پاکستانی صحافت: ذمہ داریاں اور چیلنج


سادہ سی تعریف میں صحافت مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے خبروں کو جمع کرنے اور مرتب کر کے پیش کرنے کے فن اور سائنس کا نام ہے۔ علم ایک طاقت ہے اور ہم کسی بھی منظر نامے میں زندہ رہنے کے لیے تازہ ترین معلومات کے مستقل حصول پر انحصار کرتے ہیں۔ خبریں ہمیں اپنے ارد گرد کی دنیا کے حالات و واقعات سے آگاہ کرتی ہیں۔ اور ان معاملات کی طرف ہماری توجہ دلاتی ہیں جن کے بارے میں ہمارا جاننا ضروری ہے۔ ہمیں عمل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ آج کل کی دنیا میں صحافت ہمیں ہماری برادریوں، معاشرے، کاروبار حتی کہ حکومتوں کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے ہمارے فیصلوں سے آگاہ کرتی ہے۔

دانشور ان اصولوں پر مبنی صحافت کو ایک صحت مند اور صاف ستھری صحافت خیال کرتے ہیں۔

1۔ حقیقت پسندی۔ Truthfullnessصحافت کا اہم ترین عنصر حقیقت پسندی ہے، صحافی کو ہمیشہ حقیقت بغیر کسی تبدیلی کے پیش کرنا چاہیے۔

2۔ آزادی۔ (Independence) صحافت کو آزادی کا حق ہونا چاہیے تا کہ وہ بغیر کسی دباؤ کے خبریں پیش کر سکے

3۔ انصاف۔ (Fairness) صحافتی رپورٹنگ میں عدالت کا اصول بہت اہم ہے۔ صحافی کو تمام اطراف کو برابر موقع دینا چاہیے۔

4۔ اخلاقی معیار۔ (Ethical Stadards) صحافت کو مروجہ اخلاقی معیار پر پورا اترنا چاہیے۔

5۔ مصلحت عامہ۔ (Public Interest) صحافت کا مقصد عوام کی مصلحت کی روشنی میں خبریں پیش کرنا ہوتا ہے۔

آج کی دنیا میں صحافت اخبارات، میگزین، کتابیں، بلاگز، ویب کاسٹ، پوڈ کاسٹ، سوشل نیٹ ورکنگ، سوشل میڈیا سائٹس اور ایمیل کے ساتھ ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے خبروں اور متعلقہ تبصروں، فیچر کی تیاری کے لئے مواد اکٹھا کرنے اور اس کی تیاری اور تقسیم، ریڈیو، موشن پکچرز کے ذریعے معلومات لوگوں تک بہم پہچانے کا نام ہے۔ ابتدا میں صحافت اخبارات، رسائل، ریڈیو اور موشن پکچرز تک محدود تھی لیکن اب اس کی تعریف میں وسعت آ گئی ہے۔ کچھ دانشوروں کے مطابق صحافت واقعات، حقائق، خیالات اور لوگوں کے باہمی تعامل پر رپورٹ کی تیاری اور تقسیم ہے جو معاشرے کو کسی حد تک درست معلومات سے آگاہ کرتی ہے۔

اردو صحافت کا باقاعدہ آغاز آج سے دو سو سال پہلے برصغیر پاک و ہند میں کلکتہ کے مقام سے ہوا۔ جب ایک بنگالی ہندو برہمن ہری ہر دات نے 27 مارچ 1822 کو پہلا اخبار ”جام جہاں نما“ کے نام سے شائع کیا۔ اس اخبار کے پہلے ایڈیٹر ایک پنجابی لالہ سدا سکھ لال تھے جب کہ اس کے پرنٹر برطانیہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم ولیم ہاپکنز تھے۔ زمیندار اخبار کے مالک اور چیف ایڈیٹر مولانا ظفر علی خان اور 1939 ء میں روزنامہ جنگ کی ابتدا کرنے والے جناب میر خلیل الرحمن کو اردو صحافت کا سرخیل مانا جاتا ہے۔ نوائے وقت کے مجید نظامی بھی پاکستان کی اردو صحافت کا ایک بڑا نام ہیں۔ برطانیہ میں اردو صحافت کے آغاز کا سہرا ریاست جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے جناب محمود ہاشمی کے سر ہے جنھوں نے پاکستانی تارکین وطن کے لئے ساٹھ کی دہائی میں اخبار مشرق کی اشاعت کا آغاز کیا۔

ہمارے بچپن میں اردو صحافت اخبارات، فلمی و ادبی رسائل، ریڈیو، ٹی وی اور پھر ستر کی دہائی میں شائع ہونے والے ڈائجسٹوں تک محدود تھی۔ میرپور کے چھوٹے سے گاؤں میں واقع ہمارے گھر میں 1960 ء میں کوہستان اخبار روزانہ ڈاک کے ذریعے آتا تھا۔ سن ستر میں ہمارے سکول کے زمانے میں جنگ اخبار پچیس پیسے کا آتا تھا۔ اخبار بینی کے شوق میں سکول کے لئے ملنے والے جیب خرچ سے کچھ کھانے کی بجائے میں روزانہ جنگ اخبار خریدتا تھا۔ ساٹھ کی دہائی میں جنگ، نوائے وقت، امروز، مشرق اور کوہستان پاکستان سے شائع ہونے والے اردو زبان کے بڑے اخبارات تھے۔ زیب النساء، حور اور تہذیب نسواں خواتین کے رسائل تھے۔ ادبی پرچوں میں سویرا، نقوش اور ادب لطیف قابل ذکر تھے، جب کہ ڈائریکٹر، شمع اور مصور کا شمار فلمی رسائل میں ہوتا تھا۔ اخبار جہاں اور بعد میں فیملی میگزین کا شمار بھی اردو کے ہفتہ وار بڑے رسائل میں ہوتا تھا۔

ان دنوں اخبارات کا ایک معیار تھا۔ ڈان، پاکستان ٹائم انگریزی زبان کے مستند اخبار تھے۔ اردو اخبارات میں زبان و بیان اور خبر کی صداقت کا خیال رکھا جاتا تھا۔ کوئی بھی سرخی سنسنی خیز نہیں ہوتی تھی۔ خبر چھاپنے سے پہلے اس کی اچھی طرح چھان پھٹک کر لی جاتی تھی۔ صحافیوں کا بھی ایک اپنا معیار تھا۔ بہت بڑے بڑے نام ہیں، لالچ و حرص سے کوسوں دور، انتہائی تربیت یافتہ، خبر کی تلاش میں سرگرداں رہنے والے صحافی اب چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ اخبار میں زبان و بیان اور گرامر کی غلطی کا کوئی امکان نہیں ہوتا تھا۔ کاتب حضرات صحافیوں سے زیادہ زبان دان تھے۔ ان کے قلم سے کوئی غلط جملہ یا لفظ لکھا ہی نہیں جاتا تھا۔ ایک طرح سے اردو صحافت اردو زبان کے ارتقا کی عکاس ہے۔ سیاسی اور سماجی مسائل پر مضامین لکھنے والے کالم نگاروں کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔

80 ء کی دہائی میں نئے اخبارات کا ایک سیلاب آ گیا۔ بہت سے اخبارات مارکیٹ میں آنے سے صحافت ایک کاروبار کی شکل اختیار کر گئی۔ مسابقت کی اس دوڑ میں اخلاقیات اور خبروں کے معیار میں انتہا درجے کی پستی آ گئی۔ سنسنی خیزی اور چٹ پٹی خبروں کو عروج حاصل ہوا۔ اسی دور میں خود رو پودوں کی طرح صحافیوں کی ایک ایسی جماعت وجود میں آئی جن کی بڑی تعداد غیر تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ غیر تربیت یافتہ تھی اور اخلاقیات سے بھی بہت دور تھی۔ خبروں کے معیار پر توجہ دینے کی بجائے سنسنی خیز اور نامناسب سرخیوں کا رواج شروع ہوا۔ چٹ پٹی خبروں اور تصویروں کے ساتھ دو صفحے کے شام کے اخبارات کا آغاز ہوا۔ یہ اردو صحافت کی تنزلی کے دور کا آغاز تھا۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے دھنک، محور اور چترالی جیسے رسائل نے فحاشی کو فروغ دے کر رسائل سے بھی سنجیدہ لوگوں کو بد ظن کر دیا تھا۔ اخبارات میں مرکزی صفحات پر خبر کی جگہ رنگین اشتہارات نے لے لی۔ ایک اور تبدیلی بریک اپ نیوز کی آ گئی جس سے مرکزی صفحہ کی خبریں پچھلے صفحات پر چلی گئیں۔

اکیسویں صدی کے آغاز سے صحافت کا منظر نامہ زوال پذیر ہونا شروع ہو گیا تھا۔ ایسے میں بہت سے کالم نویسوں نے صحافت کو سہارا دینے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود حالیہ برسوں میں اردو پریس کی مجموعی اشاعت میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ اخباری مالکان اور صحافیوں کو ایسے نتائج پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

