ایک آدم اور ایک حوا


پنڈورا باکس کھل گیا بھئی! سب کچھ نکل آیا باہر۔ تاویلات، دعوے، محبت، پھر محبت، رنجش، ناراضگی، اور امید!

یونانی دیوتاؤں نے بی بی پینڈورا کو جو باکس پکڑایا تھا تاکید بھی کی تھی ساتھ کہ بی بی کھولنا مت! لیکن بی بی کیا کرتی، کھول بیٹھی۔ نہ جانے اچھا ہوا یا برا لیکن حقیقت کھل گئی ساری کی ساری!

پدرسری نظام کی حقیقت!

وہ جو دعویٰ کرتا ہے کہ مرد کا گزارہ نہیں ایک عورت سے۔ مرد کو چھوٹ ہے دوسری بلکہ تیسری چوتھی کی، کہ بیچارے کو محبت ہو جاتی ہے بار بار۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔ اور وہ بھی بار بار۔ تاویلات کا ڈھیر کہ اجازت ہے۔ مثالیں دے دے کر۔ کب کب کس نے کیں اور کیسے کیں؟

چلو تاریخ اور مذہب سے مثال دینی ہے تو ہم بھی نام لیے دیتے ہیں۔

خالق جو اپنی تخلیق کو ایسے جانتا اور سمجھتا ہے کہ کوئی اور ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس کا ظاہر، باطن، ڈھکا، چھپا، خواہش، خیال، سوچ، ضرورت۔ سب کچھ اسی نے تو رکھا ہے مٹی کے پتلے میں۔

مٹی کے پتلے بناتے ہوئے جب اس نے اپنی تخلیق کو دنیا کے اکھاڑے میں اتارنا چاہا تو دو پتلے بنائے۔
ایک کو مرد کا روپ دیا، دوسرے کو عورت کا چولا پہنایا۔
دونوں ٹھہرے ایک دوسرے کا روپ، لازم و ملزوم، عکس، سایہ، ساتھی، دوست، نسل انسانی کے امین۔

یاد رکھیے ایک ہی عورت تھی اور ایک ہی مرد۔ مرد کی خواہش بھی وہ، آرزو بھی وہ، تعلق بھی اسی سے اور اولاد کی ماں بھی وہی۔

یہ زمین پہ انسان کے آغاز کی کہانی ہے۔ مکمل اور کسی بھی خامی یا نقص سے مبرا۔
اسی کو فطرت مانا گیا۔ ایک مرد اور ایک عورت!
اور یہ مانا کس نے؟

جس نے یہ جوڑا بنایا اور ان کے نفس کو ٹھونک بجا کر فطرت کا رنگ دیا اور زمین پہ اتار دیا کہ جاؤ، کھل کھیلو!

وقت، زمانہ، ماحول، ترجیحات، خواہشات، نفس انسانی کا مدوجزر۔ کیا کچھ نہیں دیکھا اس زمین نے جو اولین جوڑے کی قربتوں کی شاہد بھی ہے۔

پھر اس جوڑے کی اولاد ہوئی۔ تعداد بڑھتی گئی۔ اور انسانی انبوہ نے چاہا کہ اب کوئی نظام بنایا جائے۔ انسان نے طاقت کا کھیل سیکھا ایک نے دوسرے کو تسخیر کرتے ہوئے اپنے طور پہ یہ سمجھا کہ جو جسمانی طور پہ کمزور وہ محکوم، جو مضبوط، وہ مالک!

نظام میں ملکیت کا تصور بھی پیدا ہوا۔ زمین بانٹی گئی، مال مویشی رکھنے کا رواج ہوا۔ اور اس سب اتھل پتھل میں عورت بھی جو ساتھی بن کر اتری تھی، ملکیت بنی۔ زن، زر اور زمین کا اصول سامنے آیا۔ مالک اور ملکیت کا مسئلہ تو کچھ اور بھی سکھاتا ہے۔ مالک کے پاس جتنا زیادہ مال یا ملکیت ہو اتنی ہی اس کی انا سیراب ہوتی ہے۔ سو کتنی بھیڑیں کتنی بکریوں اور کتنی بھینسوں کے ساتھ ملکیت میں عورتیں رکھنے کی تعداد بھی وضع ہونے لگی۔ عورتوں کے ساتھ ان کی پیداوار بھی ملکیت ہوئی۔ پیداوار جتنی زیادہ، عورت اتنی اچھی!

مذہب نے پدرسری نظام کو قابو کرنے کی کوشش میں عورتوں کو انسان کا مقام دینے کی کوشش میں ملکیت کے ساتھ انصاف نامی شرط وضع کی۔ یہ جانتے اور سمجھتے ہوئے کہ مرد نامی انسان کے بس کا روگ نہیں، انصاف۔

معاشی، معاشرتی، ذہنی، جسمانی، جذباتی اور زمانی انصاف!

اور وہ پگلا سمجھا تو صرف یہ کہ چھت دے دو، روٹی کھلا دو، کپڑا پہنا دو اور بستر پہ بلا لو۔ ہو گیا انصاف!

معاش کو سب کچھ سمجھنے والا جانتا ہی نہیں کہ معاشی توازن اگر پیدا کر بھی لے تو جسمانی، جذباتی، ذہنی اور معاشرتی انصاف کیسے ہو گا؟

مثال کے طور پہ اگر مرد دونوں میں سے ایک عورت کو جسمانی تعلق میں مطمئن نہ کر سکا۔ ایک عورت آسانی سے بہلنے والی نہیں تو ہو گیا نا انصاف کا خون وہیں۔

اور جذبات کا تو پوچھیں ہی نہیں۔ ضروری تو نہیں کہ ایک کا قرب اگر سو فیصد جذباتی ہیجان دیتا ہے تو دوسری کا قرب بھی وہی ہیجان پیدا کرے۔ ہو گیا نا مرد ٹھنڈا۔ انصاف ختم!

ایک شام مرد کی طبیعت نڈھال، دوسری شام چونچال۔ نڈھال دیکھنے والی صبر کرے اور چونچال والی مزا۔
اجی یہ انصاف کوئی ترازو میں بٹنے والی چیز تو ہے نہیں کہ ایک کلو پہلی کو دو اور ایک کلو دوسری کو۔

دو مختلف عورتیں، دو مختلف شخصیات، دو جیتی جاگتی انسان، مختلف انداز فکر، مختلف سوچ، مختلف چوائسز، زندگی گزارنے کا مختلف ڈھنگ۔

کیسے ایک مرد اپنا چولا بدل سکتا ہے دونوں کے ساتھ ایک ہی زمان و مکان میں؟ کیسے مطمئن کر سکتا ہے دونوں کو؟

ایک گھر میں پیدا ہونے والے ایک ماں باپ کی اولاد، ایک ماحول میں پرورش پانے والے ایک جیسے نہیں ہوتے اور ہر کسی کو اپنی زمین اور اپنا آسمان چاہیے ہوتا ہے۔ سوچئیے دو مختلف عورتیں بیک وقت ایک مرد کے ساتھ کیسے اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر سکتی ہیں؟ کیسے خوش رکھ سکتی ہیں خود کو؟ اور پدرسری نظام کا پروردہ عورت کی ناخوشی کو بھی اپنے لیے چیلنج سمجھتے ہوئے سوال کرتا ہے کہ چھت، روٹی اور کپڑا پانی والی اس قدر ناشکری کیوں ہے آخر؟

پدرسری نظام کا مرد اپنے آپ کو شاہ سمجھتا ہوا یہ چاہتا ہے کہ دونوں عورتیں اس کی زندگی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیں۔ خود کو مرد کے تصور زندگی کا روپ پہنائیں، اس کے گیت گائیں اور بیچ میں وہ راجہ اندر بن کر بیٹھے اور دنیا کو دکھائے دیکھیے کیسا انصاف رکھ رہا ہوں میں دونوں میں

جی چاہتا ہے اتنا ہنسیں اتنا ہنسیں کہ آنسو بہہ نکلیں۔ لیکن عورتوں کو کہاں اجازت ہوتی ہے اپنی مرضی سے ہنسنے اور رونے کی؟

اب یہ بات کیسے اور کسے بتائی جائے کہ باندیوں کی اکثریت کو شکایت ہے کہ بچے تو ہیں لیکن تشفی تو کبھی نہیں ہوئی۔ اب ہر مرد خود کو اقلیت والا سمجھتا ہے۔ ایک والا بھی دو والا بھی اور اس سے زائد والا بھی لیکن

لیکن سلیم احمد نے شاید اسی اکثریت کی ناگفتنی کو زبان دی ہے :
سخت بیوی کو شکایت ہے جوان نو سے
ریل چلتی نہیں گر جاتا ہے پہلے سگنل


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments