عنوان: چیخوف کی سوانح عمری، تعارفی خاکہ: قسط اول


مصنف: کانسٹینس گارنیٹ
انگریزی سے ترجمہ: علی حسن اویس

1841 ء میں روسی رئیس کے ایک کمیرے نے فی کس 700 روبل ادا کرتے ہوئے اپنی اور اپنے خاندان کی آزادی 3500 روبل کے عوض حاصل کی، جبکہ اس کی چھوٹی بیٹی الیگزینڈرا کو بغیر کسی معاوضے کہ آزاد کر دیا گیا۔ مصنف آنتون چیخوف اسی کمیرے کا پوتا تھا۔ جبکہ اس رئیس کا بیٹا تہرتکوف، ٹالسٹائین 1 نظریات کا حامی اور ٹالسٹائی کا دوست تھا۔

( 1۔ ٹالسٹائی کے نظریات کا حامی وہ شخص ٹالسٹائین کہلاتا ہے جو جائیداد کی ملکیت کو گناہ خیال کرتا ہے، اور سادہ زندگی کے ساتھ ساتھ دستی مشقت کی وکالت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان تمام مذہبی تعلیمات کو جو براہ راست میسحیت سے تعلق نہیں رکھتیں، مسترد کرتا ہے۔ (مترجم) )

اس میں ایک روسی کے لیے کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ لیکن انگریزی کے طالب علم کے لیے یہ کئی وجوہات کی بنا پر اہم ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ انقلاب سے پہلے روس کا تعلیم یافتہ متوسط طبقہ کتنا ترقی یافتہ تھا۔ یہ عمل بڑی عمدگی سے روسی لوگوں کی یکسانیت، اور ان کے زندگی گزارنے کے طریقے کو مکمل طور پر دوسرے دھارے پر ڈالنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

چیخوف کے والد نے بطور غلام زندگی کا آغاز کیا تھا، لیکن اس غلام کا بیٹا فنون لطیفہ کے حوالے سے اور بھی زیادہ حساس، فطری طور پر مہذب اور رئیس کے بیٹے سے زیادہ منطقی چیزوں سے محبت کرنے والا تھا۔ چیخوف کا والد پاول یگورووچ، موسیقی کا ذوق اور گانے کا شوق رکھتا تھا۔ غلامی کے دنوں میں ہی، دیکھتے ہی دیکھتے اس نے گانا گانا اور وائلن بجانا سیکھ لیا تھا۔ آزادی خریدے جانے کے چند سال بعد اس نے بحیرہ ازوف کے کنارے واقع قصبہ تگنروگ میں ایک کالونیل سٹور کھولا۔

ولادیکاوکاز تک ریلوے لائن بچھانے جانے تک، جس سبب تگنروگ کی بطور بندر گاہ اور تجارتی مرکز حیثیت شدید متاثر ہوئی، چیخوف کے والد کا کاروبار خوب چمکا۔ مگر پاول یگورووچ ہمیشہ سے ہی کاروبار کو نظر انداز کرنے پر مائل تھا۔ اس نے شہر کے تمام امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، خود کو مذہبی سنگیت کے لیے وقف کر دیا، سرود گاہ کا حصہ بنا، وائلن بجایا، اور شبیہیں رنگا کیں۔

1854 میں اس نے یوجینیا یاکولیونا موروزوف، اچھی تعلیم یافتہ اور کپڑے کے تاجر کی بیٹی، سے شادی کی۔ وہ تاجر کاروباری معاملات کے سلسلے میں تمام عمر روس کے سفر میں گزارنے کے بعد ، تگنروگ میں سکونت اختیار کر چکا تھا۔

عام پدرانہ ماحول کے حامل اس خاندان کے چھ بچے تھے، پانچ لڑکوں میں آنتون کا نمبر تیسرا تھا۔ سخت مزاج والد، غیر معمولی معاملات میں بچوں کو سزا دینے سے بھی دریغ نہ کرتا، اس کے باوجود سب گرمجوشی اور محبت سے رہتے تھے۔ سب جلد بیدار ہو جاتے، لڑکے ہائی سکول چلے جاتے اور واپسی پر اپنے اسباق یاد کرتے۔ ہر ایک کا اپنا اپنا مشغلہ تھا۔ بڑا لڑکا الیگزینڈر برقی بیٹری بناتا، منجھلا لڑکا نکولے تصویر کشی کرتا، آئیون کتابیں جلد کرتا اور آنتون ہمیشہ کہانیاں لکھتا۔ شام میں جب ان کا والد دکان سے گھر آتا تو گانے اور دوگانے گائے جاتے۔

پاول یگورووچ نے اپنے بچوں کو باقاعدہ سرود گاہ میں پڑھ کر گانا گانے اور وائلن بجانے کی تربیت دی۔ جب کہ ایک زمانے میں ان کے پاس پیانو سکھانے کے لیے موسیقی کے استاد بھی تھے اور ایک فرانسیسی گورننس بھی تھی جو انہیں زبانیں سکھانے آئی تھی۔ ہر ہفتے کو پورا خاندان شام کی عبادت کے لیے جاتا، اور واپسی پر بھجن گائے جاتے اور اگربتیاں جلائی جاتیں۔ اتوار کی صبح وہ پہلے اجتماع میں جاتے، پھر گھر میں سب مل کر بھجن گاتے۔ آنتون کلیسا کی تمام رسومات دل سے سیکھتا اور بھائیوں کے ساتھ مل کر گاتا۔

چیخوف خاندان کو ہمسایوں سے ممتاز کرنے والی بڑی خصوصیت، موسیقی کی عادت اور گھر میں مذہبی رسومات کی ادائیگی تھی۔ اگرچہ لڑکوں کو اکثر دکان میں اپنے والد کی جگہ لینا پڑتی تھی، مگر ان کے پاس لطف اندوز ہونے کے لیے کافی فرصت ہوتی۔ وہ کبھی کبھار تمام دن سمندری ماہی گیری کرنے، روسی ٹینس کھیلنے اور دادا کے ہمراہ ملکی سیر میں گزار دیتے۔ آنتون مضبوط، زندہ دل، فطین، اور ہر قسم کے لطیفوں اور کاروباری اداروں میں ناقابل تسخیر لڑکا تھا۔

وہ لیکچرز اور کرتب دکھانے کو تیار، اداکاری کرنے اور دوسری کی نقل اتارنے میں مشغول رہتا۔ بچپن میں، بھائیوں نے گوگول ”انسپکٹر جنرل“ کے نام سے ایک کرتب ترتیب دیا جس میں آنتون نے گوروڈنیچی کا کردار ادا کیا۔ اس کرتب میں آنتون کے پسندیدہ مناظر میں ایک منظر وہ بھی تھا جس میں قصبے کا گورنر، چرچ میں منائے جانے والے تہوار کی پریڈ کے لیے قالین پر چرچ کے وسط میں، غیر ملکی قونصلرز میں گھرا، کھڑا ہوتا۔ آنتون، ہائی سکول کی وردی میں ملبوس، شانے پر دادا کی قدیم کرپان رکھے، غیر معمولی باریک بینی سے گورنر کا کردار نبھاتا اور خیالی خطرات کا جائزہ لیتا۔ اکثر بچے کہانیاں سننے کے لیے اپنی ماں یا اپنی بوڑھی انا کے گرد جمع ہوتے۔ چیخوف کی کہانی ”خوشی“ اپنی انا کی کہانیوں میں سے اس کہانی کے اثرات کے تحت لکھی گئی جو ہمیشہ پر اسرار، غیر معمولی، خوفناک اور شاعرانہ ہوتی تھی۔

دوسری طرف ان کی والدہ نے بچوں کو حقیقی زندگی کی کہانیاں سنائیں اور بتایا کہ کس طرح بچپن میں اس نے پورے روس کا سفر کیا، کس طرح اتحادیوں نے کریمین جنگ کے دوران تگنروگ پر بمباری کی، اور غلامی کے دنوں میں کسانوں کی زندگی کتنی مشکل تھی۔ اس نے اپنے بچوں میں سفاکیت سے نفرت اور ان سب لوگوں کے لیے جو کمتر حیثیت میں تھے، پرندوں اور جانوروں کے لیے احترام کا جذبہ پیدا کیا۔

بعد کے سالوں میں چیخوف کہتے تھے : ”ہماری صلاحیتیں ہمیں اپنے باپ سے ملیں، لیکن ہماری روح اپنی ماں سے۔“

1875 ء میں دو بڑے لڑکے ماسکو چلے گئے۔ ان کے چلے جانے کے بعد کاروبار مندے سے گھاٹے میں چلا گیا اور خاندان غربت میں دھنس گیا۔ 1876 ء میں پاول یگورووچ دکان کو قفل ڈال، اپنے بیٹوں کے پاس ماسکو چلا گیا۔ اپنی روزی خود کماتے ہوئے، ایک لڑکا یونی ورسٹی میں پڑھتا تھا اور دوسرا سکول آف سکلپچر اینڈ پینٹنگ کا طالب علم تھا۔ گھر نیلامی میں فروخت کر دیا گیا، قرض دہندگان میں سے ایک نے تمام فرنیچر اٹھا لیا اور چیخوف کی والدہ کے پاس کچھ بھی نہ بچا۔

کچھ مہینوں بعد وہ، اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لیے، اپنے خاوند کے پاس ماسکو چلی گئی، جبکہ آنتون، جو اس وقت سولہ سال کا تھا، تین سال تک اکیلا تگنروگ میں رہا۔ کاروبار زندگی چلانے کی خاطر وہ خود کماتا اور ہائی سکول میں اپنی تعلیم کے اخراجات بھی خود اٹھاتا۔ وہ اس گھر میں، سیلیوانوف کے خاندان کے ساتھ، قیام پذیر رہا جو کبھی اس کے والد کا ہوا کرتا تھا، اور ایک قرض دہندہ نے خرید رکھا تھا۔ وہ اس کے بھتیجے کوسیک کو سبق پڑھاتا۔ اپنے شاگرد کو ساتھ لیے وہ قصبے میں قرض دہندہ کے گھر جاتا، گھڑ سواری کرنا اور گولی چکانا سیکھتا۔ پچھلے دو سالوں کے دوران وہ ہائی سکول کی لڑکیوں کی سوسائٹی کا دلدادہ تھا، اور اپنے بھائیوں کو بتاتا تھا کہ اس نے سب سے زیادہ خوش کن چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ (جاری)

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais