کلاسیکی چینی ادب کا شاہکار ناول ”دریائے ہولن کی کہانیاں“ ۔ ایک تعارف


معروف چینی ادیبہ شیاؤ ہونگ 1911 میں، شمال مشرقی چین کے صوبہ ہیلونگ جیانگ کے ایک امیر زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا پیدائشی نام چنگ ناین تھا۔ وہ نو سال کی تھیں تو ان کی ماں کا انتقال ہو گیا، اور شیاؤ ہونگ کی ذمہ داری ان کے سرد مہر اور سخت گیر والد پر آن پڑی، لیکن ان کی پرورش ان کے محبت کرنے والے دادا کے ہاتھوں میں ہوئی جنھوں نے انھیں کلاسیکی شاعری پڑھائی۔ شیاؤ ہونگ نے ہاربن کے قریب واقع لڑکیوں کے اسکول میں تقریباً پانچ سال تک تعلیم حاصل کی، جس کا آغاز 15 سال کی عمر سے ہوا۔ چینی، امریکی اور روسی ادب سے روشناس ہونے کے بعد ، وہ سیاسی طور پر لبرل سوچ کی حامل ہو گئیں اور جمہوری خیالات کی حمایت کرنے لگیں، لیکن ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے انھیں وہاں سے نکال دیا گیا۔

ان کے سخت گیر والد نے عجلت میں ان کی شادی کرنا چاہی کہ کہیں وہ ان کے خاندان کے نام کو بٹّہ نہ لگا دیں۔ اس جبری شادی سے بچنے کے لیے، شیاؤ ہونگ پہلے ہاربن بھاگیں، جہاں وہ ایک شادی شدہ ٹیچر کے ساتھ رہنے لگیں، پھر اس کے پیچھے بیجنگ چلی گئیں۔ بیجنگ میں ان کے قیام کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے وہاں ان کی اپنے ٹیچر دوست سے علیحدگی ہو گئی ہو۔ لیکن دو سال بعد جب وہ ہاربن واپس آئیں تو حاملہ بھی تھیں اور بے گھر بھی۔

یہاں ان کے تعلقات ایک صحافی، شیاؤ جون کے ساتھ استوار ہو گئے، جس نے انھیں ہاربن میں اپنا ادبی سفر شروع کرنے میں مدد دی۔ 1933 میں ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ ”لمبا سفر“ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اگلے سال وہ دونوں شیڈونگ چلے گئے، جہاں شیاؤ ہونگ نے ”زندگی اور موت کا میدان“ نامی ناول لکھا، جو 1935 میں شنگھائی سے شائع ہوا۔ اگرچہ شیاؤ ہونگ نے متعدد قلمی ناموں سے لکھا لیکن وہ شیاؤ ہونگ کے نام سے ہی جانی گئیں۔ ان کا ناول ”زندگی اور موت کا میدان“ جو جاپانی قبضے کے دوران شمال مشرقی چین میں زندگی کو بیان کرتا ہے، شیاؤ ہانگ کی دیہی پرورش اور جاپانی جارحیت کے سامنے ان کی چینی حب الوطنی کا بھی عکاس ہے۔ نقادوں نے اسے خوب سراہا اور اس ناول نے شیاؤ ہونگ کو شنگھائی میں ایک مشہور شخصیت بنا دیا۔

1936 میں ان کا دوسرا ناول ”گلی والا بازار“ سامنے آیا۔ تاہم، چونکہ جاپانی افواج کی چڑھائی کے خلاف چینی جدوجہد جاری تھی، شیاؤ ہونگ اور شیاؤ جون کو شنگھائی چھوڑ کر چونک چنگ میں آباد ہونا پڑا۔ وہاں شیاؤ ہونگ نے ایک ادیب ہو فینگ کے ساتھ مل کر بائیں بازو کا ایک رسالہQu yne جاری کیا۔

شیاؤ جون کے ساتھ ان کا رشتہ 1936 میں ختم ہو گیا، اور وہ ایک ادیب ڈینمو ہونگلیانگ کے ساتھ ہانگ کانگ چلی آئیں جس سے انھوں نے شادی کرلی تھی۔ خرابی صحت کے باوجود شیاؤ ہونگ نے لکھنا جاری رکھا۔ انھوں نے اپنے دوست اور سرپرست لوشون کی یاد میں ایک ناول ”ایک قوم کی روح“ لکھا جو 1940 میں شائع ہوا۔ بعد ازاں انھوں نے اپنا سب سے مشہور ناول ”دریائے ہولن کی کہانیاں“ لکھنا شروع کیا۔ یہ بڑی حد تک ایک خود نوشت سوانح عمری تھی جس میں انھوں نے اپنے اداس بچپن کو بیان کیا تھا۔

شاعرانہ اور تاثراتی اسلوب میں لکھا گیا یہ ناول شمال مشرقی چین کے ایک دیہی قصبے کی اندرونی دنیا کو بیان کرتا ہے۔ ماحول کے قدرتی اور سماجی بیان سے لے کر اس احاطے کی تصاویر تک جہاں راوی کا قیام تھا، کہانی کو ایک چھوٹی بچی کی آنکھوں سے پیش کیا گیا ہے۔

1936 میں جب شیاؤ ہونگ ابھی جاپان میں ہی تھیں، انھوں نے اس ناول کو لکھنے کے بارے میں سوچا تھا اور چونگ چنگ منتقل ہونے سے پہلے ووہان میں، 1937 میں اسے لکھنا شروع کیا تھا۔ تاہم، چونکہ دوسری چین۔ جاپان جنگ چونگ چنگ تک پھیل چکی تھی، وہ ہانگ کانگ چلی آئیں، جو اس وقت ایک برطانوی نو آبادی تھا۔ ہانگ کانگ میں وہ شمال مشرقی چین میں واقع اپنی جنم بھومی سے کوسوں دور تھیں، یہاں رہ کر انھوں نے اپنے آبائی قصبے کو یاد کرتے ہوئے اپنی زندگی کا یہ آخری ناول لکھا۔ اُس آبائی قصبے کی یاد میں جہاں وہ پھر کبھی لوٹ کر نہ جا سکیں۔

1930 کی دہائی میں جب وہ چینی ادب کے منظر نامے پر ابھریں تو چینی مصنفین کی اکثریت خود کو جاپانی حملہ آوروں کے خلاف جدوجہد کی خاطر، جنگی ادب تخلیق کرنے کے لیے وقف کرچکی تھی، اس لیے زیادہ تر تخلیقات فن کے دائرے سے نکل کر پروپیگنڈے کی صنف میں داخل ہو گئی تھیں۔ تاہم، شیاؤ ہونگ نے اپنے منفرد تحریری انداز کو جاری رکھا اور حقیقی معنوں میں فنکارانہ اور فلسفیانہ ادب تخلیق کرتی رہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ شیاؤ ہونگ اپنے وقت سے بہت آگے تھیں۔

اس زمانے میں ان سے اور ان کے ہم وطن ساتھی شیاؤ جون سے ”جاپان مخالف ادب“ کی توقع کی گئی تھی اور اصرار کیا گیا کہ وہ بھی اپنا ادب اس خاص تناظر میں پیش کریں۔ لیکن ادب میں جاپان مخالف پروپیگنڈے کی تلاش کرنے والوں، اور چیزوں کو سیاہ اور سفید رنگوں میں دیکھنے والوں کو، فطری طور پر شیاؤ ہونگ سے مایوسی ہوئی، کیونکہ شیاؤ ہونگ کا مقصد جاپان مخالف ادیبہ بننے کا ہرگز نہیں تھا۔ ہو سکتا ہے ان کی تحریروں میں جاپان مخالف جذبات بھی پیش کیے گئے ہوں، لیکن وہ ان کے ناولوں کا محض چھوٹا سا پہلو ہیں۔

”دریائے ہولن کی کہانیاں“ کو عموماً شیاؤ ہونگ کے بچپن کی یادوں پر مبنی ایک خود نوشت سمجھا جاتا ہے، جس میں مصنفہ کا اپنا تجربہ بالواسطہ طور پر راوی کے ارد گرد کے کرداروں کی کہانیوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ پورا ناول زیادہ تر حقیقی واقعات پر مشتمل ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ رائے بھی موجود ہے کہ اس ناول میں حقیقت اور افسانے کو باہم ملایا گیا ہے۔

جب ”دریائے ہولن کی کہانیاں“ منظر عام پر آیا تو اسے کمیونسٹ نقادوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے اسے ”ادبی پسپائی“ قرار دیا اور کہا کہ عوام سے اس کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس کا مواد سیاسی مقصد کو پورا نہیں کرتا تھا۔ تاہم، اس ناول کو ’ماؤ ڈن‘ جیسے جیّد ادیب اور نقّاد کی جانب سے داد و تحسین بھی ملی، جنھوں نے 1946 میں اس کتاب کا دیباچہ لکھا۔ ماؤ ڈن کو یہ ناول کس قدر پسند تھا اس کا اندازہ ان کے اس تعریفی فقرے سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انھوں نے کہا: ”یہ ایک بیانیہ نظم ہے، ایک نوع کی رنگین تصویر، ایک آسیب زدہ گیت۔“ انھوں نے اصرار کیا کہ ایسا اس ناول کے جدید اسلوب کی وجہ سے ہے اور اس تخلیق کے غیر روایتی ڈھنگ کی بدولت بھی، جس نے اس ناول کو روایتی خود نوشت کی صنف سے الگ کر کے منفرد اور دلچسپ بنا دیا ہے۔

ممتاز چینی نقّاد ’لو ژون‘ نے بھی اگرچہ ان کے گہرے مشاہدات اور غیر معمولی اسلوب کی تعریف کی، لیکن ان کی رائے تھی کہ شیاؤ ہونگ کے ہاں واقعات کا بیانیہ اور فطرت نگاری، ان کی کردار نگاری سے بہتر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ شیاؤ ہونگ نے اپنے کرداروں کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش نہ کیا ہو، لیکن اس کے باوجود ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے کرداروں کی تصویریں بالکل واضح ہیں۔ وہ محض چند الفاظ یا فقروں سے کسی بھی کردار کو زندہ کردینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کردار نگاری بھی اتنی ہی شاندار ہے جتنی واقعیت نگاری یا مناظر کی تفصیل۔

اوّلاً یہ ناول ہانگ کانگ کے ایک اخبار میں قسط وار شائع ہوتا رہا اور اس سے پہلے کہ مکمل ناول کتابی صورت میں شائع ہوتا، بدقسمتی سے شیاؤ ہونگ کا انتقال ہو گیا۔ کتابی صورت میں یہ ناول ان کے انتقال کے برس 1942 میں ہی شائع ہوا۔

اس ناول کا انگریزی ترجمہ (Tales of Hulan River) ہاورڈ گولڈ بلیٹ نے کیا اور 1979 میں یہ ترجمہ شیاؤ ہونگ کے ناول ”زندگی اور موت کا میدان“ کے انگریزی ترجمے (The Field of Life and Death) کے ساتھ، ایک ہی جلد میں شائع ہوا، لیکن ”دریائے ہولن کی کہانیاں“ کا حصہ نامکمل تھا کیونکہ اس کے صرف پہلے پانچ ابواب ترجمہ کیے گئے تھے۔ دونوں ناولوں کا مکمل ترجمہ، ایک ہی جلد میں The Field of Life and Death & Tales of Hulan River کے عنوان سے 2002 میں شائع ہوا۔ حال ہی میں چینی ادب کے اس شاہکار کا اردو ترجمہ راقم الحروف نے ”دریائے ہولن کی کہانیاں“ کے عنوان سے کیا ہے جسے اکادمی ادبیات اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ اس اردو ترجمے کی بنیاد یہی انگریزی ترجمہ ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہاورڈ گولڈ بلیٹ کے ترجموں سے پہلے مغربی دنیا نے شیاؤ ہونگ کو جدید چینی ادب کی ایک اہم ناول نگار کے طور پر کم ہی جانا تھا۔ ہاورڈ گولڈ بلیٹ کے ترجموں کی بدولت 80 کی دہائی میں شیاؤ ہونگ کا ادب عالمی منظر نامے پر چھا گیا، صرف اتنا ہی نہیں، خود چینی ادبی دنیا بھی دوبارہ شیاؤ ہونگ کے کام کی طرف متوجہ ہوئی۔

شیاؤ ہونگ کی تخلیقات میں حقوق نسواں کے حوالے سے نہ صرف گہرے شعور کا اظہار ملتا ہے بلکہ چینی نظامِ قانون اور ثقافت میں خواتین پر ہونے والے ظلم پر تنقید بھی نظر آتی ہے۔ اگرچہ اس موضوع کو بعض دوسرے موضوعات میں ضم کر کے بیان کیا گیا ہے، اس کے باوجود ان کی بعض تخلیقات کو ہم خالصتاً نسائی ادب قرار دے سکتے ہیں۔ ان کی تخلیقات کے دیگر موضوعات میں دیہی چین میں کسانوں کی سخت زندگی اور جاپان کے خلاف چینی قوم کا اتحاد اور چینی ثقافت کا تحفظ شامل ہیں۔

بہت سی خواتین مصنفین کی طرح، شیاؤ ہونگ بھی دل سے لکھنے والی ادیبہ تھیں۔ ان کے ناولوں کی سب سے نمایاں صفت ہمدردی ہے۔ شیاؤ ہونگ کے نزدیک، ان کی کہانیوں کے لوگ، خواہ کتنے ہی قابل رحم اور احمق کیوں نہ ہوں، وہ صدیوں سے چلی آ رہی سخت روایتوں میں جکڑے معاشرے کے افراد ہیں اور ایک مہلک نقطہ نظر کا شکار ہیں۔ اپنی کہانیوں میں، وہ ظالموں اور مظلوموں کی جدوجہد کی تصویر کشی نہیں کرتیں، بلکہ وہ ان سب کو ایک دوسرے سے مزاحم قوتوں کے طور پر دیکھتی ہیں۔ یہاں نہ ولن ہیں نہ ہیرو۔ ان میں سے کوئی بھی پیدائش، بڑھاپے، بیماری اور موت کی ناگزیریت سے بچ نہیں سکتا۔

دسمبر 1940 میں ہانگ کانگ پر جاپانی حملے کے دوران، شیاؤ ہونگ بیمار ہو گئیں، انھوں نے اپنے آخری ایّام کوئین میری ہسپتال میں گزارے۔ 22 جنوری 1942 کو گلے میں انفیکشن کی وجہ سے جدید چینی ادب کی یہ نامور مصنفہ انتقال کر گئیں۔

شیاؤ ہونگ کا یہ ناول کثیرالجہتی ہے، کسی ایک شخص کو مرکزی کردار بنائے بغیر انھوں نے مختلف لوگوں کے تجربات کے ذریعے یہ داستان بیان کی ہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں اس پر عام اعتراض یہ تھا کہ اس کا پلاٹ بکھرا ہوا ہے اور اس میں وحدت کی کمی ہے۔ تاہم، آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ شیاؤ ہونگ اس طریقے کو اختیار کر کے زیادہ سادہ اور باہم آمیخت اسلوب اپنانے میں کامیاب رہی تھیں۔ اس ترجمے کے پڑھنے والے اردو کے ادیبوں اور قارئین کے لیے یہ ادبی امکان کی نئی صورت ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS