ٹیچر، چیٹر اور پھٹیچر میں فرق


”بے رحم استاد کی بچے پر بہیمانہ تشدد کی ویڈیو وائرل“
” مدرسے کے استاد نے کم سن بچے کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا“
”اساتذہ کئی ماہ سے غیر حاضر ہونے کے باوجود تنخواہیں لے رہے ہیں“

اس طرح کی خبریں اکثر سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنتی ہیں اور ہم ان کو پڑھ کر آگے نکل جاتے ہیں۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ کہیں ہمارا بچہ بھی ان میں سے ایک نہ ہو۔

زوال یافتہ معاشرے کے تمام ادارے زوال یافتہ ہی ہوا کرتے ہیں۔ کچھ اسی طرح کا حال وطن عزیز میں محکمہ تعلیم کا بھی ہے۔ تعلیم کے مقاصد اور ہمارے زوال یافتہ اور طبقاتی تعلیمی نظام کے مسئلے کو اگر ایک طرف رکھ کے جائزہ لیا جائے تو ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ استاد اور شاگرد کے تعلق کا آ کھڑا ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں اکثر استاد کی عظمت کے حوالے سے اقوال اور احادیث نقل کر کے یہ بتایا جاتا ہے کہ سکول اور مدرسے میں پڑھانے والا شخص تمھارا استاد ہے اور اس کی ہر بات کو بلا چوں چرا ماننا تمھارے اوپر فرض ہے۔ اسی ذہنی غلامی کا نتیجہ بچوں کے بدترین استحصال کی شکل میں نکلتا ہے۔ استاد صاحب تشدد کریں، کلاس میں نہ آئیں، غیر اخلاقی حرکات کریں یا جو مرضی کریں، بچے کی یہ جرات نہیں ہوتی کہ سوال اٹھا سکے یا والدین کو بتا سکے۔

اسی لیے یہ کہنا بجا ہو گا کہ آج کے دور میں ادارے کی طرف سے نصاب پڑھانے پر متعین ملازم کو استاد کہنا ٹھیک نہیں۔ جن انبیا اور اولیا کی مثالیں دے کر استاد کا مرتبہ سمجھایا جاتا ہے ان کے علم و عمل میں مطابقت تھی، ان کے اخلاق کی دنیا قائل تھی۔ بچوں کے لیے پیار اور محبت ان کے سینوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ مگر آج جب ہم اپنے ارد گرد کے سکولوں، کالجوں اور مدرسوں پر نظر ڈالتے ہیں تو بہت سے اساتذہ ان صفات سے عاری نظر آتے ہیں۔ لہٰذا میرے نزدیک آج کے دور کے اساتذہ کے تین درجات بنائے جا سکتے ہیں۔

پہلا درجے میں اس شخص کو رکھا جا سکتا ہے جو واقعی ”ٹیچر“ کہلانے کے لائق ہے۔ جس کے پاس اپنے مضمون کا علم بھی ہے، اس پر عمل کرنے کا جذبہ بھی ہے، پڑھانے کا شوق بھی ہے اور پڑھنے والوں سے عشق بھی ہے۔ ایسا استاد اپنے شاگردوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ اپنی فرائض کو بخوبی سرانجام دیتا ہے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی تربیت کا بھی خاص خیال رکھتا ہے۔ ایسے افراد تعلیمی اداروں میں بہت کم ملتے ہیں۔ مگر جو ملتے ہیں وہ انسان کی زندگی بدلنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔

دوسرے درجے کے اساتذہ کو ”چیٹر“ کہا جا سکتا ہے۔ ان کے پاس علم بھی ہوتا ہے۔ استاد کے مرتبے سے بھی واقف ہوتے ہیں مگر اختیارات کا ناجائز استعمال اور حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی خواہشات کے تابع ہو کر یہ اپنے فرائض سے روگردانی برتتے ہیں۔ بچوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے ذاتی فائدے حاصل کرتے ہیں، علمی دھونس جھاڑ کر اہل علاقہ سے کام لیتے رہتے ہیں۔ اگر سکولوں کی بات کی جائے تو ایسے اساتذہ کا دھیان زیادہ تر چھٹیوں، تنخواہوں اور چاپلوسیوں میں الجھا رہتا ہے۔

اپنا مضمون پڑھانے کے لیے وہ بچوں میں شوق ابھارنے کے بجائے ان پر ذہنی تشدد کر کے انھیں رٹے لگانے پر مجبور کرتے ہیں تا کہ بچے اچھے نمبر حاصل کر لیں اور ان کی نوکری بچی رہے۔ اس وجہ سے اگر بچہ تعلیم سے متنفر ہوتا ہے یا ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے تو ان کی جانے بلا۔ یعنی وہ سب کچھ جاننے کے باوجود چوری کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ان کا رخ بچوں کے بجائے اپنے پیٹ کی طرف ہوتا ہے۔ ایسے اساتذہ بچوں کا بہت زیادہ نقصان کرتے ہیں۔

تیسرے درجے کے اساتذہ کو ”پھٹیچر“ کہا جا سکتا ہے جو کہ نہ تو علم رکھتے ہیں اور نہ ہی عمل کرنا جانتے ہیں۔ یہ لوگ سیاسی سفارشوں یا سرکار کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بھرتی ہو جاتے ہیں اور پھر تمام عمر سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کا مستقبل تاریک بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے لوگ چونکہ حادثاتی طور پر ٹیچر بن جاتے ہیں اس لیے یا تو یہ سکول جاتے ہی نہیں اور اگر جائیں بھی تو انھیں پڑھانے سے کوئی رغبت نہیں ہوتی نہ ہی انھیں طلبہ کے نفع و نقصان سے کوئی سر و کار ہوتا ہے۔

یہ لوگ کلاسوں سے دور بھاگتے ہیں کیونکہ علمی طور پر بھی کھوکھلے ہوتے ہیں۔ ان اساتذہ کا طلبہ کے ساتھ رویہ بھی انتہائی نا مناسب ہوتا ہے۔ ایسے اساتذہ کو ہر وقت یہی فکر لاحق ہوتی ہے کہ کس طرح کلاسیں لگانے سے بچا جائے، کیسے اپنی تنخواہ میں اضافہ کروایا جائے، کس طریقے سے سیاسی وڈیرے کو خوش کر کے اپنا ذاتی مفاد حاصل کیا جائے، کیسے پولیو، مردم شماری اور بورڈ وغیرہ کی ڈیوٹیاں کر کے کلاسوں سے جان چھڑائی جائے۔ بچے بیچارے اپنے آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب سجائے روز اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں ایسے اساتذہ کے ہتھے چڑھتے ہیں تو انھیں تعلیم ہی سے نفرت ہو جاتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ تقریباً ہم سب ہی اپنی زندگی میں ٹیچر، چیٹر اور پھٹیچر کا سامنا کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو باشعور بنائیں۔ انھیں اس حوالے سے مکمل طور پر آگاہ کر دیں کہ استاد وہ ہے جو اپنے کام سے محبت کرے اور علمی و عملی حوالے سے بہترین نمونہ ہو۔ وہ بچوں سے مال وصول کرنے کے بجائے ان پر نچھاور کرے۔ ایسا شخص جس کے اندر بنیادی انسانی اخلاق ہی موجود نہ ہوں، جو گالم گلوچ کرتا ہو، بات بات پر بچوں کو مارتا پیٹتا ہوں، جس کو پڑھانا نہ آتا ہے، جو بچوں کو ذاتی کام کرنے پر مجبور کرتا ہو، جنسی طور پر ہراساں کرتا ہو وہ استاد تو کیا انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں ہے۔

بچوں میں اتنی خود اعتمادی ضرور ہونی چاہیے کہ وہ گھر آ کر اپنے والدین کو غلط رویہ رکھنے والے اساتذہ کے حوالے سے آگاہ کر سکیں۔ اس لیے ہمیں اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے اور ان کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے خود بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ آج کے اس زوال یافتہ معاشرے میں اپنے بچوں محض اداروں حوالے کر کے بے غم ہوجانا اور تربیت سے خود بری الذمہ ہوجانا کم عقلی نہیں تو اور کیا ہے۔

Facebook Comments HS