جشن ماتم
یک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
یہ بادہ خوار کا تصوف ہے، ہم ایسے کم عقل ہنسوڑوں کی رسائی سے بہت دور ہے اور جیسے کہ ملک الشعرا جناب شیکسپئیر نے کہا تھا کہ مرگ میں ہنسنا اور شادی میں رونا کچھ احسن بات نہیں۔ اپنے وارث شاہ نے بھی کچھ ایسا ہی کہا تھا کہ بین کرتی سہاگنیں اور زیور پہنے بیوائیں اچھی نہیں لگتیں لیکن چونکہ ہم کافی عرصے سے عالم برزخ میں ہیں اس لیے ہم نے مرگ میں ہنسنے کے لیے ہم نے اپنے لیے ایک رعائت تراش ہی لی ہے۔لیکن سید وارث شاہ اگلے وقتوں کے کوی تھے، ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لینے کوئی ضرورت نہیں، یہ نہ ہو ان کی باتوں کا اثر لے کر آپ بیواوں کے زیور نوچنے لگیں۔ویسے اپنے آپ کو سیانا سمجھنے کے کچھ فوائد بھی ہوتے ہیں، لوگ بہت سارے جرائم کا ارتکاب نہیں کرتے ، یہ ہر وقت بزرگوں کی ہڑش کا منتظر رہنا کچھ اچھی بات نہیں ہے۔سچی بات ہے، پچھلے دنوں ہمارے ایک بڑے بھائی نے ہمیں صارفین کے حقوق سے نا واقف ایک آدمی پہ صرف انگریزی کتوں کی طرح غرانے کو کہا تھا لیکن ہم اس بے چارے کا ماس نوچنے کے چکر میں پڑ گئے۔ کیا کریں انگریز بنتے تو رہتے ہیں لیکن ہیں تو دیسی ہی ناں۔چلیں آپ کے دل میں تو ٹھنڈ پڑ گئی۔ کیا کریں، یہ برابری کے ہم اتنے اسیر ہیں ، کسی کو کچھ کہنا ہو، پہلے اپنی بے عزتی کرنی پڑ جاتی ہے۔ نہ کریں تو آپ وہ ڈراما کرتے ہیں کہ گڑے مردے اکھاڑ دیتے ہیں۔
ہم بھی کدھر سے کدھر نکل جاتے ہیں ۔ مرگ ایک سانحہ تو ہے ہی لیکن اس کے دامن میں بہت سارے دلچسپ واقعات ہوتے ہیں۔ جیسے ایک حاجی صاحب فوت ہوئے تو ہمارے ایک جواں سال رشتہ دار ان کی موت پر یوں زارو قطار روئے جا رہے تھے اور کہے جا رہے تھے۔
اٹھ اوئے حاجی، مر گئے ہو، سب تم سے ملنے آئے ہیں، ذرا ان سے مل کر تو دکھاو۔ سب نے ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے کی کوشش کی کہ حاجی شاید یہ چیلنج نہ قبول کر سکیں لیکن جوان فوجی تھا، اسے موت سے زندگی کی یہ ہار نہیں بھائی، متوفی کو للکارتا ہی رہا۔
اسی طرح ایک دفعہ ایک دوران تعزیت اس طرح کی گفتگو سننے میں آئی۔
کیا ہوا تھا ،کس مرض میں بے چارے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
کیا بتائیں، بھلے چنگے چھت پر سوئے تھے۔ کچھ پتا نہیں چلا کیا ہوا۔ رات کو ہم نے بلیوں کی کڑے کڑے ( بلیوں کی لڑتی صدائیں) سنی ، ہم لوگوں نے کچھ توجہ نہیں دی۔ صبح دیکھتے ہیں کہ چھت کی پرلی دیوار کے زیر سایہ مردہ پڑے ہیں۔ ہمارے نصیب پھوٹ گئے، وہ بلیاں نہیں تھیں،جو رات کو لڑ رہی تھیں، وہ ہمارے والد تھے، جو درد میں بلبلا رہے تھے۔
دیہاتی لوگوں کی سادہ اور سچی باتیں جن کو تولنے کے لیے سارے جہاں ترازو کے کم پڑ جاتے ہیں اور اکثر بے معنی سے خندہ استہزا کی نذر ہو جاتی ہیں یا کسی تعصب کا شکار۔بات کی سچائی کی بہر صورت قدر کرنی چاہیے۔اور ہم کتنے ہی سنگ دل کیوں نہ ہوں، سچی بات میں چھپے غم کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
اسی طرح ایک انتہائی مقبول آدمی فوت ہو گئے۔ ان کی میت پڑی تھی، اور ان کے گزر جانے کا غم بہت تھا۔ دو چار آدمی تو غم کی شدت سے بے ہوش ہو گئے۔ جب بے ہوش ہونے والوں کی تعداد کچھ بڑھنے لگی تو ایک بزرگ سے رہا نہ گیا۔
ہم لوگوں پر کیا سانحہ گزر گیا ہے۔ اب تجہیز و تکفین کی کچھ فکر کریں یا ان بیہوشوں کا درماں کریں ،کچھ سمجھ نہیں آتا۔ اب تم میت پر جارہے ہو، کوشش کرنا کہ بے ہوش نہ ہونا۔
ہمارے ہاں غم زدہ رشتہ دار خواتین کو مرگ کے موقع پر گلے لگانے کی رسم بھی ہے۔جو کہ ایک اچھی بات ہے اور کچھ بڑھتی ہوئی مذہبیت اور کچھ جدیدیت کے اثرات کی وجہ سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں مذہب اور جدیدیت ایک جیسے ہی ہیں،دونوں نے لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ لیکن شرکت غم کا یہ پہلو بھی مرگ میں کبھی کبھار طرب کی کیفیات پیدا کر دیتا ہے۔
ایک دفعہ ایسا ہوا، ایک مرد اور خاتون اپنے کسی رشتہ دار کی وفات پر گلے لگ کے رونے لگے اور باقی لوگ ہنسنا شروع ہو گئے۔ بات اصل میں یہ تھی کہ ایک زمانے میں ان کا معاشقہ بہت مشہور ہوا تھا۔پھر دونوں کی شادی نہ ہو سکی۔ایسا ہی ہمارے ہاں، محبت کی بھنک بھی پڑ جائے ، تو سارا گوٹھ گرام، مشرق کی تقدیس کا رکھوالا بن جاتا ہے، گوٹھ گانو کیا، ہند سندھ ،پنجاب، کچا، پکا، شمالی علاقہ جات، کرانچی اور چیچو کی ملیاں تک جسے بھی خبر ہو جائے وہ عزت کا پہرہ دار بن جاتا ہے اور جاگتے رہیو کی آوازیں بلند کرنا شروع کر دیتا ہے کہ کامیاب محبت کی ہنسی دل جلاتی ہے اور ناکام محبت کی آہیں روح افزا ہیں۔اب کچھ بہتر ہو گیا ہے، محبت کے لیے تھوڑی سی گنجائش بن گئی ہے لیکن اس تھوڑی سی بہتری کی سزا بہت زیادہ ہےکیونکہ غیرت کے نام پر قتل بھی بڑھ گئے ہیں۔ خیر ان دونوں کی ناکام محبت بھی مرگ کے موقع پر تفنن طبع کی ایک وجہ بن گئی ۔ مرگ جس کی ہم لوگ زندگی سے کہیں زیادہ عزت کرتے ہیں، ۔خود ہی دیکھ لیں، انسانی جذبوں کی ناکامی سے ہمارے لوگ کتنا لطف لیتے ہیں۔
ہم بھی خواہ گھمبیر باتوں میں الجھ جاتے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں بھی کرنا ضروری ہے ۔خیر آگے بڑھتے ہیں، مرگ ایک ایسا موقع ہوتا ہے، جس پر رشتے کی گہرائی اور استواری کا اظہار کرنا ہمارے ہاں بہت ضروری سمجھا جاتا ہے۔ دور دراز سے دوست رشتہ دار غم میں شرکت کرنے کے لیے آتے، کچھ چارہ جوئی ،اشک شوئی کرتے ہیں، ڈھارس بندھاتے ہیں تسلیاں دیتے ہیں اور کبھی کبھی جوش تسلی میں کچھ بے قابو بھی ہو جاتے ہیں۔ آنے والے رشتہ دار سے دوڑ کر لپٹنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اگر نشانہ خطا ہو جائے ، تو کبھی کبھی چاروں شانے چت بھی ہو جاتے ہیں۔
ایک گاوں میں یہ رواج تھا کہ جیسے ہی موت کی خبر ملتی، جس کے ہاتھ میں جو شے ہوتی، وہ قاصد کے سر پر دے مارتا، بوتل، ڈنڈا، اینٹ، پتھر، کچھ بھی ہو اور اگر کچھ نہ ہوتو تھپڑ ، گھونسہ یا لات تو ضرور جما دیتا۔ شاید خبر بد کی روک تھام کا کوئی ٹوٹکا ہو یا موت کو قریے سے بھگانے کا کوئی ٹونا۔ایک دفعہ کوئی ہردلعزیز آدمی کسی آلہ ضرب کا شکار بن کر شدید زخمی ہو کر مرتے مرتے تو لوگوں کو کچھ عقل آئی ،انھوں نے یہ قاتلانہ رسم ترک کر دی۔
ایک اور رسم ہمارے ہاں موت کے رقص کی تھی۔جب بھی کوئی جوان رعنا فوت ہو جاتا تو کمر میں دوپٹے ڈال کر نوجوان خواتین دائرے میں قدموں کی ایک مخصوص تھاپ پر رقص کیا کرتی تھیں جو زندگی کے بہاو اور موت کے ٹھہراو کی عکاسی کرتا نظر آتا تھا۔
ایک رسم ردھالیوں کی بھی ہوتی تھی جو کم ہو گئی ہے جس میں موت کے گیتوں کے ذریعے رلا رلا کر دل کا بوجھ ہلکا کیا جاتا تھا۔ اب قصیدہ بردہ زیادہ پڑھا جاتا ہے اور رسم کے ذمہ دار ہم خود ہیں لیکن جب کوئی اپنا مر جائے تو وہ سب ہو جاتا ہے جس کا آپ کبھی سوچتے بھی نہیں۔لوگوں کو ہمارا اظہار غم کا طریقہ بھا گیا، انھوں نے اسے رسم بنا لیا۔ دو عشرے ہونے کو آئے ،اس موت کا تو ہم ابھی تک غم کرتے ہیں، لیکن اب خانم پریسا کا برس بہ برس ‘ای دل وجان عاشقاں’ سنتے ہیں۔
اب معاملات دکھیا ہونے لگے ہیں، اس لیے ہم بات سمیٹتے ہین کہ ہم ہنسوڑ ہیں اور رلانا تو ہمیں اچھا ہی نہیں لگتا، اسی لیے ہم نے موت کے اندوہ خیز پہلووں سے متعلق اتنی زیادہ بات نہیں کی۔
اور آخر میں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ ہمارے ہاں لے میں گریہ کرنے کی رسم بھی ہے۔ ایک دفعہ بعد از جنازہ یوں اظہار غم ہو رہا تھا۔
بھا ئی او بھائی، تم دیر سے آئے کیوں
اپنوں کو بے دردی سے رلائے کیوں
میں تو اڑ کر پہنچتا رستے میں لیکن
بے وقت گاڑی کا ٹائر پھٹ جائے کیوں
ہمارے ہاں کی اموات میں سڑک کے اس پار کے لوگوں کے رویے بھی دیدنی ہوتے ہیں۔
ارے اتنا بڑا جنازہ ، چس ( مزا) ہی آگئی۔
یہ تو ادھر خراٹوں کے مزے لے رہے ہیں، ان کو کسی کی موت کی کیا پروا۔
اب آیا ناں مزا، بچو میرے تایا کی موت پر قیقہے لگاتے تھے، دیکھو کیسے پچھاڑیں کھا رہے ہیں۔
لیکن سڑک پار والوں سے کبھی کسی نے ان کے طنز کا گلہ نہیں کیا سب جانتے ہیں کہ یہ تو ہیں ہی ایسے۔
پھر جنازے کے بعد کھانا ہو تا ہے اور کبھی کبھار یہ کھانا بھی مزاحیہ صورت حال کا باعث بن جاتا ہے۔ ایک دفعہ ایک خاتون مرغے کی ٹانگ کھانے میں مصروف تھیں کہ رشتہ داروں کی ایک گریہ کناں ٹولی آ دھمکی۔ اب روتے ہوئے ان ٹولیوں کا استقبال بھی ضروری ہوتا ہے ورنہ یہ بے دردی سمجھی جاتی ہے اور غمزدوں کی فہرست میں سے آپ کا نام بھی کاٹ دیا جاتا ہے جو ایک قسم کا معاشرتی مقاطعہ بھی ہوتا ہے۔ اب وہ خاتون مرنے والے رشتوں داروں کو خوش کرنے کے جوش میں مرغے کی ٹانگ ہاتھ میں لیے آہ و بکا میں گم ہو گئیں۔ ایک کتا ان کے ہاتھ میں مرغے کی ٹانگ کا درپے ہو گیا۔ اور گریے کی کچھ یوں صورت ہو گئی۔
ہائے پائے بہنا ہائے ہائے
در در بہنا در در
ایسے عالم میں رونا ہزار ہمدردی کے باوجود مشکل ہو جاتا ہے
Facebook Comments HS

