میرا رب دنوں کو پھیرتا رہتا ہے!


سورہ آل عمران میں اللہ پاک فرماتا ہے کہ ”ہم تمہارے درمیان دنوں کو پھیرتے (یا بدلتے ) رہتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یقیناً مفصل تفسیر کا حامل ہے۔ تاہم سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے لوگوں کی زندگی کے حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی آدمی کی زندگی میں خوشیوں اور کامیابیوں سے بھرپور دن آ جاتے ہیں۔ کبھی نہایت کامیاب و کامران آدمی غموں اور ناکامیوں میں گھر کر زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔

کبھی کسی کو راتوں رات شہرت کی بلندی نصیب ہو جاتی ہے۔ کبھی کوئی معروف شخص گم نامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ زندگی کے یہ نشیب و فراز میرے رب کے اختیار اور قبضہ قدرت میں ہیں۔ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کے بدلتے حالات دیکھ کر میرا دھیان اکثر قرآن پاک کی اس آیت کی طرف چلا جاتا ہے۔ یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ میرا رب واقعتاً بندوں کے حالات بدلنے پر قادر ہے۔

چند دن پہلے سی۔ ایس۔ ایس کا نتیجہ آیا ہے۔ اس نتیجے سے جڑی کچھ خبریں دیکھ کر ایک مرتبہ پھر مجھے اللہ کا یہ فرمان یاد آ گیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ سی۔ ایس۔ ایس کا امتحان پاس کرنا بہت سوں کی آرزو ہوتی ہے۔ برسوں سے میں اپنے بیسیوں شاگردوں کو اس خواب کی تکمیل کے لئے کوشاں دیکھتی ہوں۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ سی۔ ایس۔ ایس میں کامیابی کے لئے لازم ہے کہ بہت عمدہ تعلیمی پس منظر ہو۔ انگریزی پر دسترس ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔

اس کے باوجود، ہر سال جب اس امتحان کا نتیجہ نکلتا ہے تو بہت سے غریب اور محنت کش والدین کے بچے اس میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ وہ بچے ہوتے ہیں جنہوں نے عام سے سکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس بہت سے اعلیٰ انگریزی میڈیم اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے مسلسل کوشش کے باوجود اس امتحان میں ناکام رہتے ہیں۔

اس مرتبہ بھی سی۔ ایس۔ ایس کے امتحانی نتائج کے بعد ایسی خبریں سامنے آئیں۔ مثال کے طور پر ایک ٹرک ڈرائیور کی بیٹی نے سی۔ ایس۔ ایس کا امتحان پاس کر لیا۔ ایک غریب اخبار فروش کی بیٹی بھی امتحان میں کامیاب ہو گئی۔ ایک سب انسپکٹر کی بیٹی نے بھی سی۔ ایس۔ ایس میں کامیابی حاصل کر لی۔ ایک نوجوان سب انسپکٹر نے دوران ملازمت سی۔ ایس۔ ایس کا امتحان دیا اور پاس ہو گیا۔ چند ماہ پہلے ایک خبر میڈیا کی زینت بنی کہ سندھ کے ایک غریب سموسے فروش کی دو بیٹیوں نے سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر لیا اور 17 ویں گریڈ میں افسر لگ گئیں۔

کچھ عرصہ پہلے یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ اوکاڑہ کے ایک غریب محنت کش اخبار فروش کی بیٹی نے ایم۔ بی۔ بی۔ ایس کے امتحان میں سات گولڈ میڈلز کے ساتھ نمایاں کامیابی حاصل کی۔ یہ باتیں لکھ رہی ہوں تو مجھے بھارت سے آنے والی ایک خبر یاد آ گئی ہے۔ غالباً گزشتہ برس کی بات ہے کہ ایک مسلمان پان فروش کی بیٹی نے اتر پردیش پبلک سروس کمیشن کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا اور ڈپٹی کلکٹر بننے میں کامیاب ہو گئی۔ یہ تو محض چند خبریں ہیں، جو میڈیا کی بدولت ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔

یقین جانیے ہمارے ارد گرد ایسی ہزاروں داستانیں موجود ہیں۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ کس طرح محنت اور جدوجہد کی بدولت یہ غریب بچے غربت کے دلدل سے نکل جاتے ہیں۔ اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کرتے ہیں۔ اپنے خاندان سمیت دوسرے لوگوں کے لئے ایک مثال بن جاتے ہیں۔ یہ سب یقیناً میرے رب کے حکم اور ان بچوں کی انتھک محنت سے ممکن ہوتا ہے۔

میں ذاتی طور پر ایسی بیسیوں داستانوں سے آگاہ ہوں۔ اپنی آنکھوں کے سامنے میں نے کئی غریب اور معمولی گھرانوں سے تعلق رکھنے والے اپنے شاگردوں کو ترقی کی منازل طے کرتے دیکھا ہے۔ ایسے بھی تھے جو مانگ تانگ کر فیسوں کی ادائیگی کیا کرتے تھے۔ کسی دور دراز گاؤں یا علاقے سے آئے یہ نوجوان کسی معمولی سے ہاسٹل میں رہتے، نہایت معمولی اور بسا اوقات گھسے پٹے کپڑے پہنتے، شام یا رات میں معمولی نوکریاں کرتے۔ محض چند سال کی محنت کے بعد آج یہ بچے سول افسر ہیں۔

میڈیا میں اچھی جگہ بنا چکے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے بطور استاد وابستہ ہیں۔ کسی سرکاری یا نجی ادارے سے منسلک ہیں۔ کچھ کاروبار بھی کر رہے ہیں۔ کچھ امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کی جامعات میں وظائف لے کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں وہ نوجوان بھی ہیں جنہیں موٹر سائیکل بھی میسر نہیں تھی۔ اللہ کے فضل سے آج وہ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ کامیابی کی کسوٹی صرف یہی مادی اشیاء ہوتی ہیں۔ لیکن بہرحال دنیاوی کامیابی کو ماپنے کا عمومی پیمانہ یہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔

میرا مشاہدہ ہے کہ غربت اور محرومی بذات خود ایک motivation ہوتی ہے۔ یہ آدمی کو محنت کرنے اور آگے بڑھنے کی طاقت فراہم کرتی ہے۔ چند سال پہلے میں پی۔ ٹی۔ وی پر ایک پروگرام کی میزبانی کیا کرتی تھی۔ میٹرک کا نتیجہ آیا تو میں نے اپنے پروڈیوسر سے کہا کہ ایک پروگرام پوزیشن ہولڈر بچوں کے ساتھ کرنا چاہیے۔ اتفاق دیکھیے کہ چاروں بچے انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے حلیے ان کی غربت کی چغلی کھا رہے تھے۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ ان کے والدین آئے تو پی۔ ٹی۔ وی اسٹوڈیو کے فرش پر بیٹھ گئے۔ سٹاف نے اٹھا کر انہیں کرسیوں پر بٹھایا۔ یہ جان کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ ایک بچے کا باپ خاکروب تھا۔ ایک کی ماں گاؤں میں لوگوں کے گھروں میں برتن دھوتی اور صفائی کرتی تھی۔ ایک بچے کا باپ کوئی چھابڑی یا ریڑھی لگاتا تھا۔ چوتھے بچے کے والدین بھی کچھ اسی قسم کا کام کرتے تھے۔ میرے رب کی قدرت کہ اس نے ان بچوں کو یہ مقام عطا کیا۔ اس زمانے میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ان بچوں کو یورپ کے دورے پر بھیجا تھا۔ ان کے لئے تعلیمی وظائف کا اعلان کیا تھا۔ معلوم نہیں کہ اتنے سال گزرنے کے بعد وہ بچے کہاں ہوں گے۔ کیا کرتے ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کی تقدیر بدلنے میں کامیاب ہو گئے ہوں۔

ہماری سیاست، صحافت، ادب وغیرہ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ یہ باتیں لکھ رہی ہوں تو مجھے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی صاحب یاد آ گئے ہیں۔ وہ اکثر بتاتے ہیں کہ ان کے گھر میں غربت کا راج ہوا کرتا تھا۔ ان کی ماں نے اپنی انگوٹھی بیچ کر ان کی فیس ادا کی تھی۔ اتنے پیسے نہیں ہوا کرتے تھے کہ کالج، یونیورسٹی میں داخلہ لے سکیں۔ لہذا پرائیویٹ امتحان دے کر ڈگری حاصل کی۔ آج صدیقی صاحب ہماری قومی سیاست اور صحافت کا بڑا نام ہیں۔

جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود کی کہانی بھی نہایت دلچسپ ہے۔ نوجوانی میں وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے ایک مٹھائی فروش کے ہاں مٹھائی تولا کرتے تھے۔ ایک دکان پر فوٹو کاپی مشین پر کھڑے فوٹو کاپیاں کرنے کی ملازمت کرتے تھے۔ میرے رب کی قدرت کہ آج یہ پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔

یہ اور اس طرح کی کئی مثالیں دیکھ کر رب یاد آ جاتا ہے۔ میرا رب واقعتاً دنوں کو پھیرتا رہتا ہے۔ یہ خیال بھی آتا ہے کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ والدین کی دعا بھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ان واقعات سے ہٹ کر، ایسی مثالیں اور ْقصے بھی ہیں جب لوگ عرش سے فرش پر آ گئے۔ بالکل خالی ہاتھ رہ گئے۔ گم نامی میں چلے گئے یا عبرت کی تصویر بن کر رہ گئے۔ ایسے قصوں کا ذکر پھر کبھی سہی۔

Facebook Comments HS