کتاب کو خوش گوار حیرت سے دیکھ رہا ہوں۔ گیلری میں کسی چیز کی تلاش کے دوران یہ میرے ہاتھ آ گئی ہے۔ اس کتاب نے مجھے ماضی کے دھندلکوں میں پہنچا دیا ہے۔ یہ ساقط الطرفین ہے۔ تھوڑا سا پڑھنے کے بعد مجھے یاد آ گیا ہے کہ ایک لائبریری سے کرائے پر حاصل کی گئی یہ آخری کتاب تھی۔ واپس نہ کرنے اور مسلسل کرایہ بڑھنے پر میں نے اس لائبریری میں جانا چھوڑ دیا تھا۔ میں اس کتاب کا چالیس برسوں کا کرایہ ادا کرنا چاہتا ہوں مگر اب کرایہ وصول کرنے والا کوئی نہیں ہے۔


