شیما کرمانی: ہر تان ہے دیپک


تحریر: صائمہ حیات/ عاطف حیات

پرفارمنگ آرٹ اور بطور خاص کلاسیکل رقص کو ہمارے یہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ریاستی سطح پر اس فن کی پذیرائی نہ ہونے کے سبب یہ فن اب یکسر معدوم ہو چکا ہے۔ ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں بشمول اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز میں طالبعلموں کی اکثریت تعلیم حاصل کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے یہ طالب علم اپنے پورے تعلیمی کیریئر کے دوران اس فن سے مکمل طور پر نابلد رکھے جاتے ہیں بلکہ نصاب میں شامل مخصوص نظریات کی بنا پر رقص سیکھنے کے بارے میں ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس فن کو ہندوؤں کے مذہبی عقائد سے جوڑا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ کلاسیکل رقص کے فنکار اب ہمیں خال خال ہی ملتے ہیں۔

دراصل کئی دہائیوں سے اربابِ اختیار کی جانب سے اس فن کو نظرانداز کرنے کے سبب یہ ”فن“ اب اشرافیہ طبقہ تک محدود ہو چکا ہے۔ اس وقت انٹرٹینمنٹ کے شعبے میں سرکاری ٹی وی چینل کے علاوہ انگنت نجی چینلز موجود ہیں لیکن کسی بھی چینل پر کلاسیکل رقص کے بارے میں کوئی پروگرام نشر نہیں ہو رہا۔ البتہ کبھی کبھی کسی کلاسیکل فنکار کو اسٹوڈیو میں مدعو کر کے اس کا انٹرویو کسی چینل سے نشر کر لیا جاتا ہے۔ اس وقت ہمارے یہاں کلاسیکل رقص کے ماہر فنکار انگلیوں میں گنے جا سکتے ہیں۔ رواں برس شیما کرمانی ”کو ان کے“ کلاسیکل فن ”کی خدمات پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے سب سے بڑا سول ایوارڈ“ پرائیڈ آف پرفارمنس ”دیا گیا ہے۔ شیما کرمانی کی اپنے فن کے ساتھ ریاضت اور جدوجہد پر حکومتی سطح پر ان کو دیا جانے والا یہ اعزاز دراصل“ کلاسیکل فن ”کی جیت ہے جسے ہمارے یہاں برسوں نظرانداز کیا گیا۔

ہمارا یہ مضمون ”شیما کرمانی“ کی کلاسیکل رقص سے کمٹمنٹ اور ان کی زندگی بھر کی فنّی و ثقافتی خدمات پر ایک خراجِ تحسین ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس تحریر سے قارئین کو شیما کرمانی کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا۔

شیما کرمانی کا نام ذہن میں آتے ہی کسی دیومالائی شخصیت کا ایک دلکش اسکیچ آپ کی نظروں کے سامنے ابھرنا شروع ہو جاتا ہے۔ ہمارے سامنے ان کی شخصیت کے ان گنت پہلو اور حوالے ہیں۔ درحقیقت ان کی شخصیت کا طلسم ان کی زندگی بھر کی جہدِ مسلسل اور انسان دوستی کا پرتو ہے۔ عملی سیاست، انسانی حقوق بطور خاص عورتوں کے حقوق، تھیٹر، کلاسیکل رقص، پینٹنگز اور فنون لطیفہ سے وابستہ ایسی کئی جہتیں ہیں جن کے ذریعے شیما کرمانی اپنی سوچ کا اپنے خیالات کا اظہار کرتی آ رہی ہیں۔ وہ پاکستان میں اپنے فن کی بدولت پانچ دہائیوں سے فنون لطیفہ کے افق پر مستقل مزاجی سے چھائی ہوئی ہیں۔

ان کے فن و شخصیت کا بیان سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ یہ محض ایک مبالغہ آمیز محاورہ نہیں بلکہ جیسے جیسے آپ ان کی زندگی کے ان گنت گوشوں سے پردہ اٹھاتے جاتے ہیں، آپ پر ایک سحر طاری ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی آپ کو اپنی خوش قسمتی پر فخر بھی محسوس ہوتا ہے کہ آپ ان کے عہد میں زندہ ہیں۔ اگلے وقتوں میں ہم آنے والی نسلوں کو بڑے چاؤ سے یہ بتا سکیں گے کہ ایک رابعہ بصری کو ہماری سرزمین نے بھی جنم دیا تھا۔

ان کی ذات اور فن کے کئی اہم پہلو ہیں جنہیں قارئین سے روشناس کرانا از حد ضروری ہے۔ شیما کرمانی اوائل جوانی میں ہی شعوری طور پر انقلابی سیاست سے وابستہ ہو گئیں تھیں۔ اس سیاست کی وجہ سے ان کا مزدور کسان تحریکوں سے جڑنا، فیکٹریوں میں کام کرنے والی عورتوں کے ساتھ ان کی زندگی کو سمجھنے کے لئے کچی بستیوں کا دور دراز سفر کرنا اور سماجی و ادبی تحریکوں میں انفرادی سطح پر سرگرم رکن کے طور پر کام کرنا ناگزیر تھا۔ ان آدرشوں کے لئے انہوں نے اپنی ذہن سازی کی اور شعوری طور پر اپنی بودوباش اور پْر آسائش زندگی کو ترک کر کے ایک خار دار اور پْر خطر راستے کو چْنا۔

شیما راولپنڈی میں 1951 میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد پاکستان آرمی سے منسلک تھے۔ آبائی طور پر والد کا تعلق لکھنو اور والدہ حیدرآباد دکن سے تھیں۔ ان کے والدین چونکہ مشرقی و مغربی ثقافت سے پوری طرح آشنا تھے۔ لہٰذا انہوں نے اپنے بچوں کو روایتی تعلیم دینے کے ساتھ ادب و موسیقی سے بھی روشناس کروایا۔ شیما نے مری کے کونوینٹ اسکول سے ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ فوج سے وابستہ ہونے کی وجہ سے آپ کے والد کا تبادلہ وقتاً فوقتاً مختلف شہروں میں ہوتا رہتا تھا، اس وجہ سے ان کا بچپن پاکستان کی مختلف فوجی چھاؤنی میں گزرا۔

پیانو اور مغربی کلاسیکل موسیقی کی تربیت انہوں نے محض آٹھ برس کی عمر سے حاصل کرنی شروع کر دی تھی۔ کراچی گرائمر اسکول سے اے لیول کرنے کے بعد لندن کے آرٹ کالج سے فائن آرٹس کی تربیت حاصل کی اور پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کیا۔ اس کے بعد روایتی تعلیم کا یہ سلسلہ منقطع ہو گیا لیکن بہت برسوں بعد انہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ سے شروع کیا۔ 2017 / 2018 میں کراچی یونیورسٹی سے بطور پرائیویٹ طالبعلم تاریخ میں ماسٹرز کرنے کے بعد نہ صرف ایم فِل مکمل کیا بلکہ ان دنوں شعبہ تاریخ سے ہی پی ایچ ڈی کرر ہی ہیں۔

یورپ میں ایسی مثالیں گاہے بگاہے دیکھنے کو مل جاتی ہیں کہ کوئی فرد عمر کے اس حصے میں اپنی ادھوری تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیتا ہے۔ اس سلسلے میں یورپی درس گاہیں بہت زیادہ معاونت فراہم کرتی ہیں اور پڑھنے والے کو سراہا جاتا ہے۔ اس تناظر میں اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو بہت سی درسگاہوں نے عمر کی حد بندی کی پالیسی اپنا رکھی ہے، اگر کوئی اپنی تعلیم کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کر بھی لے تو اسے انتہائی پیچیدہ اور کٹھن مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس لحاظ سے یہ اپنی نوعیت کا انوکھا فیصلہ تھا جو انہوں نے کیا۔ اس امر کے ہم خود چشم دید گواہ ہیں کہ کیسے انتہائی مشکل اور تھکا دینے والے مراحل اور یونیورسٹی کی تمام تر کاغذی کارروائی مکمل کر کے انہوں نے نہ صرف داخلہ حاصل کیا بلکہ لوگوں کے لیے ایک روشن سمت بھی متعین کی۔ ان کا یہ عمل لوگوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہو سکتا ہے جو عمر کے کسی بھی حصے میں کچھ بھی کر گزرنے کی خواہش رکھتے ہوں۔

باغیانہ مزاج بچپن سے ہی شیما کرمانی کا وصف رہا ہے۔ اس ضمن میں وہ بتاتی ہیں کہ میں عموماً ہر اس کام سے انحراف کیا کرتی تھی جو میرے والدین مجھ سے کرنے کے لیے کہا کرتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ میرے اوپر کبھی کوئی جبر مسلط کیا گیا ہو، زندگی کے چھوٹے چھوٹے روز مرہ کے اْمور میں اپنی مرضی سے سرانجام دیا کرتی تھی۔

یوں تو شیما کا بچپن پر آسائش اور آزادانہ ماحول میں گزرا لیکن معاشرے میں رائج صنفی ناہمواری کا ادراک انہیں اوائل عمری سے ہی ہو گیا تھا۔ جب آپ اپنے ارد گرد کے ماحول میں اکثر یہ دیکھتی تھیں کہ بہت سے ایسے کام صرف لڑکوں سے منسوب کر دیے گئے ہیں اور کہا جاتا تھا کہ فلاں کام لڑکیاں نہیں کر سکتیں۔ صنفی ناہمواری اور صنفی برابری کے تصور کا یہ ادراک دراصل ان کی زندگی کا اہم موڑ تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ فلسفہ حیات ان کی آنے والے زندگی اور شخصیت میں راسخ ہوتا چلا گیا۔

معاشرتی نا انصافی بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ ایک طرف ان کے پاس دنیا کی ہر آسائش موجود ہے جب کہ دوسری جانب انہی کی طرح کے دوسرے بچے جو کبھی انہیں گاڑی رْکنے پر سگنل میں بھیک مانگتے نظر آتے تو وہ اس فرق پر افسردہ اور جھنجھلا جاتی تھیں۔ علمی و ادبی ماحول کے سبب انہیں گھر میں ہر طرح کی ادبی اور سیاسی کتابوں تک رسائی حاصل تھی اسی لیے آپ بہت کم عمری میں ہی مارکس، اینگلز اور لینن کی کتابوں سے روشناس ہوئیں۔ روسی انقلاب اور چین کے ماؤزے تنگ کی انقلابی تحریکوں نے ان کی سوچ اور خیالات کو مہمیز کیا اور یوں بائیں بازو کی سیاست سے عملی طور پر وابستہ ہو گئیں۔

سیاسی شعور اور جمالیاتی ذوق کو جلّا دینے کی بابت وہ اپنے لندن میں گزرے ایام کو ایک سنہری دور قرار دیتی ہیں۔ ستّر کی دہائی میں شیما لندن گئیں جہاں انہوں نے پہلی بار احتجاج اور اختلاف کی طاقت کا مشاہدہ براہ راست خود کیا۔ وہ مغربی سیاسی فلسفے اور اس کی عورتوں سے متعلق تحریکوں سے نہ صرف واقف ہوئیں بلکہ انہیں اس دور کی کئی عظیم انقلابی شخصیات سے ملاقاتیں کرنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا بھی موقع ملا۔ ستر کی دہائی میں فیمنزم کا فلسفہ یورپ میں زور پکڑ رہا تھا اور عورتیں اپنے حقوق کے لیے سرگرم عمل تھیں۔

شیما کرمانی امریکن شاعر ایلن گنزبرگ اور فلاور پاور کی جنگ مخالف تحریک سے بے حد متاثر ہوئیں اس کے علاوہ حقوق نسواں کی علمبردار کیٹ ملیٹ اور جرمین گریر اور نسلی انصاف کے لئے جد و جہد کرنے والی بلیک پینتھرز تحریک سے نہ صرف روشناس ہوئیں بلکہ ان کے اندر عورتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے کی لگن اور بھی پختہ ہوتی گئی۔ لندن میں ہی قیام کے دوران بائیں بازو کے اہم دانشور طارق علی سے بھی شیما کا رابطہ ہوا جن کے کام اور انقلابی سیاسی فکر نے بھی انہیں متاثر کیا۔ لندن میں ہی ان کو اس زمانے کے عظیم فنکاروں کی تھیٹر پر فارمنسز دیکھنے کا بھی براہِ راست موقع ملا۔ ان کے اندر تھیٹر و فنون لطیفہ کے ذریعے اپنے سماج کو بدلنے کی تحریک قیام لندن کے دوران ہی ہو چکی تھی اور پھر یہی سوچ بعد ازاں ”تحریک نسواں“ کی بنیاد کا سبب بنی۔

شیما جب لندن سے واپس کراچی آئیں توان کی سیاسی سمجھ بوجھ بہت پختہ ہو چکی تھی۔ انہیں پاکستانی سماج میں رائج نا انصافی، غربت اور ذہنی پس پسماندگی کا گہرائی کے ساتھ ادراک ہوا۔ اسی سبب انہوں نے بائیں بازو کی سیاست میں شمولیت اختیار کر لی۔ بائیں بازو کے مختلف گروپوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہیں اندازہ ہوا کہ خواتین کے لیے سیاسی طور پر پنپنے کے لیے بہت محدود مواقع ہیں اور یہاں بھی پدرانہ نظام راسخ ہے۔ آپ نے محنت کش خواتین کے ساتھ بہت جلد سماجی تعلقات قائم کر لیے جس سے انہیں اندازہ ہوا کہ ”خواتین“ ٹریڈ یونینوں سے تقریباً غائب ہیں بلکہ اپنے بنیادی حقوق سے بھی ان عورتوں کو کوئی آگاہی نہیں ہے۔

ستر کی دہائی کے آخری برسوں میں پاکستان پر دوہرا عذاب نازل تھا۔ جنرل ضیا الحق کی طرف سے منتخب عوامی حکومت پر شب خون مار کر بدترین مارشل لاء نافذ کر دیا گیا تھا اور پھر ایک جعلی مقدمے میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دے دی گئی۔ مارشل لا کو چیلنج کرنے والے سیاسی ورکروں، صحافیوں، طالب علموں کو سرعام کوڑے مارے جا رہے تھے۔ اس سخت مارشل لا کے ذریعے پورے مْلک کا سماجی ڈھانچہ یکسر تبدیل ہو چکا تھا۔

اسلام کے نام پر طرح طرح کے قوانین پاکستانی عوام پر مسلط کیے جا رہے تھے۔ عورتوں کو جکڑنے کے لیے حدود آرڈیننس بھی متعارف کروایا گیا جس نے فیصلہ کن طور پر خواتین کو قانون کی نظر میں دوسرے درجے کا شہری بنا دیا۔ ٹی وی پر خواتین اور لڑکیوں کو اپنا سر دوپٹے سے ڈھانپنے پر مجبور کیا گیا۔ غرض پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر وہ ایک طرح سے نام نہاد اخلاقی سنسر شپ کا دور تھا۔ مذہب کو بنیاد بنا کر رقص و موسیقی کو بہت ہی محدود کر دیا گیا تھا۔ عوامی تقریبات میں رقص و تھیٹر پر سخت پابندی تھی اور نافرمانی کرنے پر سزائیں بھی متعارف کروائی گئیں تھیں۔ ان سخت قوانین کے سبب فنکار برادری میں بھی خوف اور بے چینی کی فضا طاری تھی۔ آپس میں چہ مگوئیاں کی جاتیں کہ کوئی بھی کچھ کرنے کا خطرہ کیوں مول لے اور اگر سنجیدگی سے کوئی کچھ کرنا چا ہے گا تو وہ یہ سوچ لے کہ اسے سزا بھی ہو سکتی ہے اور جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ جبر اور خوف کے اس عالم میں بھی شیما کرمانی نے کچھ کر گزرنے کی ٹھانی۔ انہوں نے 1983 میں اپنی پہلی عوامی پرفارمنس ایک دوست کے گھر پر دی جہاں سو سے زائد حاضرین مدعو تھے۔ یوں برسوں بعد لوگوں کو کلاسیکل رقص دیکھنے کا موقع ملا۔ حاضرین کی طرف سے بے پناہ داد اور حوصلہ افزائی کے بعد انہوں نے اپنی فنی و ثقافتی سرگرمیوں کو مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

اس تمام پس منظر میں انہوں نے ایسا پلیٹ فارم بنانے کے بارے میں سوچا جہاں خواتین اپنے حقوق کے لیے بات کر سکیں بلکہ اپنی مکمل تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار بھی کر سکیں۔ ضیاء الحق کے اس بدترین دور حکمرانی میں شیما کرمانی نے ’تحریک نسواں‘ کی داغ بیل ڈالی اور اس حوالے سے جس جرات کا اظہار کیا اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آج جب تحریک نسواں کو قائم ہوئے کم و بیش 50 سال ہونے کو ہیں، تحریک کا انقلابی کردار پاکستان کی تھیٹر کی تاریخ میں ایک استعارہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

ابتدائی طور پر شیما کرمانی نے تحریک نسواں کے تحت سماج کے بنیادی مسائل ذات پات اور برادری، مذہبی اقلیتیں، غیر محفوظ اسقاطِ حمل، عزت کے نام پر قتل اور عورتوں کے بنیادی حقوق سے متعلق مختلف آگاہی سیمینارز اور مباحثے منعقد کر کے آہستہ آہستہ اپنا ایک الگ موقف پیش کرنے کا جرات مندانہ اقدام کیا۔ ان سب معاملات پر وقتاً فوقتاً انہوں نے چھوٹے چھوٹے ناٹک بھی پیش کیے۔ کراچی کے علاوہ دور دراز علاقوں، دیہات اور قصبوں میں جا کر اصلاحی ناٹک کیے جس کی بدولت مختلف طبقات کے ساتھ ان کا رشتہ مزید گہرا ہوا۔ خاص طور سے عورتیں انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کرتیں اور کُھل کر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا اظہار بھی کرتیں۔

اس امر میں کوئی مبالغہ نہیں کہ پاکستان میں عورتوں کے حقوق سے متعلق شیما کرمانی و تحریک نسواں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ہر اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے ناٹک پیش کیے ہیں جسے دوسرے کرنے سے صرف اس لیے گریز کرتے ہیں کہ کہیں اس کی بھاری قیمت نہ ادا کرنی پڑ جائے۔

کاروکاری کے ذریعے جسے ہمارے یہاں عرفِ عام میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کہا جاتا ہے۔ جس میں نوجوان لڑکیوں پر زنا کا ارتکاب یا شادی سے قبل جنسی تعلقات رکھنے کی پاداش میں قتل کر دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں تحریک نسواں نے صوبہ سندھ کے علاوہ صوبہ پنجاب کے دورافتادہ علاقوں، آزاد کشمیر کے شہر میرپور اور مظفرآباد، صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ اور خیبرپختونخوا میں پشاور اور ایبٹ آباد جیسے شہروں کا رخ کیا اور ہزاروں لوگوں کے سامنے ناٹک پیش کیے جسے عوامی سطح پر بہت پذیرائی ملی، لوگوں نے اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے بارے میں انہیں اپنی لاتعداد کہانیاں سنائیں۔

کاروکاری کے مسئلے پر سماجی آگاہی کے لیے انہوں نے ایک ناٹک ”آخر کیوں“ بنایا جسے دیکھنے والوں نے بہت سراہا۔ شیما نے اپنے آگاہی پروگراموں کے ذریعے ایسے سلوگن بھی متعارف کروائے جنہیں عوامی سطح پر پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ”رنگ بدل لو بھائی“ ، ”ہم روکیں گے“ ، ”عزت نہیں انسان ہے عورت“ ، ”شادی میری تھی اور فیصلہ میرے باپ کا ہر عورت انمول۔

خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے شیما شروع سے ہی سرگرم عمل رہی ہیں۔ تحریک نسواں کے پیش کردہ سب ہی کھیل عورت اور اس سے جڑی کہانیاں درحقیقت ان کی ترقی پسند سوچ اور عورتوں کو با اختیار بنانے کی کوششوں کی غمازی کرتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے پنجابی زبان کی مشہور ہندوستانی مصنفہ اور بے باک شاعرہ امرتا پریتم کی کہانیوں پر مبنی اپنا پہلا ڈرامہ ”درد کے فاصلے“ پیش کیا تھا۔ اس ڈرامے کے دو علامتی کردار ”زندگی“ اور ”ہَوا“ اس سرزمین کی پانچ بہنوں سے ملنے جاتے ہیں۔

اس کھیل میں پانچ بہنیں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو لیے مختلف خواتین کے روپ میں جلوہ گر ہوئی تھیں۔ اس کھیل کی سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ پانچ میں سے چار بہنوں نے زندگی کے بارے میں نہ کبھی سنا تھا اور نہ ہی محسوس کیا تھا۔ یہ کھیل شہر کے متوسط علاقے میں عورتوں کے لیے کھولے گئے شاپنگ سینٹر میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کو دیکھنے آنے والی زیادہ تر خواتین کا تعلق متوسط طبقے سے تھا۔ کھیل میں پیش کیے جانے والے مختلف کرداروں کو ہر عورت خود سے منسوب کر رہی تھی۔

اس طرح کے اچھوتے اور منفرد خیالات تحریک نسواں کے ڈراموں کا وصف رہے ہیں۔ کھیل کے اختتام پر ایک دلچسپ مکالمہ اْن خواتین نے تحریک نسواں کے فنکاروں سے کیا تھا۔ حاضرین کی جانب سے اس ردعمل نے شیما کو اور توانائی بخشی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے کام اور پیغام کو ورکنگ کلاس طبقے تک پہچانے کے لیے پرفارمنگ آرٹس کو سنجیدگی سے اپنایا اور آج تک ”تحریک نسواں“ شیما کے اسی فلسفے کو پھیلانے میں سرگرمِ عمل ہے۔ شیما نے اپنے فن اور مثبت و امید پرستانہ سوچ کے ذریعے پاکستان کے اندر دم توڑنے والی پرفارمنگ آرٹس اور سنجیدہ تھیٹر کو اپنے خْون جگر سے زندہ کر رکھا ہے۔ پاکستان کی تھیٹر انڈسٹری میں انہوں نے ایک رجحان ساز کردار ادا کیا ہے

ملک بھر میں اقلیتی برادری کے مقدس مقامات کی بے حرمتی، ہزارہ شیعہ برادری کے قتل عام اور ناموس رسالت کے قوانین کی بنیاد پر قتل کیے جانے والے بے گناہ شہریوں کے لیے بھی تحریک نسواں نے عملی سرگرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ صوبہ بلوچستان میں مختلف ادوار میں ملٹری آپریشن کے سبب جبری طور پر لاپتہ کیے گئے سیاسی کارکنوں کی بازیابی کے لیے کراچی پریس کلب میں احتجاجی ناٹک کر کے ایوانوں میں بیٹھے مقتدر طبقے کو بھی للکارا ہے۔

کٹر پنتھیوں کی تمام تر مخالفت کے باوجود تسلسل کے ساتھ اگر ”عورت مارچ“ ہو رہا ہے تو اس کی محرک بھی شیما کی ہی بے باک اور نڈر ذات ہے۔ ”عورت مارچ“ نے سماج کو ایک ایسی طاقتور آواز فراہم کی ہے جس کے سبب اب خواجہ سراؤں نے بھی اپنے حقوق کے لیے ”مورت مارچ“ کا آغاز کیا ہے۔ عالمی سیاسی تحریکیں خصوصاً فلسطین کی تحریکِ آزادی اور فروغِ امن کے سلسلے میں بھی شیما کرمانی ہمیشہ متحرک رہی ہیں۔

تحریک نسواں کا فلسطین و اسرائیل کے تاریخی پس منظر میں پیش کیا جانے والا ڈرامہ
Jerusalem. My Love: A Journey Back In Time

اپنی نوعیت کا واحد اور انتہائی اثر انگیز کھیل تھا جو دیکھنے والوں کی یاداشت میں مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ اس میں مختصر سا ایک کردار رابعہ بصری کا بھی تھا جسے شیما نے نہایت ہی خوبصورتی سے ادا کیا تھا۔ رابعہ بصری جیسی تاریخی ہستی کے طور پر آپ جب سفید لباس میں محض چند لمحوں کے لیے اسٹیج پر نمودار ہوئیں تو دیکھنے والے ساکت ہو گئے تھے اور پھر ان کی آواز میں پس پردہ موسیقی کے ساتھ جملوں کی ادائیگی نے دیکھنے والوں کو مسحور کر دیا تھا۔ وہ آسمان سے اترتا ہوا نْور کا ایسا نظارہ تھا جس کا اظہار لفظوں میں ممکن نہیں۔ پڑھنے والوں کی دلچسپی کے لیے اس کھیل کے چند جملے ذیل میں نقل کیے جا رہے ہیں ؛

”پاگل ہوں میں
پگلی رابعہ بصری
میں اس سے کہہ رہی تھی
بے وفاؤں کے لیے روتے نہیں
یہ کہتے ساتھ ہی
میں خود رو پڑی، رابعہ بصری ”

اب تک تحریک نسواں کے بینر تلے ایسے لاتعداد کھیل پیش کیے جا چکے ہیں جن کا مقصد صرف تفریح و طبع نہیں بلکہ سماجی مسائل کے ادراک کے ساتھ ساتھ دیکھنے والوں کے جمالیاتی ذوق کو بھی جلا بخشنا ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں میں تحریک نسواں نے کئی لازوال اور بے مثال کھیل تخلیق کیے ہیں جن میں قابل ذکر ایک ہزار ایک تھیں راتیں، جنگ اب نہیں ہو گی، رنگ بدل لو بھائی، جنے لاہور نہیں ویکھیا، شیری، گاؤں میں روشنی، بلقیس قدر کا کنبہ، انجی، کراچی کہانیاں، عصمت چغتائی اور رشید جہاں کی بے باک کہانیوں پر مبنی کھیل بھی شامل ہیں۔

تحریک نسواں نے سعادت حسن منٹو، فیض احمد فیض اور سبطے حسن کے صد سالہ پیدائش کے جشن کو جس طرح اپنی عوامی پر فارمنسز کے ذریعے پیش کیا وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ یہ اعزاز بھی تحریک نسواں کو ہی حاصل ہوا کہ پاکستان کی ان تاریخ ساز شخصیات کے ایسے اوجھل پہلوؤں کو اپنے سامعین تک پہنچایا جن سے عوام کی اکثریت ناواقف تھی۔

جنگ مخالف خیالات کو اپنے ڈراموں کے ذریعے پیش کرنے میں بھی شیما کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ ان کی نظر میں فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی بلکہ فنکار تو امن کے پیامبر ہوتے ہیں جنہیں ہم نفرت کی بنیاد پر جغرافیائی سرحدوں کے خانوں میں قید نہیں کر سکتے۔ حصولِ امن کے فروغ کے لیے کوشاں ہماری یہ عظیم فنکارہ پاک ہند دوستی کی ہمیشہ سے زبردست حامی رہی ہے اور ہندوستان کی کئی ثقافتی اور امن پسند تنظیموں کے ساتھ سرحدوں کے دونوں اطراف رائج نفرتوں کی خلیج کو کم کرنے اور امن و دوستی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر کوشاں ہے۔

شیما کے نزدیک ہندوستان کی تہذیب اور فن و ثقافت پاک و ہند کے عوام کی ایک ایسی مشترکہ میراث ہے جسے کسی صورت مٹنے نہیں دیا جانا چاہیے۔ برصغیر پاک و ہند کی درد ناک تقسیم نے ہمارے مشترکہ ورثے پر جو زخم لگائے ہیں اسے دونوں جانب کے فنکار ہی مل کر مندمل کر سکتے ہیں۔ اس تناظر میں شیما نے کئی مرتبہ سخت مشکلات کے باوجود ہندوستان کے دورے کیے اور وہاں پر اپنے فن کا مظاہرہ کر کے امن و دوستی کی قندیلوں کو روشن کیا ہے۔

برصغیر کی تقسیم کے پس منظر میں ہندوستان کے مشہور ڈرامہ نویس اصغر وجاہت کا لکھا ہوا کھیل ”جنیں لاہور نیں ویکھیا“ کو تحریکِ نسواں نے ہندوستان کے تقریباً 12 شہروں میں پیش کیا اور دیکھنے والوں سے خوب داد سمیٹی۔ یہی نہیں بلکہ 1991 میں پاکستان میں پابندی کے باوجود اسے لاتعداد بار پیش کیا گیا۔ یہ کھیل تقسیم سے متاثرہ خاندانوں کی زندگیوں اور تکلیفوں کی غمازی کرتا ہے۔ اس کھیل میں شیما نے دادی کا ایک لازوال کردار ادا کیا بلکہ مکالموں کی ادائیگی کے لئے بھی ٹھیٹ پنجابی لب و لہجہ کا استعمال کیا۔ یہ کردار شیما کی زندگی کا ایک یادگار کردار ہے۔ اس بات کا کریڈٹ بھی تحریک کے سر جاتا ہے کہ اس کھیل میں مشہور شاعر ناصر کاظمی کی شاعری کو پہلی مرتبہ کسی ناٹک میں پیش کیا گیا تھا۔

2013 میں مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی صد سالہ پیدائش پر تحریک نسواں نے ایک لازوال کھیل ”منٹو میرا دوست“ پیش کیا جس کی پذیرائی نہ صرف یہاں پر بلکہ ہندوستان میں بھی ہوئی۔ اس میں شیما کرمانی نے عصمت چغتائی کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کھیل میں جس طرح منٹو کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بات ہوئی وہ قابل تعریف ہے۔ سعادت حسن منٹو تقسیم کے وقت پاکستان تشریف لے آئے تھے لیکن افسوس کہ یہاں جس طرح ان پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا تقسیم کے موضوع پر لکھے گئے ان کے افسانوں کو فحاشی کے زمرے میں لا کر ان پر جو مقدمات بنائے گئے، انہیں فحش نگار کہا گیا، وہ پاگل خانے پہنچا دیے گئے اور پھر کسمپرسی میں جس طرح منٹو کی وفات ہوئی یہ سب اس کھیل میں پُراثر انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ شیما نے عصمت چغتائی کا کردار جس طرح ڈوب کر کیا وہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کھیل میں منٹو کے دو ناقابلِ فراموش افسانے ”ٹھنڈا گوشت“ اور ”کالی شلوار“ کو نہایت بے باکی سے پیش کیا گیا تھا۔

2016 میں کراچی میں مشہور ترقی پسند مفکر اور مصنف سبطے حسن کی صد سالہ پیدائش کا ایک جشن منعقد ہوا۔ سبطے حسن کی زندگی کو بھی عوامی پرفارمنس کے ذریعے روشناس کرانے کا سہرا شیما کے سر جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ان کی بیٹی سے نہ صرف ملاقاتیں کیں بلکہ ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ بھی لیا۔ دیکھا جائے تو یہ ایک دشوار کام تھا لیکن تحریک نسواں نے اپنی فنی مہارت کے ذریعے ”سبطے حسن“ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو جس طرح ڈرامائی انداز میں پیش کیا وہ قابل دید تھا۔

رقص، شیما کی زندگی کا سب سے اہم حوالہ اور جزو ہے۔ کم عمری سے ہی ان کے والدین نے انہیں کلاسیکی موسیقی اور رقص سکھایا جس کی بدولت وہ اپنی ذات میں پنہاں کئی پہلوؤں سے آشناء ہوئیں۔ بنیادی طور پر کلاسیکل رقص کا رجحان شیما کو اپنی والدہ سے ملا۔ ان کی والدہ 1965 کی پاک انڈیا جنگ تک اپنے والدین سے ملنے حیدرآباد دکن اپنے بچوں سمیت تعطیلات گزارنے جاتیں تھیں وہاں ایک استاد ان کی والدہ اور بہنوں کو کلاسیکل رقص سکھانے آیا کرتے تھے۔

شیما کی والدہ کئی برسوں تک اس کی مشق کرتی رہیں۔ شیما کے کلاسیکل رقص کی ابتداء اسی دور میں ہوئی۔ تیرہ برس تک وہ اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان کے چھوٹے شہروں اور فوجی چھاؤنیوں میں مقیم رہیں جہاں ماہر رقاص اساتذہ میسر نہیں تھے۔ تاہم 1964 میں مستقل طور پر جب ان کا خاندان کراچی منتقل ہوا تو ان کی والدہ کو ایک رقاص جوڑا مسٹر اور مسز گھنشیام مل گئے جن کا کلاسیکل آرٹس کا اپنا ایک انسٹیٹیوٹ تھا۔ یوں شیما نے رقص کی ابتدائی تعلیم اس مایہ ناز جوڑے سے حاصل کی۔

بعد ازاں 1988 میں انڈین کونسل آف کلچرل ریلیشنز کی ایک اسکالرشپ پر رقص کی پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے لئے شیما ہندوستان گئیں اور وہاں کتھک، بھرت ناٹیم، اور اوڈیسی کے مایہ ناز اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔ شیما کا کہنا ہے کہ ”رقص میں نے بچپن سے ہی سیکھا۔ کراچی میں مسٹر اینڈ مسز گھنشیام کا اسکول تھا ان کے پاس رہ کر میں نے آٹھ دس سال تک سیکھا۔ اس کے بعد ان ہی کے اسکول میں، میں نے سکھایا بھی۔ وہ تیس برس سے پاکستان میں تھے، میری رقص کی طرف بڑھتی ہوئی دلچسپی دیکھ کر انہوں نے مجھے ہندوستان جانے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ میں ایک اسکالر شپ پر انڈیا گئی اور وہاں سے مزید تربیت حاصل کی۔ میں لگ بھگ چار دہائیوں سے کراچی میں کلاسیکل رقص سکھا رہی ہوں۔ اس وقت میرے کئی شاگرد ہیں لیکن شروع شروع میں جب میں نے اس فن کو سکھانا شروع کیا تھا تو میرے پاس صرف تین شاگرد تھے“ ۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ضیاء الحق کے بدترین مارشل لاء کے زمانے میں شیما پاکستان میں رہ جانے والی واحد رقاصہ تھیں کیونکہ بہت سے رقاص حالات کے پیش نظر ملک چھوڑ چکے تھے۔ لیکن انہوں نے پابندی کے دور میں بھی رقص جاری رکھا اور ہر طرح کے خطرات مول لیے۔ شیما نے اپنی ذات کی تفہیم رقص سے کی اور وہ رقص کی تعریف کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ

”باہر تو باہر، اس کائنات سے سفر کرتی اندر ذات تک میں جب امن و محبت اور سوز و ساز کا چراغ جلتا ہے تو رومی، بلھا، شمس سب عکس در عکس رقص کرتے ہیں، سْرور پاتے ہیں، قلب میں حضوری پاتے ہیں“ ۔ لال شہباز قلندر نے کہا تھا ”یہ تو نہیں معلوم کہ وقت دیدار یار میں عالم رقص کیوں طاری ہوجاتا ہے لیکن اپنے اس ذوق پر نازاں ہوں کہ اپنے یار کے سامنے رقصاں ہوں“ ۔

شیما اپنے رقص سے سچ کی کھوج کی متلاشی رہی ہیں اور یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ شیما نے کتھک اور بھرت ناٹیم کو نہ صرف پاکستان میں اپنے مختلف انداز میں پیش کیا بلکہ ایک ماہر رقاصہ کے طور پر دنیا بھر میں پاکستان کی اس معدوم ہوتی ثقافتی پہچان کو بھی روشناس کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے رقص کے فن کو پاکستان میں زندہ رکھنے کے لئے بہت مشکلات اور مصائب جھیلے ہیں لیکن ان کی لگن اور جستجو نے انہیں آج تک ثابت قدم رکھا بلکہ سینکڑوں شاگردوں نے ان سے اس فن کی تربیت بھی حاصل کی ہے۔

انہوں نے آج بھی باقاعدگی سے رقص سکھانے کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ آپ کے بہت سے شاگرد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔

شیما کرمانی کا اہم اور بنیادی کام ریاست پاکستان کے اس موقف کو رد کرنا ہے کہ پاکستان کی تہذیب و ثقافت میں رقص کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی انڈس ویلی تہذیب موہنجوداڑو میں کبھی کوئی رقص ہوا۔ ان کے نزدیک پاکستان میں تاریخ و تہذیب کے خد و خال ہمیں انڈس ویلی تہذیب کو سمجھنے سے حاصل ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ ہمارا وہ تاریخی ورثہ ہے جسے ہم اپنے سے الگ نہیں کر سکتے۔ اگر ہم ان نوادرات کا ذکر کریں جو ہمیں موہنجوداڑو سے ملی ہیں تو اس میں سب سے اہم چیز سمبارا کا مجسمہ ہے جو کہ ایک رقاصہ کا ہے کیونکہ اگر سمبارا تھی تو اس دھرتی میں رقص بھی تھا۔

ایک مجسمہ ہے جس میں ایک شخص بانسری بجاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک اور مجسمے میں ایک مرد ڈھول بجاتے ہوئے نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی دوسری چیزیں بھی ہیں جن سے ہم شعوری طور پر انحراف نہیں کر سکتے۔ انہوں نے رقص کے خلاف ناپسندیدہ سوچ کے آگے بند باندھنے کے لئے ایک زبردست بیلے ”سانگ آف موہنجو دڑو“ کے نام سے بھی ترتیب دیا تھا۔ 1992 میں اسے کراچی میں پہلی مرتبہ پیش کیا گیا۔ ہمارے خیال میں یہ شیما کرمانی کے تخلیقی کام کا ایک شاہ کا رہے۔ اس پوری کاوش کو اسٹیج پر پیش کرنے سے قبل انہوں نے باقاعدہ تحقیق کا سہارا لیا تھا اور تاریخی حوالوں کو اپنے تخیل سے جلا بخشتے ہوئے رقص کے آہنگ میں 2500 قبل مسیح کی انڈس ویلی تہذیب کو پیش کیا جو شیما کرمانی کا طرہ امتیاز ہے۔

انتہا پسند قوتوں نے صوبہ سندھ کی صوفی روایات اور مذہبی رواداری کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کا ازالہ ناممکن ہے۔ خصوصاً گزشتہ تین دہائیوں میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی نا انصافیاں اور ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنے کی جو روش چلی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے تحریکِ نسواں نے مذہبی رواداری کے پرچم کو سربلند کرنے کے مقصد سے سندھ کے مختلف شہروں اور دیہات میں جو ناٹک پیش کیے وہ قابلِ تعریف ہیں۔

اس سلسلے میں ان کی ایک بڑی کاوش کچھ سال قبل کراچی آرٹس کونسل میں ”مجھ میں تْو موجود“ کے عنوان سے پیش کی گئی تھی جس نے دیکھنے والوں پر سحر طاری کر دیا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک کامیاب تھیٹر ڈرامہ وہی ہے جس کو دیکھ کر شائقین وہ نہ رہیں جو وہ ڈرامہ دیکھنے سے پہلے تھے۔ کچھ ایسا ہی اثر اس کھیل نے بھی قائم کیا تھا۔ بنیادی طور پر اس کھیل کی مرکزی کہانی امر جلیل کے افسانے پر مبنی تھی۔ امر جلیل کے افسانے کو اسٹیج کے روپ میں ڈھال کر تحریک نسواں نے کمال مہارت کا ثبوت دیا۔ اسے دیکھ کر ہمیں اردو ادب کی ایک لازوال ادیبہ ”قرہ العین حیدر ’کی یاد آئی، انہوں نے کہیں لکھا تھا کہ

”یہ تعزیوں، پیروں، فقیروں اور درگاہوں اور رام لیلاؤں کا کلچر ہمارا اصل کلچر ہے اور بڑی نعمت ہے اور اسے ہر گز ہرگز مٹنے نہیں دینا چاہیے۔ نہ یہ بدعت ہے نہ اوہام پرستی، شرک، نہ بت پرستی، یہ محض ہمارے عوام کا تہذیبی سرمایہ ہے“ ۔

دراصل شیما نے اسی ثقافت کو اسٹیج پر زندہ کیا ہے، جسے مذہبی گروہوں کے انتہاپسند عناصر گزشتہ کئی دہائیوں سے مٹانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس کھیل نے سندھ میں جاری مذہبی بنیاد پرستی کی تاریخ کو موجودہ صورتحال سے جوڑ کر دیکھنے والوں کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ مزاحمت کے چراغ کبھی نہیں بجھتے۔ اس دھرتی سے انسانیت اور مذہبی رواداری کی صدیوں پرانی روایات کو کچلا نہیں جا سکتا۔ کل اور آج اور آنے والے کل میں بھی جیت بھگت کنور رام کی راہ پر چلنے والے راست کی ہی ہو گی۔

یہ راستے دشوار گزار اور کٹھن ضرور ہیں لیکن ناممکن نہیں ہیں۔ اس کھیل میں سندھ کے ایک صوفی شاعر اور فنکار بھگت کنور رام شہید کی کہانی کو مختصراً اجاگر کر کے کہانی کو مدن فقیر اور تمنا کے ذریعے آگے بڑھایا۔ کھیل کا مرکزی کردار مدن فقیر ہے جو سر سنگیت کا بادشاہ ہے، دھرتی سے جڑا ہوا، انسانیت کی محبت میں سرشار، سچائی کی راہ پر گامزن، ہندو مسلم کی تفریق سے بے نیاز، لوگوں کے دلوں میں اپنی مسحور کْن آواز اور شاعری سے انسانی برابری کا کلمہ منور کر رہا ہے۔

لوگ جوق در جوق اس کے گرویدہ ہو رہے ہیں، علاقے کی ایک با اثر شخصیت کی بیٹی ”تمنا“ اس فقیر سے سر سنگیت کے اسرار و رموز سیکھ رہی ہے، آہستہ آہستہ وہ سَر تا پا مدن کے روپ میں ڈھلتی جاتی ہے اور یہ بات اس کے والد کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ وہ اپنی بیٹی کے یوں ایک فقیر کی شاگردی میں رہ کر سنگیت و رقص کی گہرائیوں میں اتر جانے کو اپنی غیرت و انا کا مسئلہ بنا دیتے ہیں، انہیں اس بات کا بھی رنج ہے کہ ان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹی مسلمان گھرانے کی ہونے کے باوجود مدن فقیر جیسے فنکار کو اپنا استاد مانتی ہے اور پاؤں میں گھنگھرو باندھ کر رقص کر کے کسی گیان کی تلاش میں سرگرداں ہے۔

تمنا کا باپ طاقت کے نشے میں چور مدن فقیر کو قتل کروا دیتا ہے اور اپنی بیٹی کی زبردستی شادی کر کے اسے ملک سے باہر بھیج دیتا ہے، وہ شاید اس یقین کے ساتھ اپنی بیٹی کو رخصت کرتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن عشق کا راگ تمنا کے دل میں گھر کر چکا ہے وہ شادی کے بعد بھی اپنے راستے پر گامزن رہتی ہے، اس کے لیے ابھی بھی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت سر سنگیت اور رقص ہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہ مدن فقیر کے فراق میں غرق ہے، اس کی تلاش میں وہ سارے بندھن توڑ کر واپس اپنی دھرتی میں آجاتی ہے۔

کوئی مندر، کوئی درگاہ، کوئی مزار ایسا نہیں ہوتا جہاں پر اس نے مدن کو تلاش نہ کیا ہو، پر وہ تو برسوں پہلے قتل کیا جا چکا تھا لیکن یہ تلخ حقیقت وہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک رات جبکہ وہ مزار پر وجد کی کیفیت میں بیٹھی ہوئی ہے، فنکاروں کی ٹولی اس کے پاس سے گزرتی ہے، وہ ان سے مدن کے بارے میں پوچھتی ہے کہ وہ کب گائے گا؟ فنکاروں کی ٹولی کی سربراہ اس سے کہتی ہے کہ وہ تو کب کا مر چکا، وہ بھلا کس طرح گا سکتا ہے؟

لیکن تمنا انہیں زور دے کر کہتی ہے کہ وہ تو زندہ ہے، یہیں موجود ہے، وہ گا رہا ہے، وہ کل بھی گائے گا۔ اور یوں گاؤں میں یہ بات مشہور ہو جاتی ہے کہ مدن زندہ ہے اور وہ کل عرس کے موقع پر گائے گا۔ آخر اْڑتے اْڑتے یہ بات تمنا کے باپ تک پہنچتی ہے۔ وہ اپنے بندوں سے استفسار کرتا ہے کہ تم لوگوں نے مدن کو قتل کیا تھا یا اسے زندہ چھوڑ دیا تھا؟ یہ میں کیا سن رہا ہوں کہ کل مدن گائے گا۔ وہ بندے اسے یقین دلاتے ہیں کہ ہم نے خود پچیس سال پہلے آپ کے حکم پر مدن کو گولی مار کر لاش نہر میں پھینک دی تھی۔ اب تک تو اس کی ہڈیاں بھی گل گئی ہوں گی۔

اس کھیل کے آخری منظر میں فنکاروں کی ٹولی کی سربراہ اپنی ٹیم سے کہتی ہے کہ مدن زندہ ہے، وہ آج گائے گا، میں نے خود پروگرام منیجر سے پوچھا ہے اور اس نے کھڑکی سے مجھے دکھایا۔ مدن زندہ ہے وہ آج گائے گا۔ اس دوران گیت کا آغاز ہوتا ہے مدن پگڑی پہنے آہستہ آہستہ رقص کرتے ہوئے اسٹیج پر نمودار ہوتا ہے اسے دیکھ کر فنکاروں کی ٹولی مسرت کا اظہار کرتی ہے، وہ ابھی اس کا رقص حیرت سے دیکھ ہی رہے ہوتے ہیں کہ تمنا کا باپ وہاں آ جاتا ہے ، اس دوران رقص کی تیز تھاپ سے مدن کی پگڑی اس کے سر سے نیچے گر جاتی ہے اور فنکاروں کی ٹولی یہ دیکھ کر اپنا سر پیٹ لیتی ہے کہ مدن کے سراپے میں رقص کرتی ہوئی وہ عورت ”تمنا“ ہے جو اب ”مدن“ ہی کا روپ لیے ہوئے ہے۔

مدن اور تمنا ایک ہیں، ان کے درمیان کسی بھی قسم کی کوئی تفریق نہیں رہی، مدن تمنا ہے اور تمنا مدن ہے۔ اپنی بیٹی کو مدن کے روپ میں رقص کرتا ہوا دیکھنا، تمنا کے باپ کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، وہ اپنے ہاتھ سے اسی لمحے تمنا کو گولی مار کر فرار ہو جاتا ہے۔ شیما نے اپنے اس کھیل میں وقفے وقفے سے عظیم صوفی شعراء شاہ لطیف، سچل، سامی اور کبیر کے کلام سے بھرپور استفادہ کیا ہے، شعراء کے صوفیانہ کلام اور فنکاروں کی متاثرکن پرفارمنس نے ہال سماں باندھ دیا تھا۔

اگر غور کیا جائے تو ہمارے سماج میں مذہبی بنیادوں پر کسی انسان سے تفریق کرنا یا اس سے نفرت و تعصب کا اظہار کرنا محض آج کی بات نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں ہمارے سماج میں بہت گہری ہیں، اسی لیے اپنے اپنے زمانے کے مشہور صوفی شعراء اور بھگتوں نے اس نفرت و تعصب کے خاتمے کے لیے اپنی شاعری میں خصوصی طور پر مذہبی تنگ نظری کے خلاف آواز اٹھائی۔ انسانوں کے درمیان ذات پات، رنگ و نسل، صنف اور مذہبی بنیادوں پر قائم رسم و رواج اور نظریات کو بھرپور طریقے سے چیلنج کیا ہے، ان انسانیت کش نظریات کے خلاف مؤثر طور پر مزاحمت کا راستہ اپنایا ہے اور اس راستے پر چلنے کے لیے کسی بھی قسم کی مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا، یہی وجہ ہے کہ آج صدیوں بعد بھی ان کے کلام کی تاثیر پڑھنے اور سننے والوں کے دلوں کو گرماتی ہے، ان کے دلوں میں لگے زنگ آلود تالوں کو کھول کر انہیں ایسی روشنی سے منور کرتی ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان صوفیا کے کلام کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، انہیں پڑھیں، انہیں گائیں کہ اسی سے زندگی کی خوبصورتی، اس کی معنویت ہمارے سامنے عیاں ہو گی۔

شیما کرمانی کے نمایاں ترین کارناموں میں اردو کے عظیم شاعروں علامہ اقبال، فیض احمد فیض، مخدوم محی الدین، مجاز، فہمیدہ ریاض کی شاعری کے علاوہ بنگالی زبان کے ٹیگور اور سندھی زبان کے شیخ ایاز کی شاعری کو عوام کے سامنے رقص کے انداز میں پیش کرنا بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے فیض احمد فیض کی کئی نظموں مثال کے طور پر ”دشت تنہائی“ ، ”ہم دیکھیں گے“ ، ”آ جاؤ افریقہ“ اور ”یاد“ قابل ذکر ہیں۔ شیما نے جب ”دشت تنہائی“ کو پرفارم کیا تو دیکھنے والوں نے یہاں تک کہا کہ اقبال بانو کی آواز نے تو اسے دوام بخشا ہی تھا لیکن شیما نے اسے اعضاء کی شاعری سے جو حسن بخشا ہے وہ اس کے ایک ایک لفظ کی تفہیم کرتا نظر آتا ہے۔

فہمیدہ ریاض کی مشہور نظم ”آؤ اے ہم وطنو رقص کرو“ کو اپنی فنی مہارت سے پیش کر کے جو داد سمیٹی اس کی مثال خال خال ہی ملتی ہے۔ اسی طرح مخدوم کی ”آپ کی یاد آتی رہی رات بھر“ کو رقص کی زبان دے کر اسے ہمیشہ کے لئے سننے اور دیکھنے والوں کے لیے امر کر دیا ہے۔ شیما نے اپنے کلاسیکل رقص میں صوفی روایات کے انسان دوست نظریات کو یکجا کر کے معاشرے کے درمیان بڑھتی ہوئی مخاصمت اور تنگ نظر سوچ کو بھی زائل کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی انمول کاوش امیر خسرو کے کلام پر مبنی رقص آج رنگ ہے سر فہرست ہے۔

اردو کی مایہ ناز ادیبہ زاہدہ حنا اپنے ایک کالم میں شیما کرمانی کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ ”تحریک نسواں جسے سالہا سال پہلے شیما نے شروع کیا تھا، ان برسوں کے دوران انہوں نے امن کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ نویں عالمی اردو کانفرنس میں تحریک نسواں کی طرف سے“ ذکرِ یار چلے ”پیش کیا گیا۔ فیض کی نظموں اور انور جعفری کے لکھے ہوئے اسکرپٹ پر شیما کرمانی نے گھنٹے بھر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ یہ اسکرپٹ فیض صاحب کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اْجاگر کر رہا تھا۔ یہ شیما کا کمال تھا کہ انھوں نے تیز بخار میں بھی دیکھنے والوں کو یہ احساس نہ ہونے دیا کہ وہ کس اذیت سے گزر رہی ہیں اور چند قریبی لوگوں کے سوا کسی کو ان کی اس کیفیت کا گمان بھی نہیں گزرا،

رقص نے شیما کرمانی کو دلیر، نڈر اور بے خوف بنایا ہے۔ دیکھا جائے تو ان کی زندگی رقص سے عبارت ہے۔ یہی وہ بے خوفی تھی کہ جب لال شہباز قلندر پر خودکش دھماکہ ہوا اور 90 سے زائد معصوم لوگ اپنی جان کی بازی ہار گئے تو اس وقت بھی وہ خوف و ہراس کے عالم میں سہون قلندر کے مزار پر گئیں اور وہاں دھمال کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے مزار کے احاطے میں دیوانہ وار رقص کیا۔ شیما کرمانی کا یہ عمل بتاتا ہے کہ وہ اپنی دھرتی سے کس قدر پیار کرتی ہیں اور کسی بھی قسم کا کوئی خوف انہیں رقص کرنے سے اور لوگوں سے جڑنے سے نہیں روک سکتا۔

شیما کرمانی ترقی پسند دانشور، فنکار اور پاکستان میں حقوق نسواں کا اہم اور معتبر حوالہ ہونے کے ساتھ ہی ایک انسان دوست شخصیت بھی ہیں۔ ان کی زندگی کے روز و شب جہدِ مسلسل سے پنہاں ہیں۔ آمریت کے تاریک ادوار میں بھی آزادی اظہار رائے کے لیے ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑتی رہی ہیں۔ نامساعد حالات میں نہ کبھی ملک چھوڑا اور نہ اپنا فن بلکہ جبر و خوف میں بھی اپنے فن کی شمع کو ہمیشہ جلائے رکھا ہے۔ شیما نے ایک گھٹن اور حبس زدہ معاشرے میں رہ کر اپنی سمت کا درست تعین کیا اور صبر آزما جہدوجہد جاری رکھی۔

پانچ دہائیوں کے طویل فنّی سفر میں انہوں نے جس استقامت اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال ہمارے معاشرے میں کم ہی ملتی ہے۔ اپنے اس طویل سفر میں وہ اب بھی آرٹ کی آبیاری کر رہی ہیں۔ ان کے نزدیک کلاسیکل آرٹ لوگوں تک اپنے خیالات کی ترسیل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ آرٹ کی قدروں کے ساتھ ہم اپنے معاشرے میں لوگوں کی بہتر طور پر ذہن سازی کر سکتے ہیں بلکہ اس کی معاونت سے معاشرے کو ذہنی پس ماندگی سے نکال کر ترقی پسند خطوط پر استوار کر سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس عمل میں معاشرے کا ہر فرد اپنا کردار ادا کرے کیونکہ معاشرے کی تخلیقی آبیاری تنہا ایک فرد کا کام نہیں ہے۔

شیما کرمانی کی طویل اور دیرینہ فنی خدمات کے صلے میں حال ہی میں حکومت پاکستان نے انہیں ”تمغہ حسن کارکردگی“ سے نوازا ہے۔

شیما نے نہ صرف اپنے فن بلکہ عورت کی حیثیت کو منوانے کے لئے بھی ایک طویل جہدوجہد کی ہے۔ وہ اپنے سماج کی عورت کو مضبوط اور مستحکم دیکھنا چاہتی ہیں وہ آج کی عورت کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ

”ہر عورت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اہم ہے، وہ مضبوط ہے اور کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس پر جبر کر سکے۔ آج کی عورت کو اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ جو طاقت عورت کے اندر موجود ہے، ایک بار جب وہ اس کا ادراک کر لے گی تو وہ بخوبی اپنی طاقت کے زور کو جان لے گی اور پھر کوئی بھی قوت اسے اپنی زندگی کی بابت فیصلہ کرنے سے نہیں روک سکے گی“ ۔

شیما کا خواب اب پاکستان میں ایک ایسی ”ثقافتی درس گاہ“ بنانے کا ہے جہاں کلاسیکل رقص و موسیقی، تھیٹر اور لبرل آرٹس کی باقاعدہ تعلیم و تدریس کی جا سکے۔ وہ اس درس گاہ کو بنانے کا خواب دیکھتی ہیں۔ ان کا یہ خواب ان کی اپنے فن سے مکمل لگن کا اظہار ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ایک دن شیما کا یہ خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہو گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments