فالس فلیگ یا پری پلان منصوبہ: پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ


فالس فلیگ ایک ایسا سیاسی یا فوجی اقدام، جسے مخالف پر الزام عائد کرنے کی نیت سے کیا جاتا ہے۔ ایسا آپریشن کوئی ملک یا ایجنسی اپنے ہی عوام یا سرزمین کے خلاف کرتی ہے تاکہ دشمن ملک یا ایجنسی کو اس کے لیے مورد الزام ٹھہرا سکے اور اس حملے کو بنیاد بناتے ہوئے دشمن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنائی جا سکے۔ یہ جنگی حکمت عملی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔

کئی ممالک اور ادارے اپنے ہی ملک میں ایسی حقیقی یا نقلی کارروائیاں کرتے رہے ہیں، جن کا الزام بعد میں دشمن پر عائد کر کے اسے جنگ یا جوابی کارروائی شروع کرنے کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ اصطلاح پہلی مرتبہ 16 ویں صدی میں اس وقت سامنے آئی جب بحری قزاقوں کی جانب سے اپنے بحری جہاز پر کسی دوست ملک کا جھنڈا لہرا کر تاجروں کی کشتیوں کو دھوکہ دیا جاتا تاکہ وہ انھیں اپنے قریب آنے کی اجازت دیں۔

ایک فالس فلیگ آپریشن جس کا بہت ذکر کیا جاتا ہے وہ ہے ’آپریشن نارتھ وڈز‘ جو کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے کیوبا کے صدر کاسترو کو حکومت سے ہٹانے کے لیے بنایا کیا گیا تھا۔ اس پلان میں اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو امریکی سرزمین پر دہشتگردی کے حملے، امریکی جنگی جہاز کو کیوبا کے قریب نشانہ بنائے جانے اور امریکی طیارے کو ہائی جیک کرنے جیسے آپشنز پیش کیے گئے جس کے لیے امریکہ کیوبا کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اس پر حملہ آور ہو سکتا تھا۔ تاہم امریکی صدر نے اس پلان کو رد کر دیا تھا۔

عمران خان خود کہتے تھے کہ ’جو مجھے گرفتار کر سکتے ہیں احتجاج بھی ان کے خلاف ہو گا۔ فوج کی جانب سے 9 مئی پر سخت موقف کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ان واقعات کو نہ صرف خود پر حملہ بلکہ ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی سمجھتے ہیں۔ اگر عمران خان کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو وہ ہمیشہ سے اشاروں کے منتظر رہے۔ اب بھی انہوں نے ایک جانب اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کے لیے تین رکنی کمیٹی بنائی ہوئی ہے اور دوسری جانب غیر ملکی میڈیا میں لکھی گئی تحریروں میں وہ اسٹیبلشمنٹ کو ہدف بنا رہے ہیں۔

عمران خان ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کو اہمیت دیتے رہے ہیں اور اب بھی وہ ان سے مذاکرات کا کہہ کر اسے اہم بنا رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انتخابات کے بعد تحریک انصاف ایک مقبول جماعت ثابت ہوئی لیکن تحریک انصاف ’اپنی مقبولیت اکا استعمال ایک سیاسی جماعت کے طور پر نہیں کر سکی۔ اس نے مقبولیت سے زیادہ قبولیت کو اہمیت دی۔

پی ٹی آئی نو مئی کو جتنا ہلکا لے رہی ہے فوج اسے اتنا ہی سنجیدہ لے رہی ہے، نو مئی کو جس طرح دفاعی تنصیبات پر حملہ کیا گیا کوئی ریاست اسے قبول نہیں کر سکتی، پی ٹی آئی نو مئی کو فوج کا بنایا ہوا منصوبہ قرار دے گی تو فوج بھی جواب دے گی۔ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں ٹریپ ہوئے یا قدرت کے، نظام نے بدلہ لیا یا سسٹم ایکسپوز ہوا، وقت کا پہیہ الٹا چلا یا الٹا چلتے چلتے سیدھا ہوا۔ فیصلے ذاتیات سے بالاتر ہوں تو ملک آگے بڑھتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے 2014 کے دھرنے سمیت دیگر معاملات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا کہنا فوج کے خود احتسابی عمل کی طرف اشارہ ہے۔ اب فالس فلیگ کی حقیقت جاننے کے لیے پی ٹی آئی کے سربراہ اور راہنماؤں کے کردار پر نظر ڈال لیتے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کا 9 مئی ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ جس میں عثمان ڈار خود سڑک پر کارکنان کے درمیان موجود تھے اور کارکنان سے گھروں سے باہر نکلنے کی اپیل کر رہے تھے۔

عمران خان سے جے آئی ٹی نے سوال کیا کہ 9 مئی کو پورے ملک میں جو ہوا ٹارگٹ اور طریقہ واردات ایک تھا ثبوت ہیں کہ آپ نے کارکنوں کو مشتعل کیا اور احکامات دیے۔ اس کی پلاننگ تھی یا اتفاق؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں نے کسی سے کچھ نہیں کہا، سب مرضی سے مختلف مقامات پر گئے، جو ہوا اس میں پلاننگ نہیں تھی۔ جے آئی ٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی کو مختلف ویڈیوز اور تصاویر بھی دکھائیں لیکن انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور کہا یہ میرے لوگ نہیں۔

9 مئی کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے تناظر میں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے 6 اہم شخصیات سے روابط آن دی ریکارڈ ہیں۔ 8 مئی زمان پارک اور 9 مئی جناح ہاؤس بلوے میں 154 موبائل نمبرز مشترک پائے گئے۔ ریکارڈ کے مطابق یاسمین راشد، حماد اظہر، محمود الرشید، اعجاز چوہدری، اسلم اقبال اور مراد راس بلوائیوں سے مسلسل رابطے میں رہے۔ 215 کا لرز 9 مئی کو ان رہنماؤں کے ساتھ رابطوں میں رہے۔ کالز جناح ہاؤس میں موجود شرپسندوں کو کی گئیں۔

آئینی اور انسانی حقوق کے نام پر ثابت شدہ مجرموں کو بچانے کی کوششیں واضح کرتی ہیں کہ اس ملک میں صرف دہشت گردوں اور فسادیوں کے حقوق ہیں۔ ان کے کوئی حقوق نہیں جو دہشت گردی اور فساد کا نشانہ بنتے ہیں۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ فوجی عدالتیں آئین کے مطابق نہیں، قومی مفاد میں نہیں تو کیا فوجی تنصیبات پر حملے آئین کے مطابق اور قومی مفاد میں تھے۔ فوج پر حملے ایک غیر معمولی صورتحال تھی اور قومیں غیر معمولی صورتحال کا مقابلہ غیر معمولی اقدامات اور قوانین کے ذریعے ہی کرتی ہیں۔ امریکا سے بڑی جمہوریت کون سی ہے مگر وہاں نائین الیون کے بعد کیا ہوا، گوانتاناموبے کس طرح بنی، لوگوں کو کس طرح وہاں لے جایا گیا اور عبرت کا نشان بنایا گیا۔ لندن اور کیپیٹل ہل میں کیا ہو۔

پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی نے ہی منصوبہ بندی کی تو اسے روکا کیوں نہیں گیا یعنی انہیں درجنوں لاشوں کا تحفہ مل جاتا اور وہ اسے عالمی میڈیا اور برادری کے سامنے پیش کر کے ریاست کے ساتھ وہی کچھ کرتے جو بھارت اور اسرائیل چاہتا تھا۔ عادل راجہ، شاہین صہبائی اور حیدر مہدی جیسے نو مئی کو سوشل میڈیا پر بیٹھے آرمی، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دفاتر کی نشاندہی کر رہے تھے اور یہ کوئی مہا کلاکار ہی دعویٰ کر سکتا ہے کہ کہ یاسمین راشد سے صنم جاوید تک اور محمود الرشید سے اسلم اقبال تک وہاں نواز لیگ یا خود فوج کے کہنے پر پہنچے تھے۔

نو مئی کو بھارت جیسے دشمنوں نے اس پر باقاعدہ جشن منایا۔ پی ٹی آئی کے موقف میں بہت زیادہ فکری اور عملی تضادات ہیں۔ جب سپریم کورٹ چیف ملزم کا استقبال بھی ”گڈ ٹو سی یو“ کہہ کے کرے، تو اندازہ لگا لیں کہ فساد کرنے والے کے لیے کتنا ریلیف ہے۔

عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے گرفتاری کے بعد ملک بھر میں مختلف فوجی چھاؤنیوں کے باہر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہو کر جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ جاری تھا۔ لاہور کے کور کمانڈر کی رہائش گاہ کو آگ لگائی گئی، راولپنڈی میں فوج کے جنرل ہیڈکوارٹر میں مظاہرین کو جی ایچ کیو کا گیٹ پھلانگتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

گرفتاری کے بعد عمران ان نے بیان ریکارڈ کرایا اور آئندہ کا لائحہ عمل دیا۔ اگلے دن کور کمیٹی کا زمان پارک میں اجلاس ہوا اور اور احتجاج کے لیے نوجوانوں کو بتایا گیا کہ انہوں نے کیا اور کس طرح کرنا ہے

عمران خان نے ٹیکسلا میں جلسے سے خطاب میں رانا ثنا اللہ اور شہباز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ ’تیار رہو۔ مجھے آپ کے پلان کا پتا ہے لیکن آپ کو میرے منصوبے کا نہیں پتا۔‘ ’میں پیش گوئی کر رہا ہوں کہ میں ان کی پلاننگ کے حساب سے تیاری کر رہا ہوں اور پھر ایک دم کال دوں گا۔‘ انھوں نے کہا ’زیادہ دیر نہیں ہے اس لیے سب میری کال کا انتظار کریں۔ ‘ لانگ مارچ میں بیس لاکھ لوگوں کو لانے کی دھمکی دیتے تھے۔ حالانکہ لانگ مارچوں سے کسی حکومت کو معزول نہیں کیا جاسکتا۔

عمران خان کی خواہشات کے مطابق سوشل میڈیا پر عمران خان کے جتھے متعارف کروائے گئے، جنھوں نے ہر اس شخص کی ٹرولنگ کی جس نے ان کی پالیسیوں پر تنقید کی جرات کی۔ عمران کی کلٹ سیاست ان حامیوں کے معروف نعرہ تھا ”عمران خان ہماری ریڈ لائن ہے ’کسی فرد کے لیے ریڈ لائن کا مطلب ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے عمران خان کو گرفتار کریں تو اس کے پیروکار متشددانہ ردعمل کا مظاہرہ کریں گے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی کوشش کی تو ان پیروکاروں نے لاہور کے زمان پارک کے باہر ان پر ، پرتشدد حملے کیے۔ 9 مئی کو کسی بے ساختہ عمل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ پاکستان میں نو فسطائی کلٹ سیاست کا حتمی نتیجہ تھا۔ عمران خان نے اپنے کلٹ پیروکاروں کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فالس فلیگ کا موقف اسے کب تک ریلیف دیتا ہے ::

یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین
:پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments