حب: باد نسیم کا تازہ جھونکا
خیبر پختونخوا میں نوجوان اردو لکھاریوں کی تعداد بوجوہ نسبتاً کم اور خواتین لکھاریوں کی تعداد تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماضی قریب میں بے بدل پشتو افسانہ نویس زیتون بانو اردو اور پشتو دونوں زبانوں میں بڑی روانی سے لکھا کرتی تھیں۔ پشتو افسانہ پر تو آج بھی اس کہنہ مشق اور رجحان ساز افسانہ نگار کی چھاپ محسوس کی جا سکتی ہے۔ علمی اور ادبی خانوادہ کے چشم و چراغ اور شاعر و دانشور مرحوم سلیم راز کے خلف الرشید نوجوان لکھاری اور محقق محمد ارشد سلیم کا پرمغز تحقیقی مقالہ، زیتون بانو کے افسانوں کے اردو تراجم : ( ایک تجزیاتی مطالعہ) میں اسی ادبی روایت کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
ایسے میں انیسہ بتول کا تخلیق کیا ہوا ناولٹ، حب، صوبہ کے اردو نثری ادب کے لئے ایک نیک شگون ہے۔ شہری او ر دیہی زندگی کی دلکشا خوبصورتیوں اور روایتی اور جدید سوچ کے امتزاج سے مزین اس منفرد نثری شہ پارہ کی کہانی، معانی و بیان، آغاز و انجام، واقعاتی اتار چڑھاؤ اور موضوعاتی اچھوتے پن کا ایک ایسا حسین مرقع ہے جو ابتدا سے انتہا تک قاری کو اپنے سحر میں مسحور کیے رکھتا ہے۔ جنت بیگم، ہالہ، غاذان، ارحا، سعدی، فرشتے اور دیگر کرداروں کی معصومیت، روایتی دانش، محبت کی ماورائیت، رشتوں کا تقدس، والہانہ پن اور سیمابیت ایک ایسے خاندان کی کہانی سناتی ہے جو تہہ در تہہ محبت، انانیت، خودسپردگی اور قربانیوں کی صورت میں نئی نئی کہانیوں کو جنم دیتی ہے۔ یہ کہانیاں کبھی ذاتی حیثیتوں سے اجتماعیت کی طرف اور کبھی اجتماعی حیثیت سے انفرادی زندگی کی طرف محو سفر ہوتی ہیں۔ کبھی اپنی ذات کو ان کرداروں میں مدغم کرنے کی سعی اور کبھی اجتماعیت کو ذات میں فنا کرنے کی کوشش اس ناولٹ کی نفسیاتی حیثیت کو مزید واشگاف الفاظ میں حکایت کی شکل میں ہمارے سامنے لاتی ہے۔
لسانی آلائشوں سے پاک طرز بیان، منفرد اسلوب، جملوں کے منطقی ربط اور ایجاز و اختصار مصنفہ کی طلاقت لسانی پر مہر استناد ثبت کرتی ہے۔ اور انہیں اپنے معاصر لکھاریوں میں ممتاز حیثیت دلاتی ہے۔ نفسیاتی طور پر ناولٹ کے کرداروں میں، خوابوں کی تعبیر سے انجانے خوف، کا عنصر بھی ہے، ، نظر بد کے ہر شے کو راکھ کرنے کا خوف و حزن، بھی ہے، اور، ماضی میں جا کر کچھ حسین لمحوں کو کھینچ کر اپنے ساتھ حال میں لا سکنے کی دیوانگی بھی، ۔
یوں حاضر و موجود کے تصور کے ساتھ ماضی پرستی بھی ہے۔ اور شاید بایں اساس مصنفہ ماضی کے متعلق اور غیر متعلق کرداروں کو حال سے جوڑنے میں طاق دکھائی دیتی ہیں۔ ایک روایتی خاندانی نظام کی اکائی، ایک خانوادہ میں خاندان کے سربراہ جنت بیگم کا بے حد تحکمانہ انداز، اور ہالہ کی، شناخت کی جنگ، ، خیالات اور افکار کا ٹکراؤ، سب ایک عورت کی شخصیت کے وہ الگ الگ رنگ ہیں جو موصوفہ نے بڑی مہارت سے کشید کر کے اسے کہانی کی شیرینی عطا کی ہے۔
قصہ گوئی کے فن سے آشنا اور انسانی جذبات و نفسیات کی عکاسہ و نقاشہ مصنفہ بسا اوقات ایسے جملوں کو وجود بخشتی ہیں جو ان کی شخصیت میں پوشیدہ بے مثل تخلیق کار کو قبل از وقت ہم سے متعارف کرانے لگتا ہے۔ مثلاً یہ ایک جملہ ملاحظہ فرمائیے، ، ایک باپ اپنے آنسوؤں کو چھپانا بھی چاہے تو وہ لڑھک کر چہرے پر گرنے لگتے ہیں، ۔ باپ اور بیٹی کے درد و غم کے اظہار، اور درد و کرب کی یہ منظر کشی بھلا کس طرح نظر انداز کی جا سکتی ہے۔
ایک باپ کی آنکھوں میں آنسو محض اپنے اولاد کی خاطر ہی آ سکتی ہیں مگر وہ انہیں چھپانے سے باوجود کوشش کے عاجز ہوتا ہے۔ جبر و اختیار، انسانی بے بسی، اور تقدیر سے متعلق ایک کردار کے زبان سے لکھتی ہیں، ، تصویر ایک چیز کی شروع کر دیتے ہیں لیکن مکمل ہوتے ہوئے وہ اک اور شکل اختیار کر دیتی ہی۔ ۔ کم عمری میں اتنی فکری بالیدگی اور پختگی فکر شاذ ہی دیکھنی کو ملتی ہے۔
سماجی، معاشی او ر سیاسی طور پر ہمارے غیر متوازن اور بدنصیب معاشرہ میں پدرانہ شفقت سے محروم بیٹیاں چاہے کتنی ہی پرعزم اور جفاکش کیوں نا ہو آخر کار اپنے آپ کو جسمانی طور پر نحیف و نزار باپ کے آغوش کے سپرد کر ہی دیتی ہیں۔ یہی محبت، حب، اور یہی انسیت ہے۔ ، حب، میں کامل اور والہانہ خودسپردگی، گومگو کی لمحاتی کیفیات، پل پل خواب ٹوٹ جانے کا دکھ اور خوف و حزن، بیٹیوں کی آزمائشوں کی کتھا، پانے اور کھو جانے کا ڈر، رشتوں کے جڑ جانے اور ٹوٹ جانے کا غم قاری کے تجسس کو بار بار اپنی گرفت میں لیتا ہے۔
ناولٹ کے متن میں پھیلی قنوطیت کے ساتھ ساتھ قرآنی آیات کی بازگشت، رجائیت اور۔ تمہاری فجر کی نماز تمہارے دن کی پہلی فتح ہے، جیسے جملے پریشانیوں میں گھری زندگی کو قرار، اطمینان اور اعتدال بخشتی ہیں۔ جو انیسہ بتول صاحبہ کی فکری ثقاہت پر واضح دلیل ہے۔ موصوفہ اپنے کرداروں کی داخلی کیفیات کو مجسم کرنے اور انہیں الفاظ کا وجود بخشنے میں مستحسن ملکہ رکھتی ہیں۔ اسی شہ پارہ کو اساس و قرینہ قرار دے کر ہم مصنفہ کی تابناک ادبی مستقبل کی پیش گوئی میں حق بجانب ہیں۔
اسلوب میں فارسی تراکیب اور الفاظ کا انتخاب اسلوب کی انفرادیت اور چاشنی میں مزید اضافے کا موجب بنتی ہے۔ روایت اور جدت کا یہی امتزاج نوآموز خواتین و حضرات بلکہ ایک حد تک کہنہ مشق لکھاریوں کی تخلیقات سے بھی معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ اور لسانی مشکلات سے اپنے اسلوب و بیان کو بچائے رکھنا اب ان کے لئے محال تر بنتا جا رہا ہے۔ مصنفہ کے اس فن پارہ کا یہی منفرد اسلوب ان کی تابناک ادبی مستقبل کی نوید دے رہا ہے۔


