جائے ملازمت، پبلک مقامات پر جنسی ہراسانی کے قوانین اور شکایت کا طریقہ
ہمارے معاشرے میں ایک خاتون یا لڑکی اپنے کام کے سلسلے میں، تعلیمی ادارے میں جانے کی غرض سے یا دیگر کسی بھی ضرورت کے لیے اگر گھر سے باہر تنہا جاتی ہے تو اکثر و بیشتر اس کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مردوں کا خواتین کو گھورنا، سیٹی بجانا، آوازیں کسنا، چھونا، قابل اعتراض جملے بولنا جیسی تمام تر حرکات ہراسانی کے زمرے میں آتی ہیں۔
اگر ملازمت کرنے والی خاتون کو جائے ملازمت پَر یا کسی بھی دوسری جگہ جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے تو خاتون کیا کرے؟ کیسے مجرمان کو سزا دلوائے؟
کیونکہ سب سے پہلے جو خیال ایک لڑکی یا خاتون کے ذہن میں آتا ہے وہ پہلے تو بدنامی کا خوف ہے۔ دوسرے اگر ایک خاتون ہراسانی کی شکایت اپنے خاندان خصوصاً اپنے والد یا بھائی سے کرتی ہے تو وہ اُلٹا اس خاتون کے گھر سے دوبارہ باہر نکلنے پر پابندی لگا دیتے ہیں اس طرح نقصان خاتون کا ہوتا ہے کیوں کہ اس کے کام کا یا پڑھائی کا حرج ہوتا ہے۔
مگر اگر بدنامی کے خوف یا گھر میں مُقِید ہونے کے ڈر سے ایسے واقعات کو رپورٹ نہیں کیا جاتا تو ہراساں کرنے والے افراد کی ہمت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایسے واقعات کو فوری طور پر رپورٹ کرنا چاہیے اور خاندان والوں کو بھی چاہیے کہ وہ خاتون کی بات کو سنجیدہ لیں اور اس کا ساتھ دیں تا کہ ہراساں کرنے والے افراد کو قانونی طریقہ کار کے مطابق سزا دلوائی جا سکے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بازاروں میں، پبلک ٹرانسپورٹ پَر، دفاتر میں، تعلیمی اداروں میں غرض یہ کہ ہر جگہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات پیش آتے ہیں۔
اس کی روک تھام کے لئے ہمارے ہاں قوانین بنائے گئے ہیں۔ جائے ملازمت پر خواتین کو جنسی ہراسانی سے بچانے اور متاثرہ خاتون کو فوری انصاف دلوانے کے لیے قانون بنایا گیا جس کو انسداد ہراسانی ایکٹ 2010 (ترمیم شدہ 2012 ) کہا جاتا ہے۔
یہ قانون بنانے کا مقصد؟
ایک خاتون جو اپنے گھر سے کسی ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر، کام کرنے کے لیے، تعلیم حاصل کرنے کے لیے یا کسی بھی دیگر وجہ سے باہر جاتی ہے لیکن جب اس کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے تو اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا۔ اب ہوتا یہ ہے کہ دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو ان کے سینئرز کی جانب سے، ان کے ساتھیوں کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے متعدد واقعات پیش آتے رہے ہیں جس کی روک تھام کے لئے یہ ایکٹ بنایا گیا۔
جنسی ہراسانی ہے کیا؟
قانون کے تحت اگر کوئی شخص نا پسندیدہ جنسی پیش قدمی، جنسی تعلق کی کی استدعا یا دیگر زبانی یا تحریری روابط یا جنسی نوعیت کا جسمانی طرز عمل یا جنسی تذلیل جو کام کی انجام دہی میں رکاوٹ کا سبب بنے یا خوف و ہراس یا جارحانہ یا مخالفانہ ماحول کا باعث بنے، یا مذکورہ مُدعا پورا نہ کرنے پر خاتون کو سزا دینے کے لیے شرط رکھے، کسی خاتون کو مجبور کرے کہ وہ اس کو جنسی طور پر فائدہ پہنچائے، جنسی آسودگی کے عوض کوئی فائدہ پہنچانے کا وعدہ کرے، یہ تمام حرکات جنسی ہراسانی پر مشتمل ہیں۔
اس ایکٹ کے تحت کیسے جائے ملازمت پر خواتین کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے؟
اس ایکٹ کے تحت دفاتر میں جنسی ہراسانی کوڈ آف کنڈکٹ مناسب مقام پر آویزاں کرنا اور اس پر عمل درآمد کروانا لازم ہے۔ دفاتر میں انکوائری کمیٹیوں کا قیام بھی لازمی ہے جس کا مقصد خواتین ملازمین کی جانب سے ملنے والی ہراسانی کی شکایات کا فوراً ازالہ کرنا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت شکایت موصول ہونے پر انکوائری کمیٹی ہراساں کرنے والے ملازم کو بلائے گی۔ اس سے اس کا موقف سنا جائے گا۔ اگر انکوائری کمیٹی میں ثابت ہو جائے کہ فلاں ملازم کی جانب سے خاتون ملازم کو ہراساں کیا گیا ہے تو کمیٹی اس ملازم کو سزا و جرمانہ کرے گی اور اس کو نوکری سے بے دخل بھی کر سکتی ہے۔ انکوائری کمیٹی کے علاوہ متاثرہ خاتون وفاقی/ صوبائی محتسب میں بھی شکایت کر سکتی ہے۔ وفاقی/صوبائی محتسب میں سرکاری و نجی ملازمین کے خلاف شکایات سنی جاتی ہیں۔ اور شکایت رد ہونے کی صورت میں گورنر کے پاس اپیل کرنے کا حق بھی متاثرہ خاتون کو حاصل ہے۔
دفاتر کے علاوہ اگر خواتین کو باہر پبلک مقامات پر ہراساں کیا جائے تو سزا کیا ہے؟
وفاقی/ صوبائی محتسب میں شکایت کرنے کے علاوہ متاثرہ خاتون تعزیرات پاکستان کے تحت بھی شکایات درج کروا سکتی ہے۔
تعزیرات پاکستان کی دفعہ 354 اے کے تحت اگر کوئی شخص کسی عورت کے کپڑے اتارے یا اس خاتون کی غیر اخلاقی فوٹو انٹرنیٹ پر لگاتا ہے تو ایسے شخص کے خلاف خاتون فوراً ایف آئی آر درج کروائے تو اس جرم میں اس شخص کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ کسی پبلک مقام پر کوئی شخص کسی عورت پر نازیبا الفاظ کستا ہے، اس کو جسمانی طور پر ہراساں کرتا ہے یا کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس سے عورت کی جنسی ہراسانی ہو تو ایسے شخص کے خلاف ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے اور اس شخص کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 509 کے تحت 3 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ ہو سکتا ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 509 کے تحت پولیس کو شکایت/ ایف آئی آر درج کروا سکتی ہے۔ دفعہ 509 بالخصوص پبلک مقامات پر جنسی ہراسانی کی شکایات کے بارے میں متعلقہ دفعہ ہے۔
کسی خاتون پر زنا کا جھوٹا الزام لگانا بھی جرم ہے۔
کوئی شخص ایسا الزام کسی خاتون پر لگاتا ہے تو اس کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 496 سی کے تحت 5 سال قید ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی 18 سال کم عمر لڑکی کو بدکاری کے لیے اکساتا ہے تو ایسے شخص کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 366 اے کے تحت دس سال قید ہو سکتی ہے۔
وومن سیفٹی ایپ
خواتین، پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی موبائل ایپلیکیشن اپنے موبائل میں لازمی ڈاؤن لوڈ کریں اور اگر انہیں گھر میں یا گھر سے باہر ہراسانی کے کسی واقعے کا سامنا ہوتو وہ اس موبائل ایپلیکیشن کے ایک سنگل بٹن دبانے کے ذریعے 15 / کسٹمر سپورٹ پولیس افسران سے فوری رابطہ کریں۔ خاتون کی شناخت کو صیغہ راز میں رکھتے ہوئے پولیس خاتون کو فوری مدد پہنچائے گی اور ہراساں کرنے والے کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی
پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 آن لائن ہراسانی کے واقعات اور دیگر سائبر کرائمز سے متعلق ہے۔ سائبر کرائمز بشمول سوشل میڈیا اور ایپس، آن لائن ہراسانی جیسے تمام جرائم نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو رپورٹ کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل یہ تمام جرائم فیڈرل انویسٹی گیشن ایجینسی (ایف آئی اے ) کو رپورٹ کیے جاتے تھے۔
یہ وہ قوانین ہیں جن کے ذریعے خواتین کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ مگر اس کے علاوہ ہمیں اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے اندر اتنی ہمت اور حوصلہ پیدا کرنا ہو گا کہ وہ ایسی صورتحال میں خاموش نہ بیٹھیں بلکہ ان اشخاص کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اس کا ذکر اپنے گھر والوں سے کریں اور ہراساں کرنے والوں کے خلاف ہر ممکن قانونی کارروائی کریں تا کہ ایسی نازیبا حرکات کرنے والے افراد کو روکا جا سکے۔


