وہ گھر جہاں ایک ڈاکٹر نے ہزاروں بچوں پر اپنے خطرناک تجربے کیے: ’غلطی کرنے پر انجیکشن لگائے جاتے تھے‘

دی آوٹ لک سیریز - بی بی سی ورلڈ سروس


’میں نے گوگل پر تلاش کیا اور اس جگہ کا نام سامنے آیا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔‘

’میری کچھ ایسی یادیں تھیں جن کے بارے میں میں نے کبھی کسی سے بات نہیں کی تھی اور وہ اچانک میرے سامنے موجود تھیں۔ میرے اندر سب کچھ ٹوٹ پھوٹ گیا، میں تیزی سے گھر سے باہر بھاگی۔۔۔ میں پہاڑ کی چوٹی پر جا کر چیخنا چاہتی تھی۔‘

انٹرنیٹ پر سرچ کرتے ہوئے ایوی میجز کی زندگی میں ماضی کی ایک بھیانک یاد دوبارہ نمودار ہوئی۔

گوگل پر سرچ کے دوران سامنے آنے والی یہ تصویر ریور ویلی کی ڈھلوانوں پر برف سے ڈھکے آسٹریا کے ایلپس کے سائے میں ایک ہلکے پیلے رنگ کے گھر کی تصویر تھی۔

اب یہ ایک اپارٹمنٹ کی عمارت ہے لیکن اس کی دیواروں میں ایک خوفناک راز ہے جو دنیا اور وہاں رہنے والے بچوں سے پوشیدہ تھا۔

ایوی آسٹریا کی ایک ایوارڈ یافتہ فوٹو جرنلسٹ ہیں اور اب امریکہ میں مقیم ہیں۔

انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اپنے ماضی کے ایک تاریک باب کو اپنے دماغ کے کسی گوشے میں بند رکھتے ہوئے گزارا کیونکہ اس کا افشا ہونا ان کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔

انھوں نے وہ راز اس ڈاکٹر پر بھی ظاہر نہیں کیا جنھوں نے ان کا علاج کیا اور ان کی جان بچائی۔ تاہم چند سال پہلے ایک انٹرنیٹ سرچ کی بدولت ان کا اس سے دوبارہ سامنا ہوا۔

اب 59 سال کی عمر میں وہ اس قابل ہیں کہ وہ یہ بتا سکیں کہ ان دیواروں کے پیچھے ان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔

اگرچہ اب بھی ان کے لیے یہ بیان کرنا مشکل اور گھبراہٹ کا باعث ہے لیکن اب وہ پہلے سے زیادہ بہتر محسوس کر رہی ہیں اور خوش ہیں۔ لیکن انھوں نے سرِعام اس کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی ہے کیونکہ ان کو اپنے پریشان کن بچپن کے بارے میں دوبارہ بات کرنا اب بھی تکلیف پہنچاتا ہے۔

اس پیلے گھر میں ہونے والے واقعات سے پہلے کے سال بھی ان کے لیے ہنگامہ خیز، تنہائی والے اور مشکل تھے۔

وہ سنہ 1960 کی دہائی کے وسط میں آسٹریا میں پیدا ہوئیں لیکن اس وقت ان کی ماں کی شادی نہیں ہوئی تھی اور آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت بہت سی جگہوں پر شادی کے بغیر ولادت ماں اور بچے کے لیے کسی کلنک سے کم نہیں تھا۔

اور اس لیے ایوی کو رضاعی خاندانوں، یتیم خانوں اور بچوں کی دیکھ بھال والی سہولیات میں رکھا گیا۔

ان کی زندگی کے سفر میں آسٹریا میں ان کی شاید ہی کوئی دلکش یادیں ہیں۔ اس لیے جب وہ امریکہ پہنچیں تو انھوں نے ان کو اپنے اندر ہی دفن کر دیا۔ انھوں نے وہاں سے کبھی واپس نہ جانے اور جرمن زبان نہ بولنے کی قسم کھا لی۔

لیکن انھیں یہ سب برا محسوس ہو رہا تھا، وہ یادیں انھیں کہیں نہ کہیں بہت تکلیف دے رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں اندھیرے سے ڈرتی ہوں، اس لیے میں ہر وقت بتیاں روشن رکھتی ہوں اور مجھے پیلے رنگ سے نفرت ہے۔‘

یہ رنگ آپ کے ماضی کی بری یادوں کی مستقل یاد دہانی ہے۔

’میرے لیے پیلے رنگ سے ہم آہنگ ہونا ایک چیلنج ہے۔ میں خود کو یہ یاد دلانے کی کوشش کرتی ہوں کہ یہ سورج، پھولوں اور روشنی کا رنگ ہے۔‘

ماضی کو دوبارہ یاد کرنے اور ماضی کے ڈر سے چھٹکارا پانے کے لیے ایوی باقاعدگی سے سورج مکھی کا پھول خریدتیں۔

ان کی کوششیں اس وقت شکست کھا گئیں جب ایک دن انھوں نے وہ خوفناک دریافت کی۔

سورج مکھی

پیلے رنگ سے ہم آہنگ کرنے میں وقت لگا

’یہ خوفناک جگہ اب بھی موجود ہے‘

وہ اپنی بیٹی للی اور ایک دوست کے ساتھ بات چیت کر رہی تھیں جب انھوں نے ان کے بچپن کے بارے میں پوچھا۔

’مجموعی طور پر میں اپنے ماضی کے بارے میں کافی کھلا اور صاف ذہن رکھتی تھی لیکن ذہنی امراض کے ہسپتال میں گزرا وقت ایک راز تھا، کیونکہ یہ بہت تاریک اور ناقابل برداشت تھا۔‘

لیکن اس دن سب کے چلے جانے کے بعد جب وہ اکیلی رہ گئیں تو انھوں نے انزبروک میں ایک پتہ تلاش کیا جو انھیں یاد تھا، اور انھیں ایک ایسا لفظ ملا جو انھوں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔

اس سہولت کا نام ‘ کنڈربیباختنگ سٹیشن’ تھا جس کا مطلب بچوں کا جائزہ لینے کا مقام ہوتا ہے۔

’میں پڑھتی چلی گئی۔ ’ڈاکٹر ماریہ نوواک-ووگل۔۔۔‘ اور میں نے سوچا ’میرے خیال سے یہ وہی ہے۔ میرے خیال میں یہ وہی جگہ ہے۔‘

ایوری کے لیے کنڈربیباخ تنگ سٹیشن ایک نیا نام تھا لیکن جس شخص نے ان کی رہنمائی کی تھی وہ آہستہ آہستہ ان کے ذہن میں ابھرنے لگا۔

اور انھیں اس میں مزید معلومات ملیں جو کہ بہت زیادہ تھیں۔

وہاں دوسرے لوگوں کی تفصیلی رپورٹس موجود تھیں۔ یہ وہ کہانیاں تھیں جنھوں نے ان کے پرانے زخموں کو ہرا کر دیا تھا۔

ایوی یہ سب پڑھے جا رہی تھیں اور انھیں یقین نہیں آ رہا تھا۔

وہ ہمیشہ سوچتی تھیں کہ جس جگہ انھیں بھیجا گیا تھا وہ پریشان حال بچوں کے لیے علاج کا مرکز تھا لیکن اب انھیں احساس ہونے لگا کہ اس کا مقصد بہت زیادہ خطرناک تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے سب کچھ سمجھ میں آنے لگا۔ اس بات کی تصدیق کرنا واقعی غیرمعمولی تھا کہ یہ خوفناک جگہ اب بھی موجود ہے۔

’اور نہ صرف اس کا وجود تھا بلکہ اس کے وجود کی وجوہات اس سے بہت مختلف تھیں جو میں نے کئی دہائیوں تک سمجھ رکھی تھیں۔‘

وہ انھیں وہاں ان کی دیکھ بھال کے لیے نہیں بلکہ ایک تجربے کے لیے لے گئے تھے۔

‘میرا ماضی میرے سامنے کھڑا تھا اور میں نے فوری طور پر چیلنج قبول کر لیا۔ برسوں اور دہائیوں تک شرم محسوس کرنے کے بعد میں نے اسے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