آج جب اردو صحافت اور طباعت آفسٹ پرنٹنگ اور کمپیوٹر ٹائپ سیٹنگ کے دور میں ہے، قارئین کی نئی نسل ماضی کے اس دور کی مشکلات سے واقف نہیں ہے جس سے اردو صحافت تقریباً ایک صدی تک دبی رہی ہے۔ نئی ٹیکنالوجی نے نئے مواقع کے دروازے کھول دیے ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اردو پرنٹ جرنلزم کا سنہری دور ختم ہو چکا ہے۔ اب ڈیجیٹل اردو میڈیا کا مستقبل ہے۔

صحافت کا پیشہ تین بنیادی اجزا پر مشتمل ہے۔ انتظامیہ۔ اشاعت اور تجارت۔ اکثر لوگ اسے انتظامیہ اور اشاعت کا مسئلہ سمجھتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ اخبار کی اشاعت بھی آمدنی کا ایک ذریعہ ہے جس سے پوری اخباری صنعت وابستہ ہے۔ اخبارات کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ اشتہارات کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے۔ اشتہارات منافع بخش ہیں۔ اخبار ہو یا رسالہ بغیر اشتہارات کے زندہ نہیں رہ سکتا۔ اشتہار کے لیے تعداد اشاعت کا زیادہ ہونا لازمی ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کو اپنی تجارت اور مفاد سے مطلب ہوتا ہے اس لئے وہ اردو اخبارات اور رسائل کی جانب توجہ نہیں دیتے۔ فی زمانہ پرنٹ اخبار کے ذریعے اشتہار دینا منافع بخش نہیں ہے کیوں کہ پرنٹ اشتہار کے لیے بہت سارے عملے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں اخراجات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اس ڈیجیٹل دور میں آن لائن یا ای اخبار کے ذریعے اشتہار دینے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ای اخبار اپنے روز مرہ کے صارفین کو سبسکرپشن بھی فراہم کرتے ہیں۔ ان کی ضرورت کا خیال کرتے ہیں۔ رکنیت کے ذریعے ان اخبارات کو آمدنی بھی ہوتی ہے۔

پاکستان میں اخبارات خصوصاً اًردو اخبار اور رسائل کی اشاعت میں بہت سی مشکلات درپیش ہیں۔ سب سے پہلا اور اہم مسئلہ باذوق قارئین کی کمی ہے۔ اس کی بہت سی دوسری وجوہات بھی ہیں جن میں مادری زبان میں عدم دلچسپی اور ناواقفیت، وقت کی کمی، اسمارٹ فون، ٹی وی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ٹیبلٹ، فلمی گانے اور دیگر مصروفیات وغیرہ شامل ہیں۔ کمپیوٹر کمپوزنگ اور طباعت میں بہت سی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ قابل، محنتی اور تجربہ کار عملہ کا فقدان ہے۔ کمپوزنگ اور پیسٹنگ کے بہت سے مسائل ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی کی فراہمی میں تعطل اور قیمت میں اضافہ، کا غذ کی سپلائی اور قیمت میں اتار چڑھاؤ، ٹیکنیکل اور دفتری عملہ کی عدم دستیابی اور سرکولیشن جیسے مسائل ہیں جس کے باعث اخبارات مقررہ معیار کو برقرار نہیں رکھ پاتے۔ ہمارے ہاں علما، دانشوروں، ادیبوں و شاعروں، وکلا اور صحافی حضرات میں سے بہت کم ہی اخبار یا رسالہ خرید کر پڑھتے ہیں۔

ایسے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کی چمک دھمک سے پرنٹ میڈیا دھندلا جائے گا۔ لیکن ان سب مشکلات کے باوجود ایسا ممکن نہیں ہے۔ پرنٹ میڈیا کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ باقی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک تصویر ہزار خبریں بیان کر دیتی ہے لیکن الیکٹرانک میڈیا میں کوئی بھی خبر چند منٹ سے زیادہ دکھائی نہیں جا سکتی۔ اور پھر ان خبروں کو محفوظ رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ جب کہ اخبار آدمی کہیں بھی پڑھ سکتا ہے اور کہیں بھی اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے اور کسی دوسرے واسطے جیسے بجلی کا محتاج نہیں ہوتا اور پھر قیمت بھی بہت کم ہوتی ہے۔

(یہ مضمون پاکستان پریس کلب برطانیہ لٹریری اینڈ کلچر فورم کے زیر اہتمام 29 اپریل 2024 کو برمنگھم میں منعقد ہونے والے سیمنار ”پاکستانی صحافت ذمہ داریاں اور چیلنجز“ میں پڑھا گیا-)

Facebook Comments HS