اوجڑی کیمپ کا سانحہ


یوں لگتا تھا جیسے سب کچھ ختم ہونے والا تھا۔

خوب صورت شہر کہوٹہ میں مجھے عارضی طور پر تعینات کیا گیا تھا اور میں جب اس شہر کی طرف پہلی بار آ رہا تھا تو وہاں کی ریسرچ لیبارٹری کے جتنے قصے کہانیاں سن چکا تھا، ان کے سبب ایک بھید سا اس شہر سے وابستہ ہو گیا تھا۔ میں تجسس میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ نیم پہاڑی راستے پر گاڑی آہستہ آہستہ بلندی کی طرف بڑھتی جا رہی تھی۔ میرے لیے وہاں فضا میں اڑتے بڑے بڑے غبارے بھی دلچسپی کا سامان تھے جو اپنی رسیوں پر جھولتے ہوئے اسی رخ پر جھکے ہوئے تھے جس رخ پر ہوا چل رہی تھی۔ کہوٹہ میں کچھ دن گزارنے کے بعد اندازہ ہوا کہ اس شہر میں رہنے کی اپنی مشکلات ہیں۔ خیر، میں دن گن گن کر گزار رہا تھا۔ وہاں ڈیوٹی کے زیادہ دن گزر گئے تھے، بس دو تین دن باقی تھے کہ ایک ہولناک تباہی والا دن آ گیا تھا۔

میں اس روز کہوٹہ میں نہیں راولپنڈی میں تھا۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے انسٹی ٹیوٹ آف بینکرز پاکستان کا ایک امتحان دینے کے لیے داخلہ بھیجا تھا۔ ان کی طرف سے لال کرتی کے ایک تعلیمی ادارے کو امتحانی مرکز بنایا گیا تھا۔ ان دنوں ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو ہوتی تھی۔ دس اپریل 1988 کو اتوار کا دن تھا مگر مصروف دن۔ ہمارا امتحان اسی روز شیڈول کیا گیا تھا۔ میں وقت سے پہلے امتحانی مرکز پہنچ گیا۔ مجھ سے بھی پہلے وہاں کئی اور بینکوں کے لوگ پہنچے ہوئے تھے۔

ٹھیک نو بجے ہم اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے امتحان دے رہے تھے۔ پونے نو بجے تک ہم میں سے اکثر پرچہ دے کر باہر صحن میں کھڑے تھے کہ پورا شہر زوردار دھماکوں سے گونج اٹھا تھا۔ جو لوگ کمرہ امتحان میں تھے، تھوڑی دیر میں وہ بھی باہر نکل آئے تھے۔ ہم سب پریشان ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ کیا ہوا؟ کسی کو پتہ ہوتا تو بتاتا۔ وہ سیل فون، سوشل میڈیا یا بریکنگ نیوز والا زمانہ نہیں تھا۔ ہم اوپر آسمان کی سمت سے راکٹوں اور میزائلوں کے گزرنے کو دیکھتے تھے اور یہ جنگ کا سماں لگتا تھا۔

لگ بھگ وہاں سب یہی کہہ رہے تھے کہ ہندوستان یا اسرائیل نے اسلام آباد پر حملہ کر دیا تھا۔ ابھی ہم آپس میں گفتگو کر ہی رہے تھے کہ ایک میزائل سیدھا اسی عمارت کے اندر آگر جس میں ہم تھے اور وہاں موجود درخت کے مضبوط تنے سے ٹکرا کر ایک گونج پیدا کرتے ہوئے اس میں دھنس گیا تھا۔ یہ تو ہم پر قسمت مہربان تھی کہ صحن کے اس طرف کوئی نہ تھا۔ میزائل کے عمارت کے اندر گرنے کے بعد ہم میں سے کوئی بھی وہاں نہ رہا تھا؛جو جس طرف نکل سکتا تھا نکل گیا۔

یہ دشمن کا حملہ نہ تھا۔ ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ فیض آباد کے اوجڑی کیمپ کے اسلحہ ڈپو میں آگ لگی تھی اور وہاں بم پھٹ رہے تھے اور وہیں سے حرارت پاکر میزائل اور راکٹ اڑ اڑ کر راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں میں یہاں وہاں گر کر تباہی پھیلا رہے تھے۔ میں نے اس روز عورتوں، مردوں، بچوں بوڑھوں کو سڑکوں پر اور گلیوں میں خوف زدہ ہو کر بھاگتے دیکھا تھا۔ سب کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں تھے۔

راکٹ اور میزائل ہر کہیں گر رہے تھے۔ جو ان کی زد میں آتا زخمی ہو جاتا۔ اور زخمی بھی یوں بری طرح ہوتا تھا کہ جسم کے اعضا ہی میزائل لے اڑتا تھا۔ سڑکوں پر چلتی گاڑیاں بھی ان کی زد میں آ رہی تھیں۔ بعد میں یہ بھی بتایا گیا تھا ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھی کئی راکٹ گرے تھے حالاں کہ یہ عمارتیں اوجڑی کیمپ سے بہت دور تھیں۔ اوجڑی کیمپ کے اسلحہ خانے میں لگی آگ بجھنے کا نام نہ لے رہی تھا۔ یہ آگ ملحقہ علاقے گلشن دادن خان تک پھیل گئی اور کئی گھر راکھ کا ڈھیر ہوتے چلے گئے۔

اس روز مجھے یوں لگا تھا کہ موت میرے تعاقب میں تھی۔ جس طرف بھاگ کر جاتا تھا اس طرف مجھ سے پہلے موت کا خوف پہنچ چکا ہوتا تھا۔ میں راولپنڈی کے جس علاقے میں تھا وہاں سے اسلام آباد کی طرف گہرا سیاہ دھواں آسمان کی طرف اٹھتا اور پھیلتا دیکھ سکتا تھا۔

اوجڑی کیمپ کے اس حادثے میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہوئے تھے جب کہ املاک کا بھی بھاری نقصان ہوا۔ ان دنوں اوجڑی کیمپ کے اس حادثے کو تخریب کاری سے بھی جوڑا جا تارہا اور یہ سوال بھی اٹھایا جانے لگا تھا کہ آخر شہر کے گنجان آباد علاقے میں اسلحہ کے اس ڈپو کا کیا جواز تھا جس نے اپنے ہی شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

جب راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں پر بارود کی بارش ہو رہی تھی صدر ضیاء کویت میں تھے اور وزیر اعظم جونیجو کراچی میں۔ جونیجو اسی روز شام کو راولپنڈی پہنچ گئے مگر ضیا ءکویت کا دورہ مکمل کر کے 11 اپریل کو یہاں آئے۔ متاثرین سے ملاقاتیں ہوئیں، پریس کانفرنس سے خطاب ہوا، انکوائری کے احکام جاری ہوئے کہ یہ واقعہ جو حادثہ ہو گیا تھا کسی کی غفلت تھی یا تخریب کاری۔ یہاں تک کہا گیا کہ انکوائری رپورٹ کو عام کیا جائے گا اور عوام سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھا جائے گا اور یہ بھی کہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہو گی۔ یہ سب کچھ ضیا ءکی طرف سے کہا جا رہا تھا جبکہ 12 اپریل کو وزیر اعظم جونیجو کی کابینہ نے ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنا دی تھی کہ معاملے کی تہہ تک پہنچے۔ اس سانحے کے حوالے سے جن حقائق کو سامنے آنا چاہیے تھا وہ آج تک سامنے نہ آ سکے اور نہ ہی ذمہ داروں کا تعین ہو پایا ہے۔

جنرل خالد محمود عارف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جنرل ضیاء کے خاص الخاص آدمی تھے۔ وہ وائس چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر 1984 ءسے 1987 ءتک اس ملٹری ڈکٹیٹر کے ساتھ رہے اور اس زمانے کے کئی اہم واقعات کو اپنی کتاب ”ورکنگ ود ضیا: پاکستانز پاور پالیکٹس، 1977۔ 1988“ میں اپنے نقطہ نظر سے محفوظ بھی کیا۔ اوجڑی کیمپ کا باقاعدہ عنوان قائم کر کے اس کی ذیل میں انہوں نے لکھا تھا کہ 10 اپریل 1988 کو گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی پیٹیوں کو کچھ سول افراد کے ذریعے کسی اور مقام پر منتقل کرنے کے لیے اوپر کے تختوں سے اتارا جا رہا تھا۔

اس کام کے لیے غیر تربیت یافتہ مزدوروں سے کام لیا جا رہا تھا۔ کم وقت میں زیادہ محنت کیے بغیر یہ بارودی سامان والی پیٹیاں نو سے دس فٹ اونچائی سے غیر محتاط انداز میں نیچے کھسکاتے اور سرکاتے ہوئے گاڑیوں میں لادی جا رہی تھیں کہ اگلے مقام کو روانہ ہوں۔ پہلا ڈیڑھ گھنٹہ خیریت سے گزر گیا لیکن ساڑھے نو بجے ایک پیٹی جس میں 122 ایم ایم راکٹ اے تھے، اوپر سے تب گری جب وہ آدمی اسے دھکیل کر نیچے کھسکانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پیٹی زمین پر گری، ٹکرائی، دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی تھی۔ عام طور پر ایسے راکٹوں میں حفاظتی فیوز ہوتے ہیں جو ان راکٹوں میں نہیں تھے۔

جنرل کے ایم عارف کے مطابق اوجڑی کیمپ میں سات ہزار ٹن بارودی مواد مکمل طور پر تباہی سے دوچار ہوا تھا۔ وہاں کھڑی گاڑیاں جل گئیں۔ لوگوں کی جانیں گئیں، بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے اور پورے ملک میں دہشت پھیل گئی تھی۔

اس باب میں مجھے جنرل (ر) حمید گل کا ایک بیان بھی پڑھنے کو ملا جس میں وہ یہ کہتے نظر آئے تھے کہ یہ اسلحہ اور گولہ بارود امریکیوں کا تھا جو افغانستان کی جنگ سمٹنے پر یہاں سے منتقل کیا جا رہا تھا کہ یہ حادثہ ہو گیا۔ ان کا یہ کہنا بھی تھا کہ اسلحے اور آتش گیر مادے کی کچھ پیٹیاں مصر سے پاکستان پہنچی تھیں، انہی میں آگ لگی اور اوجڑی کیمپ کا حادثہ ہوا تھا۔

کہنے والوں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اسلحے کی خریداری میں بڑے پیمانے پر گھپلے ہوئے تھے جس میں بڑے بڑے ملوث تھے اور انہی گھپلوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اسے حادثے کا روپ دے دیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ جونیجو حکومت کی تفتیش میں جن ذمہ داران کی نشاندہی ہوئی ان کا تعلق اسٹیبلشمنٹ میں اوپر تک جاتا تھا؛ جی جنرل ضیا ءکے مصاحبوں تک اور یہی تفتیش جونیجو کی رخصتی کا سبب ہو گئی تھی۔

دس اپریل 1988 کا اتوار مجھے اس لیے بھی یاد رہے گا کہ اس روز مجھے کوئی بھی مقام محفوظ نہ لگ رہا تھا۔ میزائل اور راکٹ اڑ اڑ کر جس طرح تیزی سے گزرتے نظر آتے تھے اور جس طرح ان میں سے ایک کو میں نے اپنے سامنے گرتے اور درخت کے تنے سے ٹکراتے دیکھا تھا مجھے خدشہ تھا کہ ان میں سے کوئی ایک مجھے بھی چلتے ہوئے لے سکتا تھا۔ اس وقت تک لوگ یہی کہہ رہے تھے کہ یہ دشمن کا میزائلوں سے حملہ تھا۔ ایک عجب طرح کا خوف تھا کہ سڑک پر لوگوں کے ساتھ بھاگتا تو یوں لگتا تھا جیسے یہ خوف بھی کسی باولے کتے کی طرح پیچھا کر رہا تھا۔ کہیں کسی اوٹ میں پناہ لینے کو رکتا تو فضا تیر کر گزرتے اور ہوا کی رگڑ سے آواز پیدا کرتے میزائل کہاں رکتے تھے۔ وہ خوف وہاں بھی ٹکنے نہ دیتا تھا۔

میں وہیں ایک دیوار کے ساتھ لگا ہوا تھا کہ ایک شخص جو پاس ہی بڑی دیر سے کھڑا پہلو بدل رہا تھا، سامنے کھڑے رکشے کی طرف بڑھا۔ اب میں دیوار کے ساتھ اکیلا ہو گیا تھا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا اور کسی خیال کے تحت اس شخص کے ساتھ ہو لیا۔ وہ رکشے میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا:

”خطرہ بہت ہے، یہیں رکے رہتے، کہیں رکشے کو۔“
مجھے کچھ اور کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس نے میری طرف دیکھا اور کہا۔
”بچے پتہ نہیں کس حال میں ہوں گے؟“

اس نے رکشہ سٹارٹ کیا۔ گیئر میں ڈالا، مگر تھوڑا آگے کر کے اسے روک لیا اور داہنی طرف جھولتے ہوئے گردن موڑ کر میری طرف دیکھا:

”کہیں جانا ہے؟“
”ہاں۔ بس سٹاپ۔“
”بیٹھیں۔“

میں بیٹھ گیا۔ رکشہ چل پڑا۔ خوف بھی اسی رفتار سے ہمارے تعاقب میں تھا۔ جب رکشہ بس اسٹاپ پر رکا تو میں کہوٹہ کی بہ جائے پنڈی گھیپ کی بس کی جانب بڑھ رہا تھا۔ میں نے بس میں جھانک کر دیکھا اندر کوئی نہ تھا۔ جس طرف دکانوں میں کچھ لوگ سمٹے سہمے نظر آئے میں اس طرف چلا گیا اور وہاں کہیں گھنٹے انتظار میں گزارنا پڑے تھے۔

کہتے ہیں کہ محمد خان جونیجو نے اپنی رخصتی کی بنیاد تو 20 مارچ 1985 ء کو ہی رکھ دی تھی، جی اس دن جب جنرل ضیاء نے تبدیل شدہ آئینی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے انہیں وزیر اعظم نامزد کیا تھا۔ جنرل کے ایم عارف نے اپنی کتاب میں جنرل ضیا کی اس روز کی قومی اسمبلی کے نومنتخب ممبران کی مختلف ٹولیوں سے ملاقاتوں کا احوال لکھنے کے بعد رات آٹھ بجے جونیجو سے ہونے والی ملاقات کی بابت لکھا تھا کہ اپنی نامزدگی کا سن کر جونیجو نے خوشی کا اظہار کیا تھا نہ شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کسی قسم کے جذبات کا اظہار کیے بغیر جنرل ضیا ءسے مارشل لا اٹھانے کی بابت پوچھ لیا تھا۔ جنرل کے ایم عارف کے مطابق سوال کچھ یوں تھا:

”جناب صدر! آپ کب مارشل اٹھا نے کا ارادہ رکھتے ہیں؟“

بعد میں کئی مقامات آئے کہ ضیا ءاور جونیجو میں فاصلے بڑھتے چلے گئے۔ آخر 29 مئی 1988 ء کی شام آ گئی۔ جونیجو اسلام آباد ائرپورٹ پر اترے۔ انہوں نے وہاں موجود صحافیوں کو اپنے چین، جاپان اور فلپائن کے دورے کی تفصیلات بتائیں اور وزیر اعظم ہاؤس چلے گئے تھے۔ اسی روز شام جنرل ضیا نے جونیجو حکومت کو برطرف کیا اور اگلے روز چین کے دورے پر نکل لیے تھے۔

۔
(اپنی خود نوشت ”خوشبو کی دیوار کے پیچھے“ سے مقتبس)

Facebook Comments HS