میں کہ ایک انجینئر ہوں


Farrukh saleem Canada

تم بڑے ہو کر کیا بنو گے انجینئر یا ڈاکٹر؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو وطن عزیز میں طلباء سے یا نوجوانوں سے کم و بیش ہر جگہ کیا جاتا تھا اور اب بھی کیا جاتا ہے کہ ان پیشوں سے وابستہ لوگوں کا مستقبل محفوظ سمجھا جاتا ہے

وطن عزیز میں اس زمانہ میں ان دو پیشوں کے علاوہ دیگر پیشوں میں بوجوہ لو گوں کی دلچسپی کم تھی اور اب بھی کم و بیش ایسا ہی ہے۔ مثلاً سائنس میں وہ لوگ جاتے تھے جو زیادہ ذہین سمجھے جاتے تھے۔ اس کے بعد والے کامرس میں چلے جاتے تھے۔ جو کچھ نہیں کر پاتے وہ آرٹس میں چلے جاتے تھے۔ جن کے بس میں کچھ بھی نہیں ہوتا وہ رگڑتے رگڑاتے لا پڑھ لیتے تھے۔ جن کا تعلیمی معیار بالکل گیا گزرا ہوتا ہے وہ میٹرک کے بعد یا انٹر میں بہت کم سکور کرنے کے بعد کسی ٹریڈ میں چلے جاتے، اور سوسائٹی کے معیار سے ”بیچارے“ مکینک یا ٹیکنیشن بن جاتے اور یوں سوسائٹی کی گاڑی چلتی رہتی

بعد میں انجینئر اور ڈاکٹر کے ساتھ اس لسٹ میں ایم بی اے اور کمپیوٹر والے لوگ بھی شامل ہو گئے۔ نفسیات، سوشل ورک، صحافت، لٹریچر، وغیرہ کی بھی کچھ اہمیت نہ تھی، ہاں اگر کچھ اہمیت تھی تو انگلش لٹریچر کی تھی۔ انٹر نیشنل ریلیشنز بھی اچھا مضمون سمجھا جاتا تھا۔ نفسیات پڑھنے والے خود ذہنی مریض سمجھے جاتے تھے اور سوشل ورک اونچے طبقے کی خواتین کا من پسند مشغلہ تھا، جن کی وساطت سے وہ بڑے بڑے ہوٹلوں میں فنکشن کر سکتی تھیں، اخباروں میں تصویر چھپوا سکتی تھی، یا چندے اکٹھا کر سکتی تھیں۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بتایا اور سمجھایا گیا تھا کہ اگر آپ مقتدر طبقوں مثلاً جاگیرداروں، وڈیروں، بزنس مین، سیاستدان، سول سرونٹ اور فوجیوں میں شامل نہیں ہو سکتے تو آسان زندگی گزارنے کے لئے انجینئر یا ڈاکٹر بننا ہی محفوظ راستہ ہے

طالب علمی کے زمانے میں میرے سامنے بھی یہی سوال تھا۔ ڈاکٹر بننا میرے بس میں نہ تھا کہ مجھے شروع سے ہی کاکروچ کی چیر پھاڑ اور خون سے الجھن سی ہوتی تھی۔ ڈرائنگ سے میری فطری دلچسپی تھی، اس لیے میں نے اپنے بارے میں خود ہی فیصلہ دے دیا تھا کہ میرا طبعی رجحان انجینئرنگ کی طرف ہے۔ انجینئرنگ کا راستہ بھی سیدھا تھا۔ انٹر میں دو سال لگ کر محنت کریں، اگر پڑھائی میں کمی محسوس ہوتی ہے تو کوئی ٹیوشن کر لیں، یا کسی اچھے کوچنگ سنٹر میں داخلہ لے لیں۔ اچھے نمبروں سے پاس ہو جائیں گے تو داخلہ پکا۔ اور یوں میں نے انجینئرنگ کا راستہ اختیار کر لیا۔

غیر نصابی سرگرمیوں کے اعتبار سے وہ زمانہ اتنا ابتر نہیں تھا، جتنا آج کل ہے۔ ہر سکول، کالج اور یونیورسٹی میں بزم طلباء ہوتی تھی، جس کے تحت ہر طرح کے ادبی پروگرام اور انٹر کالجیٹ مقابلے ہوا کرتے تھے۔ ایک ایسی ہی بزم طلباء ہم نے اپنے انجنیئرنگ کالج میں بھی بنا لی تھی۔ ریڈیو پاکستان سے ہر سال ہفتہ طلباء ہوتا تھا، جس میں تقریری مقابلے، مشاعرے، بیت بازی، اور مباحثے وغیرہ ہوا کرتے تھے، اور اس طرح طلباء کو ذہنی نشوونما کا سلسلہ چلتا رہتا تھا۔ کھیل اور سیاست بھی ہوتی تھی، گھر کے ماحول اور بزم طلباء کی سرگرمیوں کی وجہ سے مجھے کتابوں سے کافی دلچسپی تھی۔

اس قسم کے ماحول میں رہتے ہوئے اور کتابوں سے تعلق کی وجہ سے میرا اپنے بارے میں خیال تھا کہ میں معاشرے کی ناہمواریوں سے واقف ہوں، مساوات کا قائل ہوں اور ہر ایک کے لئے انصاف کا علم بردار ہوں۔ چونکہ خود کبھی بڑے امتحان سے گزرنا نہیں پڑا، اس لیے یہ خیال زیادہ راسخ ہوتا رہا۔ مجھے سکول اور کالج کے زمانے میں اس قسم کی کوئی تربیت نہیں ملی کہ میں خود کو ایک استحصالی کے طور پر دیکھ سکوں۔

معاشرتی علوم یعنی سوکس کو سکول کالج میں بس نام کا ہی پڑھایا جاتا ہے انجینئرنگ کالج میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اس لیے مجھے معاشرہ کی الف ب سے بھی حقیقی واقفیت نہیں ہے۔ نہ میرے خیال اس کی ضرورت تھی کہ میں انجینئرنگ جیسے معزز پیشے میں جا رہا تھا اس کا عوام سے کیا تعلق ویسے بھی ایک نو آبادیاتی نظام کے نمایندہ کی حیثیت سے مجھے ایک اچھا مقام ملنا تھا اور مجھے ایرے غیروں کو منہ نہیں لگانا تھا۔

جبر، استبداد اور استحصال جیسے الفاظ صرف کتابوں اور سیاستدانوں کے بیانات سے منسوب تھے، جس کا وہ جلسوں اور اخباری بیانات میں بکثرت استعمال کرتے تھے۔ فیض صاحب اور حبیب جالب کی شاعری اس وقت فیشن میں تھی۔ حقیقتاً میں فیض صاحب کی شاعری اور ان کی نثر خاص طور سے ان کی وہ تحریریں جو انہوں نے اپنی قید کے دوران جیل سے قلم بند کی تھیں، میرے دل کے بہت قریب تھیں۔

اس زمانے میں میری سوچ کچھ اس طرح تھی۔ میرا استحقاق ہے کہ نوکر چاکر میرے ذاتی کام کریں، گھر میں بھی دفتر میں بھی۔ کمیونٹی سے رابطہ رکھنا میرا کام نہیں ہے۔ رضاکارانہ کام بھی مرا درد سر نہیں۔ آخر اتنے فلاحی ادارے ہیں چندہ لے رہے ہیں تو کام بھی کریں۔ اتنے سارے اخبار اور ٹی وی چینل ہیں، مسائل کے خلاف آواز اٹھانا ان کا کام ہے۔ ویسے بھی میں کسی کے کام میں دخل نہیں دیتا اور نہ ہی چاہتا ہوں کہ کوئی میرے کام میں دخل دے۔ ہمیں دوسروں کی حدود کا احترام کرنا چاہیے۔

حکومتی اداروں کی کارکردگی صفر ہے۔ اس لئے میں اپنے بچوں کو اردو میڈیم میں کیوں پڑھاؤں۔ سرکاری اسپتال میں کیوں جاؤں جب کہ شہر میں ایک سے ایک اچھا پرائیویٹ ہسپتال موجود ہے کچھ پیسے ہی تو خرچ ہو جائیں گے، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ محلہ میں صفائی ستھرائی اور چوری ڈاکا کا ڈر تھا، میں ایک ایسی سوسائٹی میں چلا گیا جہاں چاردیواری ہے، گیٹ ہے چوکیدار ہے۔ یہ میرا استحقاق ہے بھائی۔

بہرحال اب میں اتنا بھی بے حس نہیں ہوں کہ معاشرے سے بے خبر ہو جاؤں۔ میں معاشرے کے سدھار کے لئے اپنی محفلوں میں تجویزیں پیش کرتا رہتا ہوں، اقتدار کے ایوانوں کے لتے لیتا رہنا ہوں، (اس وقت سوشل میڈیا نہیں تھا ورنہ ہر طرح کی اچھی ای میل فارورڈ کرتا رہتا) ۔ اس فضول سوسائٹی کے لئے اس سے زیادہ کیا کیا جاسکتا تھا۔ دیگر شرفاء کی طرح میرے بھی ہاتھ ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ کرپٹ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں ایسا باغی نہیں ہوں کہ معاشرے سے اکیلا لڑ سکوں۔

اب میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے پاکستان میں رہتے ہوئے خود کو معاشرہ سے الگ رکھا، خاص طور سے ”جاہل عوام“ سے، خود اپنی سماجی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں لیکن ہر ایک کو بشمول حکومت، سیاستدان، میڈیا اور عوام کو ذمہ دار ٹھہراتا رہا، معاشرے کی خرابیاں بتاتا رہا، تنقید کرتا رہا، انہیں راستے بتاتا رہا کہ لیکن کبھی خود اس پر چلنے کی کوشش نہیں کی۔ کیوں؟ یہ دوسروں کا کام ہے میں تو انجینئر ہوں انجینئر۔ ایک معزز پیشہ سے وابستہ اور ایک طبقاتی کشمکش کا شکار سوسائٹی کا استحقاق یافتہ شخص۔ مجھے کون پوچھ سکتا ہے۔ میں سب کو اپنے علمیت کے زور پر خاموش کر سکتا ہوں۔ مجھے بھاشن دینے میں بھی کمال حاصل ہے۔ ہمارے زیادہ تر دوست آج بھی یہی کر رہے ہیں

یہ ٰایک فطری سی بات ہے کہ جسے استحقاق حاصل ہو وہ اسے آسانی سے چھوڑتا نہیں ہے۔ چھوڑنا تو درکنار بعض صورت میں قبول ہی نہیں کرتا کہ اسے استحقاق حاصل ہے۔ خود پر تنقید کرنا چاہیے کتنی ہی مثبت کیوں نہ ہو آسان بات نہیں ہے اور اس کے لئے بڑا ظرف چاہیے۔ میرے خیال ہے کہ ہمیں اس طرح تربیت دی گئی ہے کہ ہم اپنے استحقاق کا اعتراف نہ کریں۔ یہ استحقاق ہے آخر کیا بلا ہے؟ میرے نزدیک استحقاق ایک ایسا سرمایہ جسے کمانے کے لئے کوئی زیادہ محنت نہیں کی گئی، لیکن اسے روزانہ خرچ کرنے پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک بغیر وزن کا بیگ ہے جس میں مراعات ہی مراعات بھری ہیں۔

میں نے بھی کبھی اپنے استحقاق کو نہ قبول کیا اور نہ ہی خود کو تنقیدی نگاہ سے دیکھا جب تک کہ میں کینیڈین سوسائٹی کا کل پرزہ نہیں بن گیا، سوشل ورک پڑھ نہیں لیا اور اسے بطور پروفیشن اختیار کر نہیں لیا۔ سوشل ورک کی تعلیم نے مجھے اچھی طرح سکھا دیا کہ یہ سب کچھ وہی ہے جس کی تعلیم ہمارے مذہب نے دی ہے۔ بطور سپورٹ کونسلر اور مینٹل ہیلتھ کونسلر مجھے انسانوں کو اور بطور خاص خود کو سمجھنے کا موقع ملا۔ بطور شہری میں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی شروع کر دیں۔ اپنے کام دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپنے ہاتھوں سے کرنے شروع کر دیے۔ چونکہ میں اپنے کچرے کے ڈبے ہر ہفتہ خود باہر رکھتا ہوں اس لیے میں شہری حکومت کو ٹائم پر کچرا نہ اٹھانے پر آڑے ہاتھوں لے سکتا ہوں۔

میں اپنے تمام ذاتی اور دفتر کے کام خود سے انجام دیتا ہوں اس لیے محنت کشوں کا احترام ہے۔ کسی ٹیکنیشن یا پلمبر سے کام کرانا ہو تو یہ کام ایک لائسنس یافتہ پیشہ ور ہی کرا سکتا ہوں۔ اس کے بل کو دیکھتے ہوئے مجھے ان کی سماجی حیثیت اور افادیت تسلیم کرنی پڑتی ہے۔ بچوں نے سرکاری سکولوں میں پڑھا ہے، علاج سرکاری ہسپتال میں ہوتا ہے، اس لئے ان اداروں سے میرا براہ راست تعلق ہے۔ میں ان کی کارکردگی پر آواز بلند کر سکتا ہوں اور انہیں سننی پڑتی ہے۔ میرے حقوق ہیں لیکن میرے فرائض بھی ہیں۔ میں اپنے فرائض ادا کیے بغیر نہ حقوق کی بات کر سکتا ہوں اور نہ ہی ان کی کارکردگی پر بات کر سکتا ہوں۔ چونکہ مجھے اچھی کارکردگی کے لئے حکومت میں اچھے نمایندے چاہئیں اس لئے الیکشن میں ووٹ ڈالنا اور صحیح لوگوں کو منتخب کرنا اپنی اولین ذمہ داری سمجھتا ہوں۔

کسی کو مورد الزام ٹھہرانے سے پیشتر میں سب سے پہلے اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہ ہوں اور اس کے لئے مجھے کسی سے سرٹیفیکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ اگر میں کوئی عملی قدم اٹھا نہیں سکتا تو مجھے دوسروں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے اور انہیں مطعون کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

میں اپنی اس تحریر پر ہر طرح کے اختلافات اور بے لاگ تنقید کے لئے حاضر ہوں۔ مجھے خوشی ہو گی اگر آپ لوگوں کی مدد سے میں اپنی کچھ کمزوریوں پر قابو پا سکوں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments