جنگ نے آخر کام تمام کیا


گہری رنگت، بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، چوڑی پیشانی، سیاہ، چھوٹے تراشیدہ بالوں کی وگ، قدرے لمبا قد، متوازن جسم اور عمر شاید اڑسٹھ سال کے قریب ہو گی۔ انڈریا کا مسئلہ درد کش دواؤں کا استعمال تھا۔ اب وہ میتھوڈون کلینک میں اپنے علاج کے آخری مراحل پہ تھی۔ ماسوا میتھڈون کی انتہائی قلیل مقدار کے جو اس کے علاج کا حصہ تھی، وہ کچھ ہی دنوں میں میتھوڈون کے استعمال سے بھی آزاد ہو جائے گی۔ الکوحل کو، جو یہاں ہر کس و نا کس کا پسندیدہ مشروب ہے، وہ پہلے ہی تیاگ چکی تھی۔ اینڈریا نے بارہا اس سے اپنی نفرت کا اظہار کیا۔ ”میں کبھی بھی شراب کو نہیں چھوؤں گی۔“ مجھے پتہ تھا کہ وہ کیوں ایسا کہتی ہے۔ اس کی زندگی میں الکوحل اور منشیات کا کردار بہت منفی تھا۔ شادی شدہ زندگی میں تلاطم اور اس کی محبوب سے جدائی کا سبب منشیات اور الکوحل کا بے تحاشا استعمال تھا۔ جس کے اثر میں اس کا شوہر، جو کبھی اس کا محبوب اور اس کے تین بچوں کا باپ تھا، بے دریغ اس پہ ہاتھ اٹھاتا۔ پھر پچھتاتا، معافی مانگتا لیکن پھر سب بھلا کے دوبارہ مارتا۔

اپنے آخری سیشن میں اینڈریا نے مجھ سے کہا ”مجھے پتہ ہے کہ تم لکھتی ہو۔ کاش تم میری کہانی بھی لکھ سکو۔ اور لوگوں کو بتا سکو کہ جنگیں کیسی کیسی تباہیاں لاتی ہیں۔ میدان جنگ کا توشہ اس میں پڑی، سڑتی ہوئی لاشیں اور مفلوج جسم ہی نہیں، ساری عمر خون رستے زخمی دل بھی ہیں جن میں درد ہمیشہ کے لیے کہیں بیٹھ سا جاتا ہے، کبھی نہ جانے کے لیے۔ یہ جنگیں تو بڑے خسارے کا سودا ہیں۔ اس میں کسی کی کوئی جیت نہیں، بس زیاں ہی زیاں ہے۔ جان و مال کا ہی نہیں، رشتوں کی پائمالی کا، محبتوں کے کھو جانے کا۔

رابرٹ اور اینڈریا کا پیار سن ساٹھ کی ابتدائی دہائی میں پروان چڑھا۔ جب امریکہ ویتنام کی جنگ عروج پہ تھی تو ان دونوں کی بھی اٹھتی جوانی اور عشق بھی اپنے شباب پہ تھا۔ مڈل اسکول سے ہائی اسکول تک ساتھ ساتھ۔ محبت کی بھینی خوشبو میں لپٹے، بارود کی بدبو اور جنگ کی مسموم فضا سے بہت دور۔

اس وقت سفید امریکہ میں دنیا کے دوسرے حصوں سے غلامی کی غرض سے ملک میں بسائے جانے والے سیاہ فاموں کے ساتھ تفریق کا رویہ عام تھا۔ ویسے امریکہ میں کالے تو آج بھی غلامی کی علامت سمجھے جاتے ہیں مگر اس وقت تو گوروں کے امریکہ میں کالوں کے محلے، اسکول، ریسٹورنٹ، حتیٰ کہ پانی کے نلکے بھی علیحدہ تھے۔ اس وقت بھی امریکہ کا خود اپنے مجبور اور مفلوک حال کالے، دوسرے ملکوں سے نقل مکانی کرنے والے شہریوں سے لے کر دنیا کے دوسرے کمزور ممالک پہ حکمرانی کا نشہ سر چڑھ کے بول رہا تھا۔

ایسے تحقیری اور تفریقی ماحول میں اینڈریا اور رابرٹ کی محبت ایک دوسرے لیے ڈھال اور طاقت بنی ہوئی تھی۔ وہ دونوں اپنی محبت اور تعلیم کو ہتھیار بنا کے اس غیر منصف معاشرے سے لڑنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ہائی اسکول کے بعد اٹھارہ سال کی عمر میں دونوں نے شادی کرلی۔ انہیں ساتھ جو رہنا تھا عمر بھر کے لیے۔ اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن سن ساٹھ کی دہائی کے آخر میں رابرٹ ان نوجوانوں میں شامل ہو چکا تھا جنہیں امریکہ نے اپنے مفاد کی جنگ لڑنے ویتنام کی جنگ میں دھکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اکیس بائیس سال کی عمر ہوتی ہی کیا ہے۔ لیکن اس وقت امریکی فوج کو مضبوط جسموں والے نوجوانوں کی ضرورت تھی جو ویتنام میں جنگ کا ایندھن بن سکیں۔ دنیا میں اپنی حکمرانی اور تسلط کا ٹھیکا جمانے کے لیے۔ اندھے مفادات بھلا محبت بھرے جذبات اور قلبی رشتوں کا خون کرنے سے کب چوکتے ہیں۔ شادی کے صرف چند سال بعد اینڈریا اور دو کم سن بچوں کو چھوڑ کر جانا رابرٹ کا اختیاری فیصلہ نہیں مجبوری تھی۔ ایسا سپاہی جس نے کبھی چڑیا کے بچے کو بھی نہ مارا تھا، ویتنام میں انسانوں کو مارنے کے لیے تیار کیا گیا۔ رابرٹ امریکہ اور ویتنام جنگ میں جانے کتنے جسموں کو اپنی بندوق کی گولیوں سے چھلنی کر بیٹھا تھا۔ جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔ مرد، عورتیں اور ننھے بچے۔ سب انسانی جانیں بے وقعت، رینگتے حقیر سے کیڑے مکوڑے بن جاتے ہیں۔ لڑائی کے دوران رابرٹ کو بھی زخموں سے گزرنا پڑا لیکن اندمال کے بعد اسے فتح مندی اور تفاخر کا احساس ہوا۔ آخر اس نے اپنے آقا کے حکم کی بجا آوری کی۔ فتح مندی کا تمغہ تو ملنا چاہیے۔ مگر جنگ کے خاتمہ پہ وہ زخم خوردہ سپاہی کی صورت واپس لوٹا۔

جن لوگوں کا اس نے خون کیا تھا اب وہی لہو بہتے تڑپتے لاشے اس کے اعصاب سے چمٹے ڈراؤنے خواب بن چکے تھے۔ اب وہ میدان جنگ میں نہیں تھا مگر گھر واپسی پہ ہر جانب سے بم کے گولے برساتے سوالات کی بوچھاڑ تھی۔ کبھی کسی کمسن بچے کی خوفزدہ آنکھیں تو کبھی مردہ ابھرے پیٹ والی حاملہ عورت جو رابرٹ کی گولی سے جان سے گئی تھی، کے جسم میں بے ترتیب گہری سانس لیتا نامکمل بچہ پوچھتا ”میں نے بھلا تمھارا کیا بگاڑا تھا؟“ وہ منشیات کا عادی ہو چکا تھا۔ سکون کے لیے درد کش منشیات اور الکحل کا سہارا نہ ہوتا تو جانے وہ کہاں جاتا۔ ہر سال چار جولائی کو آسمان پہ ہونے والی آتش بازی (فائر ورک) تو اسے دونوں کان بند کر کے پاگلوں کی طرح چیخنے کی طرح مجبور کر دیتی۔ وہ دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھ کر زور زور سے چلاتا، تاکہ باہر کا شور اسے کے اندر کی آوازوں کو دبا سکے۔ آتش بازی اور اس کی روشنی میں چنگھاڑتی آوازیں اور مختلف رنگوں کی بارش اسے ہیجانی اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا کر دیتی۔ وہ کمرہ بند کر کے اپنے بستر پہ تڑپنے لگتا۔ ان فوجیوں، بچوں اور عورتوں کی طرح جنہیں اس کی گولیوں نے تڑپ تڑپ کے مرنے کے بعد ٹھنڈا کر دیا تھا۔ وہ ٹھنڈے مردہ اجسام اسے عمر بھر کی آگ میں جلنے کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ واقعی اگر منشیات کا سہارا نہ ہوتا تو آخر وہ ماضی کی ان پرچھائیوں کا کیا کرتا۔ خود کو جیتے جی کہاں دفن کرتا۔

اینڈریا نے بتایا کہ وہ علاج کے لیے فوجیوں کے ہسپتال کے ڈاکٹرز کے پاس جاتا۔ دوائیں اور سائیکو تھرپی سیشنز بھی لیتا مگر افاقہ بہت معمولی ہی ہوتا۔

علاج معالجے کے وسائل کی کمی اس گہرے زخم بھرنے کے لیے ناکافی تھی۔ اینڈریا نے بڑی بڑی آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے محبوب کے ساتھ رشتہ کو قائم رکھنے کی کوشش میں بار بار پٹتی رہی، مار کا دکھ سہتی رہی۔ مگر کب تک؟ آخر کار نہ چاہتے ہوئے بھی رشتہ توڑنا اس کی مجبوری بن گیا۔ اپنی اور بچوں کی ذہنی صحت کے لیے۔ بالآخر اپنے بچوں کی ذمہ دار ماں اس مرد کے بندھن سے آزاد ہو گئی۔ جو اس کا محبوب، اور اس کے بچوں کا باپ تھا۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کسی دوسرے مرد کی بیوی بن گئی۔ پر عورت پہلی بار جس کو دل دے اس کے دام سے نکلنا ایسا آسان کہاں۔ اینڈریا بھی اس کو کبھی نہ بھولی جو اس کا ہائی اسکول ”سویٹ ہارٹ“ تھا۔

رابرٹ کی مفلوک الحالی، شراب نوشی اور ہیروین کے نشہ کی کثیر مقدار نے اس کی زندگی کا ٹمٹماتا دیا بجھا دیا۔ وہ آنکھیں جو کبھی اپنی محبوبہ کی ایک جھلک پہ چمک اٹھتی تھی، اپنے بچوں کے مستقبل کے سہانے سپنے اور تفریق سے پاک معاشرے کے خواب بنتی تھیں۔ ایک دن ہمیشہ کے لیے بند ہو چکی تھیں۔ اس کا جسم جو کبھی سیاہ چمکدار کڑیل جوانی سے بھرپور تھا، اب مرجھایا ہوا سیاہ بدہیبت بوڑھی چرمرائی کھال کے بطن میں ڈھل چکا تھا۔ نشے میں دھت اپنے جسم کو کمبل میں لپیٹے وہ کسی دور ویران پل کے نیچے عمر کی گھڑیاں تمام کر چکا تھا۔ سالوں پرانی جنگ کے گدھ نے بالآخر اس کو پورا نوچ لیا تھا۔

رابرٹ کا ذکر کرتے ہوئے اینڈریا کی آنکھیں اب بھی بھیگ جاتیں۔ کسی نے ٹھیک ہی کہا عورت دل ایک ہی بار دیتی ہے باقی سب تو جسم کو زندہ رکھنے کے بہانے ہیں۔ اب اینڈریا جا چکی ہے۔ اس کا علاج مکمل ہو گیا ہے۔ شاید کسی جگہ کام بھی کر رہی ہو۔ مگر جنگ نے تو تمام عرصہ پہلے ہی اس کا کام تمام کر دیا تھا۔ اب تو زندہ رہنے کے بہانے ہی رہ گئے ہیں۔

Facebook Comments HS