رات، اور مَیں سفر میں: جدید آئرش شاعر جوزف کیمبل اور اُن کی نظمیں


اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کا ادب پڑھنے کا شوق مجھے بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔ یہ ”بچپن سے“ محاورتاً نہیں لکھ رہا۔ واقعتاً لکھ رہا ہوں۔ گھر میں والد صاحب جناب یزدانی جالندھری کی کتابوں کا جو ذاتی ذخیرہ تھا اُس میں کتنی ہی زبانوں کی کتب اور جرائد موجود تھے۔ میں طبع زاد اردو ادب کے ساتھ ساتھ ان کی محفوظ کی ترجمہ شدہ کتابیں بھی ”چٹ“ کر جاتا تھا۔ مثلاً کی کتابوں میں مجھے قیامِ پاکستان سے قبل یعنی متحدہ ہندوستان میں چھپی ایک ایسی نایاب کتاب ملی جو ہندی اور اردو کے بجائے ہندوستان کی دیگر زبانوں میں لکھے گئے شاہکار افسانوں کے اردو تراجم پر مشتمل تھی۔ ان زبانوں میں بنگالی، مراٹھی، ملیالم، تیلگو، تامل، کنڑ، گجراتی اور کئی دوسری زبانیں شامل تھیں۔

ان افسانوں کا مطالعہ میرے قلب و ذہن کے لیے ایک عجیب تجربہ تھا جس کے اثرات میری تخلیقی طبع اور ادبی ذوق پر مستقلاً رہے۔ اور پھر روسی، فارسی، ہندی، انگریزی اور بنگالی زبان کے شعر و ادب کے جو تراجم خود والد صاحب نے کیے تھے اُن سے استفادہ کا بھی موقع ملا۔

گورنمنٹ کالج لاہور پہنچا تو سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی کے ہفتہ وار اجلاسوں میں شرکت ممکن ہو گئی۔ یوں طلبہ و طالبات کے کیے نو بہ نو تراجم سماعت سے گزرنے لگے۔

دیکھتے دیکھتے اور سنتے سنتے میں بھی ان نوآموز مترجمین کی فہرس میں شامل ہو گیا۔ مجھے یاد ہے وقت کے بارے میں ایک انگریزی نظم کو اردو روپ دے کر جب میں نے سوسائٹی کے اجلاس میں سنایا تھا تو خوب حوصلہ افزائی ہوئی تھی جس نے اس شوق کو مہمیز کیا۔ پھر یہ شوق زندگی کا حصہ بن گیا۔ تراجم ڈھونڈے جاتے اور دل جمعی سے پڑھے جاتے اور اصل تخلیقات کو بھی کبھی کبھار اردو کا روپ دے دیا جاتا۔

یہ 1978 کی بات ہے۔ میں کالج کا سالِ دوم کا طالب علم تھا۔ گرمیوں کی چھٹیاں ہوئیں تو آوارہ گردی کرتے ہوئے سکوٹر کے ایک حادثہ نے مجھے فی الواقع صاحب فراش کر دیا۔ کم از کم دو ماہ کے لیے چلنا پھرنا موقوف ہو گیا۔ اب بستر پر پڑے پڑے وقت کیونکر گزرے۔ ٹیلی وژن ابھی ہمارے گھر میں تھا نہیں۔ صرف ریڈیو تھا جو خبر اور تفریح کا ذریعہ تھا۔ یا پھر اخبارات و جرائد۔ والد صاحب میرے مطالعہ کی عادت سے واقف تھے۔ انھوں نے کمال کرم فرمائی کی کہ انھیں جو کتاب تحفتاً ملتی وہ بھی مجھے لا دیتے اور جو ماہنامہ ”محفل“ میں برائے تبصرہ موصول ہوتیں اس کی ایک کاپی بھی میرے لیے گھر لے آتے۔ تو یوں ٹانگ میں تکلیف کے باوجود میرا وقت اچھا گزرنے لگا۔

ایک روز انھوں نے میرے سرہانے جو تین کتابیں لاکر رکھیں ان میں سے ایک کتاب کا نام تھا:
غبار شبنم : منتخب نمایندہ جاپانی شاعری

یہ تراجم عبدالعزیز خالد صاحب نے کیے تھے۔ میں نے فوراً کتاب کھولی اور مطالعہ شروع کر دیا۔ یہ جاپانی شاعری سے بالعموم اور صنفِ شعر ہائیکو سے بالخصوص میری پہلی ملاقات تھی۔ ہائیکو اپنی سادہ بیانی، قدرتی مناظر اور کفایت لفظی جیسے اوصاف کے سبب مجھے فوراً ہی بھا گئی۔ مجھے ہائیکو کے ان مترجمہ نمونوں میں عجب سحر اور خالص پن یکجا ملے۔ ان میں پانی کی بوند بس پانی کی بوند ہے، محبوب کی مہین گردن سے پھسلتا موتی نہیں۔ گھاس کا تنکا، گھاس کا تنکا ہی ہے تلوار نہیں، پتھر ہے تو پتھر ہی محسوس ہوتا ہے، تالاب ہے تو تالاب ہے۔ نہ کہیں زبان و بیاں کا بوجھل پن اور نہ استعارہ و علامت کی آڑ۔ بس ایک منظر ہے اور سانس لے رہا ہے۔

اور پھر یوں ہی زندگی اور مطالعہ کے بے ترتیب سفر میں کسی پڑاؤ پر جوزف کیمبل کی مختصر نظموں سے تعارف ہو گیا۔ بس مجھے جانے کیوں ان میں سے ہائیکو کی سی خوشبو آئی۔ حال آں کہ کہاں جاپان اور کہاں آئرلینڈ۔ خیر میں نے کیمبل کو پڑھا اور لطف اندوز ہوا۔ اسی نام کے ایک مصنف و مفکر امریکا میں بھی ہوئے ہیں جن کی فلسفیانہ کتب کافی مقبول ہیں۔ مگر ہمارے یہ جوزف کیمبل تخلیق کار ہیں۔ میں نے پڑھتے پڑھتے ان کی چند نظموں کو اردو کا لباس پہنا دیا۔

ان تراجم سے ملنے سے پہلے آئیے آپ کی ملاقات ان کے شاعر سے کروائے دیتا ہوں۔

جوزف کیمبل ایک آئرش شاعر اور گیت نگار تھے۔ ان کی ولادت 15 جولائی 1879 کو آئرلینڈ کے شہر بیل فاسٹ میں ہوئی جبکہ ان کا انتقال 6 جون 1944 کو آئر لینڈ کے ایک گاؤں اینسکری میں ہوا۔

کیمبل نے Seosamh Mac Cathmhaoil اور Seosamh MacCathmhaoil کے ناموں سے بھی لکھا۔ اور انگریزی اور گیلک دونوں زبانوں میں لکھا۔ ان کا شمار انگریزی زبان کے ان ابتدائی جدید شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں ہمیں امیج ازم کا حُسن نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

کیمبل ایک ہمہ جہت تخلیق کار تھے۔ انھوں نے ڈرامے بھی لکھے، گیت بھی قلم بند کیے، ادبی جریدے کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے اور آئرش افسانوں کو انگریزی زبان کے قالب میں بھی ڈھالا تاہم مجھے ذاتی طور پر ان کی مختصر نظموں نے بہت متاثر کیا۔

جدیدیت پسند شاعر T.E. Hulme کی طرح، جو ان سے چار سال چھوٹے تھے، کیمبل نے بھی اظہار کے لیے آزاد نظم کی ہیئت کا سہارا لیا اور چند انتہائی خوب صورت نظموں سے دامنِ ادب کو معطر کیا۔ انھوں نے اپنی نظموں میں جو پیرایہ اظہار اپنایا ہے وہ تب تک کم کم ہی استعمال ہوا تھا گویا پامال نہ تھا۔ ان کے ہاں نہ لفاظی کا بوجھل احساس ہے اور نہ شدتِ جذبات کی کوئی کرشمہ سازی۔ اُن کی نظمیں قاری پر جو تاثر قائم کرتی ہیں وہ وکٹورین انداز کی شاعری سے یکسر مختلف اور ایسا تروتازہ ہے کہ جسے جدید کہنے میں نقادانِ ادب کو کوئی تامل نہیں۔ یاد رہے کہ یہ جدید نظمیں بیسویں صدی کے اولین عشرہ سے منسوب ہیں۔

ناقدین ان کے اعترافِ فن میں کہتے ہیں کہ کیمبل آئرلینڈ کی زندگی کی سادگی، وہاں کے حُسن کی معصومیت، سادہ لوحی اور خالص پن، دیہی زندگی کی مسرتوں اور سانحات کو جس موثر تخلیقی انداز میں بیان کرتے ہیں اس کی مثال اس کے کسی اور ہم عصر کے ہاں ملنا مشکل ہے۔ ان کے ہاں آئرش کسان کے معمولات، اس کے احساسات اور اس کے خواب سبھی کچھ اس انداز میں ملتا ہے کہ بے ساختہ داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ اس کے ہاں کردار کبھی تو انسان کے روپ میں ابھرتے ہیں اور کبھی علامت کی صورت میں۔ تاہم ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے ہاں انسان ہوں یا اشیا وہ علامت سے زیادہ اصل ہی دکھائی دیتے ہیں۔ قریب قریب ویسے ہی جیسے وہ ہیں۔

امیج کا استعمال اور کفایتِ لفظی جیسے اوصاف ان کی نظموں کو جاپانی ہائیکو سے قریب کر دیتے ہیں جن میں اشیا اور مناظر علامتی کے بجائے حقیقی روپ میں پیش کیے جاتے ہیں۔

بعض ناقدین ان کی نظموں کے مزاج کو ٹی ای ہیوم اور ایزرا پاونڈ کے شعری ماحول کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔ اس کا ایک سبب غالباً ان کی امیج ازم سے محبت ہے۔ یعنی وہ بھی ایک امیجسٹ شاعر ہیں۔ ان کی نظم ”فجر کی سفیدی“ میں مثال کے طور پر، ہم صاف محسوس کرتے ہیں کہ نظم کا مکمل اظہاری ارتکاز امیج پر ہے۔ جو منظر یہاں پیش کیا جا رہا ہے اس میں نہ اضافی شاعرانہ لوازمات کی بھرتی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی علامت کی گونج کو اس میں سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہاں، اس میں کسی حد تک شاعر کی ذہنی کیفیت ضرور در آئی ہے مگر یہ شاعر کی ذات کی اس میں شمولیت کے امکان کو بہرحال کم ہی کرتی ہے اور یہ نظم ایسی علامتی بھی نہیں کہ جس میں کسی ایک شے کو دوسری شے قرار دیا جا رہا ہو۔ اس میں امیج ہمیں خالص امیج ہی دکھائی دیتا ہے۔ بالکل دیہی زندگی کی طرح خالص۔

ذیل میں ان کی چند نظموں کے اردو تراجم پیش ہیں۔ اس امید کہ ساتھ کہ آپ کو پسند آئیں گے۔
………………………………………
فجر کی سفیدی
۔ ۔
فجر کی سفیدی۔
سرمئی بادل کا ایک کنارا اس پر لیٹا ہے بوجھل بوجھل
چاند، کسی شکار کی صورت، بادل میں گرتا ہُوا
۔ ۔
تاریکی
۔ ۔
تاریکی
میں رُکتا ہوں دیکھنے کو ایک ستارہ جگمگاتا دلدل میں۔
جو اب ستارہ بھی نہیں، بس ایک جھالر سی روشنی کی۔
میں اسی کی طرف دیکھتا ہوں، اور آگے بڑھ جاتا ہوں
۔ ۔

سنگِ راس
۔ ۔
چوٹی کا پتھر۔
کاٹتی ہَوا بہتی ہوئی۔
سرمائی شفق قریب سے قریب تر ہوتی ہوئی
چاند، اجلا اور شان دار، ابھرتا ہوا جھیل اور نشیبی قصبے کے اوپر
میں اپنا ہیٹ اتارتا ہوں، اسے سلام کرتا ہوں اور نیچے اترنے لگتا ہوں اندھیرے میں۔
۔ ۔

رات، اور مَیں سفر میں
۔ ۔
رات، اور مَیں سفر میں۔
ایک دروازہ کھلا ہوا سرِ راہ۔
باہر پھینک رہا ہے
زرد روشنی کی ایک عمودی گرم لکیر
دلدلی کوئلے کے دھوئیں کی ایک لہر
اندر پڑے سنگھار میز کی گہری چمک؛
کسی عورت کی گنگناتی آواز، شاید کسی بچے کے لیے۔
میں آگے بڑھ جاتا ہوں اندھیرے میں۔

Facebook Comments HS