عجب آزاد مرد تھا: ڈاکٹر اجمل نیازی

کسی فن کار، ادیب اور شاعر کو ایسا شخص میسر آ جائے جو اس کے جملہ فن کو دُنیا کے سامنے لے آئے، یہ کسی فنکار، ادیب اور شاعر کی خوش نصیبی ہو گی، ہزاروں فن کار، اُدبا اور شعرا دُنیا میں آئے، اپنے فن کا لوہا منوایا اور رخصت ہو گئے، چند خوش نصیب ایسے ہیں جنھیں تحقیق کی غرض سے کہیے یا محبت و اِلتفات کی نگاہ سے کسی نے مُقفل الماریوں سے باہر نکالا اور ازسرِنو دُنیا کے سامنے انھیں پیش کر دیا۔ مجید امجد کی مثال اس معاملے میں ذہن میں آتی ہے جنھیں وفات کے بعد یکسر بُھلا دیا گیا تھا، اتفاق سے ڈاکٹر خواجہ زکریا کی نظر ان کے کلام پر پڑی، اِنھوں نے مجید امجد کو دوبارہ زندہ کر دیا اور ایسی ادبی حیات بخشی کہ جدید اُردو نظم کے سر فہرست بانی شعرا میں ان کا شمار کیا جاتا ہے۔
میرا جی کو لے لیجیے، ڈاکٹر ناصر عباس نئیر نے ان کے کلام کے اِبہام کو ایک نقص سے زیادہ ایک فن قرار دے کر اپنے معاصرین سے منوا لیا کہ میر اجی فقط علامت، تمثیل اور ابہام کا شاعر نہیں بلکہ ایک بہترین شاعر ہے جس کے ہاں زندگی کے متنوع رنگ نئی نئی صورتیں لیے یوں جلوہ گر ہیں جیسے دیوالی میں قطار اندر قطار جلتے ہوئے چراغ، اس طرح کی سیکڑوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ ڈاکٹر اجمل نیازی 2021 میں کرونا کے دنوں میں مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے، ان کی وفات کے بعد ان کے بارے میں اِکاّ دُکّا تعزیتی سیمینارز ہوئے، اخبارات میں تراشے لگے اور پھر یار لوگ انھیں بھول گئے۔
کرونا کے دنوں میں اُردو زبان و ادب کے ایسے ایسے شاہکار ہم سے ایکا ایکی میں رخصت ہوئے کہ ان کا دُکھ ان کے یوں اچانک اُٹھ جانے سے اتنا بڑا ہو گیا کہ آج تک اس کی گرانی ہمارے قلب پر ہتھوڑا بنی ضرب لگاتی ہے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی ایک بہترین کالم نگار، شاعر، صحافی، سماجی کارکُن اور دردِ دل رکھنے والے ذی شعور انسان تھے۔ انھوں نے عمر کا ایک تہائی حصہ شدید سیاسی دباؤ کے جبری حصار میں گزارا، انھوں نے اپنے عہد کے جملہ ناسوروں کے خلاف تحریری جہاد کیا، ان کی ملازمت خطرے میں رہی، ان کی عِصمت پر وار کیے گئے، انھیں ڈرایا، دھمکایا اور ورغلایا گیا لیکن یہ مردِ مجاہد اپنی فکر کے احیا کے لیے سرگرم رہا۔
ڈاکٹر اجمل نیازی کے کالم برس ہا برس اخبارات کی زینت رہے، ان کے کالم کے دو مجموعے ”بے نیازیاں“ ، ”محبت اور جنگ“ شائع ہوئے تو لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیے، ان کا ایک شعری مجموعہ ”پچھلے پہر کی سرگوشی“ شائع ہوا ہے۔ یہ مجموعہ فکر و فن کے اعتبار سے اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ ڈاکٹر اجمل نیازی بطور کالم نگار جتنے اچھے تجزیہ نگار تھے، شاعر اس سے بڑھ کر تھے۔ انھوں نے پاکستان بھر کا سفر کیا، پاکستان کے علاوہ ہندوستان کا سفر بھی کیا، جس کے بارے میں انھوں نے ”مندر میں محراب“ کے عنوان سے سفر نامہ لکھا۔
یہ سفر نامہ بظاہر سادہ اور عام فہم زبان میں اپنے دوستوں کے ہمراہ ہندوستان میں گزارے شب و روز کی رُوداد ہے لیکن اس سفر نامے کو پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنف نے شعوری طور پر ہندوستان اور پاکستان کے جملہ مسائل و وسائل اور سوچ و افکار کا تقابل کیا ہے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی نے شغل کے اوقات میں اپنی جنم بھومی یعنی میانوالی کے شعرا کی سوانح و شخصیت اور تعارف ِکلام پر مبنی ایک شعری تذکرہ ”بازگشت“ بھی یاد گار چھوڑا ہے جو زبان و بیان اور اندازِ نگارش کے حوالے سے ایک عمدہ تالیفی کاوش ہے۔
ڈاکٹر اجمل نیازی بلاشبہ ایک بہترین اُستاد بھی تھے، ایف سی کالج میں انھوں نے تدریس کے فرائض انجام دیے جہاں اُردو زبان و ادب کے طلبا و طالبات انھیں سُننے کے لیے جوق در جوق آیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی نے رفاہ عامہ کے لیے جو کام کیے وہ بظاہر کسی تحریر میں مقید نہ ہو سکے تاہم ان کے دوستوں اور رفقائے کار کی گفتگو سے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی کے وفات کے بعد ان کے جملہ تخلیقی و تحقیقی کام کو باہم یکجا کر کے کتابی صورت میں ہمارے دوست محمد اقبال نے ”عجب آزاد مرد تھا“ کے عنوان سے اظہار سنز، لاہور سے شائع کروا دیا ہے، محمد اقبال نے گویا ہمارے دل کی مراد پوری کر دی ہے، یہ کتاب اپنے موضوع، مواد، پیش کش اور معلومات کے اعتبار سے ڈاکٹر اجمل نیازی کی سوانح، شخصیت، شاعری، صحافت اور دیگر خدمات کا احاطہ کرتی ہے۔
مصنف نے اس کتاب کو چھے ابواب میں منقسم کیا ہے، پہلا باب ڈاکٹر اجمل نیازی کے احوال و آثار یعنی سوانح و شخصیت پر مبنی ہے جس میں ڈاکٹر صاحب کی پیدائش سے لے کر ان کی وفات تک کا مختصر احوال درج ہے جبکہ شخصیت کا ذیلی بیان بھی اسی باب کا حصہ ہے، دوسرے باب میں بطور کالم نگار ڈاکٹر صاحب کی فکر کی شعوری وسعت کا جائزہ لیا ہے، تیسرے باب میں سفرنامہ نگار کی حیثیت سے ڈاکٹر صاحب کے سفرنامے ”مندر میں محراب“ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے، چوتھے باب میں ڈاکٹر اجمل نیازی کو بہ حیثیت شاعر یاد کیا گیا ہے اور ان کی فنی اور فکری جہتوں کو خوبصورت انداز میں سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے، باب پنجم میں ڈاکٹر صاحب کے شخصی مضامین اور خاکوں وغیرہ کا ذکر کیا ہے جو گاہے گاہے ڈاکٹر صاحب نے مختلف سمینارز اور تقاریب وغیرہ کے لیے لکھے تھے، بابِ ششم میں ڈاکٹر صاحب کی بطور نقاد اور محقق خدمات کو سامنے لایا گیا ہے۔
ڈاکٹر اجمل نیازی ادب کے ڈاکٹر ہیں، انھوں نے محمد دین فوق پر اپنا پی ایچ۔ ڈی کا مقالہ لکھا تھا جسے سنگِ میل نے شائع کیا ہے۔ محمد اقبال ہمارے دوست ہیں اور وضع دار شخصیت کے مالک ہیں، بینک میں ملازمت کرتے ہیں تاہم اُردو زبان و ادب سے ان کی محبت دیدنی ہے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی پر موصوف کی تصنیف دراصل ان کا ایم فل کا مقالہ ہے جسے کتابی صورت میں اظہار سنز، لاہور نے شائع کیا ہے۔ پی ایچ۔ ڈی کے لیے انھوں نے علامہ اقبال کی شاعری میں آفاقیت کو منتخب کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اجمل نیازی کی صحبت اختیار کرنے سے مجھ پر کُھلا کہ ڈاکٹر صاحب علامہ اقبال کے بارے میں جس محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے تھے، اِس عُنصر نے مجھے علامہ اقبال پر تحقیقی کام کرنے پر مہمیز کیا ہے۔
ڈاکٹر اجمل نیازی سے راقم کی ملاقات پہلے شعری مجموعے ”کچھ کہنا ہے“ کا سرورق لکھوانے کی غرض سے مشہور شاعر وحید احمد زمان مرحوم (حُسنِ قلم پبلی کیشنز) کے ہمراہ ہوئی تھی ۔ ڈاکٹر صاحب دیہات سے متصل شعرا، ادبا اور سماجی کارکنوں کو بڑی محبت سے ملا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ شہر میں آ کر پڑھنے والے دیہات کی رہتل بہتل کو بُھلا دیتے ہیں اور شہر کی چکاچوند میں اپنا آپ یوں گُم کر لیتے ہیں جیسے ان کا دیہات کی مقامی معاشرت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
ڈاکٹر اجمل نیازی کی شخصیت میں کئی ایسے اسَرار پنہاں ہیں جنھیں وا کرنے کا یہ موقع نہیں ہے تاہم آخر میں اِتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ ڈاکٹر اجمل نیازی ایک دردِ دل رکھنے والا مُحبِ وطن پاکستانی تھا جس نے پاکستان سے محبت کرنے کا حق ادا کر دیا، حکومت ِ پاکستان نے ان کی خدمات کے عوض انھیں ”ستارہ ِ امتیاز“ سے نوازا گیا۔ راقم محمد اقبال کا شکر گزار ہے کہ انھوں نے ایک عظیم انسان کی جملہ نگارشات کو کتابی صورت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔

