پاکستان کا ایوان بالا سینٹ۔ وفاق میں صوبوں کی آواز


پاکستان کے ایوان بالا یا سینٹ کے قیام کو 2023 میں 50 سال مکمل ہوئے۔ یہ پچاس سال آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کے بھی ہیں۔ کیوں کہ پہلے دو آئین جو بالترتیب 1956 اور 1962 میں بنائے گئے تھے منسوخ کر دیے گئے تھے۔ ابتدائی دنوں میں آئین پاکستان کے لیے یک ایوانی مقنّنہ یا صرف قومی اسمبلی پر انحصار کرتے تھے۔

1973 کے آئین میں پہلی مرتبہ پاکستان کو دو ایوانی مقنّنہ دی گئی جو بار بار معطل ہونے کے باوجود اب تک چل رہی ہے۔ اس مضمون میں ایوان بالا کی اہمیت اور ضرورت پر بات کی جاری ہے لیکن اس سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قارئین کو تھوڑا پس منظر بتا دیا جائے۔

تاریخی طور پر قانون سازی قبائلی اور جاگیر دارانہ معاشروں میں کسی منتخب ادارے کی ذمہ داری نہیں تھی۔ بادشاہتوں میں عام طور پر بادشاہ ہی قانون کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کر لیا کرتے تھے اور مقامی کا سطح پر پنچایتیں یا جرگے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق قانون پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتی تھیں۔ سلطنت روم میں کوئی دو ہزار سال پہلے ایک سینٹ کا ادارہ وجود میں آیا تھا جس میں سینیٹر باہمی مشاورت کیا کرتے تھے اور طبقہ اعلیٰ سے تعلق رکھنے کے باوصف عموماً بادشاہ یا شہنشاہ تک کو للکار دیتے تھے۔ جولیس سیزر کا قتل کچھ سینیٹرز نے مل کر کیا تھا جو جولیس سیزر کی آمریت سے پریشان تھے۔

کوئی پانچ سو سال قبل جب یورپ میں علم و فن، ادب و ثقافت، سماج اور سیاست سب میں تیز تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوئیں تو اس کے بعد برطانیہ، امریکا، فرانس وغیرہ میں بڑے انقلابات برپا ہونا شروع ہوئے اور دو تین سو سال میں دنیا نے جمہوری اصولوں اور اداروں کی بازگشت سننی شروع کی۔

اس تیز سماجی اور سیاسی ارتقاء کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ امریکا میں دو ایوانی مقنّنہ موجود ہے جس میں ایوان زیریں کو ایوانِ نمائندگان اور ایوانِ بالا کو سینٹ کہا جاتا ہے۔ برطانیہ میں دارالعلوم اور دارالامراء موجود ہیں جب کہ بھارت میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے دو ایوان قانون سازی کرتے ہیں۔

پاکستان میں ایوانِ زیریں کو قومی اسمبلی اور ایوانِ بالا کو سینٹ کہا جاتا ہے۔ سینٹ کا ادارہ دراصل وفاق کی اکائیوں کو ایک بھرپور آواز فراہم کرتا ہے کیوں کہ قومی اسمبلی میں ملک کی آبادی کے لحاظ سے نشستیں ہوتی ہیں جب کہ سینٹ میں تمام صوبوں کو برابر نمائندگی دی جاتی ہیں۔

اس طرح سینٹ وفاق میں صوبوں کی آواز بن جاتا ہے کیوں کہ اگر صرف قومی اسمبلی قانون سازی کا اختیار رکھتی ہو تو اکثریتی صوبہ اپنی مرضی سے تمام قانون سازی کر سکتا ہے۔ مثلاً پنجاب کی آبادی ملک میں پچاس سے پچپن فیصد کے درمیان ہے اور اس کی بدولت وہ خود قومی اسمبلی میں تمام قانون سازی کر سکتا ہے۔

لیکن سینٹ میں تمام اصولوں کی برابر نمائندگی کی بدولت چھوٹے صوبے ایک فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں اس لیے عام طور پر وفاقی حکومت رکھنے والے ملک دو ایوانی مقنّنہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے پارلیمان سے منظور ہونے والے قانون کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں ایوانوں سے منظوری حاصل کرے۔

1973 میں بننے والے آئین میں اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا گیا اور سینٹ کو ایک اہم کردار سونپا گیا اور اس کردار کی بدولت سینٹ تمام وفاقی اکائیوں یعنی صوبوں کے مفادات کے تحفظ کی ضمانت ہے۔

پھر چوں کہ سینٹ میں متناسب نمائندگی کے ذریعے ارکان کو منتخب کر کے بھیجا جاتا ہے اس لیے اقلیتی گروہ یا جماعتیں نمائندگی حاصل کرنے میں کام یاب ہو جاتی ہیں۔

وفاقی اکائیوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری سینٹ کی ہے۔ اس لیے ایوان بالا کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی آئینی تقاضوں کے مطابق پوری ہو جس سے صوبوں کے درمیان ہم آہنگی میں اضافے کی توقع کی جاتی ہے۔

سینٹ میں ایک فنکشنل کمیٹی ہے جو اقتدار کی نچلی سطح ہے منتقلی کے لیے قوانین میں تبدیلی کراتی ہے۔ اس فنکشنل کمیٹی کا کام یہ ہے کہ وہ مسلسل بنیادوں پر اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کا جائزہ لے اور رکاوٹوں کی نشان دہی کر کے ان کا تدارک کرے جیسا کہ آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے مطابق ہو۔

جب 1973 میں ملک کا نیا آئین بنایا گیا اس وقت سینٹ میں پینتالیس ( 45 ) نشستیں رکھی گئی تھیں۔ پھر 1977 میں ان کی تعداد بڑھا کر تریسٹھ 63 کردی گئیں، 1985 میں سینٹ کے ارکان کی تعداد میں مزید اضافہ کر کے اسے 87 تک لے جایا گیا اور پھر جنرل مشرف کے دور میں یہ تعداد سو تک بڑھا دی گئی۔

2002 میں جاری کیے جانے والے قانونی ڈھانچے یعنی لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے سینٹ کے ارکان کی تعداد 100 تک بڑھا دی گئی تھی جسے پھر صدر آصف علی زرداری دور میں 104 تک پہنچا دیا گیا جب اٹھارہویں ترمیم کے تحت ہر صوبے سے ایک اقلیتی رکن کی نامزدگی لازمی قرار دے دی گئی۔

مگر پچیس ویں ترمیم کے تحت جب فاٹا یعنی وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو صوبے خیبر پختون خوا میں ضم کیا گیا تو فاٹا کی نشستیں ختم کر دی گئیں اس طرح تعداد چھیانوے ہو گئی۔ پاکستان کے آئین کے مطابق کم از کم سترہ خواتین ارکانِ سینٹ کا ہونا ضروری ہے۔

اس وقت ہر صوبے کو 14 ارکانِ سینیٹ عام نشستوں پر منتخب کرنے ہوتے ہیں۔ اسلام آباد کے لیے دو عام نشستیں ہیں جب کہ فاٹا کی آٹھ ضم ہو چکی ہیں جس کے نتیجے میں 2024 سے سینیٹ کے ارکان کی تعداد چھیانوے رہ جائے گی جب فاٹا کے موجودہ ارکانِ سینٹ کی مدت مکمل ہو گی جن میں آدھے 2021 میں سبکدوش ہوچکے ہیں۔

اس طرح ہر صوبے کو چار ٹیکنو کریٹ یا علما کی نشستیں اور چار خواتین کی نشستیں دی گئی ہیں اور ایک اقلیت کی اس طرح ہر صوبہ کُل ملا کر 23 سینٹر رکھتا ہے اور اسلام آباد دو جنرل یا عام نشستوں کے ساتھ خاتون اور ایک اقلیتی رکن کا حامل ہے۔

1973 کے آئین کے مطابق سینٹ کو تحلیل نہیں کیا جاسکتا تاکہ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد بھی پارلیمان کا تسلسل جاری رہے۔ لیکن جب جنرل ضیا الحق نے 1977 میں غیر آئینی طور پر مارشل لاء لگا کر اسمبلی کو تحلیل کیا تو سینٹ کی بساط بھی لپیٹ دی گئی تھی۔ اس طرح پاکستان کی پہلی سینٹ کو بھی بے آبرو کر کے نکالا گیا اور پارلیمان جنرل ضیا الحق کی فوجی آمریت کے سامنے کچھ نہ کر سکی۔

پاکستان کی سینٹ کے پہلے سربراہ حبیب اللہ خان تھے جو 1973 سے 1977 تک سینٹ کے چیر مین رہے۔ پھر 1985 جب تھوڑی بہت عوامی نمائندگی کو جنرل ضیاء الحق نے بحال کیا تو غلام اسحاق خان آزاد امیدوار کی حیثیت سے چیرمین سینٹ بنے اور دسمبر 1988 میں صدر منتخب ہونے تک ایوان بالا کے سربراہ رہے۔ اب تک سب سے طویل عرصے سینٹ کے سربراہ رہنے کا اعزاز وسیم سجاد کے پاس ہے جو 1988 سے 1999 تک گیارہ برس مسلسل چیرمین رہے۔ اور اگر اکتوبر 1999 میں جنرل پرویز مشرف ایک بار پھر جمہوریت پر شب خون نہ مارتے تو اپنی دوسری چھ سالہ مدت پوری کر کے 2000 میں سبکدوش ہوتے۔

2003 میں جنرل مشرف کے سپریم کورٹ کے حکم کے تحت انتخابات کرا کے پابند جمہوریت بحال کی تو محمد میاں سومرو سینٹ کے سربراہ بنے اور 2009 تک اسی عہدے پر فائز رہے پھر 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت آنے کے بعد سینٹ میں بھی اسی جماعت کی اکثریت بنی تو 2009 میں فاروق ایچ نائیک کو سینٹ کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ پھر 2012 نیر بخاری اور 2015 میں رضا ربانی کو یہ عہدہ دیا گیا۔ مارچ 2018 میں مسلم لیگ نواز رضا ربانی کو ایک بار پھر سینٹ کا چیرمین بنوانے پر راضی تھی لیکن آصف زرداری نہ مانے اور صادق سنجرانی کو یہ عہدہ دے کر رہے۔ اس طرح سینٹ کے پچاس سال پر نظر ڈالی جائے تو جنرل ضیا الحق کی آمریت میں آٹھ سال اور جنرل مشرف کی فوجی حکومت میں چار سال ایوانِ بالا معطل رہا یعنی پچاس میں صرف اڑتیس سال اس نے کام کیا۔

ان اڑتیس برسوں میں پیپلز پارٹی کے پاس یہ عہدہ کُل 13 برس رہا ہے۔ جن میں پہلے چار سال حبیب اللہ کے پاس اور پھر تین تین سال فاروق ایچ نائیک، نیر بخاری اور رضاربانی کے پاس۔ جب کہ مسلم لیگ نواز نے یہ عہدہ چھ چھ سال کے لیے وسیم سجاد کو دیا جن میں سے وہ گیارہ سال مکمل کر گئے۔ وسیم سجاد کے بعد دوسرا طویل عرصہ محمد میاں سومرا نے چھ سال پورے گزارے۔ اب اگلے سال 2024 میں صادق سنجرانی اپنے چھ سال پورے کر کے ممکنہ طور پر محمد میاں سومرو کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر براجمان ہوں گے۔

پچھلے پچاس سال میں سینٹ کو جب بھی کام کرنے کا موقع ملا اس نے وفاق میں صوبوں کی آواز کا کام کیا اور چوں کہ ارکانِ سینٹ کو اظہار خیال کی مکمل آزادی ہوتی ہے اور ان کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی جا سکتی اس لیے ہم نے دیکھا ہے کہ فرحت اللہ بابر اور افراسیاب خٹک سے لے کر رضا ربانی اور اعتزاز احسن تک مختلف اوقات میں اپنی بات کھل کر کرتے رہے ہیں۔

ہم یہ بات جانتے ہیں کہ کسی بھی وفاق کی خوب صورتی یہی ہوتی ہے کہ اس میں چھوٹے صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور اگر سینٹ کچھ ایسی چیزیں دیکھے جن سے صوبوں کے استحقاق مجروح ہو رہے ہوں تو وفاقی حکومت کی توجہ اس جانب دلائے اس طرح وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات میں ایک طرح توازن برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

سینٹ اپنے اختیارات کی بدولت اگر چاہے تو نئی قانون سازی کی ابتداء بھی کر سکتی ہے اور قومی اسمبلی سے آنے والے منظور شدہ قانون پر سیر حاصل بحث بھی کر سکتی ہے اور اسے واپس قومی اسمبلی بھی بھیج سکتی ہے جس کے ساتھ قانون میں تبدیلیوں کا کہا جاتا ہے اگر قومی اسمبلی وہ تبدیلیاں کر کے سینٹ کو بھیج دے اور اگر سینٹ مطمئن ہو تو قانون منظور کر لیتی ہے ورنہ نا منظوری کی صورت میں قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا بل قانون نہیں بن سکتا جب تک کہ اسے سینٹ کی منظوری حاصل نہ ہو جائے۔ اسی طرح سینٹ صوبوں کی مرضی سے ہی قانون پاس کر سکتی ہے۔

لیکن پھر بھی کبھی کبھی لگتا ہے کہ سینٹ کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی یہ مستحق ہے۔ خاص طور پر بہت سے فیصلوں میں حکومتیں خود سے قدم اٹھا لیتی ہیں اور سینٹ تو کیا قومی اسمبلی سے بھی نہیں پوچھتی۔ مثال کے طور پر جنرل ضیاء الحق کا ملک کو افغان جنگ میں جھونکنے کا فیصلہ ہو یا جنرل پرویز مشرف کا ایک بار پھر امریکا کی ہم نوائی کا فیصلہ انہوں نے کبھی قومی اسمبلی یا سینٹ سے کچھ پوچھنے یا مشورہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

حال ہی میں جب طالبان سے مذاکرات شروع کیے گئے تو جنرل فیض حمید نے اپنے طور پر ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا اور قومی اسمبلی اور سینٹ کے موجود ہوتے ہوئے بھی کبھی اُن کے سامنے اس بڑے فیصلے پر گفتگو نہیں کی گئی۔ یک طرفہ کیے گئے اس فیصلے اور دیگر کئی فیصلوں کے نقصانات ہمارے سامنے ہیں۔ اس کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ صرف سینٹ کے اختیارات میں مزید اضافہ کیا جائے اور اسے مزید موثر بنانے کی کوشش کی جائے۔ ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسی بناتے ہوئے شاذ و نادر ہی ملک کی سینٹ کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔

پھر سینٹ کے انتخابات میں ہم دیکھتے ہیں کہ بیرونی مداخلت یا غیر سیاسی قوتوں کا عمل دخل رہتا ہے جس کی واضح مثال 2021 میں ہونے والے چیرمین سینٹ کے انتخاب تھے جس میں حاصل بزنجو کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئے تھے۔

وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت پارلیمان سے ہی بنائے جاتے ہیں لیکن سینٹ کے ارکان کی تعداد کسی ایک وقت میں کُل وزراء کی تعداد کے ایک چوتھائی سے زیادہ نہیں ہو سکتی یعنی اگر کُل وزراء کی تعداد چالیس ہو تو اس میں سینٹ سے لیے جانے والے وزراء کی تعداد دس سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

سینٹ کے انتخابات آئین کی دفعہ انسٹھ 59 کے تحت ہوتے ہیں۔ سینٹ کے ارکان کی مدت رکنیت چھ سال ہوتی ہے لیکن ان میں سے آدھے تین سال بعد سبک دوش ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی سینیٹر کے استعفے یا وفات کے نتیجے میں نشست خالی ہو جائے تو ضمنی انتخاب ہوتے ہیں لیکن منتخب ہونے والے سینیٹر صرف باقی ماندہ مدت ہی پوری کر پاتے ہیں۔

چیرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کی مدت تین سال ہوتی ہے اور انہیں بار بار منتخب کیا جاسکتا ہے جیسا کہ وسیم سجاد کو چار مرتبہ سینٹ کا چیرمین منتخب کیا گیا۔

اب تک سینٹ کے تین چیرمین صدر پاکستان بھی رہ چکے ہیں۔ پہلے غلام اسحاق خان 1985 سے 1988 تک تین سال چیرمین سینٹ اور پھر 1993 تک پانچ سال صدر پاکستان رہے۔ وسیم سجاد نے دو دفعہ قائم مقام صدر پاکستان کا عہدہ بھی سنبھالا پہلے 1993 میں غلام اسحاق خان کے استعفے کے بعد چار ماہ صدر رہے اور پھر فاروق لغاری کے استعفے کے بعد 1997 میں ایک ماہ صدر رہے۔

اس طرح سینیٹ کے چیرمین محمد میاں سومرو نے 2008 میں جنرل پرویز مشرف کے استعفے کے بعد تین ہفتے قائم مقام صدر کی ذمہ داری نبھائی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ چیرمین سینٹ رہتے ہوئے محمد میاں سومرو نے نومبر 2007 سے مارچ 2008 تک نگراں وزیر اعظم کے فرائض بھی انجام دیے۔ اس طرح محمد میاں سومرو پاکستان کی تاریخ کی واحد شخصیت ہیں جو وزیر داخلہ، صدر اور سینٹ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

سینٹ کی خاتون ڈپٹی چیرمین رہنے کا اعزاز ڈاکٹر نورجہاں پانیزئی کو حاصل ہے جو 1991 سے 1994 تک سینٹ کی نائب سربراہ رہیں۔ سب سے طویل عرصے ڈپٹی چیرمین رہنے والے جان محمد جمالی ہیں جو 2006 سے 2012 تک سینٹ کے نائب سربراہ رہے۔

اب سینیٹ ایک مستحکم ادارہ ہے اور اس کا وفاق میں اہم کردار ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ادارے کو مزید مضبوط کیا جائے اور اس کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے۔ وفاق میں صدیوں کی اس آواز کو مزید بلند اور طاقت ور ہونا چاہیے ورنہ صوبوں میں اساس محرومی کے تدارک کے لیے کوئی اتنا موزوں ایوان نہیں ہے۔ اس ادارے کے انتخابات کو بھی مزید شفاف بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر بار الیکشن کے وقت خرید و فروخت کی افواہیں گردش نہ کریں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments