مشرقیت اور عظیم تر مشرقی روایات


بر صغیر پاک و ہند کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں دو پالیسیاں یعنی حکمت ہائے عملیاں بہت عام بلکہ سر عام ہیں۔
1۔ گزارا کرو
2۔ اس سے بھی برا ہو سکتا تھا اس لیے شکر ادا کرو۔

ان دونوں کے سہارے ہم زندگی بتا رہے ہیں۔ بلکہ ہمارے ہاں زندگی نہیں ہوتی ہمارے ہاں ”گزارا کرو“ ہوتا ہے۔ اہل مغرب جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو پوچھتے ہی

ہاوؤ اذ لائف؟ ”؟ یعنی زندگی کیسی ہے؟
ہم جب ایک دوسرے کو ملتے ہیں تو سوال ہوتا ہے ”اور سناؤ گزر بسر کیسی ہو رہی؟“

کیونکہ ہماری ثقافت اور سماج گزر بسر ہی برداشت کرتے ہیں اس سے اوپر جانے سے آپ عیاش، بدمعاش، بدقماش، فحاش، ذہنی تراش اور ہشاش بشاش بن جائیں گے۔ یہ چیزیں ہماری روایات کے خلاف ہیں۔ ہمیں لٹکے ہوئے منہ، حلقہ زدہ آنکھیں اور مایوس گفتگو زیادہ پسند ہیں۔ ہمارے ہاں رشتے دار ایک دوسرے سے باتیں نہیں گلے کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں ایک اور پسندیدہ سوال یہ ہے،

”اور سناؤ۔ کیا حال ہے“ ؟ یہ بھی ہماری اجتماعی سوچ کی مانند ایک ٫ ذو معنی٬ جملہ ہے۔ یعنی، حال ٬کا ایک مطلب تو ہے ”گزرتا ہوا وقت“ ۔ جبکہ دوسرا مطلب وہ ہے جو ہمیشہ سے اہل برصغیر کا ”بد“ ہی رہا ہے یعنی ”بد حال“ ۔

سکندر یونانی کے یونانی حملہ آور، غوری، تغلق، سوری، غزنوی، ابدالی، مغل اور انگریز ”خوش حال“ رہے اور 2500 سال سے غلامی کرتے عوام ”بدحال“

یہاں کے لوگوں کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ کبھی نہ کبھی ہمارے اپنے رہنما آئیں۔ تو آ گئے! ہمارے اپنے ہماری دھرتی کے سپوت رہنما۔ یہ وراثتی جماعتیں ہمارے راہ نما ہیں جن کو اپنا رہنما کہنے سے پہلے بہتر ہے کہنے والا اپنے گلے میں جوتیوں کا ہار ڈال لے۔

مگر اس سب کے باوجود ہم سب ”گزارا“ کئے جا رہے ہیں۔ گزارا کرنے کا کمال یہ ہے کہ اس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ ”ارمانی“ کے سوٹ سے لے کر لنڈے کے کوٹ تک اور پٹھی بنیان سے لے کر پتوں سے جسم ڈھانپنے تک کسی بھی حال میں گزارا کیا جا سکتا ہے۔

اگر عزت نفس ہو تو بہت زیادہ بھی کم ہوتی ہے۔ اور جو نہ ہو تو ”نہ ہونے“ کا احساس تک نہیں ہوتا۔ عزت ہو، تو بہت حساس ہوتی ہے۔ عزت نہ ہو تو کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی۔ لیکن عزت کا یہ بڑا مسئلہ ہے کہ جب اپنا فائدہ ہو رہا ہو تو لمبی تان کے سوئی رہتی ہے اور اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو دفعتاً بیدار ہو جاتی ہے۔

ہمارے ہاں کمال یہ ہے کہ ہم ہر حال میں ہر قسم کے سلوک پہ چپ سادھ لیتے ہیں اور محض یہ ہی سوچتے ہیں کہ ”چلو شکر ہے اس سے بھی برا ہو سکتا تھا“ ۔

ایک صاحب اپنے دوست سے واقع بیان کرتے ہیں کہ کل میں گھر گیا تو بیوی نے بہت ڈانٹا۔ میں چپ رہا۔ پھر اس نے برتن دھلوائے تب جا کر اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔ دوست بولا ”او ہو! یہ تو بہت برا ہوا“ ۔

حضرت بولے! نہیں، اس سے بھی برا ہو سکتا تھا۔ وہ تو شکر ہے اس کو یہ نہیں معلوم ہوا کہ دفتر کے بعد میں دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے چلا گیا تھا۔

صاحب زندگانی میں دو ہی فیصلے اہم ہوتے ہیں، یعنی پیشہ اور جیون ساتھی۔ ہمارے ہاں دونوں ہی فیصلے زبردستی کرا دیے جاتے ہیں۔ برصغیری سماج کا ایک مقصد یہی ہے کہ اگلی یعنی آنے والی نسلوں سے بدلہ لیا جائے۔ ہم کئی صدیوں سے یہ ہی کر رہے ہیں یعنی

1۔ اولاد سے انتقام
2۔ اولاد والدین بنتے ہیں
3۔ پھر وہ اولاد سے انتقام لیتے ہیں
ایسا نہیں کہ ہم جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں۔ اپنی دانست میں تو ہم اولاد کا بھلا ہی کر رہے ہوتے ہیں۔

”جینے“ کے دو طریقے ہائے کار ہیں ”متوسط“ حیات اور ”عظیم“ حیات۔ اگر آپ کی سوچ متوسط ہے تو آپ کی حرکات، امکانات، ذرائع اور احساسات اور محرکات بھی متوسط ہو گے۔ لیکن ارادے اگر بڑے ہوں تو سوچ اور عمل میں کشادگی آ ہی جاتی ہے۔

”عظمت“ اور ”فطانت“ کے دو بڑے دشمن ہیں۔
1۔ نوکری
2۔ شادی

اس وجہ سے پچھلے دو ہزار برس میں ہمارے معاشرے میں بہت ہی کم عظیم یا فطین لوگوں نے جنم لیا۔ ہم ایک ”مکھی مار“ معاشرہ ہیں۔ نسل در نسل تولید کا فرض سر انجام دینے اور نئی نسل کو بھرا پیٹ اور خالی دماغ دینے کی کاوش کے علاوہ ہمارا کوئی شوق نہیں۔ ابھی لڑکے یا لڑکی کی بلوغت بھی مشکوک ہوتی ہے کہ ہم انہیں ”شادی“ کے بندھن میں باندھ کے جکڑ دینا چاہتے ہیں۔

”دیکھنا بھائی۔ لڑکا خراب نہ ہو جائے“
ارے بھائی صاحب۔ لڑکا ہے یا موٹر کار۔
لڑکا ہے یا گوجرانوالہ کا بنا ہوا دو نمبر پنکھا!

اولاد خراب نہ ہو جائے ”۔ بھائی صاحب آپ باپ ہیں یا پولیس والے ہیں؟ بھئی تربیت کا حکم ہے، زندگی اور اعمال میں جبر کا نہیں۔ یہاں تک کے دوسروں کے اعمال کے ذمہ دار تو انبیا بھی نہیں تھے۔ نبیوں کو بھی حکم تھا کہ پیغام پہنچا دو۔ مگر نہیں! یہاں برصغیری ماں باپ تو اعمال، سوچ، لباس، بول چال یہاں تک کہ بیت الخلا میں آنے جانے تک کے ذمہ دار ہیں۔

کوئی لڑکا گاڑی تیز چلا رہا ہو تو جھٹ جملہ بازی ہوتی ہے۔ ”حرام کا مال ہے نا جی!“

تو بھئی جو رکشہ چلا رہا ہے صرف اسی کے باپ کے پاس حلال مال تھا؟ اس حساب سے تو حلال مال والے حلالی صرف وہ چرسی ہی ہیں جو پلوں کے نیچے بیٹھے ”بیٹریاں“ اور ”ٹیکے“ لگا رہے ہوتے ہیں۔ باقی سب تو ان سے امیر ہی ہیں۔

اس پہ ہمیں اپنے محلے کے انکل چچا چالو کا مشہور قول یاد آ جاتا ہے کہ شریف تو وہی ہے جس کو موقع نہیں ملا۔ دوستو جن کو موقع ملا وہ بھی شریف بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر اپ جاننا چاہتے ہیں کہ شرافت دراصل کس بلا کا نام ہے، تو گدھی یعنی گدھے کی مونث پہ ایک نظر ڈال لیں۔ چپ چاپ ہر قسم کا ستم اور ظلم برداشت کر لینا ہر ایک بات مان لینا۔ یہی شرافت ہے اور مشرقیت کا خلاصہ ہے۔ اب اگر اس مشرقیت اور ان مشرقی روایات پہ ہمیں فخر ہے تو ہمارے فخر کو 21 توپوں کی سلامی!

Facebook Comments HS