’جب آپ کو اس قسم کی معلومات کا سامنا ہوتا ہے تو آپ انھیں نظرانداز نہیں کر سکتے: آپ کو ان سے نمٹنا ہے۔‘

ایک سیاہ رات

اب وہ جاننا چاہتی تھیں کہ وہ تجربہ جس میں انھوں نے انسبرک کے اس گھر میں حصہ لیا تھا وہ کس چیز پر مشتمل تھا۔

انھوں نے ایوی جیسے بچوں کے ساتھ کیا کیا تھا؟ ایوی نے اسے کریدنے اور تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔

جب یہ سب شروع ہوا تو وہ ایک گود لینے والے خاندان کے ساتھ ایک ہاسٹل میں رہتی تھیں جسے ان کی ماں اینی چلاتی تھیں۔

‘اینی مجھے پسند نہیں کرتی تھیں اور میں طویل مدت سے تکلیف برداشت کر رہی تھی۔

‘پادری باقاعدگی سے مجھے سکول کے باہر لے جا کر ڈانٹا کرتے کہ میں بیوقوف ہوں اور وہ میری والدہ کو پریشان کرتا تھا۔‘

انھوں نے ایوی کو اس وقت سے گود لے رکھا تھا جب وہ تین یا چار سال کی تھیں اور ’جہاں تک مجھے یاد ہے وہ مجھ پر اپنے گھر کی چیزوں کو نقصان پہنچانے کا الزام لگاتے۔‘

اینی معمول کے مطابق اس پر برتن توڑنے یا دیواروں کو کھرچنے کا الزام لگاتیں جسے انھوں نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا اور اسے اس وقت تک مارا پیٹا جاتا جب تک وہ اعتراف نہ کر لے، پھر اسے گھنٹوں کمرے میں بند کر کے سزا دی جاتی۔

یا پھر اسے باتھ روم استعمال کرنے سے روک دیا جاتا کہ وہ برداشت نہ کر سکے تو اسے ایک اور سزا دی جا سکے۔

‘میرے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی اور کوئی بھی اس طرف دھیان نہیں دیتا تھا۔ یہاں تک کہ بچوں کی فلاح و بہبود کا ادارہ بھی نہیں۔ اور میں نے کسی کو اس کے بارے میں کبھی نہیں بتایا کہ چیزیں کتنی خراب ہیں کیونکہ اینی نے مجھے بتا رکھا تھا کہ اس کا متبادل اور بھی زیادہ برا ہو گا۔‘

اس طرح وہ دھمکیوں، ذلت اور بدسلوکی کے ساتھ زندگی گزارتی رہیں اور پھر دسمبر سنہ 1973 کے آخر میں ایک رات کو جب وہ صرف 8 سال کی تھی تو ایوی کو بغیربتائے انسبرک کے یلو ہاؤس لے جایا گیا۔

‘آدھی رات کو، کوئی آیا اور مجھے میرے بستر سے اٹھا کر گاڑی میں لے گیا۔

‘وہان اندھیرا تھا، سردی تھی، اور میں بہت خوفزدہ تھی۔ کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا، اور ہم نے طویل سفر کیا۔

‘مجھے یاد نہیں ہے کہ کار میں کون تھا، لیکن مجھے یاد ہے کہ جب ہم انسبرک پہنچے تو اینی وہاں موجود تھی۔

‘انھوں نے مجھے وہاں کے کپڑے یعنی بڑا سا بلومر انڈرویئر اور ایک لپیٹنے والا اسکرٹ دیا۔

‘مجھے گھر کے اندر کا حصہ یاد ہے، دیواروں پر ہر جگہ لکڑیاں تھیں اور دالان میں مچھلی کا ایک بڑا ٹینک تھا۔

‘دوسری منزل پر، ایک بڑا کمرہ تھا جس میں ایک کھڑکی تھی، بستروں پر کارڈز لگے ہوئے تھے، اور ہر کارڈ پر ہر بچے کی شناخت کے لیے ایک رنگ تھا: میرا رنگ پیلا تھا۔

‘مجھے ٹھیک سے یاد نہیں ہے کہ کب میں نے محسوس کیا کہ یہ ایک نفسیاتی ہسپتال ہے۔ مجھے صرف سفید کوٹ والے بالغ لوگ یاد ہیں۔

‘دن کے وقت دروازے پر گوند کی تیز بو آتی تھی، ایک سپیکر تھا جس سے بہت زیادہ اونچی آوازیں آتی تھیں، بہت زیادہ گھنٹیاں بجتیں اور الارم بھی۔’

پریشان اور خوفزدہ ہو کر وہ اس جگہ کے اصولوں پر عمل کرنے لگی۔

‘ہمیں بولنے کی اجازت نہیں تھی۔ جو زبان بولنے کی اجازت تھی وہ بھی مخفف یا مختصر تھی۔’

انھوں نے مزید بتایا: ‘ہمیں کچھ بھی کرنے سے پہلے اجازت لینی پڑتی تھی۔ مثال کے طور پر منھ دھونے سے پہلے ہمیں ‘پلیز، ٹوتھ برش’ کہنا پڑتا یا کھانے کے لیے میز پر بیٹھتے تو برتن لینے سے پہلے ‘پلیز، سپون’ کہنا ہوتا تھا۔

‘اور آپ کو اپنی پلیٹ میں کا سب کچھ کھانا پڑا۔

‘آپ جو کچھ بھی چھوڑیں گے، وہ آپ کو اگلے کھانے میں پیش کر دیا جائے گا، چاہے وہ سڑا ہوا ہی کیوں نہ ہو، جب تک آپ اسے ختم نہ کر دیں۔

تجربے کرنے والا ڈاکٹر

ایوی اور چھوٹے بچوں کی زندگیوں پر حکمرانی کرنے والا یہ مرکز جہاں سب افسوسناک چیزیں وہ ماہر نفسیات ڈاکٹر ماریہ نوواک-ووگل کی تخلیق تھیں۔

‘وہ نازیوں کی تربیت یافتہ ڈاکٹر تھی اور اسی نظریے کی پیروکار تھیں۔

‘لیکن آسٹریا میں اس کی عزت کی جاتی تھی۔ اسے بچوں اور نوعمروں کی نفسیات میں ماہر سمجھا جاتا تھا اور اس کے آسٹریا کے فلاحی نظام سے گہرے تعلقات تھے، اس لیے وہاں بچوں کی بے روک ٹوک فراہمی تھی۔’

یلو ہاؤس میں جو کچھ ہوتا اس میں حتمی فیصلہ نوواک-ووگل کا ہوتا۔ انھوں نے قواعد کی ایک فہرست بنائی تھی جس پر تمام بچوں کو عمل کرنا تھا اور ساتھ ہی اپنے ملازمین کے لیے ہدایات بھی تیار کی تھیں۔

‘یہ بہت لمبا اور مضحکہ خیز تجربہ تھا۔ مثال کے طور پر وہ ہماری باتھ روم کی عادات کے شواہد کے لیے ہمارے زیر جامہ کو دیکھتے اور اسے سونگھتے۔

‘وہاں بہت ہی دخل اندازی والا ماحول تھا۔ وہ آپ کی نگرانی کرتے، آپ سے تفتیش کرتے اور آپ کو اپنے خوابوں کو بتانے پر مجبور کرتے۔

بچے دہشت میں رہتے تھے: مزاحمت کی کوئی علامت بھی برداشت نہیں کی جاتی۔

ایوی کو ایک پریشان کن لمحہ واضح طور پر یاد ہے جب اس نے غیر ارادی طور پر قواعد کو توڑا۔

انھیں کہا گیا تھا کہ کسی میٹھی چیز کے لیے قطار میں لگ جائیں، اور جب انھوں نے اسے وہ چیز دی تو ایوی نے دیکھا کہ وہ ‘چیونٹیوں سے بھری ہوئی تھی اور میں ڈر گئی۔’

‘میں ضرور چیخی ہوں گی کہ گاؤن میں ملبوس بڑے لوگوں نے مجھے اٹھایا، باہر لے گئے، اور مجھے انجیکشن لگایا۔‘

ایسا اکثر ہوتا تھا، لیکن ایوی اور دوسرے بچوں کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہ انجیکشن کس لیے دیا گیا اور نہ ہی بظاہر والدین یا سرپرستوں میں سے کسی کو کچھ بتایا جا سکتا تھا۔

ایوی نے اس واقعے کو ایک اور سزا کے طور پر لیا تھا لیکن جب چند سال پہلے انھوں نے اپنی تفتیش شروع کی تو ایک چونکا دینے والی چیز دریافت ہوئی۔

غلطی کرنے پر علاج کے طور پر شاٹ لگائے جاتے تھے

غلطی کرنے پر علاج کے طور پر انجیکشن لگائے جاتے تھے

علاج کے نام پر۔۔۔

نوواک فوگل بچوں کو سخت سکون آور ادویات دیتی تھیں جن میں روہپنول اور ایک عجیب ہارمون ایپی فیسن جیسی ادویات شامل تھیں۔

ایپی فیسن مویشیوں کے دماغ کے غدود سے ماخوذ ایک غدود ہے جسے جانوروں کے ڈاکٹر گھوڑیوں اور گائے میں شہوت کی گرمی کی مدت کو دبانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اگرچہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کے انسانوں پر کیا اثرات ہوتے ہیں لیکن نوواک-ووگل بچوں میں جنسی جذبات کو دبانے اور مشت زنی کی حوصلہ شکنی کے لیے اس کا تجربہ کر رہی تھیں۔

‘وہ سیکس اور سیکس کی خواہش رکھنے والے بچوں کے معاملے میں جنونی تھیں۔ ہم ان کے لیے طبی تجربے کی چیزیں تھے۔ اس نے ہمارے ساتھ جانوروں کی طرح سلوک کیا۔ انھوں نے ہمیں طاقتور دوائیں پلائیں۔’

نوواک-ووگل کے بارے میں ایوی نے جتنا زیادہ دریافت کیا وہ اتنی ہی پریشان ہوتی گئیں۔

انھیں پتا چلا کہ بچوں کے علاج کے لیے ڈاکٹر نوواک کا نقطہ نظر نازیوں کے اس نظریے سے متاثر تھا جو بچوں کی خامیوں کی جینیاتی بتاتے ہیں۔

یہ آسٹریا میں کیتھولک تصور کے بہت قدامت پسند رجحان کے سبب ایوی جیسے بچوں کے لیے مزید خطرے کا موجب تھا۔

‘ایک اکیلی ماں کی بیٹی ہونے کے ناطے میں یقینی طور پر ان کے اعتقادات کے مطابق دوسرے بچوں سے کمتر تھی۔

‘ان کی رسائی کمزور بچوں تک تھی، ان لوگوں تک جنھیں واقعی مدد کی ضرورت تھی: ہم معاشرے کے ناپسندیدہ، بے دخل لوگ تھے۔’

نوواک ووگل کے خیال میں بائیں ہاتھ والے یا ہکلانے والے بچے جو بستر گیلا کرتے تھے یا مشت زنی کرتے تھے وہ بری طرح سے پیدا ہوئے تھے۔

ان کا خیال تھا کہ آسٹریا کے معاشرے کی حفاظت کے لیے ان ‘عیب دار بچوں’ کی دیکھ بھال کی بجائے انھیں درست کرنے کی ضرورت ہے۔

اور اسی خیال کے پیش نظر انھوں نے ان بچوں کو باآور، فرمانبردار، اور جنسی طور پر ‘عام’ افراد میں دوبارہ تشکیل دینے کو اپنا ذاتی مشن بنا لیا۔

‘راتیں سب سے خوفناک ہوتی تھیں۔

‘ہم اپنی بغلوں کے نیچے کمبل اور اس پر اپنے بازو رکھ کر بستر پر جائیں گے تاکہ ہم ایک دوسرے کو نہ چھو سکیں۔

‘گدوں میں ایک الارم لگا ہوا تھا جو کسی کے بستر گیلا کرنے پر انھیں خبردار کرتا تھا۔

‘سفید کوٹ والے لوگ آپ کو لینے آتے اور سزا کے طور پر آپ کو ٹھنڈے پانی میں غسل دیتے۔ اور پھر آپ کو دالان کے کونے میں کھڑا کر دیا جاتا جہاں صرف اس مچھلی کے ٹینک سے روشنی آتی تھی۔

‘سونا اتنا خوفناک تھا کہ لوگ ڈر سے سو نہیں پاتے تھے۔

‘پھر سب کے سامنے شرمندہ کیا جاتا تھا۔

‘اگلے دن، بچوں کو اس بچے کے بستر کے ارد گرد کھڑا کیا جاتا جس کے ساتھ وہ حادثہ ہوا تھا اور اس کی تذلیل کی جاتی اور اس پر ہنسا جاتا تھا۔

’فوسٹر ہوم، جیل اور ٹیسٹنگ کلینک‘

ایوی کو اس جگہ کے بارے میں جو کچھ معلوم ہوا وہ واقعی خوفناک تھا لیکن ان معلومات نے اس کی یادوں کو سل

‘یہ جاننا بہت حیران کن تھا کہ اس سے 3,650 سے زیادہ بچے متاثر ہوئے تھے۔

‘سنہ 2013 میں انسبرک کی میڈیکل یونیورسٹی کے زیراہتمام ماہرین کے ایک کمیشن نے مرکز پر ایک مذمتی رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ نوواک-ووگل نے ‘مشکل’ بچوں سے نمٹنے کے بہانے منظم زیادتیاں کیں۔

انھوں نے اس کنڈربیباختنگ سٹیشن کو ‘فوسٹر ہوم، جیل اور ٹیسٹنگ کلینک’ کے مجموعہ کے طور پر بیان کیا جہاں ان بچوں کو جن کی عمریں زیادہ تر 7 سے 15 سال کے درمیان تھیں کئی مہینوں تک رکھا گیا تھا۔

ییلو ہاؤس نے 1954 سے 1987 تک 33 سال کام کیا۔

اس پروجیکٹ کے بند ہونے کے بعد بھی نوواک-ووگل نے یونیورسٹیوں میں لیکچر دینا جاری رکھا اور 1998 میں اپنی موت سے پہلے کیتھولک چرچ سے میڈل حاصل کیا۔

تعجب کی بات نہیں کہ ان کے زیر کنٹرول بچوں نے کبھی بھی ان کے طور طریقوں پر سوال نہیں اٹھایا۔

‘میں نے سوچا کہ یہ میری غلطی تھی کہ انھوں نے مجھے انسبرک میں رکھا۔ مجھے لگتا ہے کہ بہت سارے بچے ایسا ہی سوچتے تھے۔’

ایوی کو کبھی نہیں پتہ چلا کہ انھیں وہاں کیوں لے جایا گیا تھا یا کسی موقع پر غیر متوقع طور پر ان کی گود لینے والی ماں اینی کے ساتھ رہنے کے لیے واپس کیوں بھیجا جاتا تھا جس سے انھیں بہت زیادہ وحشت ہوتی تھی۔

‘یہ خوفناک تھا۔ اسی رات کھانے کی میز پر، اینی نے جھک کر کرسی پر ایک چھوٹی سی خراش کی طرف اشارہ کیا اور کہا ‘اوہ، یہ کیسے ہوا؟’، اور میرا دل ڈوب گیا۔ میں جانتی تھی کہ اس کا کیا مطلب ہے: سب کچھ دوبارہ شروع ہونا تھا۔’

ایوی کو اینی کے ساتھ رہنا اس وقت تک برداشت کرنا پڑا جب تک کہ وہ آسٹریا چھوڑ کر نئی زندگی شروع کرنے کے لیے کافی بڑی نہ ہو گئیں۔

دوستوں کی مدد سے اور کیریبین میں کروز شپ پر نوکری کے ذریعے وہ نیویارک پہنچیں۔

‘مجھے یہ پسند آیا۔ یہ پہلی جگہ تھی جہاں میں نے محسوس کیا کہ وہ آپ کا فیصلہ نہیں کرتے، ہر ایک کی ایک کہانی ہوتی ہے۔’

وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھی اور اس کے پاس نئے افق تھے۔ لیکن بدسلوکی کی داستان ہمیشہ دل میں کہیں پوشیدہ رہی۔

ان کے سونے میں بہت زیادہ دشواری تھی، اور ان نے کھانے پینے کی عادت میں سقم پیدا ہو گيا جس پر قابو پانا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔

صرف کھانا کھانا سیکھنا واقعی ایک بڑی جدوجہد تھی۔ کنڈربیباختنگ سٹیشن میں رہنے کے بعد میں نے ڈاکٹروں اور عمومی طور پر نفسیات پر عدم اعتماد کی وجہ سے کبھی کسی ماہر نفسیات سے مدد نہیں لیتی تھی۔

‘لیکن جب میں تقریباً 30 سال کی ہوئی تو میں تھراپی کے لیے جانے کے قابل ہوئی۔’

’بہادر‘

بہرحال پہلے نیویارک اور پھر واشنگٹن میں انھوں نے فوٹوگرافر کے طور پر ایک کامیاب کریئر بنایا۔ انھیں محبت ہو گئی، انھوں نے شادی کر لی اور پھر ان کے ہاں تین بچوں کی ولادت ہوئی۔ انھوں نے اپنے گھر پر کئی بلیاں بھی پال رکھی ہیں۔

جب وہ اپنے ماضی کی ہولناکیوں کے جوابات کی تلاش میں آسٹریا واپس آئیں تو ان کے تمام بچے ان کے ساتھ تھے۔

انھیں معلوم ہوا کہ ییلو ہاؤس میں جو کچھ ہوا اس کی تحقیقات ایک سرکاری کمیشن کر رہا تھا اور ایوی نے بھی اس میں اپنا ایک بیان درج کروایا۔

‘ایک دن، جب میں اپنا ای میل چیک کر رہی تھی تو میں نے ٹائرولن کے ایک اہلکار کی طرف سے ایک نوٹ دیکھا۔ یہ سرکاری معافی نامہ تھا، اور اس میں لکھا تھا: ’جو آپ کے ساتھ ہوا وہ کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میں آپ کی کہانی سے صرف سبق حاصل کرنے کا وعدہ کر سکتا ہوں۔‘

’یہ بہت اہم تھا۔ ایسا محسوس ہوا کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی ایک سرکاری پہچان تھی جسے اب واقعی غلط اور ناقابلِ بیان سمجھا جاتا ہے۔ وہ ایسی چیز تھی جو کچھ عرصہ پہلے پوری طرح سے قابل قبول نہیں تھی۔‘

اس دوران ایوی اپنی ماں اینی سے ملنے گئیں۔

’وہ حیرت انگیز طور پر مہربان تھیں۔ میں نے سوچا کہ وہ مجھے 10 سیکنڈ تک دیکھیں گی اور پھر باہر نکال دیں گی۔ میں واقعی کسی خوفناک چیز کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھی۔ لیکن میں ایک بزرگ خاتون سے ملی جو مجھے دیکھ کر اور میرے بیٹے سے مل کر خوش ہوئی۔‘

جب اینی نے ایوی سے معافی مانگی تو وہ رو پڑیں اور ایوی نے انھیں تسلی دی۔ ’میں نقصان پہنچانا نہیں چاہتی تھی، میں صرف بچوں سے بدسلوکی کرنے والوں کو معاف نہیں کرتی۔‘

ایوی کا کہنا ہے کہ اس طوفان کے بعد وہ کچھ سال پہلے کی نسبت مختلف محسوس کرتی ہیں۔

’ان سب کا پتہ لگانے کے عمل نے مجھے واقعی بدل دیا ہے۔ میں اچھی طرح سو رہی ہوں، میں زیادہ پر اعتماد ہوں، میں بہت بہتر حالت میں ہوں۔‘

آسٹریا کے اپنے ایک دورے پر ایوی کو ییلو ہاؤس میں ان کے وقت کے دستاویزات کا ذخیرہ ملا تھا۔

ان میں سے ایک میں سفید کوٹ والے محققین نے ان کی شخصیت کا جائزہ لیا اور ایوی کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ’یہ اتنی بہادر ہے کہ یہ آئندہ زندگی میں خود کو ثابت کرے گی۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33080 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments