کاسنی پھول
گاڑی پارکنگ میں پارک کر کے میں نے ہسپتال کی طرف جانے والا اندرونی راستہ (pedway) لیا۔ آج خوش قسمتی سے دوسری منزل پر پارکنگ مل گئی تھی۔ میں پیڈوے میں داخل ہوئی تو مشرقی جانب کے بڑے بڑے شفاف شیشوں سے بنی دیوار میں سے چنتی ہوئی نرم دھوپ نے میرے وجود کو چھوا۔ میں نے اپنے قدم ارادتا آہستہ کر لئے۔ دھوپ کی طرف اپنا چہرہ موڑ لیا۔ اس کی نرم تمازت کو اپنے وجود میں داخل ہونے دیا۔ دھوپ کی نرمی اور گرمی مجھے ماں کی گود کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔
جس کی آج مجھے بہت ضرورت تھی۔ آج صبح سے دماغ کچھ بوجھل سا تھا۔ چند خیالات جن کو میں اکثر باہر سے آنے والا چور سمجھ کر کبھی اپنے دماغ پر قبضہ کرنے کے لئے نہیں چھوڑتی۔ لیکن آج وہ حاوی ہونے میں کامیاب ہو رہے تھے۔ اور میں ان خیالات کے اپنے دماغ پر قابض ہونے پر سیخ پا ہو رہی تھی۔ زندگی میں ان حالات کی یاد کو اپنے قیمتی لمحوں میں سے ایک لمحہ دینا بھی اپنی کمزوری اور نقصان ہے، جنہوں نے کبھی آپ کی زندگی کو مشکل بنایا ہو۔
کل رات ایک قریبی جاننے والے نے انجانے میں میرے چند پرانے زخم تازہ کر لئے تھے۔ کچھ لوگ یا تو بے حسی میں یا بیوقوفی میں دوسروں کا دل کتنے آرام سے دکھا دیتے ہیں۔ میرے بھی زخم تازہ ہوئے۔ حالانکہ مجھے یقین ہے کہ میں نے خود کو سنبھالنے کی مہارت پر اچھا خاصا عبور حاصل کر لیا ہے۔ لیکن ذہن بھی خیالات کے ایک بے محال سمندر کی طرح ہے۔ تمام تر قابو کے باوجود ہمارا لاشعور ان خیالات سے آنکھ مچولی کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ میرے لاشعور نے بھی رات کو مجھے ایسے خواب دکھائے جن کے اثر سے صبح میرا دماغ بوجھل تھا۔ آنکھ کھلتے ہی طبیعت پر ایک بوجھ سا محسوس ہو رہا تھا۔ میں اپنے دماغ پر ان خیالات کا قبضہ روکنے کے لئے اپنے بستر سے فوراً نکلی۔ نہا دھو کر ناشتہ کیا اور کام کے لئے روانہ ہو گئی۔
پیڈ وے سے گزرتے ہوئے میں خود رحمی اور غصے کے ملے جلے احساس کو، قابو پانے کی کوشش کے باوجود محسوس کر رہی تھی۔ اتنے میں میرے پاس سے گزرنے والے ایک وہیل چئیر پر نہایت تکلیف کی حالت میں بیٹھے ایک مریض پر میری نظر پڑی۔ وہیل چئیر کو ایک خاتون دھکیل رہی تھیں۔ اور چئیر پر بیٹھے شخص کے چہرے پر زندگی سے بیزار ہونے کے تاثرات آسانی سے دیکھے جا سکتے تھے۔ میں نے نظر نیچے کی اور اپنی چلتی ہوئی ٹانگوں کی طرف اپنی نیچی نگاہوں سے دیکھا۔
اس پیڈوے پر چلتے ہوئے اکثر میرا سامنا ہسپتال میں آنے والے دُکھی لوگوں سے ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں مجھے انسان کی کمزور حیثیت اور جو اس کے پاس ہے، اس پر شکرگزار رہنے کا احساس بہت ہوتا ہے۔ شکر گزاری کہ میں مسیحائی کی پوزیشن میں اس دروازے سے اندر آتی ہوں۔ اپنی ٹانگوں سے چل سکنے کی اہمیت شاید اس وہیل چیئر پر بیٹھے مریض سے زیادہ کسی کو نہیں ہو سکتی۔
میں آگے کے دروازے سے ہسپتال کی بلڈنگ کے اندر داخل ہوئی۔ سامنے ہی کینسر کلینک کی انتظار گاہ میں کرسی پر بیٹھی ایک مریضہ جو کسی صورت مجھ سے عمر میں بڑی نہیں ہو سکتی تھی، کی نظریں مجھ سے ملیں اور ایک مسحور کن مسکراہٹ کے ساتھ اس نے میری طرف دیکھ کر ہیلو کہنے کے انداز میں سر ہلایا۔ اس خوبصورت خاتون کے سر کے بال کیموتھراپی کے اثر سے اتر چکے تھے۔ اور اس کے اپنے بغیر بالوں کے سر کو کسی سکارف یا ٹوپی سے نہ چھپانے میں مجھے اس کی شخصیت کا اعتماد صاف دکھائی دے رہا تھا۔ شاید اسی اعتماد کی وجہ تھی کہ اس کی مسکراہٹ میں بلا کی کشش تھی، جو مجھے بہت سچی اور مسحور کن محسوس ہوئی۔ میں نے جواب میں مسکرا کر سر ہلایا۔ اس کے دکھوں نے اس کا شاید کچھ نہیں بگاڑا تھا۔ اور اس کی اس طاقت نے اس کے بغیر بالوں کے سر کے ساتھ اس کے چہرے پر کس قدر خوبصورتی پھیلا رکھی تھی۔
میں تیز تیز قدم اٹھاتی اپنے آفس کی طرف چلتی گئی۔ ہال وے کے اگلے سرے پر آپریشن تھیٹر سے سرجن شرما میری جانب آرہے تھے۔ راستے میں ایک اڑتی سی سلام دعا ہوئی۔ ایک لمحے کو رکے اور مجھ سے ایک مریض کے اس کیس کے بارے میں دریافت کیا جس پر میں پچھلے تین دن سے کام کر رہی تھی۔
میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کے دروازے سے اندر داخل ہوئی۔ اور ملی جلی سوچوں کے ساتھ اپنے آفس میں پہنچی۔ سامنے ہی میز پر اس کمسن مریض کا کیس میرا منہ چڑا رہا تھا۔ جس کے بارے میں ڈاکٹر شرما دریافت کر رہے تھے۔ جس کی بیماری کی رپورٹ پر دستخط کرنے سے میں ہچکچا رہی تھی۔ یہ ایک انیس سال کے بچے کا کیس تھا۔ جس کے بارے میں مجھے معلوم تھا کہ اس کے ڈاکٹر کے پاس میری رپورٹ جائے گی تو اس کی زندگی پہلے جیسی نہیں ہوگی۔ اور نہ اس کے ماں باپ اور اس کے چاہنے والوں کی۔ کاش یہ کیس مجھ سے کوئی اور لے لے۔ میرے دل نے سرگوشی کی۔ لیکن میری رپورٹ کے بغیر اس کا علاج شروع نہیں ہو سکتا۔ میں نے خود کو کرسی میں دھکیلا اور با دل نخواستہ اس کیس کو پورا کر کے اس پر دستخط کیے ۔ دل سے اس بچے اور اس کے والدین کے لئے ہمت اور صحت کی دعا نکلی۔
ابھی میں اپنی سوچ کے ساتھ ہاتھا پائی میں مصروف تھی کہ فون کی گھنٹی بجی اور میں ہڑبڑا کر اپنی سوچوں سے باہر آئی۔ دوسری جانب سے آنکالوجسٹ ڈاکٹر ہرمن کی آواز آئی۔ مجھے یاد آیا کہ کل میں نے ان کے پاس اپنے ایک مریض کا کیس ڈسکس کرنے کے لئے میسج چھوڑا تھا۔ اور اس سلسلے میں ان کا فون تھا۔ یہ مریض جس نے اپنی زندگی کی تیسری دہائی میں ابھی قدم رکھا ہی تھا کہ اس کی طبیعت خراب ہوئی اور پھر اسے یہ خبر ملی کہ اس کے معدے میں کینسر ہے۔
اس مریض کے والدین سے میری کچھ جان پہچان تھی، جس کی وجہ سے اس کے والدین مجھ سے بیشمار سوالات کے ساتھ ساتھ نہ جانے کس طرح یہ امید لگا بیٹھے تھے کہ میں ان کے بیٹے اور ان کا دکھ دور کرنے کے لئے کوئی معجزہ کر سکتی ہوں۔ اور اس سلسلے میں میری ڈاکٹر ہرمن سے بات چیت چل رہی تھی۔ آج بھی ان کا اپڈیٹ کوئی زیادہ پر امید نہیں تھا۔ اور میں اس کے والدین کے دکھ کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہوتے ہوئے، ذہنی لائحہ عمل بنانے لگی تاکہ میں ان کی مناسب رہنمائی کر سکوں۔ اور ساتھ ہی دل میں یہ خواہش اٹھی کہ کاش میں اس دکھ کا حصہ نہ ہوتی۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس احساس نے مجھے شکرگزار ہونے پر مجبور کیا، کہ میں کسی کے دکھ کا مداوا کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔
فون رکھتے ہی میری نظر اپنے داہنے ہاتھ کی درمیانی انگلی پر پہنے فیروزے کی انگوٹھی پر گئی۔ یہ میرے بابا کی انگوٹھی ہے۔ جو دو سال پہلے ان کی وفات پر امی نے میرے ہاتھ میں پہنائی تھی۔ یہ انگوٹھی مجھے میرے بابا کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ جس کی مجھے ان کی زندگی میں بہت عادت پڑ چکی تھی۔
میرے سامنے ان کا چہرہ گھوم گیا اور مجھے ان کے ہونٹوں پر وہی جملہ نظر آیا جس سے مجھے اپنی رگوں میں طاقت کی لہر دوڑتی محسوس ہوتی۔ ”میرا بہادر بچہ“ جو وہ کہہ کر میرے سر پر ہاتھ پھیرتے اور مجھے لگتا میں دنیا کی سب سے بہادر انسان ہوں۔ ان کے لئے ہمیشہ میں ان کا بہادر بچہ ہی تھی۔
ایک سکون کا ٹھنڈا سانس لے کر میں نے پانی کا گلاس اٹھایا۔ مجھے ماں کے ہاتھ میں پکڑا دودھ کا گلاس یاد آیا۔ میڈیکل کے فائنل ائر کے امتحان سر پر تھے۔ میں کمرے میں میز کرسی، کتابوں اور ٹیبل لیمپ کی دنیا تک محدود ہو گئی تھی۔ بابا نے دو دن پہلے امی کے ہاتھ میں بادام کا تھیلا پکڑا کر قدرے سرگوشی میں کہا تھا۔ امتحان کے دنوں میں اس کو کھانے پینے کا ہوش نہیں رہتا۔ دودھ میں ڈال کر دینا۔ امی بادام والا دودھ کا گلاس میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے بولیں، بیٹا دیر ہو گئی اب سو جاؤ۔
”امی ابھی تو مجھے کافی پڑھنا ہے، امتحان میں صرف چار دن باقی ہیں“ اچھا چلو میں ادھر ہی ہوں۔ جب سونے لگو تو مجھے بتا دینا۔ اور امی کمرے میں رکھے صوفے پر لیٹ گئیں۔ وہ اکثر ایسا کرتیں تاکہ میں اکیلا محسوس نہ کروں۔ گھر کا یہ کمرہ دوسرے کمروں سے الگ تھا۔ امی کو معلوم تھا کہ مجھے رات کے اندھیرے اور خاموشی میں کچھ بے چینی سی محسوس ہوتی۔ پانی کے گھونٹ میری حلق میں امی کے ہاتھ کے بادام والے دودھ کا ذائقہ گھول رہے تھے۔
میں کرسی سے اٹھی، اور کھڑکی کی طرف مڑی۔ سنہری دھوپ کھڑکی کے شیشے سے ہوتی ہوئی میرے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ میں اس کی حرارت کو نعمت سمجھ کر اپنے چہرے اور آنکھوں میں جذب کرنا چاہتی تھی۔ میں نے چند لمحوں کو اپنی آنکھیں بند کیں۔ دھوپ کی تمازت، بابا کی محبت اور ماں کی بانہوں کی نرمی کے ملے جلے احساس نے میرے دماغ کے کمزور خیالات کو صاف کر دیا۔
میں نے آٓنکھیں کھولیں تو میری نظر کھڑکی میں پڑے پودے میں کھلنے والے کاسنی پھولوں پر پڑی۔ کل پرسوں یہ پھول نازک کلی تھے۔ آج کھل کر اپنا بھر پور رنگ بڑے فخر سے دکھا رہے تھے۔ میں کچھ دیر ان کے کاسنی رنگ کو اپنی آنکھوں کے راستے اپنے دل و دماغ میں اتارتی رہی۔ میں نے میز پر رکھے پانی کا جگ اٹھایا اور دھیرے دھیرے پانی کے قطرے کاسنی پھولوں والے پودے کی جڑوں میں اتارنے لگی۔ بالکل ایسے ہی جیسے میرے بابا اور میری ماں نے میری جڑوں میں اپنی محبت اور اعتماد کا پانی قطرہ قطرہ ڈال کر سیراب کیا تھا۔ اور ان کی اسی نشو نما کا اثر مشکل وقت میں اپنے قدم جمانے کی شکل میں پھول بن کر میری زندگی کو مہکتا رکھے ہوئے ہے۔


