کتاب ”جس کی تھی بات بات میں ایک بات“ پر تبصرہ

محمود الحسن صاحب کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی حقیقی عمر سے ذرا کچھ تاخیر سے پیدا ہوئے۔ ان پر بھری جوانی میں بھی بزرگی طاری رہی، انتظار حسین صاحب، شمیم حنفی صاحب، زاہد ڈار صاحب، مستنصر حسین تارڑ صاحب، شمس الرحمٰن فاروقی صاحب، محمد سلیم الرحمٰن صاحب، وجاہت مسعود صاحب اور آصف فرخی صاحب جیسے معتبر نابغوں اور بزرگانِ علم و ادب کی محفلوں میں بڑی عقیدت سے بیٹھنے والے، ان کی گفتگو کو سعادت مندی سے سننے والے اور اس تعلق داری کو دوستی کے رنگ میں بدل لینے والے محمود الحسن نے اپنی نوجوانی میں ہی بزرگی کے دن جیے۔
ادب کی بے بدل شخصیت انتظار حسین صاحب کی یادوں کو ”شرفِ ہم کلامی“ میں اور شمس الرحمٰن فاروقی صاحب سے اپنی عقیدت و الفت کو ”جس کی تھی بات بات میں اِک بات“ کو مرتب و تحریر کرتے ہوئے انھوں نے اپنی اس محبت کی مہک کو بھی ان کتب میں سمیٹ دیا جو ادب کی ان بلند پایہ شخصیات سے انھیں ہمیشہ رہی تھی۔
انھوں نے شہرِ لاہور سے ویسی ہی اٹوٹ محبت کی جیسی لاہور کو ’لہانور‘ کہنے والے مسعود سعد سلیمان یا اس کی خاک کو آنکھوں سے لگانے کی خواہش کرنے والے کرشن چندر، یا اس کی یاد میں گم رہنے والے راجندر سنگھ بیدی، یا اس سے قلبی انسیت رکھنے والے اختر شیرانی، یا لاہور کے کسی بھی قدیمی عاشق کو اس سے رہی۔ ان کی کتاب ’لاہور شہرِ پر کمال‘ ان کے اسی عشق کا اظہار کامل ہے۔
معروف نقاد، محقق، ادیب، لغت نویس و مترجم شمس الرحمٰن فاروقی صاحب نے ان کے بارے میں لکھا کہ؛ ”محمود الحسن بھی چھوٹے موٹے لاہور ہیں۔ خاموش رہیں تو لگتا ہے کسی کالج میں پڑھتے ہوں گے اور بولیں تو اس کی حسِ مزاح، دنیا اور دنیا والوں کے تئیں ان کی طنزیہ نگاہ، وسیع مطالعہ اور اتنا ہی اچھا حافظہ انسان کو متحیر کر دیتے ہیں۔“
یہاں فاروقی صاحب کی اس بات سے اختلاف کی قطعی گنجائش نہیں۔ محمودالحسن صاحب پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، لیکن ادب اور ادب کی معتبر ادبی شخصیات سے ان کا والہانہ لگاؤ اور قلبی وابستگی، کثرتِ مطالعہ اور اردو زبان و ادب کی نادر و نایاب کتب کے بارے میں بھرپور، مفصل اور جامع معلومات ان سے پہلی بار ملنے والوں کو حیران ضرور کر دیتی ہے۔
شمس الرحمٰن فاروقی صاحب سے محبت، عقیدت اور انسیت کا بھرپور اظہار کرتی یہ مختصر سی کتاب نہ صرف فاروقی صاحب کے علمی و ادبی کام کا اجمالی جائزہ پیش کرتی ہے، بلکہ اس میں ان کے ادب، تنقید، تحقیق، اردو ادب کی بڑی شخصیات، مغربی ادب اور اس کا نقد و انتقاد، تخلیقی عمل، اردو شاعری، ہندوستان کے نامور ادباء، شعراء اور ناقدین، عالمی ادبیات اور اپنی ذاتی تخلیقات کے بارے میں گراں قدر افکار، خیالات اور معلومات کو بڑے مختصر مگر جامع انداز میں کتاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
فاروقی صاحب کی بیٹی مہر افشاں فاروقی صاحبہ کا احوال، ان کے اپنے والد کے حوالے سے شفقت و محبت بھرے جذبات و خیالات، بچپن کے دلچسپ واقعات، ادب، تنقید، ترجمہ اور جدید شاعری کے حوالے سے ان کے افکار اس کتاب کا اختصاص ہیں۔ یہی نہیں بلکہ فاروقی صاحب کی محبت سے بھیجی گئی دو ای میلز کے اقتباسات میں ان کی اردو و فارسی شعر فہمی اور تنقیدی فکر و نظر جس گہرائی سے نظر آتی ہے وہ لائقِ رشک ہے۔ کتاب کے اختتام میں فاروقی صاحب کا مضمون ”کمال کے شہر میں تین باکمال“ فاروقی صاحب کے مخصوص اسلوب میں نہ صرف شہرِ لاہور کے بارے میں بلکہ محمود الحسن صاحب کی شخصیت کے بارے میں بھی ان کے کے مہر آمیز خیالات و مشفقانہ جذبات کا عکاس ہے۔
قوسین لاہور سے شائع شدہ اس کتاب کا ہر گوشہ محمود الحسن صاحب کی فاروقی صاحب سے دلی قربت و انسیت کا غماز ہے۔ ایک بڑی ادبی شخصیت کو پیش کیا گیا یہ ایسا خراجِ تحسین ہے، جس کا حرف حرف بڑی عقیدت اور احترام سے رقم کیا گیا ہے۔ محترم محمود الحسن صاحب کو شمس الرحمٰن فاروقی صاحب جیسی اردو ادب کی اہم تنقیدی و تخلیقی شخصیت کی شان میں پیش کیے گئے ایسے عمدہ خراجِ تحسین پر دلی مبارک باد اور نیک تمنائیں۔


